نواز شریف نریندر مودی ملاقات پڑوسی نقطۂ نظر

وزیراعظم نوازشریف بھارت اور بالخصوص نئے منتخب وزیراعظم نریندر مودی کی خصوصی دعوت پر ان کی تقریبِ حلف برداری میں شرکت کے لیے نئی دہلی پہنچ گئے۔ نریندر مودی نے اپنی وزارتِ عظمیٰ کی تقریب میں سارک ممالک کے تمام سربراہان کو خصوصی طور پر شرکت کی دعوت دی تھی، لیکن پاکستان کے وزیراعظم نوازشریف کو دی گئی دعوت کو خصوصی اہمیت حاصل تھی۔ بھارت میں نریندر مودی نئے وزیراعظم بنے ہیں۔ وہ ہندوتوا کے علم بردار ہیں۔ وہ مسلم دشمنی اور پاکستان دشمنی میں بھی پیش پیش ہیں، اور حالیہ انتخابات میں ان کی کامیابی کو اسی سخت گیر مسلم دشمن پالیسی کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔ اس لیے اس تناظر میں بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی کی جانب سے وزیراعظم نوازشریف کو دورے کی دعوت ملنابہت سے لوگوں کے لیے بھی حیران کن امر تھا۔
ایک عمومی رائے یہ تھی کہ اگرچہ نریندر مودی نے پاکستان کے وزیراعظم نوازشریف کو حلف برداری کی تقریب میں شرکت کی دعوت دی ہے، لیکن وزیراعظم نوازشریف شاید اس دعوت کو فوری طور پر قبول کرکے بھارت نہیں جاسکیں گے۔اس کی دو وجوہات بتائی جاتی ہیں۔ 1) وزیراعظم نوازشریف دیکھو اور انتظار کرو کی پالیسی پر عمل کریں گے۔2) کیونکہ اس وقت وزیراعظم نوازشریف اور فوج کے درمیان کچھ مسائل بھی ہیں، اس لیے وزیراعظم کوئی ایسا پیغام نہیں دیں گے جس سے فوج کو یہ تاثر ملے کہ اسے نظر انداز کرکے سیاسی قیادت آگے بڑھنا چاہتی ہے۔ لیکن وزیراعظم نوازشریف کیونکہ بھارت کے ساتھ تعلقات کی بحالی کے بڑ ے پُرجوش حامی ہیں اور وہ ہر صورت میں تجارت کو بنیاد بنا کر بھارت سے دوستی کے خواہاں ہیں، اس لیے وہ اس دعوت کو فوری طور پر مسترد کرنے کو اپنے ایجنڈے کے خلاف سمجھتے تھے۔ اگرچہ ان پر پس پردہ قوتوں کا دبائو ہوگا، لیکن جو لوگ وزیراعظم نوازشریف کو جانتے ہیں وہ یہ اعتراف کریں گے کہ وہ اپنی مرضی کے تحت آگے بڑھنے کے ہمیشہ سے خواہاں رہے ہیں، اس لیے وہ تحفظات اور تنقید کے باوجود وہی کچھ کرتے ہیں جو وہ چاہتے ہیں۔ اس لیے اگر وزیراعظم نوازشریف نے بھارت کا دورہ کرنے کا فوری فیصلہ کیا تو یہ کوئی انہونی بات نہیں۔
بہت سے لوگوں نے یہ تاثر بھی دیا ہے کہ وزیراعظم نوازشریف اسٹیبلشمنٹ اور فوج کی حمایت کے ساتھ بھارت گئے ہیں، کیونکہ کچھ لوگوں نے وزیراعظم کی جانب سے بھارت کے دورے کی دعوت قبول کرنے سے قبل پنجاب کے وزیراعلیٰ شہبازشریف اور آرمی چیف کی ملاقات کو بہت زیادہ اہمیت دی ہے۔ سیاسی پنڈت بضد ہیں کہ وزیراعلیٰ شہبازشریف نے آرمی چیف کو اعتماد میں لے کر ہی بھارت کے دورے کا گرین سگنل دیا تھا۔ ممکن ہے کہ ایسا ہی ہوا ہو۔ دراصل فوج کبھی نہیں چاہے گی کہ اس موقع پر یہ تاثر قائم ہو کہ فوج نے وزیراعظم نوازشریف کو بھارت جانے کی اجازت نہیں دی۔ کیونکہ اس سے بلاوجہ ملک کے اندر اور باہر فوج کے بارے میں منفی ردعمل پیدا ہوتا۔ لوگ یہ رائے قائم کریں گے کہ دونوں ملکوں میں اگر تعلقات کی بہتری کے لیے کوئی راستہ نکلا ہے تو اسے فوجی قیادت قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔ پہلے ہی بھارت پاکستانی فوج کے بارے میں عالمی رائے عامہ میں یہ تاثر پھیلاتا رہا ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ فوج اور اس کی ایجنسی آئی ایس آئی ہے۔ اس لیے ممکن ہے حکومت نے کسی بھی سطح پر فوج سے مشاورت کی ہو، لیکن فوج نے یہاں اپنی رائے دینے کے بجائے نیوٹرل رہنا پسندکیا ہوگا۔ فوج کے بقول دورہ کا فیصلہ حکومت کو خود کرنا ہے اورگیند کمال ہوشیاری سے حکومت اور وزیراعظم کے کورٹ میں ڈال دی ۔
وزیراعظم نوازشریف کی دہلی یاترا اور نئے منتخب وزیراعظم نریندر مودی سے ملاقات میں کوئی بڑا بریک تھرو تو نہیں ہوسکا، لیکن اس ملاقات سے بھارت نے عملی طو رپر خیر سگالی کے نام پر پاکستان کو ایک چارج شیٹ ضرور دے ڈالی ہے۔ اس کے بقول تعلقات کی بہتری کے لیے پاکستان کوسب سے پہلے بھارت کے تحفظات کو عملی طور پر دور کرنا ہوگا۔ اول تو بھارتی وزیراعظم کو اس ابتدائی ملاقات میں محتاط رویہ اختیار کرنا چاہیے تھا۔ لیکن انہیں اپنے ووٹروں کو بھی مطمئن کرنا تھا کہ وہ پاکستان سے بغیر کسی دبائو اور اپنی شرائط پر بات کررہے ہیں۔اس کے مقابلے میں پاکستان کے وزیراعظم نے پاکستان کے جو تحفظات بھارت کے بارے میں موجود ہیں اس پر خاموشی اختیا رکی۔ کشمیر کے مسئلہ پر ان کی زبان بندی نے پاکستان میں موجود لوگوں کو بہت زیادہ مایوس کیا۔ حالانکہ وہاں کوئی مسائل تو حل نہیں ہونے تھے، لیکن کم ازکم اپنا مؤقف تو ہم جرأت کے ساتھ پیش کرسکتے تھے۔لیکن پاکستان کی سیاسی قیادت امریکہ اور دیگر بڑی قوتوں کو یہی تاثر دینا چاہتی ہے کہ ہم تو معاملات کا حل چاہتے ہیں، لیکن بھارت کا سخت گیر مؤقف آڑے آجاتا ہے۔ یاد رہے کہ بھارت کے اس سخت گیر مؤقف کی وجہ اُس کے لیے عالمی برادری کی حمایت بھی ہے۔یہی وجہ ہے کہ عالمی برادری کا دبائو بھارت کے مقابلے میں ہم پر زیادہ ہے اور ہمیں ہی مشورہ دیاجارہا ہے کہ ہم بھارت کی شرائط پر معاملات کو حل کریں۔
اگرچہ اس دورے میں یہ ضرور طے ہوا ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان بہت جلد سیکرٹری خارجہ یا وزرائے خارجہ کی سطح پر بات چیت کا عمل شروع ہوگا۔ یہ اچھی بات ہے، لیکن ایک بات یاد رکھنا ہوگی کہ یہ عمل ماضی میں بھی جاری رہا ہے۔ صرف سیاچن کے مسئلہ پر کم ازکم 13رائونڈ ہوچکے ہیں، لیکن کوئی مثبت نتیجہ نہیں نکل سکا۔ حیرانی کی بات ہے کہ وزیراعظم نوازشریف نریندر مودی کے اس الزام کہ ’پاکستان دہشت گردوں کی حمایت کرتا ہے‘ پر یہ بھی نہ کہہ سکے کہ بلوچستان میں جاری بیرونی مداخلت کی وجہ سے ہمارے داخلی مسائل گمبھیر صورت اختیار کرگئے ہیں۔ اسی طرح بھارت کی نئی حکومت نے یہ عندیہ بھی دیا ہے کہ وہ بہت جلد مقبوضہ کشمیر کو خصوصی حیثیت دینے والے آرٹیکل 370کو ختم کرنے کی کوشش کرے گی، کیونکہ اس کے بقول مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کا آرٹیکل 370ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہے۔ اب اگر بھارت اس طرزعمل کے ساتھ اپنے معاملات کو آگے بڑھاتا ہے تو اس سے یقیناً جہاں کشمیر میں ردعمل ہوگا وہیں پاکستان میں بھی اس پر تشویش کا پہلو نمایاں ہوگا۔ پچھلے دنوں آرمی چیف کہہ چکے ہیں کہ کشمیر پاکستان کی شہہ رگ ہے اور اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
یہ بات بھی پیش نظر رہے کہ پاکستان پر دبائو صرف بھارت کی جانب سے نہیں آئے گا، بلکہ بھارت اور افغانستان مل کر پاکستان پر دبائو ڈالیں گے دہلی یاترا میں افغان صدر حامد کرزئی نے بھارتی میڈیا میں پاکستان پر الزام لگایا کہ ہرات کے واقعہ میں پاکستان براہِ راست ملوث ہے اور ملا عمر کوئٹہ میں ریاستی سرپرستی میں موجود ہیں۔ اگرچہ افغان صدر حامد کرزئی کی رخصتی قریب ہے، لیکن جو بھی نیا افغان صدر آئے گا وہ حامد کرزئی کی پالیسی کے فریم ورک سے باہر نہیں نکل سکے گا۔
لوگوں کو یہ بات نہیں بھولنی چاہیے کہ وزیراعظم نوازشریف پر امریکہ سمیت عالمی قوتوں کا دبائو ہے کہ وہ بھارت کے ساتھ اپنے تعلقات کو معمول پر لائیں۔ اگرچہ وزیراعظم نوازشریف نے اس سلسلے میں کافی پیش رفت کی، لیکن ان کو وہ نتائج نہیں مل سکے جو ان کی خواہش تھی۔ دس برس تک اقتدار میں رہنے والے ڈاکٹر من موہن سنگھ ایک دفعہ بھی پاکستان کا دورہ نہیں کرسکے۔ وزیراعظم نوازشریف نے تو ایک قدم آگے بڑھ کر یہاں تک کہہ دیا کہ انھیں تو سیاسی مینڈیٹ بھی بھارت سے دوستی کے حوالے سے ملا ہے۔ ویسے بھارت سے بہتر تعلقات سے کسی کو بھی انکار نہیں، اور نہ ہی کوئی بھارت سے مستقل دشمنی کی چاہتا ہے۔ اصل میں دیکھنا یہ ہوگا کہ بھارت اور پاکستان میں تعلقات کی بہتری کا ایجنڈا اور طریقہ کار کیا ہونا چاہیے۔ ایک طرف وزیراعظم نریندر مودی ہیں جو سخت مسلم دشمن خیالات کی علامت ہیں اور جو پاکستان کے بارے میں ایک سخت گیر پالیسی کے حامی ہیں۔ اس لیے پاکستان سے تعلقات سے پہلے بھارت کو اپنی داخلی سیاست پر بھی توجہ دینا ہوگی جو اس وقت انتہا پسندی کی جانب تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ بھارت کو یہ بات بھی سمجھنی ہوگی کہ اس وقت پاکستان سے تعلقات کے بارے میں اس کی اپنی پالیسی میں انتہا پسندی موجود ہے، جبکہ پاکستان نے خاصی گرم جوشی دکھائی ہے۔ لیکن اگر بھارت کا رویہ اسی طرح سے جارحانہ رہا تو اس کا ردعمل پاکستان میں بھی شدید ہوگا۔
اس وقت دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کی بہتری کی جو بات دونوں طرف کی سیاسی حکومتیں کررہی ہیں اس کی بنیاد محض تجارت ہے۔ پاکستان کے وزیراعظم بھی اسی بنیاد پر کھڑے ہیں۔ وہ فوری طور پر بھارت کو ایم ایف این کا درجہ دے کر اسے یہ تاثر دینا چاہتے ہیں کہ ہم بھارت سے دوستی میں بہت آگے تک جاسکتے ہیں۔ دونوں ملکوں میں موجود اسٹیبلشمنٹ کا بھی اپنا اپنا نقطہ نظر ہے۔ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کے بارے میں یہ رائے دی جاتی ہے کہ وہ بھارت دشمنی کا ایجنڈا رکھتی ہے۔ اس لیے جب بھی بھارت کے ساتھ تعلقات کی بہتری کی بات آگے بڑھتی ہے، تو اس میں فوج رکاوٹ پیدا کرتی ہے۔مثال کے طو رپر سمجھا جاتا ہے کہ کشمیر، سیاچن، سرکریک اور پانی سمیت بلوچستان کے مسائل پر فوج سیاسی حکو مت کو کوئی رعایت دینے کے لیے تیار نہیں۔ پہلی بات تو یہ سمجھنی ہوگی کہ اگر واقعی فوج ان مسائل کو بنیاد بناکر بھارت کے ساتھ تعلقات میں بہتری کی خواہش مند ہے تو اس میں بری بات کیا ہے! کیونکہ یہ بات سمجھنی ہوگی کہ جو فوج کے تحفظات ہیں وہ صرف اس کے اپنے نہیں ہیں،بلکہ اس میں قوم کے تمام طبقات اور اشرافیہ کے لوگ بھی شامل ہیں۔
وزیراعظم نوازشریف یقینا جذبۂ خیرسگالی کے تحت بھارت گئے اور وہ وہاں جاکر بھارت اور اس کے میڈیا میں اس تاثر کو مضبوط کریں گے کہ پاکستان سب سے زیادہ تعلقات کی بہتری کا حامی ہے۔ یہ بات انہی صفحات پر پہلے بھی لکھی گئی تھی کہ بھارت سمجھتا ہے کہ ہمارے ساتھ تعلقات کی بہتری پاکستان کی کمزوری ہے، اس لیے ہمیں فوری طور پر پاکستان کے دبائو میں آنے کے بجائے اپنا دبائو پاکستان پر بڑھانا چاہیے۔ اسی طرح یہ بھی لکھا تھا کہ نریندر مودی کی اصل طاقت اس وقت سرمایہ دار طبقہ ہے۔ یہ طبقہ فوری طور پر دونوں ممالک کے درمیان تجارت کو بنیاد بنا کر آگے بڑھنا چاہتا ہے۔ یقینا تجارت بنیاد بن سکتی ہے، لیکن باقی معاملات پر بھی تو ہمیں اپنے ایجنڈے کو فوقیت دینا ہوگی۔ ہم یہ کیوں بھول رہے ہیں کہ بھارت نے گزشتہ دس برسوں کی سیاست میں پاکستان کی طرف پیش قدمی نہیں کی اور جو بداعتمادی تھی اس کو دور کرنے میں بھی کوئی پیش رفت نہیں کی۔یقینا یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ وزیراعظم نوازشریف نے بھارت کا دورہ کرکے اپنے حصہ کا کام کردیا ہے۔ لیکن اب کیا اسی انداز میں بھارت بھی پاکستان کو جواب دے سکے گا، اس پر سوالیہ نشان ہے۔کیا بھارت کے وزیراعظم بھی اسی دیدہ دلیری سے فوری طورپر پاکستان کو وہی جواب دے سکیں گے، جو وزیراعظم نوازشریف نے بھارت کو مثبت پیغام کے طو رپر دیا ہے؟
خود نریندر مودی کے لیے بھی یہ آسان نہیں ہوگا کہ وہ فوری طور پر پاکستان کو تعلقات کی بہتری میں کوئی بڑا سیاسی ریلیف دے سکیں۔ یقینا مودی پاکستان کو اچھا تاثر دیں گے، لیکن وہ بہت زیادہ کچھ نہیں دے سکیں گے۔ کیونکہ بھارت کی پوری کوشش ہوگی کہ وہ پاکستان کو یہ موقع نہ دے کہ وہ اپنے دیگر معاملات کو بھی ایجنڈے میں بالادست کرسکے۔ جس وقت پاکستان تجارت سے ہٹ کر معاملات پر زور دے گا تو بھارت اسی جارحانہ حکمت عملی کے ساتھ معاملات کو یک طرفہ بنیادوں پر چلانے کی کوشش کرے گا۔ اگرچہ ہمیں اس ابتدائی ملاقات سے بہت کچھ توقع نہیں کرنی چاہیے، لیکن یہ ملاقات اوراس میں ہونے والی گفتگو کچھ ابتدائی خاکہ ضرور پیش کرے گی کہ دونوں ملکوں کے درمیان معاملات کی گاڑی کیسے آگے بڑھتی ہے۔ اس وقت بھارت میں تین ’ایم‘ کو خصوصی اہمیت دی جارہی ہے جن میں مودی، میڈیا اور ملٹری شامل ہیں۔سوال یہ ہے کہ بھارت کے ساتھ بات چیت کا جو پروسس رکا ہوا ہے کیا وہ بحال ہوسکے گا؟ کیونکہ وزیراعظم کی تقریب میں شرکت اہم ہے، لیکن یہ عمل عارضی ہے۔ اصل بات تو یہی ہوگی کہ دونوں ملکوں کے درمیان جو تصفیہ طلب یا متنازع امور ہیں ان پر کس حد تک پیش رفت ممکن ہوسکے گی۔ کیونکہ اگر معاملات کو ماضی ہی کی طرح چلانا ہے تو اس سے نہ ماضی میں کوئی نتیجہ نکل سکا اور نہ ہی مستقبل میں کچھ نکل سکے گا۔ وزیراعظم نوازشریف چاہتے ہیں کہ دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کی بہتری کی ابتدا اعلانِ لاہور اور 1999ء سے ہو۔ یقینا یہ وزیراعظم کی خواہش ہوگی، لیکن اب جو حالات ہیں وہ 1999ء سے بالکل مختلف ہیں اور وہاں بھی واجپائی کے بجائے نریندر مودی بیٹھے ہیں۔ اس لیے وزیراعظم نوازشریف کو 2014ء کے حالات میں نئے رنگ بھرنے ہوں گے۔ اگرچہ نریندر مودی بھارت اور بھارت سے باہر پاکستان کے بارے میں اپنا جو سافٹ امیج دینا چاہتے ہیں اس میں وہ کس حد تک کامیاب ہوتے ہیں، اس پر سوالیہ نشان موجود ہے۔
اس میں ایک مسئلہ خود کانگریس کا بھی ہے۔ کانگریس نے اپنی سابقہ حکومت میں پاکستان کو بہت زیادہ تعلقات کی بحالی کا راستہ نہیں دیا۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ کانگریس کو ڈر تھا کہ جب بھی تعلقات کی بحالی کا ایجنڈا آگے بڑھے گا تو بی جے پی اور سخت مزاج لوگ اس کی شدید مخالفت کریں گے۔ اس لیے اب جب مودی سرکار پاک بھارت تعلقات کو آگے بڑھائے گی تو دیکھنا ہوگا کہ اس کھیل میں کانگریس کیا وہی طریقہ اختیارکرے گی جو بطور حزب اختلاف بی جے پی نے اختیار کیا تھا؟ اسی طرح آر ایس ایس کس حد تک مودی کو آزاد وزیراعظم کے طور پر موقع دے گی کہ وہ جو چاہتے ہیں، کریں۔ کیونکہ اگر آر ایس ایس مودی ایجنڈے اور پاکستان کے ساتھ دوستانہ تعلقات کی حمایت کرتی ہے تو اس کی اپنی مسلم دشمنی کی سیاست متاثر ہوگی۔ اس لیے یہ کھیل آسان نہیں ہوگا۔

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *