کیا کروں میں اے دل حساس فطرت کیا کروں

جی میں آتا ہے کہ ہر ظالم کا پنجہ موڑ دوں
ہر سرِ مغرور کو تیشہ کی زد سے توڑ دوں
یا کسی پتھر سے ٹکراؤں سر اپنا پھوڑ دوں
ہند میں غیرت سے جینے کی تمنا چھوڑ دوں
کیا کروں میں اے دل حساس فطرت کیا کروں
بے گھروں کو کیمپ میں مرتا ہوا دیکھا کروں
سسکیاں بہنوں کی آہ و بکا سنتا رہوں
نیم جاں بچوں کوماں کی گود میں دیکھا کروں
کس طرح بستر پہ میں آرام سے سوتا رہوں
کیا کروں میں اے دل حساس فطرت کیا کروں
دل میں باقی ہے اگرچہ آج بھی ایمان کا نور
بے عمل ہو کر ہوں میں تیری رحمت سے دور
کر عنایت کی نظر پھر دے مرے رب غفور
تیرے در پر سر نہ ٹکراؤں تو آخر کیا کروں
کیا کروں میں اے دل حساس فطرت کیا کروں
کہتے ہیں خورشیدؔ اب کے بار راہل کو چنو
بولے صدیقی ؔکہ اب مایاوتی کا دم بھرو
شیخ عادلؔ نے یہ فرمایا ملائم سے ملو
ایک ہی سوراخ سے کب تک ڈسا جایا کروں
کیا کروں میں اے دل حساس فطرت کیا کروں

ختم ہے دینی حمیت مٹ گئی آبائی شان
اس سے بڑھ کر کس قدر ہوں گے ابھی عبرت نشان
مومنہ کو خوشنما لگتے ہیں کافر نوجوان
بے حسی کے یہ مناظر کس طرح دیکھا کروں
کیا کروں میں اے دل حساس فطرت کیا کروں
رہبران قوم مل کر بیٹھ بھی سکتے نہیں
بیٹھ بھی جائیں کبھی تو متفق ہوتے نہیں
متفق ہو کر مجھے کچھ مشورہ دیتے نہیں
راہ پر کس کو کہوں میں رہنما کس کو کروں
کیا کروں میں اے دل حساس فطرت کیا کروں
شیخ فرماتے ہیں مت دنیا کے جھنجھٹ میں پڑو
دن کو تم روزے رکھو اور رات بھر نفلیں پڑھو
ظالموں سے خود خدا سمجھے گا تم غم مت کرو
سارا عالم کس طرح شیطان کی خاطر چھوڑ دوں
کیا کروں میں اے دل حساس فطرت کیا کروں
ماجرا کیا ہے بتائیں کچھ تو یہ پیر و مرید
کیوں ہوئی حمزہ کی لاش کی قطع و برید
کیوں پیمبر کے ہوئے دندان اطہر بھی شہید
عقل حیراں ہے سہیلؔ آخر میں کس کو کیا کہوں
کیا کروں میں اے دل حساس فطرت کیا کروں

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *