قادیانیوں کے لیے اسلامی اصطلاحات استعمال نہ کی جائیں

اسلامی تعلیمات وہدایات میں اس بات کا التزام کیا گیا ہے کہ جن باتوں سے فتنہ اور گمراہی پھیلنے کا اندیشہ ہو ان سے اجتناب کیا جائے، چنانچہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی نصیحت ہے’کلمو الناس علی قدر عقولہم اتریدون ان یکذب اللہ و رسولہ‘ کہ لوگوں کی ذہنی سطح کے مطابق گفتگو کی جائے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ تمہاری معروضات ان کے اوپر سے گزر جائیں اور وہ اللہ و رسول کی تکذیب کر بیٹھیں، بلاشبہ قادیانیوں کے لیے اسلامی اصطلاحات کا استعمال گمراہی کا موجب ہے۔
یہاں یہ بات بھی واضح ہوجانی ضروریہے کہ جس طرح غیروں کے طور طریقے اور ان کی خصوصیات کو اختیار کرنا اسلامی غیرت کے خلاف ہے،اسی طرح اسلام کواس سے بھی غیرت آتی ہے کہ کوئی(اس کا اپنا یا پرایا) اس کی خصوصی چیزوں کو غلط جگہ اور غلط طریقہ سے استعمال کرے۔ بخاری و مسلم کی حدیث ہے:’لا تسموا الضلب الکرم فان الکرم: المسلم‘(انگور کو کرم مت کہا کرو،کیونکہ’کرم‘ تو مسلمان کی شان ہے۔ اور ایک روایت میں ہے ’انما الکرم: قلب المؤمن‘(’کرم‘ کے نکلنے اورپھیلنے کی جگہ تو مومن کا قلب ہے۔ لہٰذا انگور(جس سے شراب جیسی ملعون چیز بنائی جاتی ہے) کے لیے اتنا مہذب اور مبارک لفظ استعمال نہ کرو۔
یہیں سے ان لوگوں کی غلطی بھی معلوم ہوجاتی ہے جو شہادت، فقہ، علم، صحابہ، ام المومنین وغیرہ مبارک اور مخصوص شرعی اصطلاحات کو بے موقع استعمال کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ حالانکہ یہ سب الفاظ شریعت میں ایک خاص مفہوم اور پس منظر رکھتے ہیں اور اسی کے مطابق ان چیزوں کو حاصل کرنے والے کے لے شریعت نے خصوصی فضائل و انعامات مقرر کررکھے ہیں۔ ظاہر ہے کہ اس خاص مفہوم اور پس منظر کے بغیر ان کا استعمال، پھر شریعت کی طرف ان کا انتساب، شریعت کے مقاصد کے خلاف ہے،اور اسی کانام ’تحریف دین ‘ہے۔
بالکل یہی حال آج قادیانیوں کا ہے بس فرق صرف یہ ہے کہ زمانہ نبوی میں قدیم یہودی پیغمبر بر حق اوراسلام کے ساتھ بھونڈا مذاق کرتے تھے اور آج قادیانی پیغمبر آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم اور اسلامی اصطلاحات کے ساتھ کھلواڑ کرتے ہیں۔
دسویں پارہ کے اندر سورہ توبہ کی آیت ۱۸ میں اللہ تعالی نے اہل ایمان کے معبد کے لیے مساجد کا لفظ استعمال فرمایا ہے، اسی طرح پارہ ۱۸،آیت ۴۰ میں قوم یہود کے عبادت خانوں اور گرجا گھروں کے واسطے ’صوامع‘ کے الفاظ استعمال فرمائے ہیں اور مسلمانوں کی عبادت گاہوں کے واسطے ’مساجد‘ کا لفظ استعمال کیا ہے۔ قرآن کے اس طرز بیان سے یہ بات الم نشرح ہو جاتی ہے کہ مسلمانوں کے معبد کا نام الگ ہے اور یہود کے معبد کا نام علیحدہ ہے،نیز سورہ آل عمران کی آیت ۱۴۶ میں اللہ تعالی نے یہود کے مذہبی پیشواؤں کے لیے ’ربیون‘ اور سورہ توبہ کی آیت ۳۴ میں’احبار‘ اور نصاری کے مذہبی رہنماؤوں کے لیے ’رہبان‘ کے الفاظ استعمال فرمائے ہیں، اور ۲۲ پارہ کے اندر سورہ خاطر کی آیت ۲۸ میں اللہ سے ڈرنے والے کو ’علماء‘ کا نام دیاگیا ہے۔اور یہ بات طے شدہ ہے کہ اللہ سے ڈرنا ایمان پر منحصر ہے بغیر ایمان کے اللہ سے ڈرنے کا اعتبارنہیں ہے، اور وہ شخص اتنا ہی اللہ سے ڈرے گا جویقینا زیادہ اللہ کی معرفت رکھتاہوگا اور معرفت علم پر موقوف ہے۔ اس لیے یہ کہنا بالکل درست ہے کہ مسلمانوں کے مذہبی پیشواوں کو علما کا نام دیا گیا ہے، علاوہ ازیں عرف اور بول چال میںعیسائی رہنما کو پادری،یہودی رہنما کو پوپ، ہندو رہنماکو پنڈت، مسلم رہنما کو عالم،نیز عیسائی عبادت خانہ کو چرچ، یہودی عبادت خانہ کو گرجا گھر،ہندؤوں کی پوجا کی جگہ کومندر اور مسلمانوں کی عبادگاہ کو مسجد کہتے ہیں۔اس کاتقاضا بھی یہی ہے کہ قادیانوں کے سربراہو ں کاعلیحدہ نام ہوناچاہیے، ان کو عالم، مفتی،خلیفہ کہنا بالکل غیر درست ہے۔ نیز جس طرح مسلمانوں کی مسجد کومندر کہنا شرعا درست نہیں ہے اور نہ ہی اہل وطن اس کو گوارا کریں گے۔ اسی طرح قادیانیوں کی رسومات کے مقام کو مسجد ہرگز نہیں کہا جا سکتا کیونکہ اس سے دھوکہ لگنے کا احتمال ہی نہیں یقین ہے بلکہ واقع ہے۔ خود مرزا نے ہدایت دیتے ہوئے لکھا ہے:
’اس عاجز نے کبھی اور کسی وقت حقیقی طور پر نبوت یارسالت کا دعوی نہیں کیا اور غیر حقیقی طور پر کسی لفظ کو استعمال کرنااورلغت کے عام معنوں کے لحاظ سیاس کو بول چال میں لانا مستلزم کفر نہیں، مگر میں اس کو بھی پسند نہیں کرتا کہ اس میں عام مسلمانوں کو دھوکہ لگ جانے کا احتمال ہے۔‘(انجام الفم،خزائن۱۱؍۲۷)
خط کشیدہ الفاظ سے یہ بات بالکل واضح ہوگئی کہ جس لفظ سے دھوکہ لگنے کا اندیشہ ہو اس لفظ کا استعمال نہ کیا جائے۔
اس تحریر کے باوجود مرزائی اپنے مرزا گرو گھنٹال کی ہدایت کی خلاف ورزی کرتے ہیں اور بڑی جسارت کے ساتھ اپنے عبادت گاہ کو مسجد اور نام نہاد دھارمک کام کو عبادت اور نمام،اپواس کو روزہ بولتے ہیں،اپنے مرگھٹ کو قبرستان اور لاش کو جنازہ سے تعبیر کرتے ہیں، مرزا قادیانی کی بیوی کو ام المومنین اور اس کے دیکھنے والوں کو صحابہ کا نام دیتے ہیں۔ مرزا کے جانشین کو خلیفہ، جانشینی کو خلافت اور مرزائی گرو سے تعلق جوڑنے کو بیعت بولتے ہیں، مرزا کی کتھا کی جگہ قرآن مجید اور اس کے کرتوت کی جگہ سنت کا سنہرا لیبل استعمال کرتے ہیں۔ مرزائیت کے پرچارک کو مبلغ اور مرزا کے ہفوات،کتھا اور کرتوت کے جاننے والے کو عالم، مولوی اور مفتی کہتے ہیں۔ عیسوی سال کے آخری مہینہ دسمبر میںقادیان کے اندر ہونے والے میلہ میں شرکت کو ’حج‘ سے تعبیر کرتے ہیں۔ مرد و عورت میں میاں بیوی کے رشتہ جوڑنے والے عمل کو نکاح کا نام دیتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔
اسی طرح (۱)مسجد (۲)نماز(۳)روزہ (۴)زکوۃ (۵)حج (۶)قرآن (۷)حدیث (۸)تفسیر (۹)فقہ (۱۰)عالم (۱۱)مولانا (۱۲)مفتی (۱۳)قاری (۱۴)قبر (۱۵)مقبرہ (۱۶)جنازہ (۱۷)کفن دفن (۱۸)نبی و رسول (۱۹)مجدد (۲۰)صحابہ و صحابیات (۲۱)خلیفہ(۲۲)خلافت (۲۳)سنت (۲۴)بیعت (۲۵)مبلغ (۲۶)پیرومرشد (۲۷)مرید (۲۸)دارالعلم (۲۹)امام (۳۰)اذان (۳۱)صدقہ (۳۲)شہادت (۳۳)ام المومنین (۳۴)السلام علیکم (۳۵)دعا (۳۶)قربانی (۳۷)ذبیحہ (۳۸)نکاح (۳۹)ملائکہ (۴۰)فرشتے۔ یہ سب وہ الفاظ ہیں شریعت میں جن کے معنی و مفہوم متعین ہیں اور مسلمان ان الفاظ کے بولتے اور سنتے وقت ان معانی کی شرح اپنے ذہن میں رکھتے ہیں لیکن قادیانی ان الفاظ کا غلط استعمال کرتے ہیں اور ان کو نیا بلکہ خرافاتی معنی پہنا کر ان الفاظ کی روح و تقدس کو بٹہ لگانا چاہتے ہیں اور۔۔۔ اس لیے کرتے ہیں تاکہ باطنی فرقہ کے توبہ سے کام لے کر اسلام کو بدل دیاجائے۔
تاریخ کے واقف کاروں سے یہ بات پوشیدہ نہیں ہے کہ پانچویں صدی ہجری میں ’باطنی جماعت‘ اس غرض سے وجود میں آئی تاکہ اسلام کو شکست دے سکے، لیکن مسمانوں کی طاقتور پوزیشن کی وجہ سے اسلام کو جنگی میدان میں شکست نہیں دے سکتی تھی اور نہ مسلمانوں کو کھلم کھلا کفر و الحاد کی دعوت دے سکتی تھی کیونکہ اس کھلے عام دعوت سے مسلمانوں کے مذہبی جذبات و احساسات بیدار ہوجاتے اور وہ مقابلہ کے لیے میدان میں اتر آتے اس لیے انہوں نے اس کے لیے ایک نیا راستہ اختیار کیا انہوں نے اس حقیقت کو سمجھا کہ نبوت و رسالت، جنت و دوزخ،حلال و حرام، صلوۃ و زکوۃ، فرض و واجب، روزہ، حج یہ سب وہ الفاظ ہیں جو خاص دینی حقائق کو بیان کرتے ہیں اور جس طرح یہ دینی حقائق محفوظ ہیں اسی طرح دینی حقائق کو ادا کرنے والے یہ الفاظ بھی محفوظ ہیں۔ چنانچہ جب بھی نبوت و رسالت یا روزہ وحج کے الفاظ بولے جائیں گے تو ان سے ان کی وہی حقیقت اور وہی عملی شکل ذہن میں ابھرے گی، جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بتائی اور صحابہ کرام نے سمجھا، اور اسے تابعین تک پہنچایا،پھر تابعین نے تبع تابعین تک پہنچایا اور اسی طرح نسلا بعد نسل آج ہم تک وہ حقیقت پہنچی ہے۔ باطنیوں نے اس بات کو محسوس کیا کہ الفاظ و معانی کے درمیان جو رشتہ ہے یہ امت کی وحدت اور اسلام کے فکری و عملی نظام کی بنیاد ہے اگر ہ رشتہ ٹوٹ جائے یا کمزور پڑ جائے، اور دینی الفاظ و اصطلاحات کے معانی متعین نہ رہیں یا مشکوک ہو جائیں تو اسلام کے مستحکم قلعہ میں سیکڑوں چور دروازے بن سکتے ہیں اور یہ امت پر الحاد و دہریت کو قبول اور ہر ارتداد و زندقہ کو اپنا سکتی ہے،اس غرض کے لیے انہوں نے ’ظاہر و باطن‘ کا فلسفہ شروع کیا اور اپنی ساری توانائی اس بات کے منوانے پر صرف کی کہ ہرلفظ کے ایک ظاہری معنی ہوتے ہیں اور ایک باطنی معنی، اس خود ساختہ فلسفہ کو پیش کرکے باطنیوں نے اپنی مرضی کے مطابق قرآنی آیات کی ایسی بیہودہ اور باطل تاویلیں کیں جن سے ظاہری الفاظ کاکوئی تعلق باقی نہیں رہا، مولانا ابوالقاسم رفیق دلاوری کی شہرۂ آفاق کتاب’ائمہ تلبیس‘ سے اصطلاحات شرعیہ کی منمانی تشریح کے چند نمونے ملاحظہ ہوں:
’جبرئیل کسی ہستی کا نام نہیں بلکہ محمد کی عقل و فراست کا نام ہے۔ طوفان نوح سے مراد علم کا طوفان ہے جس میں اہل شہادت غرق کیے گیے، آتش نمرود سے مراد نمرود کا غصہ ہے، نہ کہ حقیقی آگ، یاجوج ماجوج سے مراد علما اہل ظاہر ہیں، عصا موسی سے مراد ان کی دلیل و حجت ہے۔ شیاطین سے مراد ظاہر پر عمل کرنے والے ہیں، جن سے مراد گنوار لوگ ہیں۔ ملائلہ سے مراد باطنی فرقہ کے پرچارک ہیں، مسیح کے احیائے موتی سے مراد مردہ دلوووں کو علم و ہدایت سے زندہ کرتا ہے۔ زکوۃ سے مراد دل کی صفائی اور پاکیزگی ہے۔ جنت سے مراد جسمانی راحت ہے اور دوزخ سے مراد جسمانی تکلیف ہے۔‘(ائمہ تلبیس:۱؍۲۲۰۔۲۲۱)
باطنیوں کی زندہ مثال آج کے قادیانی ہیں چنانچہ نزول عیسی، ختم نبوت،دجال اور دیگر بہت سے الفاظ کا جو معنی و مفہوم تیرہ سو سال سے امت سمجھ رہی تھی اور قرن اول سے لے کر آج تک تواتر کے ساتھ جسے مسلمان مانتے چلے آ رہے ہیں غلام قادیانی نے اس معنی اور مفہوم کو بالکل بدل دیا اور دیگر اصطلاحات اسلامیہ کو بالکل نیا معنی پہنادیا۔
دنیا جانتی ہے کہ وزیر اعظم، صدر مملکت، وزیر خارجہ، وزیرداخلہ، اور وزیر خوراک، یہ وہ الفاظ ہیں جن کے معنی و مفہوم خارج میں متعین ہیں اور جو ان کے اہل ہیں انہیں کے لیے یہ الفاظ بولے جاتے ہیں۔ نااہلوں کے لیے ان کا استعمال نہ حکومت کی نظر میں درست ہے نہ ہی عرفا درست ہے۔
اب اگر کوئی شخص حکومت کی وفاداری کا اقرار کرے مگر ساتھ ہی ساتھ اپنا نام صدر مملکت رکھ لے، اور جو خادم اندرون خانہ خدمت انجام دیتا ہو اس کا نام وزیر داخلہ رکھ لے، اور جو خادم بازار سے سودا لاتا ہو اس کا نام وزیر خارجہ رکھ لے اور جو اندرون خانہ کھانا بناتا ہو اس کا نام وزیر خوراک رکھ لے، پھر اندرون ملک اور بیرون ملک صدر مملکت کی حیثیت سے اپنا تعارف کرائے اور اپنے کارندوں کو وزیر داخلہ، وزیر خارجہ اور وزیر خوراک کے روپ میں دنیا کے سامنے پیش کرے تو یقینا یہ اسکا بھاری جرم ہوگا۔ ایسے ہی اسلامی اصطلاحات جب مسلمانوں کے لیے خاص ہیں اور قادیانی مسلمانوں کے تمام مکاتب فکر کے نزدیک متفقہ طور پر اسلام سے خارج ہیں تو ان کو کوئی حق نہیں ہے کہ وہ اسلامی اصطلاحات کو اپنے اوپر چسپاں کریں، اسی طرح دوسرے لوگوں کو بھی چاہیے کہ وہ قادیانیوں کے لیے اسلامی اصطلاحات کا استعمال نہ کریں۔

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *