بلاتبصرہ, جمعیۃ العلماء ہندنےمودی کےلیےنرم گفتاری کی تجویزمنظورکی

گجرات فسادات اور زعفرانی سازشوں کے تعلق سے ہمارا جو نظریہ ہےجو آج بھی قائم ہے، بدلتے سیاسی منظرنامہ کو دیکھ کریہی دانشمندی ہےکہ ردعمل سے قبل ہرپہلو کا بہت ہی باریکی سے جائزہ لیا جائے:مولانا محمود مدنی
ملک کے بدلتےحالات کے مدنظرجمعیۃ العلماء ہندکی مجلس عاملہ اور مجلس منتظمہ دونوں نے یہ تجویز منظور کردی ہےکہ چونکہ نئی سرکار کو عوام نے چناہے اسی لیے اس کے تئيں ہمیں بھی اپنی کوششیں کرنی ہیں اور اسے قبول کرناہے۔
جمعیۃ کے ایک سینئر منتظمہ رکن نے نمائندہ کو بتایا کہ نریندرمودی کے خلاف جس طرح کی روایتی بیان بازی کی جاتی تھی، سخت الفاظ استعمال کیےجاتے تھے اور شدید نفرت کا مظاہرہ کیا جاتا تھا، اب وہ نہیں کیاجانا چاہیے کیونکہ اب نریندرمودی ملک کے وزیراعظم ہیں۔جمعیۃ کی اس تجویز سےجمعیۃ کے کئي ارکان کو سخت اختلاف تھا مگر جب یہ واضح کیاگيا کہ زعفرانی نظریات سے کوئي سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا مگر بلاوجہ مسائل بھی نہیں کھڑے کیےجائيں گے تو بہت حدتک لوگوں نے اسے مان لیا۔منتظمہ کمیٹی کے ایک سینئر رکن نے مزید بتایا کہ جمعیۃ العلماء ہندکے لیے مسلمانوں کے مفادات اور جذبات سب سے زیادہ اہم ہےمگر ملک کےحالات میں انہیں مثبت سمت دینابھی اسی تنظیم کی ذمہ داری ہے،ہم اپنے اصولوں سے بالکل سمجھوتہ نہیں کرسکتے مگر اس ماحول میں دانشمندانہ اقدامات اور صلح حدیبیہ کا منہاج اپنانا بھی ضروری ہے۔
اس تعلق سے انقلاب نے جب جمعیت کے سکریٹری نیازفاروقی اور ترجمان عبدالحمید نعمانی سے رابطہ کیا تو انہوں نے واضح طور پرکہا کہ نریندرمودی کے نام سے ہم نے کوئي تجویز منظور نہیں کی ہے، البتہ نئی حکومت کے تعلق سے ایک نئی تجویز منظور کی گئی ہے۔نیازفاروقی نے بتایاکہ میٹنگ میں انسداد فرقہ وارانہ فسادات بل،مسلمانوں کےلیے ریزرویشن،اوقاف کے انتظامات اور دیگر کئي اہم ملی مسائل تھے،جو زیربحث آئے۔(روزنامہ انقلاب،26مئی 2014ء(

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *