احتساب فکر و عمل

ہندوستان کی سیاسی تاریخ نے پھر ایک بار کروٹ لی ہے۔ پارلیمانی انتخابات ۲۰۱۴ء؁ کے جو نتائج سامنے آئے ہیں انہوں نے بہت سے اندازوں کو غلط ثابت کر دیا اور بہت سی امیدوں پر پانی پھیر دیا ہے۔ جو لوگ بھاری اکثریت سے بر سرِ اقتدار آئے ہیں ان کے انتہا پسندانہ رجحانات اور جارحانہ ارادے کوئی راز نہیں ہیں بلکہ ان کا اظہار ان کی باتوں اور رویے سے ہوتا ہی رہتا ہے۔ (قد بدت البغضاء۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ فی صدورہم اکبر) ہندوستان جیسے وسیع و عریض ملک میں ایسے لوگوں کا اقتدار میں آنا بجائے خود غلط ہی نہیں نقصان دہ بھی ہے۔ اب سیاسی تبدیلیاں حکومتی ایوانوں اور شاہی محلوں تک ہی محدود نہیں رہتیں بلکہ ایک عام آدمی بھی ان سے متاثر ہوتا ہے۔ اس لئے سیاسی حلقوں اور سماجی دائروں میں حالیہ تبدیلی موضوع بحث بنی ہوئی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سب سے بڑھ کر ہندوستان کی اقلیتوں، خاص طور پر مسلمانوں میں اس صورتِ حال پر تشویش پائی جاتی ہے۔ توقع کی جاسکتی ہے کہ اگر مایوسی نے پوری طرح مضمحل نہیں کر دیا تو عنقریب آئندہ حکمت عملی کے بارے میں غالب رجحانات سامنے آ سکیں گے۔
…………………………………………………………………………………………..
ہمیشہ کی طرح مسلم ووٹ بینک کا ہوّا کھڑا کرکے اس بار ہندو ووٹ بینک کوبڑی چالاکی اور ہوشیاری کے ساتھ استعمال کیا گیا۔ اور پہلی بار جارحانہ قوم پرستی کے نظریہ کو’جسے ہندوتوا کا نام دیا گیا ہے‘ بھارت کی سب سے بڑی سیاسی قوت کا مدّعی بنا دیا گیا۔ دوسری طرف مسلم لیڈران بشمول بعض ائمّہ و علماء بیانات کے گولے داغتے رہے اور انہیں ایک باربھی یہ توفیق نصیب نہیں ہوئی کہ باہم بیٹھ کر تبادلہ خیال کر سکیں۔ سیاسی بصیرت کا حال یہ ہے کہ وہ انتخابی شہ سواروں سے کسی مطالبہ و مکالمہ کے بغیر تائید و حمایت کے ڈونگرے برساتے رہے۔ نتائج سامنے آئے تو پتہ چلا کہ کسی گولے میں بارود نہیں تھا۔ یہ معاملہ مختلف جماعتوں، مسلکوں اور مدرسوں کے مابین بے تعلقی اور دوری تک محدود نہیں تھا بلکہ ایک ہی مسلک اور خاندان کے نمایاں افراد کا رخ بھی ایک دوسرے کے مخالف سمت میں نظر آرہا تھا۔ ہم کسی کا نام لیکر انہیں شرمندہ نہیں کرنا چاہتے بلکہ اس خامی کی نشاندہی کر رہے ہیں جس کا احساس ہم سب کو شرمندگی میں مبتلا کر رہا ہے۔ ایک بھائی دوسرے بھائی اور چچا و بھتیجے باہم مختلف سمتوں میں دوڑ رہے ہوں تو عوام سے متحد ہونے کا مطالبہ کس طرح مفید ہو سکتا ہے؟ جب پورے انتخابات کے دوران ایک مشترکہ میٹنگ بھی بلانے کی نوبت نہیں آسکی اور ہر ایک اپنا قد اتنا اونچا سمجھتا رہا کہ دوسرا ہم کلام نہیں ہو سکتا تو کس طرح بہتر نتائج برآمد ہو سکتے تھے؟ اگرچہ بحالت موجودہ یہ کہہ کر خود کو تسلی دی جا سکتی ہے کہ جب پارلیمنٹ میں مسلم ارکان کی تعداد ۴۹تھی تو کیا حاصل ہو گیا تھا، جس کے چھن جانے کا غم ہو۔ بابری مسجد شہید ہو رہی تھی تو مرکز میں اس پارٹی کی حکومت تھی جو خود کومسلمانوں کا محافظ باور کراتی ہے۔ جب گجرات میں مسلمانوں کا قتل عام ہو رہا تھاتو صدرِ جمہوریہ ایک مسلمان ہی تھا۔ یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ ملک میں جس فرقہ کی اکثریت ہے اگر وہ کسی کی تائید میں متحد ہو جائے تو کسی اقلیت کا اتحاد کس طرح نتیجہ خیز ہو سکتا ہے۔ یہ سب درست مان لیا جائے تو بھی اس سچائی سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ مسلمانوں کا باہمی انتشار ان کی دشواریوں کا سب سے بڑا سبب اور ان کی بربادیوں کی سب سے بڑی وجہ ہے۔ افسوس کہ اس خرابی کا ادراک اور احساس عامۃ المسلمین میں تو پایا جاتا ہے، مگر ان کے خواص میں بڑی حد تک مفقودہے۔ گر چہ تحریر و تقریر کے دائروں میں وہ اس کے منکر نہیں ہیں۔ وحدتِ اسلامی ہند نے سالِ رواں کی ابتداء میں وحدت امت رسولؐ کے زیر عنوان جو ملک گیر سہ ماہی مہم کی، اس کے دوران بھی یہ حقیقت نمایاں طور پر سامنے آئی۔
ایک اور بڑی خرابی یہ بھی ہے کہ مسلمان صحیح معنیٰ میں اللہ پر توکل کرنے کے بجائے ان سہاروں پر تکیہ کرتے رہے جو فی الوقت آپ ہی ’کس نمی پرسد ‘ کی حالت میں ہیں۔ اگر یہ کہنا صحیح ہے کہ ملک کی فسطائی طاقتوں کے بالمقابل یہ قابل ترجیح ہیں تو یہ کہنا بھی صحیح ہے کہ ان کی سیاست موقع پرستی کی سیاست ہے۔ جو کسی اصول و نظریہ کی پابند نہیں۔ اور ان کی بہت سی ترجیحات بھی اسلام اور مسلمانوں سے متصادم ہے۔ حتیٰ کہ کہیں کہیں یہ فیصلہ کرنا مشکل ہے کہ دین و اخلاق کی مخالفت میں کون زیادہ آگے ہے۔ شراب نوشی، فحاشی، سود خوری، جرائم پروری اور بد عنوانی جیسے مسائل اور یوروپ کے ملحدانہ افکار کی تائید میں ان کے دیوالیہ پن کا اندازہ با آسانی لگایا جا سکتا ہے۔ اور یہ بھی کہ انہوں نے مسلمانوں کے مسائل کو کھلے دل سے نہ تو تسلیم کیا ہے نہ ان کے حل کی کوشش کی ہے۔ یہ بھی یاد رہے کہ حالیہ انتخاب میں کانگریس کو بھاجپا اور اس کی سرپرست آر۔ایس۔ایس۔ نے شکست نہیں دی بلکہ وہ اپنی بے راہ روی کے نتیجہ میں ناکام ہوئی۔ یہ کمزوری اس کی تاریخ کا حصہ ہے جسے وہ مہارتِ حکمرانی (Art of Governance) سے تعبیر کرتی رہی ہے۔ اس پارٹی کی چھتر چھایا میں نیک اور بد، فرقہ وارانہ یکجہتی کے حامی اور بدترین فرقہ پرستوں کی ہمیشہ گنجائش رہی ہے۔ تفصیل درکار ہو تو اس کے رہنماؤں کی سرگزشت موجود ہے۔
…………………………………………………………………………………………..
ایک بار نہیں کئی بار یہ حقیقت ظاہر ہو چکی ہے کہ مسلمان اپنے وطن عزیز میں اجنبی بناکر رکھ دئیے گئے ہیں اور جن سہاروں پر وہ تکیہ کرتے رہے ہیں وہ حد درجہ کمزور اور ناقابل اعتبار ہیں۔ انہوں نے اپنی دنیا آپ پیدا کرکے ایک زندہ ملت ہونے کا ثبوت نہیں دیا۔ اور یہ بھی کہ اس حال تک پہنچنے میں دوسروں سے زیادہ وہ خود اور انکے عوام سے زیادہ ذمہ دار اُن کے خواص ہیں۔ یہی تلخ حقیقت ہے جسے سامنے لانا بہت سے لوگوں کو اچھا نہیں لگتا۔ اپنی سیاسی قوت کھو دینے کے بعد وہ اپنی مرکزیت کو قائم رکھنے کی قابلیت سے بھی دستبردار ہو گئے۔ ان کی جماعتیں اتحاد کے بجائے انتشار کی علامت بن کر رہ گئیں اور ان کے قائدین (علماء و ائمہ)چھوٹی چھوٹی مسلکی اور ادارہ جاتی جاگیروں کے تحفظ تک سمٹ کر رہ گئے۔ کاش وہ یاد رکھتے کہ درختوں کا وجود شاخوں سے نہیں جڑوں سے قائم رہتا ہے۔ اور جڑیں زمین کی گہرائیوں میں پیوست ہوتی ہیں۔ جس نظریہ اور فکر سے اس کے عوام کی وابستگی نہیں رہتی اور جس قوم کا تعلق اپنے عقیدہ نصب العین سے کمزور پڑ جاتا ہے اور جو قیادت اپنی قوم کو مشکلات میں مبتلا پاکر خود چین سے سوتی ہے اس کے بارے میں ؎
تقدیر کے قاضی کا یہ فتوٰی ہے ازل سے ہے جرم ضعیفی کی سزا مرگ مفاجات
…………………………………………………………………………………………..
اگر چہ عالمی سطح پر بھی امت مسلمہ نازک دور سے گزر رہی ہے۔ مسلم ملکوں میں باطل کی چاکری کرنے والے حکمراں مسلط ہیںجن میں یہ حوصلہ اور ہمت نہیں ہے کہ دشمن کو دشمن کہہ سکیں۔ جن کے اقتدار کی بساط غیروں کے ہاتھوں بچھائی جاتی ہے۔ جن کی بے ضمیری انہیں اپنے ہی مخلص اور خودداربھائیوں کی گردن زنی پر آمادہ کر دیتی ہے، اور جن کی وجہ سے دشمنوں کو یہ اطمینان حاصل ہے کہ جو کچھ انہیں اپنے ہاتھوں کرنا پڑتا اس کے لئے کرائے کے قاتل موجود ہیں۔ مگر اس وقت ہم غور و فکر کے لئے اپنے ملک ہندوستان کے پس منظر میں کچھ باتیں کرنا چاہتے ہیں:
اوّل یہ کہ احتسابِ فکر وعمل موجودہ حالات کا اولین تقاضہ ہے۔ اب بدلتے ہوئے سیاسی منظر نامہ میں ہمیں کیا کردار ادا کرنا ہے؟ برطانوی غلامی سے نجات پانے کے بعد نئے سیاسی نظام کو پوری طرح سمجھنے اور سمجھانے میں ہم نے کیا کوتاہی کی ہے؟ ہم نا انصافیوں کا شکوہ کرتے کرتے خود شکایت بن گئے۔ مگر اسکے تدارک اور حصول انصاف کے لئے ہم نے کیا تد بیریں اختیار کیں؟ اور دوسروں سے جو توقعات قائم کیں وہ کہاں تک درست تھیں ؟ سیاسی پارٹیوںنے جو رویہ اپنایا اور جن وعدوں پر جینا ہم نے اپنی عادت بنا لی کیا عملی دنیا میں اس کا کوئی اعتبار ہے ؟ مخالف عنا صر نے دو سروں کے سامنے ہماری جو غلط تصویر پیش کی ہے اسکے خلاف ہمیں جو کچھ کرنا چاہئے تھا کیا وہ ہم نے کیا؟ ہندوستان کا ایک محدود طبقہ جس طرح عوام کو بیوقوف بنا کر مادی اور اخلاقی استحصال کر رہا ہے، سودخوری جرائم پروری، بدعنوانی، فحاشی اور شراب نوشی کو فروغ دیکر اپنا مطلب نکال رہا ہے۔ اس کے خلاف بحیثیت امت مسلمہ ہمیں جو اقدامات کرنا چاہئے کیا ہم انہیں روبہ عمل لائے، اور خود اپنے دین و ملت اور تہذیب وتعلیم اور جان مال، عزت آبرو کے تحفظ وبقا کے لئے اپنی ذمہ داریوں کو کس حد تک ادا کیا؟ یہ اور اس طرح کے بہت سے مسائل و معا ملات ہم سے جواب طلب ہیں۔ کون سے عناصر ہمارے اصل حریف ہیں اور ہندوستان میں وہ کون ہیں جنہیں لائق اعتبا ر حلیف سمجھا جا سکتا ہے؟ موجودہ آئین اور نظام عدل ہمارے حقوق کے تحفظ میں کتنا مؤثر ثابت ہوا ہے یا ہو سکتا ہے اور خاص طور پر اجتماعی وجود کے قیام استحکام کے لئے ہماری ترجیحات کیا ہیں؟!!!
اگر ہماری قوت ارادی اور قویٰ عمل معطل نہیں ہو گئے تو پہلے مرحلے میں ہر سطح پر اس طرح کے احتساب فکر وعمل کی کوششیں شروع کر دینی چاہئے۔ مسجدیں ہوں یا مدرسے ہمارے ذمہ داروں کو ہر مناسب جگہ پر جائزہ اجلاس کا آغاز کر دینا چاہئے۔ مگر اسی کے ساتھ درج ذیل امور بھی پیش نظر رہنے چاہئے۔
۱۔یہ کہ حالات کو بدلنا انسانوں کے بس میں نہیں ہے۔ ہاں وہ حالات کو بدلنے کی کوشش کر سکتے ہیں اور کرنا چاہئے وگرنہ وقت کی آندھی جہاں چاہے گی انہیںا ڑا کر لے جائیگی۔
۲۔خوف اور مرعوبیت کے ساتھ سوچنا کبھی بھی صحیح نتائج تک نہیں پہنچا سکتا اور یہ بھی یاد رہے کہ حد سے بڑھی ہوئی خوش فہمیاں خود فریبی کے سوا کچھ نہیں ہیں۔ مثلاً بار بار کے تلخ اور عبرتناک تجربات کے بعد بھی ہم نے کوئی سبق نہیں سیکھا۔ ہم نے اس سیکولرازم کو صحیح طور سے نہیں پہچانا جس کی کوئی متعین و معتبر اور قانونی تعریف اب تک نہیں ہو سکی۔ اسی سیکولرازم کے سائے میں ہندو قوم پرستی پرورش پاتی رہی۔ پارلیمینٹ میں اور دیگر سرکاری تقریبات میں ایک مخصوص فرقہ کے مذہبی مراسم ادا ہوتے رہے، تعلیم گاہوں میں ایک بت(سرسوتی ) کی پوجا ہوتی رہی اور سورج پر پانی چڑھایا جاتا رہا۔جو ایک خاص فرقہ کی مشرکانہ مذہبی رسم ہے۔ آداب کی جگہ نمستے اور بندے ماترم نے لے لی۔ دوسری طرف مسجدوں اور دیگر اوقاف پر نا جائزقبضے اور خانقاہوں میں در اندازی ہوتی رہی۔ ٹوپی اور ڈاڑھی کا مذاق اڑتا رہا۔ حج سبسڈی، گوشت خوری اور حلال ذبیحے پر اعتراض ہوتے رہے۔ مسلمان لڑکیوں کی سول میرج غیر مسلم سے ہو تو اسے ترقی پسندی اور سیکولرزم کی نشانی قرار دیکر اسکی حوصلہ افزائی ہوتی رہی۔ کوئی غیر مسلم لڑکی اگر اپنی مرضی سے مسلمان ہوکر کسی مسلمان لڑکے سے شادی کرلے تو ایک مخصوص فرقہ کے وقار کا مسئلہ بن جاتا ہے اور اس ناکردہ خطا کی سزا صرف متعلقہ افراد کو ہی نہیں پوری بستی اور اسکے باشندوں کو دی جاتی رہی۔ اس سب کے باوجود سیکولرزم جوں کا توں قائم رہا اور ہم سب پر یہ واجب ٹھہراکہ ہر حال میں اس دورنگی کے باوجود سیکولرزم پر عقیدت کے پھول چڑھاتے رہیں۔
بابری مسجد شہید ہونے سے ایک دن پہلے تک ہمارے تجربہ کار اور جہاں دیدہ لوگ یہ یقین دلاتے رہے کہ بابری مسجد کو ہرگز شہید نہیں کیا جا سکتا۔ دستور اور قانون، عدالتی احکامات، کرسی نشینوں کی یقین دہانی بطور دلیل پیش کی جاتی رہی۔ مگر ۶ ؍دسمبر ۱۹۹۲ء؁ کو بابری مسجد شہید کر دی گئی اور یہ سب کچھ پولس اور فوج کی موجودگی میں عدالتی احکامات کے صریحاً خلاف ہوا۔ اس وقت مسلم رہنمائوں نے ’بہت کچھ‘ کہا مگر اس کے بعد پھر وہی راز و نیاز، وہی امیدیں، وہی خوش فہمیاں اور پھر وہی رفتار جو پہلے تھی سو اب بھی ہے۔کیا اس ذہنی سطح کے ساتھ حالات کا صحیح جائزہ لیا جا سکتا ہے؟کیا یہ سطح بینی یہ خوش فہمی اور خود فریبی خود کشی تک لیجانے والی نہیں ہے؟ حالات کا تجزیہ اور مسائل کا صحیح حل تلاش کرنے کے لئے غلط و صحیح کا ایک معیار، فائدہ و نقصان کے کچھ پیمانے مقرر کرنے پڑتے ہیں۔ مثلاً ایک فرد کے لئے اصل چیز دولت ہے خواہ اس کے لئے کسی حد تک جانا پڑے اور کوئی رشتہ قربان کرنا پڑے عزت و غیرت اخلاق مروت سب کچھ دیکر بھی ایسا آدمی دولت مند ہونے کو کامیابی سمجھتا ہے۔ دوسری طرف حلال و حرام کی حدود کی پابندی کرنے والا، مقاصد شریعت کو سمجھنے اور حتی المقدور ان کو پورا کرنے والا شخص ہو تو دونوں کسی ایک اقتصادی پروگرام اور منصوبہ بندی پر پوری طرح متفق نہیں ہو سکتے۔ اس ملت کے مسائل و مشکلات کا حل تلاش کرنے کے لئے سب سے پہلے قرآن و سنت کے عطا کردہ اصولوں اور ہدایتوں کو سامنے رکھنا ضروری ہے۔ یہاں زیادہ سے زیادہ فروعی اختلافات کو گوارہ کیا جا سکتا ہے مگر اللہ اور رسول کے واضح احکامات سے روگردانی نہیں کی جا سکتی۔ بقول اقبال ؔ:۔
دین ہاتھ سے دےکر اگر ہاتھ آئے حکومت ہے ایسی تجارت میں مسلماں کا خسارہ
۳۔اجتماعی فیصلے اجتماعی اقدامات ایک خاص معیار کے متقاضی ہوتے ہیں اور کسی بھی شخص کو اس مقام پر نہیں بیٹھایا جا سکتا جو خدا اور اس کے رسول کے لئے خاص ہے۔ اجتماعیت میں اصل اہمیت ان عقائد و افکار اور ان اصول و ہدایات کی ہوتی ہے جن کی بنا پر اجتماعیت وجود میں آتی ہے۔ جب اور جہاں کوئی شخص، کوئی خاندان، کوئی طبقہ یا گروہ خود کو اس اجتماعیت سے بلند تر سمجھنے لگتا ہے تو خلوص کے باوجود قدم غلط سمت میں اٹھنے لگتے ہیں۔ایسی سب بنیادی باتوں کو شعوری طور پر سامنے رکھنا ضروری ہے۔
۴۔عجلت پسندی بھی انسانی کمزوریوں میں ایک خاص کمزوری بلکہ بیماری ہے یہ صحیح معنیٰ میں اس بے صبری کا دوسرا نام ہے جس سے اللہ کی کتاب نے روکا ہے اور صبر و حکمت کی راہ چلنے کی تاکید کی ہے۔ عرصۂ دراز سے عجلت پسندی اور بے صبری کی یہ بیماری ہماری اجتماعی خرابیوں کی ایک علامت بن گئی ہے۔ ہمارے قائدین ایک دل پسند تقریر اور عوام زندہ باد کے مختصر نعروں کے بعد مطمئن ہو جاتے ہیں کہ ہم نے ایک بڑا معرکہ سر کر لیا یا ایک عظیم فریضہ ادا کر دیا ہے۔ جبکہ ایک شخص اپنے ذاتی کاروبار میں اپنی زندگی بھر کی توانائی جھونک دیتا ہے۔ اپنا آرام، اپنی پسند اپنے معمولات سب کچھ لگا کر بھی اس موقع کا منتظر رہتا ہے جب اس کی محنت ٹھکانے لگ جائے۔ بڑے معمولی نوعیت کے اجتماعی کام اور ادارے بھی کئی کئی لوگوں کی عمر بھر کی محنت اور توانائی صرف ہونے کے بعد بھی بمشکل نیک انجام تک پہنچتے ہیں۔ مگر ہم ہیں کہ ہر روز ایک تازہ غزل ایک نئی خطیبانہ شان کے منتظر رہتے ہیں۔ اور
خود بدلتے نہیں قرآن کو بدل دیتے ہیں ہوئے کس درجہ فقیہانِ حرم بے توفیق
…………………………………………………………………………………………..
مندرجہ بالا اشارات کے یہ معنیٰ ہر گز نہیں ہیں کہ سب ضروری نکات پیش کر دئیے گئے ہیں بلکہ مدعا یہ ہے کہ بڑے مقاصد کے حصول کے لئے بڑی صلاحیتیں اور طویل جدو جہد درکار ہیں۔ قانون فطرت کے مطابق جس طرح مادی دنیا (Physical World)کا نظام چل رہا ہے اسی طرح اخلاقی اور معنوی دنیا میں بے بدل حکمتیں اور اصول کارفرما ہیں۔ کھیتیاں اپنے وقت پر اگتی ہیں دن رات کا مستقل ضابطہ ہے۔ ماہ و سال کی اپنی گردش ہے۔ قوموں کے عروج و زوال کے بھی اپنے ضابطے ہیں۔ حق و باطل کی کشمکش کا اپنا معیار اور حکمتیں ہیں۔ ہم اپنے طور پر اپنی مرضی کے مطابق حالت کو بدلنے کے نہ تو مکلف ہیں نہ اس کی قدرت رکھتے ہیں۔ حالات کا تغیر خدا وند تعالیٰ کے دست قدرت میں ہے اور اپنے آپ میں تبدیلی لانے کی کوشش کے ذمہ دار ہم ہیں۔
…………………………………………………………………………………………..
آخر میںہم راست انداز میں کچھ کہنا چاہتے ہیں اگر اس معاملے میںبدلائل کسی کو اختلاف ہو تو ہمیں مطلع کرنے کی زحمت گوارہ کریں۔
٭جو عناصر اس وقت غالب اکثریت کے حوالے سے بر سرِ اقتدار آئے ہیں واقعات کی روشنی میں ان کے بارے میں ایک متعین رائے قائم کرنا ضروری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
٭مثلاً یہ لوگ وہ ہیں جن کے پاس ملک کی ترقی و استحکام کا کوئی ایسا مثبت نظریہ نہیں ہے جس کو انہوں نے عوام کے سامنے متعین طور پر پیش کیا ہو۔ مبہم نعروں کی حیثیت سیاسی ضرورت سے زیادہ کچھ نہیں۔
٭اقلیتوں اور خاص طور پر مسلمانوں کے بارے میں وہ منفی سوچ رکھتے ہیں اور فرقہ وارانہ خیر سگالی کے بجائے فرقہ وارانہ منافرت پھیلانے کی ان کی ایک طویل داستان ہے۔ وہ مسلمانوں کے بنیادی حقوق کی مخالفت کرتے رہے ہیں۔ حتیٰ کہ ان کے اکابر حقوق شہریت پر بھی انگشت نمائی کرتے رہے ہیں۔ وہ زیادہ سے زیادہ مسلمانوں کو ہندوستان میں محکوم بناکر راضی ہوسکتے ہیں۔
٭مسلمانوں کے اوپر کسی بڑے سے بڑے ظلم اور ان کے زیادہ سے زیادہ نقصان پر بھی اظہار و افسوس نہیں کیا ہے۔ جن کی حکومت میں گجرات کے مسلمانوں کے قتل عام اور بابری مسجد کی شہادت جیسے المیہ پیش آئے ہیں ان پر اعتراف جرم اور اظہار افسوس کی رسمی ضرورت انہوں نے نہیں سمجھی۔
٭ان کی اب تک کارکردگی جو بھی رہی ہے وہ پوری دنیا کے سامنے ہے اور وہ خود بھی اس سے واقف ہیں۔
٭جہاں کہیں اور جب کہیں مسلمانوں کا کوئی منصفانہ مطالبہ تسلیم کیا گیا ہے یا ان کے لئے معمولی ہمدردی ظاہر کی گئی ہے تو انہوں نے اس کو مسلمانوں کی چاپلوسی اور خوشامد قرار دیا ہے۔ ان کے اس رویے اور خیالات کی وجہ سے اقلیتوں اور بالخصوص مسلمانوں میں ان کا ایسا تصور ابھرا ہے جو کسی طرح قابل قبول اور لائق اعتبار نہیں سمجھا جاتا۔ اب جب تک وہ اپنے عمل سے اس منفی تصور کی اصلاح نہیں کرتے تو اقلیتوں اور ان کی قیادتوں سے یہ مطالبہ کرنا کسی طرح مبنی بر انصاف قرار نہیں دیا جا سکتا کہ وہ خود کو ان کے سامنے ایک وفادار حلیف کی طرح پیش کر دیں۔
مذکورہ حقائق کی وجہ سے اگر مسلمانوں اور دوسری اقلیتوں میں خوف اور تشویش کی کیفیت پائی جاتی ہے تو محض حوصلہ افزائی کے نام پر نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ آج بھی ہمارے بعض مہربان واقعات کو نظر انداز کرکے خوش فہمی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ اور پہلے کی طرح لفظی طفلی تسلیوں سے کام نکالنا چاہتے ہیں۔ حال میں ایک مسلمان پروفیسر صاحب نے جب یہ کہا کہ ’لوک سبھا کے انتخابی نتائج آنے کے بعد مسلمان بن کر رہنا مزید مشکل ہو جائے گا۔ ‘ تو ہمارے ناصحان مشفق سے چپ نہ رہا گیا اور مسلمانوں کو خوف کی نفسیات میں مبتلا کرنے کا الزام عائد کر دیا۔ ہم ان سے پوچھنا چاہتے ہیں کہ کیا حقائق سے چشم پوشی اور واقعات کا انکار بھی وعظ و نصیحت کے حقیقی مفہوم میں شامل ہے؟
خدا کرے کہ مملکت ہند کی سربراہی کرنے والوں کو عدل و انصاف کی توفیق میسر آئے۔ کیونکہ ظلم ڈھاکر محبتیں حاصل نہیں ہوا کرتیں اور نفرت پھیلاکر دل نہیں جیتے جاتے۔
والسلام علی من اتبع الھدی

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *