تصوف : اہمیت وافادیت

تصوف انسانی زندگی کا ایک اہم اور مفید طریقہ ہے۔ اِس کی اہمیت وافادیت ہمیشہ مسلّم رہی ہے۔ لیکن یہ ایک عجیب المیہ ہے کہ یہ اِصطلاح مذہبی حلقوں میں ہمیشہ سے سخت متنازع رہی ہے۔ لوگ اِسے مختلف عینکوں سے دیکھتے اور اِس کی تعبیریں کرتے ہیں۔ اس کے مخالفین اور موافقین دونوں تذبذب کا شکار ہیں۔ موضوع کے ساتھ ہم دردی کا فقدان نظر آتا ہے۔ کوئی اِس کا مفہوم ’صوف‘ سے نکالتا ہے؛ جس کے معنی اُون یا بکری کے بال سے بُنے ہوئے کپڑے کے ہوتے ہیں تو کسی نے ’صُفّہ‘ سے اس کا مفہوم نکال کر اصحابِ صفّہ کی طرف اس کی نسبت کی ہے اور کسی نے ’صف‘ سے اخذ کیا ہے۔ جب کہ کچھ لوگوں نے اسے ’صفا‘ سے منسوب کرتے ہوئے بتایا ہے کہ یہ لفظ در اصل ’صافی‘ تھا، امتدادِ زمانہ نے اسے صافی سے بدلتے بدلتے ’صوفی‘ کردیا۔بعض لوگوں نے محض اِصطلاح کی بحث پر پوری کتاب ہی تصنیف کردی ہے۔
میں نے جہاں بھی تصوف پرکوئی بحث سُنی زیادہ تر تصوف کے لفظ یا اصطلاح پر ہی سنی۔ اس کی حقیقت یا معنویت پر یا تو کوئی بات نہیں ہوتی یا ہوتی ہے تو محض تکمیل گفتگو کے لیے۔ اِس بحث وتمحیص میں پوری قوت اِس بات پر صرف ہوتی ہے کہ چوں کہ تصوف کی اِصطلاح قرآن وحدیث کے ذخیرے میںنہیںملتی، اس لیے اس کی بہ جائے ’احسان‘، ’تزکیہ‘ یا ’فقہ باطن‘ کی اصطلاح استعمال کی جائے۔ لیکن جس عمل کے لیے یہ اِصطلاح مستعمل ہے،اس پر غور وفکر کا عمل شاذ ونادر ہی دیکھنے کو ملا۔ یہ تو بالکل ایسا ہی ہے، جیسے کسی اچھے یا ناپسندیدہ شخص کی شخصیت، اس کی خوبی وخرابی یا اس کی حرکت وعمل پر غور کرکے اس کے بارے میں کوئی اچھی یا خراب رائے قائم کرنے کی بہ جائے پوری قوت اس کے نام کی لغوی یا نحوی تحقیق یا اس کے مفہوم یا مادّے پر صرف کردی جائے۔
جو لوگ تصوف کے مخالف ہیں، اس کی اہمیت وافادیت کے انکاری ہیں اور اس طریقے کو ضال ومضل قرار دیتے ہیں، اُن میں بڑی تعداد اُن لوگوں کی ہے، جو اُس وادی میں بھٹک جاتے ہیں، جہاں غیر شرعی چیزوں کا نام تصوف رکھ لیا گیا ہے، جہاں کتاب وسنت کے احکام کی پابندی یا تقویٰ وطہارت کو خالص ظاہر داری سے تعبیر کیا جاتا ہے اور جہاں اپنے نمازی مریدوں کو یہ کہہ کر اپنے حلقے سے باہر کردیا جاتا ہے کہ جب تمھیں نماز اور روزے کے ذریعے سے ہی جنت حاصل کرنی تھی تو تجھے مجھ سے وابستہ ہونے کی کیا ضرورت تھی۔ وہ اُس وادی کی طرف پھٹکتے ہی نہیں، جہاں دین وشریعت کی کامل پابندی ہی کو تصوف سمجھا جاتا ہے، جہاں اِتباعِ سنت کو ہی مدارج کے ارتقا کا ذریعہ قرار دیا جاتا ہے اور جہاں کا بنیادی نقطۂ نظر ہے:
تصوف ایسی وادی ہے، جہاں اتباع سنت کو ہی منزل کا بنیادی پتھر قراردیا گیا ہے۔ اس سے ہٹ کر منزل رسی کا تصور ہی نہیں کیا جاسکتا۔ تصوف نام ہی ہے احکامِ شریعت کی پوری پابندی اور سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے کامل اتباع کا۔ زندگی کے تمام مسائل اخلاقیات ومعاملات اسی میں آتے ہیں۔ تصوف وہی عمل ہے، جس سے ان اعمال کو فروغ ملے، جو قرآن وحدیث اور آثارِ صحابہ سے مناسبت رکھتے ہوں۔ جس عمل سے الحادوبے دینی اور ترکِ سنت کا اندیشہ ہو، اُسے تصوف کہا ہی نہیں جاسکتا۔ خواہ وہ مدعی تصوف آسمان ہی پر کیوں نہ اڑ رہا ہوں۔
عقائد وعبادات اور اخلاق ومعاملات پر مشتمل اسلامی تعلیمات پر عمل کرنے سے ہی انسان کا تزکیہ ہوتا ہے۔ اس راستے سے انسان کو تقویٰ نصیب ہوتا ہے،جو کہ اللہ کا قرب حاصل کرنے کا بہترین وسیلہ ہے، اِسی تزکیہ وتقویٰ کے لیے حضرت حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ کے دور (دوسری صدی ہجری) میں تصوف کا لفظ استعمال ہوا۔ یہ اصطلاح آج تک تواتر کے ساتھ اہل دین کے ایک بڑے طبقے میں رائج ہے۔ بعض علما نے اس کے لیے کچھ دوسری اصطلاحیں بھی رائج کیں، لیکن انھیں قبولِ عام نہیں حاصل ہوسکا۔
تصوف کی بنیاد ’ذکر اور صلوۃ‘ پر ہے۔ عالم صوفیہ نے اپنے مریدوں اور متبعین کو ذکر اور صلوۃ ہی کے ذریعے سے اُخروی فوز وفلاح کی طرف متوجہ کیا ہے۔ اِسی عمل کو تصوف کی اصطلاح میں ’سلوک‘ کہا جاتا ہے اور جو اس پر عامل ہوں وہ سالک کہلاتے ہیں۔ یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ عالم صوفیہ کے ہاں تلاوتِ قرآن مجید، تسبیحات اور وظائف اور ساتھ ہی اس عمل کو ذکر کہتے ہیں، جس سے اللہ کی یاد آئے اور اس کی رضا وخوش نودی حاصل ہو۔ جب کہ صلوٰۃ میں فرائض، واجبات، سنن موکدہ وغیر موکدہ کے ساتھ نوافل خصوصاً تہجد کا اہتمام شامل ہے۔
حضرت جنید بغدادی رحمۃ اللہ علیہ تصوف کی دنیا کے رجل عظیم ہیں۔ انھیں اِس سلسلے کا سید الطائفہ کہا جاتا ہے۔ انھوں نے اِس وادی میں قدم رکھنے والے کے لیے پہلی شرط یہ رکھی ہے کہ وہ اپنے عہد کے علما کے سامنے زانوے ادب تہہ کر کے علمِ شریعت حاصل کرے اور دین وشریعت کے کامل احکام کوجاننے کی کوشش کرے۔ اُنھوں نے شریعت کا علم حاصل کیے بغیر اللہ تک پہنچنے کا دعویٰ کرنے والے کو بدعتی قرار دیا ہے۔
انسانی زندگی میں اخلاقیات کی غیر معمولی اہمیت ہے۔ تصوف اِس کی اصلاح وپاکیزگی کا مفید وموثر وسیلہ ہے۔ اِس نے بے شمار انسانوں کے دلوں کو حب اِلٰہی کے نور سے منور کیا ہے۔ اِسی راستے سے ان کی زندگیوں میں صالح تبدیلی آئی ہے۔ لیکن تصوف کی یہ خصوصیت اسی وقت رہی ہے یا آیندہ بھی اسی وقت تک رہے گی، جب اِس میں علما اور کتاب وسنت کا بہ راہِ راست علم رکھنے والوں کا دخل رہے گا۔ ہم دیکھتے ہیں کہ آج تصوف میں غیر علما کا غلبہ ہے اور وہ لوگ خانقاہیں آراستہ کرکے پیرومرشد بن بیٹھے ہیں، جنھیں نہ قرآنِ مجید اور احادیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا علم ہے اور نہ وہ تصوف کی حقیقت اور اس کے آداب سے باخبر ہیں۔ در اصل تصوف کو غلط رخ دے کر اسے بدنام ورسوا کرنے والے ایسے ہی لوگ ہیں۔ انھی کے غلط اور خود ساختہ رویے کی وجہ سے ارباب علم ودانش کے ایک بڑے طبقے کو تصوف کے اسلامی نظام تربیت ہونے میں شبہ ہے۔ وہ اِسے شریعت اسلامی سے الگ اور متصادم نظام تصور کرتا ہے۔
علامہ یوسف القرضاوی موجودہ علمی دنیا کی ایک برگزیدہ شخصیت ہیں۔ فقہ میں انھیں امامت واجتہاد کا درجہ حاصل ہے۔ انھوں نے الشرق الاوسط کے ۲۲؍دسمبر ۲۰۱۰ کے شمارے میں تصوف کے سلسلے میں اپنی عالمانہ اور مثبت رائے کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ میں نے سلفیت پر بھی غور کیا ہے اور تصوف پر بھی۔ دونوں کی اہمیت وافادیت کا قائل ہوں۔ انسانی معاشرے کی اصلاح اور اس کے تزکیہ وتربیت کے لیے یہ دونوں ڈھرے ضروری ہیں۔ لیکن یہ فائدہ اسی وقت حاصل ہوسکے گا، جب صوفی حضرات سلفیت کو اپنے نظامِ تربیت میں شامل کرلیں اور سلفی حضرات تصوف کی لچک کو بھی اپنے نظامِ اصلاح میں رکھیں۔ صوفی حضرات موضوع روایات اور ان راستوں سے گریز کریں، جو شرک سے قریب ہوکر گزرتے ہیں اور سلفی حضرات ارباب تصوف کی رقت وروحانیت، نرم دلی اور خشوعِ قلب کو اختیار کریں۔
علامہ قرضاوی کی یہ رائے آب ِزر سے لکھنے کے قابل ہے۔ یہ ایسی رائے ہے، جو پوری انسانی دنیا میں عظیم انقلاب پیدا کرسکتی ہے۔ صحیح معنوں میں سلفی وہ ہے، جس کے دل میں خوف ورجا، نرمی وخشوع اور صدق وللہیت ہو۔ یہی شرائط صوفی کے لیے بھی ہیں۔ حقیقی صوفی وہی ہے، جو مسلک اسلاف سے وابستہ ہو، سلف کے طریقے پر عامل ہو اور سلف کا طریقہ وہی ہے، جو کتاب وسنت میں درج ہے۔ جو یہ شرائط نہ پوری کرے نہ وہ حقیقی صوفی ہے اور نہ سلفی۔
تصوف کے سلسلے میں ایک سوچ یہ بھی پائی جاتی ہے کہ یہ ترک دُنیا کا راستا ہے۔ صوفی محض حجرہ نشیں ہوتے ہیں اور تزکیہ وتربیت یا تصفیۂ باطن کی دعوت وترویج کا اصل ذریعہ یہی ہے کہ وہ ہاتھ پائوں توڑ کر خانقاہوں میں بیٹھے رہیں، ان کی زندگی کا اصل محور تقاعد دکھا یا جاتا ہے۔ دنیا کی ہر سعی وکوشش یا حرکت وعمل سے انھیں متنفر بتایا جاتا ہے۔اس سوچ کو اُن لوگوں کے رویے سے تقویت ملتی ہے، جنھوں نے معاشرے کی اِصلاح، دین کی اِشاعت وتبلیغ اور حصول معاش کی جدّ وجہد سے کنارہ کش ہوکر خلوت وگوشہ نشی اختیار کرلی ہے۔ اسی کو انھوں نے توکل کا نام دے لیا ہے۔ کسب ِمعاش، سماج میں پھیلی ہوئی خرابیوں کی اصلاح کی کوششیں اور بدی کے خلاف کے آواز اٹھانا یہ سب ان کے نزدیک دنیا داری کی باتیں ہیں۔ وہ اِس بات سے واقف نہیں ہیں کہ اسلام کی تعلیم یہ ہے:
لیسَ خیر کمُ الّذین یترُکُونَ الدّنیا لِلاٰخرۃ، ولا الّذینِ یَترکونَ الاٰخرۃَ لِلدُنیا، ولکنّ الّذین من کل۔
اس کا صاف اور واضح مطلب یہ ہے کہ تم میں وہ لوگ ہرگز اچھے نہیں ہیں، جو آخرت کے لیے دنیا کو بالکل ترک کردیتے ہیں اور وہ لوگ بھی قطعی اچھے نہیں ہیں، جو دنیا کے لیے آخرت کو فراموش کربیٹھتے ہیں۔ بل کہ اچھے اور بھلے وہ لوگ ہیں، جو دونوں کی فکر کرتے ہیں اور اسلام کی تعلیم اور اس کے بنائے ہوئے دائرے کے مطابق دونوں کو سنوارنے میں لگے رہتے ہیں۔
حضرت عمر بن قیس رضی اللہ عنہ مشہور صحابی رسول حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کے بارے میں کہتے ہیں کہ میں جب عبد اللہ بن زبیرؓ کا دُنیوی انہماک اور دنیا کے لیے ان کی چلت پھرت دیکھتا ہوں تو خیال کرتا ہوں کہ یہ شخص اول درجے کا دنیادار ہے۔ ایک لمحے کے لیے بھی یہ اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ نہ ہوتا ہوگا۔ لیکن جب کبھی اُنھیں فکرِ عقبیٰ میں مشغول دیکھتا ہوںاور دیکھتا ہوں کہ ان کی پوری توجہ اپنی آخرت کی کام یابی وسرخ روئی کی کوشش اور جدّو جہد کی طرف ہے تو دل یہ ماننے کے لیے تیار ہی نہیں ہوتا کہ یہ شخص دنیا کے لیے بھی کچھ کرتا ہوگا۔در اصل یہی ہے صوفیہ کی اصل تصویر۔ اگر کسی مدعیِ تصوف کا عمل اس کے برعکس ہے تو اسے اپنی طرزِ زندگی پر نظر ثانی کرنی چاہیے۔
جب ہم اسلامی تاریخ کا مطالعہ کرتے ہیں تو صوفیہ کی جماعت اصلاح معاشرہ اور علمی وفکری انقلاب کے ایک عظیم داعی وعلم بردار کے طور پر سامنے آتی ہے۔ صوفیہ نہ صرف روحانی انقلاب کے داعی وپیشوا تھے، بل کہ قوموں، حکومتوں اور سیاستوں کا انقلاب بھی ان کی فلک پیما نگاہ کا ایک ادنیٰ کرشمہ تھا۔ وہ جہاں اور جس ملک میں بھی گئے، وہاں کے بوسیدہ اور خدا بے راز نظام کو یکسر تہہ وبالا کرکے رکھ دیا۔ وہاں ایک نئے اور صالح انقلاب کی بنا ڈالی۔ وہاں کے سخت اور جابر حکم راں سے ٹکر لی، اس پر نقد کیا اور اس کی آنکھوں سے آنکھیں ملاکر اس کی حکومت کو چیلنج کیا۔ دورِ صحابہؓ کی تاریخ ہمارے سامنے ہے۔ اس کے مطالعے سے پتا چلتا ہے کہ تقاعد، گوشہ نشینی یا خلوت گزینی سے صوفیہ کی زندگیاں قطعی نا آشنا تھیں۔ وہ انقلاب کے روح ورواں تھے۔
خلیفہ ثالث حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے اپنے زمانۂ خلافت میں اپنے نائب حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو قبرس پر بحری یلغار کرنے کی اجازت دی۔ اُس مہم میں حضرت ابو الدردا رضی اللہ عنہ بھی شامل تھے۔ الحمد للہ قبرس پر فتح حاصل ہوئی اور اسلامی فوجیں وہاں فاتحانہ داخل ہوئیں۔ تمام لشکر اِس فتح پر خوشیاں منار ہے تھے، لیکن حضرت ابوالدردا ایک کنارے بیٹھے زاروقطار رورہے تھے۔ رفقانے بڑے تعجب کے ساتھ اس کا سبب دریافت کیا تو انھوں نے فرمایا: تم موجودہ حالت دیکھ کر خوشیاں منا رہے ہو، میں آنے والے وقت کے مطالعے میں لگاہوا ہوں۔ تم میں کچھ خوبیاں تھیں، جن کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے تمھیں فتح وکام یابی عطا کی اور اس نے یہاں کا نظام تمھارے حوالے کردیا۔یہ خوبیاں ان میں نہیں باقی رہیں، جن کو تم نے شکست دی ہے۔ لیکن اگر یہی حالت تمھاری ہوگئی اور تم سے بھی وہ خوبیاں چھن گئیں، جن کی وجہ سے تمھیں یہ فتح حاصل ہوئی تو کیا اس وقت تمھیں شکست نہیں ملے گی؟ اسی سوچ اور فکر میں رورہا ہوں۔
بس یہی سوچ اورفکر تصوف سے پیدا ہوتی ہے۔تصوف انسان میں خود احتسابی کا جذبہ پید اکرتا ہے۔خود احتسابی ہی اس کی روح ہے۔
حکیم الاسلام حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی کتاب ’حجۃ اللہ البالغہ‘ میں تصوف کی حقیقت بیان کرتے ہوئے لکھا ہے:
واصول الاخلاق المبحوث عنہا فی ھذا الفنّ اربعۃ: الطہارہ، الاخبات، سماحۃ النّفس، العدالۃ۔
وہ اصولِ اخلاق جن سے اس فن(تصوف) میں بحث کی جاتی ہے، چار ہیں: طہارت وپاکیزگی، بارگاہِ الٰہی میں کامل نیاز مندی، سخاوت وبلند حوصلگی اورعدل وانصاف۔
خلاصۂ گفتگو یہ کہ تصوف کی اہمیت وماہیت صرف اور صرف یہ ہے کہ انسان کے دل کی دنیا میں تبدیلی آجائے، اس کو باہر کی دنیا میں اصلاحی تبدیلی لانے کے لیے تیار کیا جائے، باطن کو پاک وصاف کرکے ظاہر کی پاکیزگی کے لیے اُسے آمادہ کیا جائے اور ذکر واذکار اور عبادت وریاضت کے ذریعے سے اس کے دین، دنیا، گھر بار، مال ودولت، چلنے پھرنے، سونے جاگنے، ملنے جلنے غرض کہ زندگی کے ہر شعبے کا مقصود ومطلوب رضائے الٰہی کو بنایا جائے۔ تصوف کے تمام معمولات کا محور ذکر وصلوۃ ہے۔ ذکر سے ذاکر یا سالک نورانی حظّ وحلاوت اور اپنے خالق ومولیٰ کی معیت حاصل کرلیتا ہے جب کہ صلوۃ سے وہ جملہ فوائد وفضائل کے ساتھ انّ الصلوۃ تنھا عن الفحشائِ والمنکر (بے شک نماز تمام فواحش ومنکرات سے روک دیتی ہے) کے فیضان سے سرفراز ہوتا ہے۔ یہی تصوف کی حقیقت بھی ہے اور اس کا مقصد ومدعا بھی۔

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *