عزیمتوں کے چراغ

اندھیرے کر نہیں سکتے مری نظر کو اسیر
میں مشکلوں میں جلاتا ہوں ہمتوں کے چراغ
بفیض عشق ہمارے قلوب روشن ہیں
ہوا نے لاکھ بجھائے ہیں محفلوں کے چراغ
وہ کہہ رہے ہیں اجالا کریں گے راہوں میں
بجھا دئیے ہیں جنہوں نے بہت گھروں کے چراغ
ستم گروں سے یہ کہہ دو کہ سر جھکا کے چلیں
ہتھیلیوں میں دھرے ہیں یہاں سروں کے چراغ
فسردہ شب ہے تو کیا، آرزو تو زندہ ہے
سحر قریب ہے، روشن ہیں آنسوؤں کے چراغ
حصولِ حق کے لئے احتجاج کرتے ہیں
بجھے بجھے سے جو رہتے ہیں مفلسوں کے چراغ
یہ آندھیاں تو ہمیشہ نہیں چلا کرتیں
اٹھو اور اٹھ کے جلاؤ عزیمتوں کے چراغ
میرا دیار ہے باطل کی ملکیت تو نہیں
کہ میں جلا نہ سکوں یاں حقیقتوں کے چراغ

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *