اندلس/اسپین ایک تاریخی وتجزیاتی مطالعہ

امیرعبدالعزیزبن موسی بن نصیرنےاندلس کواسلامی بنانےکی بھرپورکوشش کی ۔انہوں نےایک قانون یہ بنایا تھاکہ اگرکوئي عیسائي غلام اسلام قبول کرلیتا تواسےآزاد سمجھا جاتا۔ اس بہترین اسکیم کے نتیجے میں بہت سارے لوگوں نےاسلام کے دامن میں پناہ لےلی۔ مگر بدقسمتی سےعبدالعزیز کو معزول کردیاگيا۔ اسلامی تعلیمات کی غیرپختگی کےباعث اندلس میں بربراورعربی قومیت کےجاہلی رجحان پیداہونےلگے۔بربروں کی خواہش تھی کہ انہیں مساوات ملے اور وہ عربوں، شامیوں اوریمانیوں کے ہم پلہ شمارہوں۔ لیکن یہ لوگ ماننے پرآمادہ نہیں ہوئے۔یہاں تک کہ جب شامیوں کا سردارثعلبہ اندلس کاحکمراں بناتومدنی اورافریقی عربوں کوشکست دینےکے بعدان کی عورتوں اوربچوں کو غلام  بنالیا۔
(تاریخ ہسپانیہ:پروفیسر رائن ہارٹ ڈوزی۔ اردوترجمہ،عبرت نامہ اندلس،مولوی عنایت اللہ)
علامہ ابن العذاری المراکشی لکھتےہیں کہ دمشق کےاموی خلفاءبربری عورتوں کے بڑے دلدادہ تھے۔بربرغلام اورلونڈیاں کثرت سےدمشق کے حکمرانو ں کی تسکین کےلیےبھیجی جاتی تھیں۔(اخبارالمغرب)
بدنظمی اورانتشارکایہ عالم تھاکہ 132ہجری بمطابق 755تک اندلس کےاندربیس حکمرانوں کاتقررہوا۔ان میں سے صرف دوافرادنےپانچ پانچ سال تک حکومت کی ۔
جب عباسیوں نے دمشق پر قبضہ کرکے خلافت امویہ کا خاتمہ کردیا تو عباسیوں کے ہاتھوں خاندان امویہ کے قتل عام میں بچ جانے والا واحد فرد عبدالرحمن بن معاویہ تھا۔ اس وقت اس کی عمر 20 سال تھی۔وہ کسی طرح اندلس پہنچنے میں کامیاب ہوگیاجہاں سطلنت امویہ کی باقیات موجود تھی اوروہیں اس کانانیہال بھی تھا۔وہاں پہنچ کراس نےاعلی صلاحیتوں اورجنگی مہارتوں سےاندلس کی حکومت سنبھال لی۔اس کو عبدالرحمن اول (عبدالرحمن الداخل)کےنام سے جاناجاتاہے۔یہ اندلس میں امارت امویہ کا بانی تھا، اس نے 756 سے 788ء تک اندلس پر حکمرانی کی۔ عباسی خلیفہ ابوجعفرمنصورنےعبدالرحمن الداخل کی سرکوبی کےلیےعلاء بن مغیث کی سربراہی میں اندلس پرحملہ کافرمان جاری کیا۔عبدالرحمن نےدانشمندی اورفوجی مہارت سےقرمونہ کےقلعہ میں دومہینےتک محصور ہونے کے بعدعلاء کوزبردست شکست دی۔عبدالرحمان نےفتح کےبعد بڑےبڑےعباسی کمانڈروں کےسرکاٹ دیےاوراس میں نمک اورکافوربھردیا،پھراس کوخلیفہ منصورکےلیےتحفہ بناکربھیج دیا۔منصوراس کودیکھ کر چلایا اورکہاکہ یہ انسان کانہیں کسی شیطان کاکام ہے،اللہ کاشکرہےکہ اس نےہمارےدشمن کےدرمیان سمندرحائل کردیا۔
(مجموعہ اخباراندلس)
شہرقرطبہ(Cordova) کی پہلی فتح کےموقع پرمسلمانوں نےیہاں کےسب سے بڑےگرجاشنت تنجنت کےنصف حصہ کولےکرجامع مسجدبنا لیاتھااورنصف گرجےکواپنےحال پرباقی چھوڑدیاتھااورباقی دوسرےگرجوں کو مسمار کرادیا تھا۔یہ وہی اسوہ تھاجوحضرت عمرنےفتح دمشق کے موقع پراختیارفرمایاتھا۔
عبدالرحمن نے اس کےنصف حصہ کوخریدناچاہالیکن عیسائیوں نےانکارکردیا،پھرباہم مشورہ کےبعدقرطبہ اوراس کےنواح میں تما م مسمارشدہ قلعوں اورگرجوں کوبنانےکی اجازت دی گئی توعیسائي لوگ اس گرجے سے دست بردارہوگئےاورعبدالرحمن نےاس کےبدلےعیسائيوں کومزید ایک لاکھ دیناردیے۔784عیسوی میں شنت تنجنت کی یہ اراضی حکومت کو حاصل ہوئی ۔عبدالرحمن کےزمانےمیں یہ مسجداس حدتک تیارہوگئی کہ اس میں نمازاداکی جاسکے۔ اس نےاس میں نمازجمعہ اداکی اورمنبرپرخطبہ دیا۔اس کی تعمیرپرعبدالرحمن کےوقت میں اسی ہزار دینار صرف ہوئے تھے۔ اس کی تعمیرکاسلسلہ اس کےبیٹےاورجانشین ہشام اول تک جاری رہا۔
عبدالرحمن الداخل نےقصرحکومت میں سیروتفریح کےلیےباغ رصافہ بنوایااوراس میں رنگ برنگےپھل اورپھول لگوائے۔اس کےدربارمیں شعراء وعلماء کااجتماع رہتا اورعلم وادب کی مجلسیں گرم رہتیں،خلعت وخاصےعطاکیےجاتےاورشعراء منہ مانگی مرادیں پاتے۔اس کےزمانےمیں شیخ غازی بن قیس اورشیخ ابوموسی مشہورعالم تھے۔ شیخ غازی بن قیس موطاامام مالک اورنافع کی قرات کوپہلی مرتبہ اندلس لائے۔
ہشام بن عبدالرحمن الداخل کادورحکومت داخلی فتنہ وفسادفروکرنےمیں گذرا،وہ سیرت وکردارکےلحاظ سےکافی فائق تھا۔ ابن اثیرنےلکھاہےکہ اس کے فضائل کےبیان میں اہل اندلس نےاس حدتک کہاہےکہ وہ اپنی سیرت وکردارمیں حضرت عمربن عبدالعزیزسےمشابہ تھا۔
اس کے بعد اس کا بیٹاحکم بن ہشام بادشاہ بنا،اس نے فرانس کےبادشاہ شارلیمین کو شکست دی اورکئی جنگی فتوحات حاصل کیں۔ مگریہ صلاح وتقوی سےلیس نہ تھابلکہ شراب نوشی اورعیش و عشرت کادلدادہ تھا۔اس نےخدم وحشم کثرت سےبڑھائے اورلڑکوں کوخصی کرکےخواجہ سرابنایا۔
اس کےفسق وفجور سےنمٹنےکےلیےقرطبہ کےممتازعلماء وصلحاء نےاس کی بیعت سےخلع کرناضروری قراردیااورایک اموی شہزادہ محمدبن القاسم معروف بہ ابن الشماس کومسندحکومت پر بٹھانے کاارادہ ظاہرکیا۔مگرشہزادہ خفیہ طورپرحکم بن ہشام سےمل گیااوران رازوں سےاسےباخبرکردیا۔ حکم نے شہادت کےبعد سب کو گرفتارکرلیا۔جولوگ اس کی گرفت سےباہرہوگئے،ان میں شیخ عیسی بن دینار اورشیخ یحیی بن یحیی لیثی ہیں اوراکابر میں جوحکم کےہاتھ لگ گئے،ان میں یحیی بن نصریحصبی،موسی بن سالم خولانی،موسی بن سالم بن ابی کعب ،یحیی بن یحیی لیثی کےسگےبھائی اورابویحیی زکریابن مطرغستانی جوحضرت امام مالک اورحضرت سفیان ثوری کےارشدتلامذہ میں تھےاوراندلس میں دین کےستون سمجھےجاتےتھےاوراسی طرح دیگرعلماء جن کی تعداد72 تھی،چنددنوں کےبعدشاہی محل کےسامنےان سب کوسولی پرلٹکادیاگیااورسرزمین اندلس ان اکابرعلم کے فیوض وبرکات سےہمیشہ کےلیےمحروم ہوگئی ۔
حکم نے اپنی حفاظت کےلیےمحل میں ڈھیرساری شاہی فوج جمع کرلی ۔اوراس میں اضافہ کرتاگیا۔191ہجری بمطابق 808عیسوی میں حکم لشکرلیکرماردہ کی مہم کےلیےنکلاتواہل قرطبہ کو شہرمیں محصورہوجانےکاموقع ملا۔حکم یہ سنتےہی تین دن کےاندرواپس ہوااورشورش کنندوں میں کچھ لوگوں کو سولی پرچڑھادیا۔وقتی سکون پیداہوگيالیکن عوامی اشتعال باقی رہا۔فوج اورشہریوں میں جذبہ عنادترقی پاتارہا۔کوئی جری اذان کےبعد “الصلواۃ یامخمور”کی ندا لگاتا۔
حکم نےمزید ایک جدت یہ کی کہ غلہ کاہروہ بوراجوقرطبہ میں باہرسےلایاجاتا،اس میں سےدسواں حصہ سرکاری محصول میں لےلینےکاحکم صادرکیا۔ اہل قرطبہ نےاس کوسخت ناپسندکیااورکچھ شورش پیداہوئی تودس لوگوں کو پھانسی پرچڑھادیا۔
اس کے بعد سب سے بدترین تباہی 198ہجری بمطابق813عیسوی کوپیش آئي ۔ایک شاہی فوجی نےاپنی تلوارصیقل کرنے کےلیےایک صیقل گر کودی ،دونوں کےدرمیان کچھ نزاع پیدا ہوا اورشاہی فوجی نےصیقلگرکوقتل کرڈالا۔اس واقعہ سےعوام مشتعل ہوگئی اورالسلاح السلاح کے نعرے لگاتےہوئےشاہی محل کی طرف دوڑپڑی اورایک جم غفیرمحل کی محافظ فوج پرحملہ آورہوگیا۔فوج نےبھی مقابلہ کیامگروہ پسپاہوکر پیچھےہٹنے لگی تو پھر حکم خود نکلا اوراپنی جنگی مہارت سےپانسہ پلٹ دیا۔ اپنے چچا زادبھائی عبداللہ کومحل سےنکل کرشہرپناہ کی پشت سےحملہ کرنے کوکہا۔وہ محل کے پیچھےسےنکلنےمیں کامیاب ہوگيااورپہلےشہرکےمحلوں میں آگ لگادی اورپھرعقب سےحملہ آوروں پرٹوٹ پڑا۔لوگوں نےجب اپنےمحلوں سےآگ کےشعلےنکلتےدیکھےتواپنےاہل وعیال کی فکرمیں بدحواس ہو کر مڑ پڑے۔اب میدان صاف تھا۔فوج درندوں کی طرح آگےبڑھی اورشہرکےان محلوں پرٹوٹ پڑی اور تین دن تک قتل عام،آتش زدگی اورلوٹ مارکاسلسلہ جاری رکھ کرایک قیامت برپاکردی۔جوجہاں ملتا اسے قتل کردیاجاتا۔ مکانات ڈھائےگئےاورمسجدیں مسمارکی گئيں۔جولوگ بچ گئےانہیں جلاوطن ہونےکاحکم دیاگیا لیکن راستے میں شریرفوجی اورسپاہی چھپ جاتے اوران کےساتھ مال واسباب کی لوٹ مارکرتےرہتے،جوسامان بچانےکی کوشش کرتاجان سےماراجاتا۔ان ہی مصائب وآلام کے ساتھ یہ لوگ اندلس سےباہرنکلے،کچھ لوگو ں نےمغرب کےشہرفاس میں اقامت اختیارکی اورکچھ بڑھتےہوئےمصرچلےگئے۔
ابن القوطیہ نےلکھاہےکہ اس خونریزی کےبعدحکم بدترین قسم کےلاعلاج مالیخولیامیں مبتلاہوگیااورقتل وخون ہی کے مناظرہروقت اس کی آنکھوں کےسامنےگردش کرتےرہتے۔
اس کے بعد اس کا بیٹا عبدالرحمن بن حکم بادشاہ بنا۔اس نےاندرونی بغاوتوں کاکامیابی کےساتھ سدباب کیا۔اس کےوقت میں اندلس کےسرحدی علاقےمیں نبوت کاایک مدعی ظاہر ہوا۔ اپنی تائیدمیں قرآنی آیات کی تاویل پیش کی ۔غوغائیوں کی ایک جماعت اس کی معتقدہوگئی ۔اپنی شریعت میں اس نےناخن اوربال کاٹناممنوع قراردیا۔عبدالرحمان نےاس کوگرفتارکرکےسولی پر لٹکا دیا۔اس نےنارمن قزاقوں کوبری طرح شکست دی اور اس کےبعداشبیلیہ میں دارالصناعۃ کےنام سےجہازسازی کاکارخانہ قائم کیا۔222ہجری بمطابق 836عیسوی میں بازنطینی شہنشاہ میکائیل نے عبدالرحمن ثانی کےپاس اپناسفیربھیجا۔اس کاایک خاص مقصدسلطنت عباسیہ پرحملہ تھا۔مگرمغرب کی اموی سلطنت داخلی معاملات میں الجھنے کے باعث کوئي واضح جواب نہ دےسکی ۔
افریقہ کےشہرتاہرت کےقریب سلطنت عباسیہ کےماتحت بنواغلب نےایک نئےشہرکی بناء عباسیہ کےنام سےکی تھی۔229ہجری بمطابق 843عیسوی میں اس شہرکوایک خارجی افلح بن عبدالوہاب اباضی نےحملہ کرکےجلاڈالااوراس نےاس کارگذاری کی اطلاع عبدالرحمن ثانی کےپاس بھیجی۔تواس نےاس حسن خدمت کےصلہ میں اس کوایک لاکھ درہم عطاکیا(ابن اثیر)۔
یہ صورت حال مفادپرستی اورذاتی بغص وعنادکےلیےاسلامی تعلیمات کی پامالی کی مثال ہے۔
عبدالرحمن ثانی نےفرانس کےساتھ کئی معرکےلڑےجس میں فرانس کوبری شکست ہوئي۔ مسلمانوں نےفرانس کے برشلونہ شہرکا محاصرہ کرلیا اور یہودیوں کی مدد سےشہرپرقبضہ ہوگیا۔اسی زمانےمیں عیسائیوں میں ایک نئی مذہبی تحریک پیداہوئي۔
لین پول رقم طرازہے”غالی مسیحیوں میں یہ خیال پیداکیاگياکہ مذہب کی اصل اس وقت پیداہوتی ہےجب روح زیادہ سے زیادہ تکلیف اٹھائے۔اس لیےحکمرانوں کومشتعل کرکےانسانی جسم اورگوشت پوست کوتکلیفیں پہنچائي جائيں تاکہ روح کاتزکیہ وتقدیس ہوسکے۔اس تحریک کابانی قرطبہ کا ایک راہب یولوجیسEulogiusتھا۔اس نےچندنوجوانوں میں فدائیت کاجذبہ پیداکیاکہ اپنی روح کوپاک کرنےکےلیےاس نئےدین اسلام اوراس کےپیغمبرپرسب وشتم کریں”۔
اس تحریک کوکامیاب بنانےمیں قرطبہ کےایک دولت مندعیسائی نوجوان الواروAlvaroاورایک حسین لڑکی فلوراFloraنےنمایاں حصہ لیا۔
عبدالرحمن ثانی فنون لطیفہ اورموسیقی سےکافی دلچسپی رکھتاتھا۔اورکہاجاتاہےکہ ایک حدتک پابندشریعت بھی تھا۔اس نے بہت سارےمحلات ،حمام اورسیرگاہیں تعمیرکروائیں۔عورتوں سےخصوصی شغف رکھتاتھا۔
لین پول نے لکھاہےکہ نئےسلطان نےقرطبہ کوبغدادثانی بنادیا(مورس ان اسپین)۔
عبدالرحمن بن حکم کےبعداس کابیٹامحمدبن عبدالرحمن ثانی اس کاجانشین بنا۔اس کے بارےمیں کہاجاتاہےکہ یہ راست بازشخص تھا،اہل عقل کوقریب رکھتاتھااورخالص عربی النسل لوگوں پراہل شام کوترجیح دیتاتھا۔
اس کے بعداس کاشہزادہ منذربن محمدبادشاہ بنا۔اس نےسب سےبڑی غلطی یہ کی کہ ایک نہایت ہی وفاداراورصالح والی ہاشم بن عبدالعزیزکوسولی پرلٹکادیااورپھراپنی حکومت کےدوسرےہی سال میدان جنگ میں ماراگیا۔
اس کےبعداس کابھائی عبداللہ بن محمدبادشاہ بنا۔اس کےوقت میں ایک مدعی نبوت ظاہرہوا۔ بادشاہ نےفقیہ بقیی بن مخلد کے مشورے سے اس کوپھانسی دیدی۔اس کےدورمیں بہت ساری اندرونی بغاوتیں رونماہوئیں ۔
اس کے ایک بیٹےمحمد نے اشبیلیہ میں بغاوت کردی ۔اس کوفروکرنےکےلیےبادشاہ عبداللہ نےاپنےبیٹےعبدالرحمن کوبھیجا۔اس جنگ میں شہزادہ محمدکوشکست ہوئي اوروہ گرفتارہوگیا۔زخموں کی تاب نہ لاکرچنددن بعدفوت ہوگيا۔اس وقت اس کی عمر28سال تھی ۔اس نےاپناایک بیٹاچھوڑا جوبعدمیں عبدالرحمن الناصرکےنام سےمشہورہوا۔
بادشاہ عبداللہ نےباغی مسلمانو ں کےمقابلےمیں جلیقیہ کےعیسائی بادشاہ سےمعاہدہ کرلیا۔اس سےبادشاہ کےخلاف ایک زبردست فضاپیداہوگئي ۔بعض جگہوں پربادشاہ کانام خطبہ سےنکال دیاگیا۔اورلوگوں نےبادشاہ کےخلاف تقریریں کیں۔بادشاہ نےاس کےایک سرغنہ شہزادہ القاسم کوگرفتارکرلیااوراس کوزہردےکرماردیاگيا۔پھربہت سارے مشہور عالموں کوجلاوطن کردیا گیا۔ مشہورومعروف فقیہ زکریابن خطاب اسی اندیشےسے مشرق کی سمت بھاگ گئے۔
شاہان بنی امیہ کے زمانے میں اندلس کے اندریہ دستورتھاکہ کوئی بھی وزیر اپنے برابر والےوزیرکے سوا کسی اور کے گھرمیں داخل نہیں ہوتاتھا۔ اور تعظیماً کھڑا ہونا شرط  کے درجہ میں ضروری تھا۔
285ہجری میں زبردست قحط پڑا۔اسپین اورافریقہ کےلوگ بھوکوں مرنےلگے۔یہاں تک کہ غریب ایک دوسرےکوکھانےلگے۔اس کےبعدایک وبائی مرض پیداہوا۔اس میں بے شمار جانیں گئیں۔جولوگ مرنےکےقریب ہوتےوہ خودہی قبرستان پہنچ جاتےاوروہاں لیٹ رہتے۔ 299ہجری میں ایک بڑاسورج گرہن ہواجس میں پوراآفتاب غائب ہوگیا۔
بادشاہ عبداللہ اپنےپوتےعبدالرحمن بن محمدکابہت خیال رکھتا،اس نےاپنی وفات سےقبل اپنےبیٹےشہزادہ عبدالرحمن کوخصوصی وصیت کی کہ اپنےبھتیجےکی اپنےبیٹےکی طرح دیکھ بھال کرنا۔ اور بادشاہ عبداللہ نےاپنےبائیس سالہ پوتےعبدالرحمن الناصرکواپناولی عہدمقررکیا۔اس کےچچا عبدالرحمن بن عبداللہ نےبخوشی اس کےہاتھ پربیعت کی ۔عبدالرحمن الناصرکی ماں مریم مسیحی النسل تھی۔ عبدالرحمن الناصر (912ء تا 961ء)اندلس میں خلافت امویہ کا سب سے مشہور حکمران تھا جو عبدالرحمن الثالث اور عبدالرحمن اعظم کے ناموں سے بھی معروف ہے۔
وہ جب تخت پر بیٹھا تو ملک کی حالت بہت خراب تھی۔ ہر طرف بغاوتیں پھیلی ہوئی تھیں ۔ اس کے باوجود اس نے ایسی قابلیت سے حکومت کی کہ دس پندرہ سال کے اندر ملک میں امن قائم کر دیا۔ اس نے نہ صرف اسلامی اندلس میں امن قائم کیا بلکہ شمال کے پہاڑوں میں قائم عیسائی ریاستوں کو بھی باجگذار بنا لیا۔
عبد الرحمن نے فوجی قوت کو بڑی ترقی دی۔ اس کی فوج کی تعداد ڈیڑھ لاکھ تھی۔اس کے دور میں بحری قوت میں بھی بہت اضافہ ہوا اور اندلس کے بحری بیڑے میں 200 جہاز شامل تھے جبکہ ساحلوں پر پچاس ہزار سپاہی ہر وقت حفاظت کے لیے موجود رہتے۔
بازنطینی سلطنت، فرانس اور جرمنی کی حکومتوں نے اپنے سفراء اس کے دربار میں بھیجے۔ اندلس کے اموی حکمران اب تک “امیر” کہلاتے تھے اور انہوں نے خلافت کا دعویٰ نہیں کیا تھا لیکن چوتھی صدی ہجری میں بغداد پر بنی بویہ کے قبضے کے بعد عباسی خلفاء بویہی حکمرانوں کے ماتحت ہوگئے تھے۔ عبدالرحمن نے جب دیکھا کہ خلافت میں جان نہیں رہی اور وہ ایک طاقتور حکمران بن گیا ہے تو اس نے امیر کا لقب چھوڑ کر اپنی خلافت کا اعلان کر دیا۔اورامیرالمومنین کالقب استعمال کرنےلگا۔ اس کے بعد سے وہ اور اس کے جانشیں خلیفہ کہلانے لگے۔
عبد الرحمن صرف ایک طاقتور حکمراں ہی نہ تھا بلکہ وہ بڑا لائق، عادل اور رعایا پرور بادشاہ تھا۔ اس کے زمانے میں حکومت کی آمدنی ایک کروڑ بیس لاکھ دینار تھی۔ اس میں سے ایک تہائی رقم وہ فوج پر خرچ کرتا تھا اور باقی کوبوقت ضرورت کام آنے کے لیے خزانے میں جمع کر دیتا تھا۔
اس کےعہدمیں حمیم نام کاایک مدعی نبوت شخص ظاہرہوا۔اس نےنئی شریعت وضع کی۔بعدازاں اسے گرفتار کرکے سولی  پر لٹکادیا گیا۔
اس کی اصول پسندی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ایک مرتبہ اس کے لڑکے نے بغاوت کی۔ جب وہ گرفتار کر کے لایا گیا تو عبد الرحمن نے اس کو موت کی سزا دی۔ اس پرولی عہدنے اپنے بھائی کو معاف کر دینے کے لیے گڑ گڑا کر سفارش کی لیکن عبدالرحمن نے جواب دیا:
“ایک باپ کی حیثیت سے میں اس کی موت پر ساری زندگی آنسو بہاؤں گا لیکن میں باپ کے علاوہ بادشاہ بھی ہوں۔ اگر باغیوں کے ساتھ رعایت کروں تو سلطنت ٹکڑے ٹکڑے ہوجائے گی” ۔
اس کے بعد اس کا لڑکا قتل کر دیا گیا۔
مشہورطبیب زہراوی اس کےسرکاری طبیب تھے۔اسی زمانےمیں مشہورعربی ادیب ابوعلی قالی تھے۔ان کی کتاب الامالی کافی مشہورہے۔ابن عبدربہ القرطبی بھی اسی زمانےمیں تھے،ان کی کتاب عقدالفریدتاریخ وادب کاشاہکارسمجھی جاتی ہے۔
اس نے اپنی لونڈی زہرہ کے لیے قرطبہ کے نواح میں ایک بستی قائم کی جومدینہ الزہرا کہلاتی ہے۔یہ وادی الکبیر کے کنارے تعمیرکی گئی۔ اس میں چارسوکمرےتھے،اس کےلیےسنگ مرمرمراکش سے،سنہری ستون اور دیگر سامان آرائش قسطنطنیہ سےمنگوایا گیاتھا۔ اس پر اس نے کروڑوں روپیہ صرف کیا۔ اس کی تعمیر بیس سال تک جاری رہی اورتقریباًدس ہزارمزدوروں نےکام کیا۔ اس میں شاہی خاندان کے امراء کے بڑے بڑے محل اور ملازمین کے لیے مکانات اور سرکاری دفاتر تھے۔ اس میں ایک چڑیا گھر بھی تھا جس میں طرح طرح کے جانور پھرا کرتے تھے اور شہر کے لوگ تفریح کے لیے یہاں آیا کرتے تھے۔
مدینۃ الزہرہ کے محلات کی تکمیل ہونے کے بعد لوگوں نے خلیفہ کو مبارک باد دی۔ جمعہ کا دن تھا،مسجد میں سب نماز کے لیے جمع ہوئے۔ قاضی منذر نے خطبہ پڑھا اور اس خطے میں عبدالرحمن کی اس فضول خرچی کی مذمت کی اور برا بھلا کہا۔ قاضی منذر بہت دلیر تھے اور حق بات کہنے سے کبھی دریغ نہیں کرتے تھے۔ عبدالرحمن نے قاضی کی باتیں صبر سے سن لیں۔اس نےپچاس سال چھ مہینےحکومت کرکےبہترسال کی عمرمیں مدینہ الزہرامیں وفات پائی۔
عبدالرحمن کے بعد اس کا بیٹا حاکم بن عبدالرحمن معروف بہ المستنصرباللہ تخت حکومت پر بیٹھا۔ یہ کتابوں کابہت زیادہ شائق تھا۔قاہرہ کی الازہراوربغدادکی نظامیہ سےبہت پہلےعبدالرحمن الناصرنےقرطبہ میں ایک یونیورسیٹی قائم کی تھی۔ جس میں مقامی طلبہ کےعلاوہ افریقہ، ایشیااوریورپ کی مختلف ریاستوں سےبھی متلاشیان علم آتےتھے۔حاکم نے یونیورسیٹی کومزیدوسعت دی۔سکےکےنل لگاکرپہاڑی چشموں کاپانی وہاں تک پہنچایا۔دمشق،بغداداورقاہرہ سےاساتذہ طلب کیے۔
اس نےبے شمار کتابوں سےقصرمروان کوبھردیا اوراس مقصدکےلیےاہل علم کی ایک کمیٹی قائم کی اورسب کو مختلف شہروں میں کتاب لانےکے لیےروانہ کیا۔حاکم نےابوالفرج الاصبہانی کوخط لکھاکہ اپنی کتاب الاغانی کی ایک نقل روانہ کردیں اوراس کےعوض جتنی بھی رقم چاہیں خزانے سےلےلیں۔
ابن حیان اندلسی لکھتےہیں کہ کتب خانہ مروانیہ جوقصرمرحان میں قائم کیاگیاتھااس کی فہرستیں چوالیس جلدوں میں تھیں۔ہرایک جلدکےپچاس پچاس ورق تھےاوران میں فقط کتاب اورمصنفین کانام تھا۔
اس وقت چرم سازی،ریشم بافی،شیشےاورتانبےکےظروف،قرطبہ کی مخصوص صنعتیں تھیں۔مالقہ سےلعل وگہرنکلتےتھے۔جین سےسونا،قرطبہ سےفولاداورسکہ،طلیطلہ کی تلواریں دنیابھرمیں مشہورتھیں۔عربوں نےایشیاسےاتنے پھل داردرخت اندلس میں منتقل کیےتھے کہ ہرطرف باغ ہی باغ نظرآتےتھے۔(تاریخ عرب:فلپ کے حٹی، ص،130
355ہجری میں زبردست طوفانی تباہی آئی ۔عراق اوردیگرمقامات کےلوگوں کی صحبت سے ان دنوں اہل اندلس میں شراب پینےکی بدترین خصلت علی العموم پیداہو گئی۔عوام ہی نہیں بلکہ اہل علم اورفقیہ بھی بلاپس وپیش پینےلگے۔ولیموں اوردیگرتقریبات میں شراب کادورخوب چلتا۔بادشاہ حاکم شریعت سےواقف تھااورشراب نہیں پیتاتھا۔ایک دن اس نےعالمو ں اورفقیہوں کوجمع کرکےسوال کیاتوان لوگوں نےجواب دیاکہ بادشاہ محمدکے عہدمیں یہ مسئلہ پیداہواتھا۔اس وقت سب لوگوں کی رائےیہ تھی کہ اندلس کےمسلمان چونکہ ہمیشہ دین اسلام کےدشمنوں کےمقابلےمیں برسر پیکار رہتے ہیں،اس لیےان کےلیےشراب جائزہے۔شراب سےان کی قوت بڑھ جاتی ہے۔اورمیدان جنگ میں سپاہیوں کادل مضبوط رہتاہے۔ اسی بناء پرتمام سرحدی ممالک میں شراب کی عام اجازت دےدی گئی۔کیونکہ سپہ گروں کومصائب جنگ برداشت کرنےاوراپنی قوت بڑھانےمیں اس سےبڑی مددملتی ہے۔بادشاہ کوان کی یہ رائےنہایت ناگوارہوئي ۔اس نےسختی سےان کی تردیدکی اورپورےغیض و غضب سےحکم دیاکہ اندلس میں جتنی کھجورکی تاکیں ہوں ،اکھاڑکےپھینک دی جائیں۔فقط اتنےباغ چھوڑدیےجائیں جوتازہ اوردیگرایام میں سوکھےپھل کھانےکےکام آسکیں۔ اس کےبعد ایک صالح قاضی القضاۃ عبدالملک بن منذربن سعیدالبلوطی کےذمہ اس طرح کے سارے معاملات سپرد کر دیے۔
(تاریخ عرب اسپین:ڈاکٹرجےاےکانڈی،ص،462
بادشاہ حاکم بن عبدالرحمن نےایک رجسٹربنانےکا حکم دیا۔اس میں مملکت کے کل شہروں کا حال لکھاگيا۔ اس میں لکھا گيا کہ اندلس میں چھ شہراول درجےکےہیں،جوفوجی اضلاع کے مستقر ہیں۔ 80شہردوسرےدرجےکےہیں جن کی آبادی بہت زیادہ ہےاورتین سوشہرتیسرےدرجےکے ہیں۔ اس میں کئی قریے،گاؤں ہیں۔بعض مورخ بیان کرتےہیں کہ بادشاہ حاکم بن عبدالرحمن کےوقت میں قرطبہ کےاندربارہ لاکھ مکان ،چھ سومسجدیں،پچاس شفاخانے،اسی مدرسےاورنوسوحمام عوام کے لیے تھے۔سلطنت کی آمدنی ایک کروڑبیس لاکھ مثقال سونےکےبرابرتھی۔اس میں زکوٰۃ کی رقم شامل نہیں ہے۔ سونے،چاندی ،ہیرے،جواہرات اوردیگردھاتوں کی بہت ساری کانیں تھی۔کاشت کاری اورزراعت بہت ترقی یافتہ تھے۔اس نےبہت سارےپل اورنہریں بنوائيں۔اسی زمانے کے بارےمیں جرمنی کی ایک راہبہ نےکہاتھاکہ اگردنیاکوایک انگشتری فرض کیاجائےتوقرطبہ اس کانگینہ ہے۔
(تاریخ عرب،حتی،ص،129
معروف امریکی مورخ جان ولیم ڈریپر نے لکھا ہےکہ جس زمانے میں قرطبہ کے کوچہ و بازار میلوں تک پختہ مکانات کی روشنیوں سے جگمگاتے تھے، پیرس میں بارش کے دن ٹخنوں تک کیچڑ میں چلنا پڑتا تھا اور لندن میں اندھیرا چھایا رہتا تھا۔( ہسٹری آف انٹی لیکچویل ڈویلپمنٹ آف یورپ)
قرطبہ یورپ کا پہلا شہر تھا جہاں سرکاری طور پر ہر گھر میں پانی پہنچانےکا انتظام تھا۔ یہاں آٹھ سو مدارس تھے، جن میں مسلمانوں، عیسائیوں اور یہودیوں کو بلاتفریق تعلیم دی جاتی تھی۔ غرناطہ، اشبیلیہ اور قرطبہ کی یونیورسٹیاں پورے ایشیا، افریقہ اور یورپ میں نہایت عظمت کی نگاہ سے دیکھی جاتی تھیں۔ قرطبہ یونیورسٹی میں اس وقت طلبا کی تعداد گیارہ ہزار تک ہوتی تھی۔
366ہجری میں پندرہ سال پانچ مہینےحکومت کرکے66سال کی عمرمیں حاکم کا مدینہ زہراء میں انتقال ہوگیا۔اس کےبعداس کابیٹاہشام بن حاکم مویدباللہ مسندحکومت پربیٹھا۔اس وقت اس کی عمرصرف دس سال تھی۔اس کی ماں سلطانہ صبیحہ بادشاہ حاکم کی محبوب نظرتھی اوراپنی حکومت کےآخری دس سالوں میں وہ اپنےہرکام اس کےمشورہ ہی سےکرتاتھا۔سلطانہ صبیحہ ظاہری حسن وجمال کےساتھ فراست ورزانت کی بھی ملکہ تھی ۔حکومت کےایک نہایت ہی معتمداورباصلاحیت سپہ لارمحمدبن عبداللہ المنصورکواس نےہشام کاوزیراعظم نامزد کیا۔جونہایت ہی وفاداراورلائق وفائق تھا۔اس نے عیسائیوں سےکئی کامیاب جنگيں لڑیں اورہرطرف امن وامان کابول بالاکردیا۔
اس کےانتقال کےبعداس کابیٹاعبدالملک المظفربن محمدالمنصوروزیراعظم بنا۔اس وقت سلطانہ صبیحہ کا انتقال ہوگیا۔ اس نےایک حدتک اپنےباوقار باپ کےنقش قدم کی پیروری کی ۔ بادشاہ ہشام حکومت وسلطنت سےبےپرواہ اپنےمحل اورباغ میں سیروسیاحت کرتارہتا۔کچھ ہی دن بعد عبدالملک مرگياتواس کی جگہ اس کےبھائی عبدالرحمن بن محمدالمنصورنےلی۔مگراس نےخفیہ طورپربادشاہ ہشام کےبعداس سے اپنی حکومت کی نامزدگی کاحلف لےلیا۔
یہ خبرجب خاندان بنوامیہ میں پہنچی توایک نوجوان محمدبن ہشام بن عبدالجباربن عبدالرحمن الناصرنےاس سےجنگ کےبعدگرفتارکر کےپھانسی پرلٹکادیا۔اس نےبادشاہ ہشام کوبھی قتل کرنےکی کوشش کی لیکن ایک داروغہ کےمنع کرنےکی وجہ سےبازرہا۔داروغہ نےکہاکہ بادشاہ محل میں خاموش زندگی گذاررہاہے۔آپ اس پرقابل اعتمادپہرہ دارلگادیں اوراسے خفیہ طور پرکہیں قید کردیں۔اس نےاس رائےکو پسندکیا۔
بعض مورخین نےبیان کیاہےکہ بادشاہ کو حسن بن حیی کےمکان پررکھاگیااورایک شخص کوتلاش کرکے جو عمر، قدوقامت اورشکل میں بادشاہ ہشام کےمشابہ تھاپکڑلیا۔پھررات کےوقت اس کا گلاگھونٹ دیا اوربعض لوگ کہتے ہیں کہ اسےپانی میں غرق کردیااوراس کی لاش کوشاہی بسترپرڈال کر یہ خبرمشہورکردی کہ بادشاہ بیمارہے۔ پھریہ مشہورہواکہ بادشاہ نے حاجب محمدکووارث سلطنت مقرر کیا ہے اورچندگھنٹوں بعدبادشاہ ہشام کی موت کااعلان کردیاگیا۔اس کےبعداس فرضی بادشاہ کاجنازہ اٹھایا گيااورپوری شان وشوکت کےساتھ محل کےبیرونی صحن میں دفن کیاگیا۔
اس کے بعد محمد نےاپنی بادشاہت کااعلان کردیااوراپنا لقب مہدی باللہ اختیارکیا۔ یہ سن کرافریقی گارڈ،علاقہ بربراورقبائل زناتہ کےلوگ نئےبادشاہ سےلڑنےکےلیےآمادہ ہوگئے۔افریقی گارڈکےایک سپہ سالارہشام رشیدبن سلیمان بن عبدالرحمن الناصرنےلوگوں کوجوش دلایااورکہاکہ اس نئے بادشاہ نےہمارےشاہ ہشام کودغابازی کےساتھ قتل کرڈالاہے۔یہ سب لوگ شاہی محل کی طرف بڑھےاوراس کوگھیرلیا۔بڑی زبردست لڑائی ہوئي اوربالآخرمحمدمہدی باللہ نےان لوگوں کوشکست دی اورہشام رشیدکاسرتن سےجداکردیا۔
اس کے بعداس کےچچازاد بھائی سلیمان بن حاکم الناصرنےعیسائیوں کے شہرجلیقیہ پہنچ کران سےمددطلب کی ۔غالباً اندلس کی تاریخ میں یہ پہلاسیاہ ترین دن تھاجب کوئي مسلم مسلم سےمقابلےکرنےکےلیےعیسائیوں سے مدد مانگنے گیا۔
حمیدی نےلکھاہےکہ مسیحی بادشاہ نے اس کومدد دینےکا وعدہ کیااور اپنےچندسرحدی قلعے اس کےقبضےمیں دےدیے، جن پرافریقی سپاہیوں نے قبضہ کرلیا۔اس کےعوض میں سلیمان بن حاکم نے مسیحی بادشاہ سے وعدہ کیا کہ محمد مہدی باللہ سے مقابلےکےلیے جو مدد فراہم کی جائےگي اس کےعوض میں چند نہایت مضبوط قلعےاور مقامات جومسیحی ممالک کی حفاظت کےلیے ضروری ہیں، مسیحی  بادشاہ کے سپردکردیےجائیں گے۔اس معاہدہ کےبعدسلیمان بن حاکم مسیحی شہسواروں کی ایک بہترین اورمنتخب فوج لیکرقرطبہ کی جانب روانہ ہوا۔
400ہجری میں جبل قنطاس کےقریب محمدمہدی باللہ اورسلیمان کےدرمیان نہایت خوں ریزلڑائی ہوئي۔محمدمہدی باللہ کی فوج کے بیس ہزار سےزیادہ آدمی قتل کردیےگئےاور وہ خود اپنی بقیہ فوج کے ساتھ  بھاگ کرطلیطلہ پہنچ گیاجہاں اس کا بیٹا عبیداللہ  حاکم  تھا۔
عبیداللہ کی مدد سےمحمد مہدی باللہ کو بھی عیسائيوں سے مدد مل گئی اوریہ معاہدہ طے پایاکہ ایک رقم کےمعاوضےمیں کاونٹ برمنڈاورکاونٹ ارمن جودی مسلمانوں کومدددیں۔لہذافرانس کےیہ مشہوراوربہادرشہسواراپنی فوج کےساتھ مددکےلیےآئے۔قرطبہ کی فتح کےبعدسلیمان نےاپنالقب مستعین باللہ قراردیا۔اورمدینہ زہراء میں رہائش اختیارکی۔سابقہ جنگوں کی وجہ سےقرطبہ کےلوگ افریقیوں سےسخت نفرت کرتےتھے۔
ابومروان بن حیان بیان کرتےہیں کہ اسی زمانےمیں ملاغہ کےاندرخلف بن مسعود جو ابن امین کےلقب سےبھی مشہورتھا،لوگوں نے کاٹ کراس کے ٹکڑےٹکڑےکرڈالے۔خلف نے اپنے قاتلوں سےدرخواست کی کہ دورکعت نمازپڑھ لینےدیں۔لیکن قبل اس کےکہ وہ نمازختم کریں، لوگوں نےان پربہت بڑاپتھرڈھکیل دیا،جس سےان کےجسم کےٹکڑےٹکڑےہوگئے۔
کچھ دن بعد محمد مہدی باللہ ایک منتخب فوج کے ساتھ جوطلیطلہ، ،بنسیہ اورمرقیہ کےلوگوں پر مشتمل تھی قرطبہ کی طرف بڑھا۔اس میں تیس ہزار مسلمان اورنوہزارعیسائی تھے۔اس کےمقابلہ کے لیےسلیمان کےپاس اس کی آدھی فوج بھی نہیں تھی۔سلیمان کواس جنگ میں شکست ہوئی اوروہ افریقہ کی طرف نکل گیا۔محمدمہدی باللہ نےقرطبہ پرقبضہ کرلیااوراپناحاجب واضح العامری کومقررکیا۔اسی نے بعد میں بادشاہ کوپھنساکرقیدمیں پڑےاصل بادشاہ ہشام کولوگوں کےسامنےپیش کردیااورپھرہشام نے محمد مہدی باللہ کاسرتن سےجداکردیا۔بادشاہ ہشام نےاپناحاجب واضح العامری کومقررکیااوروہی پوری سلطنت پرحاوی رہامگربعدمیں سازش کی وجہ سےبادشاہ نےاسےقیدکردیااورپھرپھانسی کے پھندے پر لٹکادیا۔
رجب 401ہجری میں طلیطلہ کےحاکم اورمحمدمہدی باللہ کےبیٹےعبیداللہ نےفوج کے ساتھ قرطبہ کی طرف انتقام لینےکےلیےکوچ کیا۔لیکن اس جنگ میں اس کوشکست ہوئي اور بڑے بڑےلوگ گرفتارہوئے۔ان میں احمدبن محمد،محمدبن ثمراوراحمدبن محمدبن وسیم نہایت مشہوراورقابل افراد میں تھے۔ان کےہاتھوں اورپیروں میں میخیں ٹھونک دی گئیں۔انہوں نےسورہ یسین کی تلاوت شروع کی ۔لیکن سپاہیوں نےخنجرسےان کاچہرہ زخمی کردیایہاں تک کہ ان کاسرگردن سےلٹکنےلگا۔
402ہجری میں کئی وبائی امراض پھیل گئےاوردارالسلطنت قرطبہ میں غلہ کاقحط پڑگيا۔لوگوں میں بہت بےچینی پیداہونےلگي۔ سلیمان بن حاکم نےاس صورت حال سےخوب فائدہ اٹھایا اور سلطنت کے بہت سارے والیوں اورقرطبہ کے بااثرلوگوں سے خط وکتابت کی ۔یہ معاملہ پورے طور پر کامیاب رہا۔ حالات اس کے موافق ہوگئےاور403ہجری میں شاہ ہشام اورسلیمان کےدرمیان جنگ ہوئی ۔جس میں سلیمان نےفتح حاصل کی ۔ اوراموی بادشاہ ہشام بن حاکم کاانجام کیاہوا؟کسی  کو کچھ نہیں معلوم۔
اس کےبعدسلیمان اورافریقہ والوں نےقرطبہ میں عام قتل وغارت اورلوٹ مارشروع کی ۔ وہ تین دن تک شہرکولوٹتےاوربربادکرتےرہے۔ان لوگوں نےان کابھی کوئي لحاظ نہ کیاجوکہتےتھےکہ ہم تمہارےطرفدارہیں۔شہرمیں ہرجگہ نہایت خوفناک مظالم ہوئے۔ایک بہت بڑےعالم اور واعظ شیخ محمدقاسم الحلاتی کوان کےگھرمیں اورشیخ رشیدبن ابراہیم کوراستےمیںبڑی بےرحمی سےقتل کر دیاگیا۔اسی طرح سےایک عادل قاضی خلف بن سالمہ خمیس قتل کردیےگئےاوربغیرغسل وجنازہ کےمقبرہ بنی عباس میں دفن ہوئے۔ابوسالمہ الزاہدجومسجدعین طارکےامام تھےاپنےمکان میں مار ڈالے گئے۔ مشہورعالم شیخ ایوب اورشیخ سعیدبن منذربڑی بےدردی سے ذبح کردیےگئے۔اوراس طرح قتل ہونےوالےلوگوں کی ایک بڑی تعداد تھی ۔یہ وحشی لوگ قرطبہ والوں کےحرموں میں گھس پڑےاوران کایہ شرمناک فعل ان سب پربےرحمیوں اورمظالم سےبڑھاہواتھاجواس زمانےمیں پیش آرہے تھے۔(تاریخ عرب اسپین،ص،567
اس واقعہ کے بعد بادشاہ ہشام کا حاجب حیران عامری کسی طرح بچ گيا اور بادشاہ کے وفادارسبطہ کے حاکم حمودبن علی کےپاس پہنچ گیااوراسےسلیمان سےانتقام لینےکےلیےآمادہ کرلیا۔ بالآخر407ہجری میں زبردست جنگ ہوئي اورسلیمان گرفتارہوگیا۔بعدازاں حمودبن علی نےاس کاسرکاٹ دیا۔ اور408ہجری میں علی بن حمودنےاپنی بادشاہت کااعلان کیااورمتوکل باللہ لقب اختیارکیا۔پھرحیران العامری اورعلی بن حمودمیں اختلاف ہوگیا۔ حیران بھاگ کرعلاقہ جیان میں پہنچا۔اس وقت وہاں بنوامیہ کاایک فردعبدالرحمن بن محمدبن عبدالملک بن عبدالرحمن الناصروالی تھا۔اورعبدالرحمن المرندی کےنام سےمشہورتھا۔حیران نےلوگوں کوابھاراکہ عبدالرحمن المرندی جوبنوامیہ کافردہےوہی دراصل اندلس کی سلطنت کاجائزوارث ہے۔اس علاقےکےشہروں اورکوہساروں کےلوگوں نے اسے اپنابادشاہ منتخب کرلیااوراس کےہاتھ پربیعت کی۔ادھرقرطبہ میں علی بن حمودکے ظلم سےپریشان ہوکرقرطبہ کےبااثرقائدین نےبھی عبدالرحمن المرندی سےربط وضبط استوارکرلیا۔
اب سارےمشرقی اندلس میں بادشاہ عبدالرحمن المرندی کےنام کاخطبہ جاری ہوگيا۔اس صورت حال سےعلی بن حمودبہت پریشان ہوا۔دونوں کےمابین غرناطہ کےقریب بڑی خونریزجنگ ہونے والی تھی کہ محل کےاندرموجودعلی بن حمودکےبہت سارےدشمنوں نےاسےدوران غسل حوض میں ڈوبا کر مار دیا۔
اس کےبعداس کابھائی قاسم بن حموداندلس کابادشاہ بنا۔اس کےخلاف علی بن حمودکےبیٹےیحیی بن علی نےمحاذکھول دیااوراپنی حکومت کادعوی کیا۔دونوں کےدرمیان جنگیں ہوئيں اورپھر مشرقی اسپین کےخطرات کودیکھتےہوئے صلح ہوگئی اورپھریحیی بن علی نےاپنےچچاسےغداری کی۔ اوروہ قاسم کےغائبانہ میں قرطبہ پرقابض ہوگيا۔پھرمقابلےکےلیےآنےوالی قاسم کی فوج اورقوت دیکھ کرفرارہوگيااورقاسم پھرقرطبہ پرقابض ہوگيا۔قرطبہ والےاس کی ظلم وزیادتی سےبہت پریشان تھے۔اوروہ بادشاہ عبدالرحمن المرندی کےخیرخواہ تھے۔شہرکےلوگوں نےبہت منظم طریقےسےایک دن شاہی محل پرحملہ کیااوراس کامحاصرہ کرلیا۔413ہجری میں قاسم بن عبدالرحمن کسی طرح نکل بھاگنےمیں کامیاب ہوگيا۔
اب لوگ بادشاہ عبدالرحمن المرندی کےاستقبال کی تیاری کررہےتھےکہ غرناطہ کےقریب جاری جنگ میں جوقاسم بن حموداور عبدالرحمن المرندی کےمابین ہورہی تھی ،اس میں بادشاہ المرندی کی فوج فتح کےآخری مرحلےمیں تھی کہ کسی نےبادشاہ کوتیرسےزخمی کردیااوروہ کچھ دیربعدفوت ہو گيا۔
اس کی وفات کی خبرسن کراہل اندلس کےخواب چکناچورہوگئے۔اب اہل قرطبہ اوربنی امیہ کےطرفداروں نےعبدالرحمن بن ہشام بن عبدالجبار بن عبدالرحمن الناصرکی طرف رخ کیااور314ہجری میں اس کی بادشاہت کااعلان کیا۔یہ محمدمہدی باللہ کابھائي تھا۔اس سےلوگوں کوبہت ساری امیدیں وابستہ تھیں،کیونکہ وہ نہایت قابل اورباہمت تھا۔لوگوں نےاس کالقب مستظہرباللہ رکھا۔عبدالرحمن مستظہرباللہ کی اس تعریف اور عزت افزائی سےاس کےچچازادبھائي محمدبن عبدالرحمن بن عبیداللہ نےمخالفت کا بازار گرم کردیا۔اس نےشاہی گارڈکورشوت دیکراپناہمنوابنالیا اوررات میں بادشاہ کوقتل کردیا۔
اس کےبعدمحمدبن عبدالرحمن بن عبیداللہ کی بادشاہت کااعلان کیاگیااوراس کالقب المستکفی باللہ رکھاگیا۔اس نےاپناخزانہ بےدریغ لٹاناشروع کردیا یہاں تک کہ اس کی عیاشیوں اورفضول خرچیوں کی وجہ سےشاہی خزانہ خالی ہوگیا۔بادشاہ کواپنی دلچسپی کےعلاوہ کسی اوربات کی فکرنہیں تھی ۔وہ شاعروں کاکلام اوران کےقصائدمستی سےسنتاتھا۔اس کاایک وزیرزیدون اپنےقصیدےمیں بادشاہ محمدمستکفی باللہ کی بیٹی حبیبہ کے حسن وجمال کی تعریف کرتاتھا،کیونکہ اپنی اس بیٹی کےساتھ بادشاہ کی محبت حماقت وسفاہت کے درجےتک پہنچ گئی تھی۔ان وجوہات سےبدامنی اورشرانگیزی میں زبردست اضافہ ہونےلگااورلوگ سازشوں کاجال بننے لگےاوربادشاہ محمدکووہاں سےفرارہوناپڑا،وہ کسی طرح طلیطلہ کےقلعہ اقلیس میں پہنچ گیا، وہاں بھی اس کےدشمن پہنچ گئےاورچندہی دن بعداس کاانتقال ہوگيا۔ (تاریخ عرب اسپین،ص،595۔
اس کےبعدیحیی بن علی بن حمودجواپنےچچاقاسم بن حمودکےوقت میں افریقہ واپس چلاگياتھا۔وہاں وہ اپنی حالت درست کررہاتھا۔اس زمانےمیں فقط جزیر‏ۃ الخضراء اورمدینہ ملاغہ اس کےقبضےمیں تھے،ا س کےطرفداروں نےاسےصورت حال سےآگاہ کیااورجوش دلایاکہ آپ قرطبہ پرقبضہ کریں۔یحیی اپنےعلاقےمیں نہایت نرمی اورانصاف سےحکومت کررہاتھا۔قرطبہ کےلوگوں نےبھی اس سےنیک امیدیں وابستہ کیں اورشہرکے باہرنکل کر اس کااستقبال کیا۔یحیی نےمختلف والیوں کو بیعت کےلیےبلایالیکن ان میں سےاکثرنےانکارکردیا۔
اشبیلیہ کےوالی محمدبن اسمعیل نےعلم بغاوت بلندکردیااوردونوں کےدرمیان زبردست جنگ ہوئي ،جس میں یحیی کوبدترین شکست ہوئي اوروہ ماراگیااورمحمدبن اسمعیل نےاس کاسرتن سے جدا کرکےاشبیلیہ بھیج دیا۔یہ خبرجب قرطبہ پہنچی تولوگ بہت رنجیدہ ہوئے۔
اس کےبعددیوان یعنی مشیران سلطنت کی میٹنگ ہوئی اورشہرکےوزیرابوالجزام اور دیگر اعیان شہرنےقلعہ حام البنت میں گوشہ نشیں ہشام بن محمدبن عبدالملک بن عبدالرحمن الناصرکواپنابادشاہ مقررکیا۔یہ عبدالرحمن المرندی کابھائی تھا۔اس کےپاس جب یہ خبرپہنچی تواس نےانکارکیا مگرکئي دنوں تک عوام کےمسلسل اصرارکےبعداس نےقبول کرلیا۔
بادشاہ کوعوام کی غیرمستقل مزاجی کابھرپورادراک تھالہذاسرحدپرچلاگیااورہیں فوج کی سپہ سالاری کرتارہا۔نہایت معمولی لباس پہنتااورسادہ کھانا تناول کرتا۔اس نےاپنی سلطنت کے ابتدائی تین برس سرحدپربسرکئے۔لیکن عوام کےمطالبہ پرپھرقرطبہ آیا۔اس کےشریفانہ اخلاق، کریمانہ برتاؤ اورانصاف پسندی سےلوگ بہت خوش ہوئے۔یہ بذات خودزاویوں اورشفاخانوں میں جاتا۔اسی طرح مکاتب ومدارس اوردرسگاہوں میں جایاکرتا۔ شاہ ہشام المعتدباللہ نےکوشش کی کہ صوبہ جات کےوالیوں کونرمی اورمحبت کےساتھ اطاعت گذاری کےلیےبلایاجائے۔اس نے نہایت عمدہ اورموثرالفاظ میں خط لکھےاوراتحاد ویک جہتی اورامن کی ضرورت کوبہت سی مثالو ں سےثابت کیاتاکہ پوری طرح کافروں سےمقابلہ کیاجاسکےاور سابقہ علاقےان سےواپس لےلیےجائيں مگر بادشاہ کی یہ ملخصانہ کوششیں کامیاب نہ ہوسکیں۔
غرناطہ اورالویراکےسب شہروں پرمنصوربن زیری نےخودمختارحکومت قائم کرلی تھی ۔ ملاغہ میں یحیی بن علی کےبیٹےادریس نےخودمختارحکومت قائم کرلی تھی اورلوگ اس کوامیرالمومنین کہتے تھے۔دانیہ میں عبداللہ المیطی حکومت کررہاتھا۔وہ وہاں کابادشاہ کہلاتاتھااوراس نےاپنےنام کاسکہ بھی جاری کردیاتھا۔قرمونہ اورسدونیہ کےوالی بھی خودمختاری کےساتھ حکومت کررہےتھے۔شاہ ہشام نےجب اپنی ساری کوششوں کی ناکامی اورقوت کی کمی کودیکھاتوملک کی فلاح وبہبود اورخانہ جنگی کومٹانےکےلیےمناسب سمجھاکہ ان حاکموں سےنامہ وپیام کرکےصلح کرلی جائےاور اکثروالیوں سےعہدنامےہوگئے۔لیکن اس کےساتھ قرطبہ کےکئی باشندےاس کےخلاف ہوگئے۔اس زمانےکی ساری خرابیوں کاملزم بادشاہ کوٹھہرایا۔
(جاری)

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *