کفارہ

تبوک جانے کی تیاری مکمل ہو گئی تھی۔ ہر صحابیؓ کا جو کچھ مقدور تھا وہ اس نے مسجد نبوی میں لا کر ڈال دیا تھا۔ لوگ جوق در جوق تبوک جانے کے لیے بھرتی ہو رہے تھے۔ باتوں ہی باتوں میں ۳۰ ہزار کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا لشکر تیار ہوگیا۔ نوجوان مجاہدین اپنی ماؤں اور بہنوں سے الوداع لے رہے تھے۔ ایک عجیب جوش وخروش کی فضا سارے مسلمانوں میں پھیلی ہوئی تھی۔
کعبؓ ابن مالک کے باغ خوب پھل رہے تھے، گھر میں دولت کی ریل پیل ہو رہی تھی، دروازے پر عمدہ قسم کی ا ونٹنیاں کھڑی تھیں، وہ جلدی جلدی سارے کام نمٹا رہے تھے تاکہ تبوک جانے والے لشکر میں شامل ہوسکیں۔
دن پر دن گزرتے گئے لیکن کعبؓ ابن مالک فارغ نہ ہو سکے، تبوک کا لشکر تیار ہو کر روانہ بھی ہو گیا، لیکن وہ اپنے کاموں ہی میں مصروف رہے۔
’’فکر کی کیا بات ہے۔‘‘ انہوں نے سوچا’’ایک روز ہی میں نمٹ کر کسی تیز رفتار سواری کے ذریعہ اسلامی لشکر سے جا ملوں گا۔ حضورؐ سے معافی مانگ لوں گا۔ پھر سب ٹھیک ہو جائے گا۔‘‘
لیکن وہ ایک روز میں نمٹ ہی نہ سکے۔ کعبؓ بن مالک نے دیکھا تو مدینہ کی گلیو ںمیں انہیں صرف وہ بہانے باز منافق ہی ٹہلتے نظر آئے جو صرف زبانی وفاداری سے کام چلایا کرتے تھے۔ سارے سچے مسلمان حضورؐ کے ساتھ جا چکے تھے۔
کعبؓ ابن مالک شرمساری کے سمندر میں ڈوب کر رہ گئے۔ ان کی سمجھ میں ہی نہ آیا کہ وہ کیا کریں۔
اب حضورؐ آنے ہی والے ہوں گے۔ کیا وہ حضورؐ سے جھوٹے بہانے کریں۔ غلط سلط عذر پیش کرکے حضورؐ کو دھوکہ دیں۔
’’نہیں۔نہیں‘‘
ان کے من نے کہا۔
’’وہ اپنے دل کی ندامت کو جھوٹ سے دھونے کی ہرگز کوشش نہیں کریں گے۔ وہ ہر بات سچ ہی کہیں گے چاہے ان کا انجام کچھ بھی ہو۔
تبوک سے نمٹ کر حضورؐ مدینہ تشریف لے آئے تھے۔ خدا نے لشکر اسلام کو فتح مبین سے نوازا تھا۔ روم کی فوجیں اسلامی لشکر کے دَہَا کے سے دور ہی سے لوٹ گئی تھیں اور اسلامی سلطنت کی سرحدوں سے ایک بڑا خطرہ دور ہو گیا تھا۔
مدینہ تشریف لا کر حضورؐ سب سے پہلے مسجد نبوی میں گئے ۔وضو کر کے دو رکعت نماز کی نیت باندھ لی اور نماز سے فارغ ہو کر مسجد کے صحن میں بیٹھ گئے۔
منافق لوگ آتے رہے۔ جھوٹے جھوٹے بہانے کر کے حضورؐ سے معافی مانگتے رہے اور حضورؐ مسکرا مسکرا کر سب کو چھوڑتے گئے۔
اتنے ہی میں کعبؓ ابن مالک کا چہرہ نظر آیا، حیران پریشان، ندامت او ردکھ کے غبار نے ان کے چہرے کو جیسے سنولادیا تھا۔ شرم کے مارے نگاہیں نہیں اٹھ رہی تھیں۔
حضورؐ نے کعبؓ کو دیکھتے ہی مسکرا کر اپنا چہرۂ مبارک پھیر لیا۔
شرمندگی کے بوجھ سے جھکے کعبؓ ابن مالک حضورؐ کے قریب آکر بیٹھ گئے۔
’’حضورؐ۔۔۔وہ دھیرے سے بولے۔ خدا کی قسم نہ تو میں منافق ہوں نہ مجھے اپنے ایمان کے بارے میں کوئی شک ہے۔آپ یقین کریں حضورؐ۔۔۔۔‘‘
’’کیاکہتے ہو کعب؟ ‘‘حضورؐ نے ہلکی سی خفگی سے کہا ’’سچ کہو کیا یہاں رکنے کے لیے تمہارے پاس کوئی معقول بہانا ہے؟ کیا تم مفلس نادار تھے؟ کیاتمہارے پاس سواری کے لیے اونٹنیاں نہیں تھیں؟ پھر ا س کے بعد تمہارے پاس کون سا بہانہ ہے کعب؟‘‘
’’کوئی بھی نہیں حضورؐ۔۔۔۔ کعبؓ نے دکھ بھرے لہجے میںکہا’’ میرے پاس کوئی بھی بہانہ نہیں حضورؐ۔ جتنی دولت میرے پاس اس زمانہ میں تھی اتنی تو کبھی بھی نہیںرہی حضورؐ۔۔۔ میری دولت نے ہی میرے پاؤں روک لیے۔ میرے پاس کوئی بہانہ نہیں حضورؐ۔۔۔‘‘
’’تو اٹھ جاؤ کعب۔ تمہارا فیصلہ میں نہیں اب خود خدا کرے گا۔ جاؤ انتظار کرو اس وقت کا جب تک تمہارے بارے میںکوئی فیصلہ ہو۔‘‘
آزردہ وآشفتہ سے کعبؓ مسجد نبوی سے اٹھ کے چلے آئے۔ تھوڑی ہی دیر بعد انہیں معلوم ہوا کہ حضورؐ نے ان کے سوشل بائی کاٹ کا حکم دیا ہے۔ مدینہ کا کوئی بھی آدمی اب ان سے بات نہیں کرے گا۔ ان کے پاس نہیں اٹھے بیٹھے گا۔ ان کی خوشی اور غم میں شریک نہیں ہوگا۔
کعبؓ کی دنیا اندھیری ہو گئی۔ درودیوار اجنبی ہو گئے سارا مدینہ شہر ان کے لیے ایک شہر خموشاں بن گیا جس میں کوئی بھی ان کا اپنا نہیں تھا۔وہ اپنی تنہائی اور بے چارگی سے تڑ پ اٹھے۔
دن گذرتے گئے کعبؓ کو سب نے چھوڑ دیا تھا۔ تنہائی کازہر ان کی نس نس میں گھلتا جا رہا تھا۔ آخر عاجز آکر کعبؓ ایک دن ابو قتادہؓ کی دیوار پر چڑھے۔ وہ ان کے چچا زاد بھائی اور بہترین دوست تھے۔ قتادہؓ تو ان سے ضرور بات کر ہی لیں گے۔ سارے شہر میں کوئی تو ہوگا جس سے باتیں کر کے وہ اپنے جی کابوجھ ہلکا کر سکیں گے۔
’’السلام علیکم بھائی قتادہ، دیوار پر چڑھ کر انہوں نے ا پنے چچا زاد بھائی کو سلام کیا۔ لیکن قتادہؓ کے پاس ان کے سلام کے جواب میں ایک بیگانی سے نگاہ کے سوا کچھ بھی نہیں تھا۔
’’تمہیں خدا کی قسم ہے قتادہ۔۔۔۔‘‘ گلوگیر آواز میںکعبؓ نے کہا’’میری بات کا جواب دو۔ جواب دو میری بات کا۔۔۔۔۔۔کعبؓ بار بار یہی قسم دیتے رہے لیکن قتادہؓ نے کوئی جواب نہ دیا۔
’’قتادہ۔۔۔۔کعبؓ نے پھر کہا۔ کیا تمہیں معلوم ہے کہ مجھے اللہ اور اس کے رسولؐ سے شدید محبت ہے پھر اس بے گانگی کی وجہ۔۔۔؟‘‘
’’اللہ جانے یا اس کارسولؐ۔‘‘ قتادہؓ نے مختصر سا جواب دیا اور اپنا رخ کعبؓ کی طرف سے موڑ لیا۔ کعبؓ کادل خون ہو کر رہ گیا۔ بچپن کے دوست اور بھائی کی بے اعتنائی ان سے برداشت نہ ہو سکی۔ وہ سسکتے ہی رہ گئے۔
غسان کے کافر بادشاہ نے کعبؓ ابن مالک کی حالت زار کے بارے میں سنا تو سوچا کہ لاؤ اس موقعہ پر کعبؓ کو منحرف کر لیں۔
لوگوں نے دیکھا۔ مدینہ کے بازاروں میں ایک قبطی تاجر ایک خط ہاتھ میں لیے کعبؓ ابن مالک کا پتہ پوچھتا پھر رہا ہے۔ آخر وہ کعبؓ ابن مالک کے مکان پر پہنچ گیا۔
کعبؓ نے حیران نگاہوں سے اسے دیکھا ۔
غسان کے بادشاہ کا پیغام تھا:
’’ہمیں معلوم ہوا ہے کہ تمہارے آقا نے تم پر ظلم کر رکھا ہے۔ تم جیسے لوگ عزت کے قابل ہوتے ہیں ۔ذلت کے نہیں۔ کعب ! تم ہمارے پاس آسکتے ہو، یہاں تم کو پوری عزت اور مکمل آرام ملے گا۔‘‘کعبؓ نے پیغام پڑھا اور آنسوؤں کی دھار ان کی آنکھوں سے پھوٹ پڑی۔
’’کیا میں اب اتنا ذلیل ہو گیا ہوں میرے اللہ! کہ کافر لوگ مجھ سے امیدیں وابستہ کرنے لگے ہیں؟‘‘ ان کی ہچکیاں بندھ گئیں اور شاہ غسان کا خط انہوں نے گھر میں دہکتے ہوئے تنور میں پھینک دیا۔
۴۰ روز یوں ہی گذر گئے۔ حضورؐ نے کعبؓ کی بیوی کو بھی ا ن سے علیحدہ رہنے کا حکم دیا تھا۔ بوڑھے کعبؓ کی دلبستگی کے لیے اب بیوی بھی نہ رہی تھیں۔
پچاس دن یوں ہی گذر گئے۔ ان ۵۰ دن میں ہر دن جیسے کعبؓ نے کانٹوں کے بستر پر گذارا تھا۔ گھر میں دولت کے انبار لگے ہوئے تھے۔ اونٹنیاں خوب ددوھ دے رہی تھیں اور فصل خوب بھر پور ہوئی تھی۔ لیکن کعبؓ کے لیے کسی چیز میں کوئی خوشی نہ تھی۔
آخر پچاسویں دن سلع پہاڑ کی چوٹی سے ایک پکارنے والے کی آواز آئی’’ خوش خبری ہو کعب تم کو ۔۔۔۔۔۔‘‘
کعبؓ نے یہ الفاظ سنے تو جیسے وہ یقین نہ کر سکے کہ ۵۰ دن سے جو اندھیرا ان کی تقدیر بنا ہوا تھا ایک دم چھٹ گیا ہے ؟ کعبؓ بے اختیار سجدے میں گر پڑے۔
’’خوش خبری ہو کعب تم کو ۔۔۔۔ایک گھوڑ سوار بھاگتا ہوا کعبؓ کو خوش خبری سناتاہوا آرہا تھا۔‘‘کعبؓ نے خوشی کے مارے اپنے جسم کے کپڑے اسے اتار کر دے دئیے۔ اور پھر کعبؓ ۵۰ روزکے صبر آزما وقفہ کے بعد ایک بار پھر حضورؐ کی خدمت میںحاضر ہونے کے لیے مسجد نبوی جار ہے تھے۔ مسجد نبویؐ کے صحن میں حضورؐ صحابہ کے گھیرے میں بیٹھے تھے۔ خوشی سے حضورؐ کا چہرہ چاند کی طرح چمک رہا تھا۔
کعبؓ نے مسجد نبویؐ کے دروازے میں جیسے ہی قدم رکھا۔ سب لوگ مبارکباد دینے کے لیے دوڑ پڑے۔ سب سے پہلے ابو طلحہؓ آگے بڑھ کر آئے اور کعبؓ سے ہاتھ ملاتے ہوئے کہا:
’’خوش خبری ہو کعبؓ تم کو ۔۔۔تمہاری توبہ قبول ہو گئی ہے۔‘‘
حضورؐ نے کعبؓ کو گلے لگالیا۔’’ مبارک ہو کعبؓ ۔ تمہاری توبہ قبول ہوگئی ہے۔‘‘
’’ابھی میری توبہ مکمل کب ہوئی ہے حضورؐ۔۔‘‘کعبؓ نے گلوگیر آواز میں کہا۔
حضورؐ یہ میری جائداد ۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ میری دولت ہی تو تھی جس نے مجھے اس حال کو پہنچا دیا۔ میں یہ ساری جائداد آج سے خدا کی راہ میں دیتا ہوں حضورؐ۔۔۔۔۔کعبؓ سر جھکائے سب کچھ کہتے چلے گئے۔۔۔۔۔حضورؐ نے پیار بھری نگاہوں سے انہیں دیکھا۔ کعبؓ نے اپنی توبہ کی کتنی خوبصورت تکمیل کی تھی۔
کتنے پیارے ہیں میری امت کے خطاکار بھی۔۔۔۔حضورؐ دھیرے سے مسکرائے اور آنکھیں ستاروں کی طرح جگمگااٹھیں۔

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *