ربانی ہدایت بمقابلہ عجزانسانی

اس عظیم کائنات میں خالقِ کائنات کے عظیم الشان پیچیدہ اور رنگا رنگ مظاہر اور توانائیوں کی مختلف شکلوں کے درمیان کمزور سے حضرت انسان کی موجودگی بذات خود ایک معجزہ ہے۔ خالق کائنات کی مخلوقات ہوا، پانی، آگ، شمسی و قمری توانائی زیر زمین و زیر سمندر پائے جانے والی معدنیات پر غور کرنے سے انسان اپنی حقیقت کو بخوبی سمجھ سکتا ہے اگر وہ غور و فکر سے کام لے مگر یہ حضرت تاریخ کے ہر دور میں عقل و دانش کی بد ہضمی اور طاقت و دولت کے نشہ کا شکار ہوکر خود خالق کائنات کے خلاف ہی بغاوت پر آمادہ نظر آتے ہیں۔ انقلاب فرانس کے بعد کے دورِ عقلیت پسندی اور خدا بیزاری میں یہ مرض سب سے شدید نظر آتا ہے جس میں دین و دنیا کی تفریق کے ساتھ یہ اصول طے پایا گیا کہ ’ماضی کے تجربوں اور عقل کی روشنی میں انسان اپنے لئے خود قوانین بنا سکتا ہے‘اور اس طرح انسانی اجتماعی زندگی سے خدائی رہنمائی کو بے دخل کرنا ہی عقل پسند اور عقل مند، ترقی پسند وغیرہ وغیرہ ہونے کا پیمانہ مقرر ہوا۔ پچھلے 300-400سالوں کی تاریخ اس پر گواہ ہے کہ اس خبط میں مبتلا انسانوں نے اپنے ایوانوں سے جو قوانین بنائے وہ انسانیت کی تعمیر کے بجائے انسانیت کی بربادی کے لئے ہی کار آمد ثابت ہوئے۔ آزادی، جمہوریت، آزاد تجارت، صنفی مساوات کے نام پر جس طرح بظاہر چمک دمک دکھائی مگر آج پوری دنیا میں پھیلا سماجی، معاشی، اخلاقی، ماحولیاتی فساد اپنی خدا بیزار اور بے قید عقلی آزادی کا نتیجہ ہے۔ انسانیت روزانہ قسطوں میں اپنے تجربوں کی ہلاکت خیزوں کی گواہ بن رہی ہے۔ اپنی عقلی آزادی کے فساد کا نظارہ کر رہی ہے۔ افراط و تفریط پر مبنی قانون سازیوں کے مہلک نتائج دیکھ رہی ہے مگر خالق کائنات کی طرف رجوع کی توفیق نہیں ہو رہی ہے۔
صنفی مساوات، انسانوں کے مابین معاشرتی تعلقات، مردوزن کے دائرہ کار و آپسی تعلقات پر سپریم کورٹ کے ’فیصلے اور مفادات کے نام پر مصنوعی مساوات کے نتائج پر اس وقت دنیا میں معدودے چند اعلی ترین قانون عہدیداروں میں سے ایک pepsi-coکی بھارت نژاد افسر اعلیٰ C.E.O.اندرا نوئی Indira Nooyiکا اعترافی انٹرویو ہماری اور تمام انسانیت کی آنکھیں کھول دینے کے لئے کافی ہے کہ انسان خود اپنا شارع تعبیر کسی الٰہی رہنمائی کے نہیں ہو سکتا۔ پہلے فیصلہ میں سپریم کورٹ نے ایک بین کر اور ایک بین الاقوامی ایئر لائن کے عملہ کی رکن کے درمیان لَو۔ان۔ریلیشن شپLove in relationshipکے دو سال بعد خاتون کے ذریعہ زنا اور دھوکہ وغیرہ کا مقدمہ درج کرانے پر دہلی ہائی کورٹ کے فیصلہ پر کہ اس طرح کی الزام بازی کو مردوں سے بدلہ لینے یا شادی پر مجبور کرنے کے لئے کیا جا رہا ہے۔ جسٹس وکرم جیت سن اور جسٹس ایس سنگھ کی Bench نے اس معاملہ سے متعلق قانونی سوالات کی جانچ کرنے کے لئے اتفاق کیا۔ سوال یہ ہے کہ کیا دو بالغ افراد کے درمیان مرضی سے بنا رشتہ ٹوٹنے پر اِن دو سالوں کے رشتوں کی بنیاد پر جس میں جسمانی تعلقات شامل ہیں، کو مرد کے خلاف زنا کے الزام کے لئے بنیاد بنایا جا سکتا ہے؟؟ دہلی ہائی کورٹ نے اس معاملہ میں کہا تھا’ ایسے بہت سارے معاملات دیکھنے کو مل رہے ہیں جن میں خاتون رضا مندی سے جسمانی تعلقات بناتی ہیں پھر جب رشتہ ٹوٹتا ہے تو وہ قانون کو بدلہ لینے کے ہتھیار کی طرح استعمال کرتی ہیں۔ ایسا پیسہ جمع کرنے یا پھر لڑکے کو شادی کے لئے مجبور کرنے کے لئے کیا جاتا ہے۔ (29جون 2014پی۔ایس۔آئی) بہار کے ایک شخص کی طرف سے دائر پیشگی ضمانت کی درخواست پر سپریم کورٹ نے اپنے 4؍جولائی 2014؁ کے فیصلہ میں جسٹس چندر مولی کمار اور جسٹس پناکی چندر گھوش نے کہا کہ سپریم کورٹ جہیز مخالف قانون کے غلط استعمال پر تشویش کا اظہار کرتا ہے اور حکم دیتا ہے کہ اس طرح کے معاملات پولیس خود ہی ملزم کو گرفتار نہیں کر سکتی۔ اگر پولیس گرفتار کرتی ہے تو اسے گرفتاری کی وجہ بتانی ہوگی۔ جس کا عدالتی جائزہ لیا جائیگا۔ جہیزی اموات کے قانون مجریہ 1983کی دفعہ 498کے تحت متاثرہ خاتون کے ذریعہ نامزد ملزمان کو پولیس سب سے پہلے گرفتار کرتی ہے پھر تحقیقات شروع کرتی ہے۔ فیصلہ میں کہا گیا ہے قابل از خود نوٹس اور غیر ضمانتی دفع ہونے کی وجہ سے غیر مطمئن بیویاں اس کا استعمال دفاع کے بجائے ہتھیار کے طور پر کر رہی ہیں؟؟ عدالت نے اس حقیقت کی طرف بھی اشارہ کیا کہ سال 2012؁ء میں اس دفعہ کے تحت گرفتار ہونے والوں میں ایک چوتھائی خواتین تھیں۔ جو زیادہ تر ملزم شوہر وں کی مائیں اور بہنیں تھیں۔ عدالت نے کہا’ہمیں یقین ہے کہ کوئی بھی گرفتاری صرف اس لئے نہیں کی جانی چاہئے کہ دفعہ ازخود نوٹس اور غیر ضمانتی ہے۔ پولیس کو بھی اپنی روایتی ذہنیت سے باہر نکلنا ہوگا۔ 5-7-2014(امر اجالا و دیگر اخبارات) تمام دنیا میں حقوق نسواں اور صنفی مساوات پر بہت زور ہے۔ اس کے باوجود تمام اداروں کے اعلیٰ ترین عہدیداروں میں تمام قابلیتوں کے باوجود خواتین کا تناسب تقریباً نہیں کے برابر ہے۔ گنی چنی اعلیٰ ترین عہدیداروں C.E.O.میں پیپسی کو pepsi-coکی ھند نژاد C.E.O.اندرا نوئی Indira Nooyiکا نام سرِ فہرست ہے۔ خواتین کے کیرئیر ملازمت اور ان کی خاندانی عائلی زندگی میں توازن کے مسئلہ پر انہوں نے اپنے ایک حالیہ انٹرویو کے ذریعہ صنفی عدل کے بجائے صنفی مساوات کے حامیوں اور عام انسانوں میں ہلچل پیدا کر دی ہے۔ ہوا یہ کہ امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے ایک اعلیٰ عہدیدار این میری سلاٹر Ann Marie Slawghterکی کتاب ’خواتین اب بھی سب کچھ نہیں حاصل کر سکتی‘ پر انٹرویو دیتے ہوئے کو لوریڈر امریکہ میں کہا کہ ’میں سوچتی ہوں کہ خاتون سب کچھ نہیں حاصل کر سکتی۔ ہم ایسا دکھاوا کرتے ہیں مگر ایسا ہوتا نہیں ہے۔ دنیا بھر میں سب سے زیادہ طاقتور شمار کی جانے والی خواتین میں سے ایک اندرا نوئی نے کہا انسانی جسم میں موجودہ حیاتیاتی گھڑی Biological Clockاور مستقبل بنانے کا کلاک Career Clockایک دوسرے کے بالکل متصادم ہیں۔ جب آپ کے بچے ہوتے ہیں تب آپ کو کیریئر مستقبل بھی بنانا ہوتا ہے۔ جب اس کشمکش کے بالکل درمیان میں ہوتے ہیں آپ کو بچوں کے لئے بھی وقت چاہئے ہوتا ہے۔ جب آپ اور عمر دراز ہوتے ہیں تو آپ کے والدین کو آپ کی ضرورت ہوتی ہے۔ (اس طرح ہم پس رہے ہوتے ہیں، دو مختلف تقاضوں کے درمیان) آپ کو روزانہ فیصلہ کرنا ہوتا ہے کہ آپ ایک بیوی ہیں یا ماں ہیں۔ اگر آپ میری بیٹیوں سے پوچھیں گے تو میں قطعی طور سے نہیں کہہ سکتی کہ وہ مجھے اچھی ماں کے خانہ میں رکھیں گی۔ آپ کو اس کشمکش کا مقابلہ کرنا ہوتا ہے۔ کیونکہ آپ احساسِ جرم کے ساتھ موت کے دروازے پر پہنچ جاتی ہوں میں اپنی زندگی میں احساس جرم یا ندامت سے بہت بار موت کے دروازہ تک پہنچی ہوں۔ اپنی دو بچیوں کی پرورش کے دوران پچھلے 34سالوں میں مجھے اس احساس نے موت کا احساس دلایا ہے۔ خصوصاً جب کہ میں اپنی بچیوں کے اسکول میں مشترکہ چائے پارٹی میں حاضر نہیں ہو سکتی تھی۔ وہ واپسی پر مجھ سے شکایت کرتی تھیں۔ میں نے اس شکایت سے نبٹ نے کا ایک طریقہ نکالا کہ میں نے اسکول سے ان والدین کی فہرست حاصل کر لی جو میری طرح ان پارٹیوں میں شریک نہیں ہو سکتی تھیں۔ میں نے اپنی بیٹیوں سے کہنا شروع کر دیا کہ دیکھو میری طرح یہ بھی ہیں میں اکیلی نہیں ہوں۔ جب بچے نو عمر ہوتے ہیں تب ان کو آپکی شدید ضرورت ہوتی ہے اور ان کو وقت نہ دینے کا احساس جرم آپ کو موت تک ستاتا رہے گا۔ (ٹائمس آف آنڈیا 4-5/7/2014 نئی دہلی)تاریخ کی شاید سب سے سنگین اور مہلک اگر کوئی غلطی ہے تو وہ یہ ہے کہ مشین کسی اور نے بنائی اور اسکو چلانے اور رکھ رکھاؤ کا طریقہ کوئی اور بنا رہا ہے۔ حالانکہ ہم پلاسٹک کے معمولی ڈبہ اور بوتل کے طریقۂ استعمال اور زیادہ بہتر فائدہ حاصل کرنے کے لئے بنانے والی کمپنی کے ہدایت نامہ پر عمل کرتے ہیں۔ مگر اشرف المخلوق حضرت انسان مرکزِ کائنات کے معاملہ میں ہم اس اصول کو اپنے نفس کے ہاتھوں گروی رکھ دیتے ہیں۔ اور نتیجہ ہے آج کی دنیا میں ہر طرف بکھرا، ہر طرح کا فساد۔ حالانکہ ہر طرف ترقی کی چمک ہے اونچی عمارتیں، مال، پلازہ، دانش گاہیں، بینک، ہوائی اڈہ، ذرائع نقل وحمل، ذرائع علاج و معالجہ، ذرائع معیشت، ذرائع ابلاغ وغیرہ ہیں مگر دنیا آج جتنی پریشان ہے اتنی شاید پہلے کبھی نہیں تھی۔ قرآن پاک میں اللہ پاک فرماتے ہیں کیا تم نے اسے دیکھا جس نے اپنی خواہشات کو اپنا الٰہ(معبود) بنا لیا ہے اور باوجود سمجھ بوجھ کے اللہ نے اسے گمراہ کر دیا اور اس کے کان و دل پر مہر لگا دی ہے اور اس کی آنکھ پر بھی پردہ ڈال دیا ہے اب ایسے شخص کو اللہ کے علاوہ کون ہدایت دے سکتا ہے۔ کیا اب بھی تم نصیحت نہیں پکڑ پاتے۔ انہوں نے کہا ہماری زندگی تو دنیا کی ہی زندگی ہے ہم مرتے ہیں اور جیتے ہیں اور ہمیں زمانہ ہی مار ڈالتا ہے۔ دراصل انہیں اسکی خبر ہی نہیں۔ یہ تو صرف قیاس اور اٹکل سے کام لے رہے ہیں۔ (الحاشیہ 23-24)
دراصل علم اور حقیقت کے مقابلہ قیاس و اٹکل کی گرم بازاری ہے جس نے انسانوں کو ہمیشہ افراط و تفریط میں مبتلا رکھا۔ پوری انسانی تاریخ میں یہی حال ہے۔ کبھی مال و دولت، عیش و عیاشی کو سب کچھ مانا گیا کبھی ہر چیز سے پرہیز اور دنیا سے مکمل پرہیز ہی معراج قرار پائی۔ کبھی دولت اور طاقت کی پوجا ہوئی پھر رد عمل میں رہبانیت کا دور دورہ ہو گیا۔ آج بھی یہی حال ہے ہم اپنی غیر مکمل معلومات، ناقص ادھوری معلومات اور علم کی بنیاد پر انسان جیسی پیچیدہ مخلوق کے لئے قانون وضع کرنے لگ جاتے ہیں جو کہ اکثر ایجابی ہونے کے بجائے ردِ عمل پر مبنی ہوتا ہے۔ سپریم کورٹ کے دونوں مذکورہ فیصلہ اسی ضمن میں آتے ہیں۔ پہلے ہم اپنی کم علمی کی بناء پر ناقص نظام زندگی اور فلسفۂ زندگی ترتیب دیتے ہیں جو بتاتا ہے کہ یہ دنیا کے مزہ ہی سب کچھ ہیں کھاؤ، پیو اور موج کرو اور زمانہ ہمیں موت کی نیند سلا دیگا کھیل ختم ہو جائیگا۔ اب اس فکر و فلسفہ کی بنیاد پر جو تہذیب کھڑی ہوگی اس کا رویّہ اخلاقیات، معاشیات، سماجیات ہر معاملہ میں صرف ظاہری فوری فائدہ ’العاجلہ‘ پر ہوگا۔ جس اصول، قانون اور اقدار کا فوری فائدہ نہ ہو وہ بیکار ہے۔ وہ بوجھ ہے اسے ہٹا دو اس اصول، قدر، قانون کو ختم کر دو۔ اس فکر میں تضاد اور منافقت اہم مظہر ہے۔ یہاں طاقت ہی حق ہے Might is rightپر عمل ہوتا ہے اور بات سماجی انصاف کی ہوتی ہے۔ یہاں نوجوان زنانہ جسموں کو ناپ تول کر ہر زاویہ سے عریاں کرکے ہر ممکن اور نمایاں مقام پر پروسا جاتا ہے اور حفاظت عصمت کے قوانین ایسے بنائے جاتے ہیں جس میں چھونا، گھورنا، اشارہ کرنا، لمس کرنا، لالچ دینا بھی جیل کی ہوا کھانے کے لئے کافی ہے۔ ایک طرف یہ نظریہ اسکول، کالج، ادارہ، بس، ٹرین، پارک، کلب ہر جگہ آزادانہ میل جول کو بڑھاوا دیتا ہے دوسری طرف حفاظت عصمت کے نام پر پھانسی اور خصّی کر دینے تک کی سزا دیتا ہے۔ ایک غلط رسم و رواج کے کوکھ سے ہزاروں بلائیں جنم لیتی ہیں۔ مشترکہ خاندان اور جہیز کی رسم سے پیدا ہونے والے مسائل پر جو انسانی ذہنوں نے قانون سازی کی اسکا نتیجہ جہزی اموات اور خواتین کے بڑے پیمانہ پر جلائے جانے کی شکل میں نکلا۔ پھر قانون بنایا گیا کہ شادی کی فلاں مدت کے درمیان اگر شادی شدہ خاتون کو کچھ غیر فطری ہوا تو ساری سسرال والے اند رہوں گے۔ اس کا نتیجہ وہ نکلا جسکا ذکر سپریم کورٹ نے کیا ہے کہ نئی تعلیم، نئی تہذیب کی پروردہ بد تہذیب دھوکہ کھاتی ہوئی نسل نے اس قانونی سہولت کو ہتھیار بنا کر ساس، سسر، نند سب کو جیل پہونچانا شروع کر دیا۔ یہ سب کیوں ہوا کیونکہ معاشرہ میں اکٹھا رہنے کے نام پر مشترکہ بڑے بڑے خاندان رائج ہیں۔ ایک طرف آپ خواتین کو پڑھا لکھا کر جاب کراکر پیسہ بھی کمانا چاہتے ہیں پھر آفس جانے سے پہلے بچوں کا ٹفن، صاحب کے جوتے پر پالش ان کا ناشتہ، ساس سسر کی چائے ناشتہ، دوا اور اپنا میک اپ سب کچھ کرانا چاہتے ہیں۔ واپسی پر سب کے نخرے چائے ناشتہ رات کا کھانا اور دلجوئی کے ساتھ بچوں کے ہوم ورک میں مدد کے ساتھ رات میں سکون کی تلاش کا فریضہ بھی انجام دلانا چاہتے ہیں۔ جبکہ مرد کو اس کا آدھا کام کرنا ہے۔ مگر ستم ظریفی یہ ہے کہ اس غیر انسانی اور ظالمانہ فکر اور عمل پر خود خواتین کا بڑا طبقہ فریفتہ ہے۔ یا ایسا باور کرایا جاتا ہے۔ اندرا نوئی جیسی شخصیات اپنی عمر کے جس حصہ میں اپنے دل کے درد کا اظہار کر رہی ہیں کیا وہ دنیا بھر میں جدید انسان اور فطرت دشمن تہذیب اور نظام کے خلاف کھلی دلیل نہیں ہے؟؟
سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلوں کے ذریعہ اپنے پہلے کے فیصلوں یا قوانین پر نظر ثانی کا مشورہ اور اندرا نوئی کے خیالات صرف اور صرف اس حقیقت کا اظہار ہیں کہ انسان محض اپنی عقل اور تجربہ سے ہی اپنے لئے پوری کائنات کے لئے تمام مخلوقات کے لئے فساد اور افراط و تفریط سے پاک نظام نہیں ترتیب دے سکتا۔ اسے ہی عقل اور تجربہ کی رہنمائی کے لئے اپنے رب، خالق، مالک، اللہ کی ہدایت لینی ہی ہوگی ورنہ یہی معاشی، سماجی، فکری فساد و تباہی ہمارا مقدر ہوگی جو آج پورے عام میں پھیلی ہوی ہے۔ انسانیت کو لازماً اپنے خالق کی طرف پلٹنا ہوگا۔

قسط دوم

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *