ہندو ۔ہندواستھان اور مسلمان

یوں تو آر ایس ایس کا ایجنڈا ڈھکا چھپا نہیں ہے۔ بھارت کا رام راجیہ کرن کرنا اور یہاں کی اقلیتوں کو بلخصوص مسلمانوں کو تکثریتی کلچرل میں ضم کرنا ہے۔ لیکن NDAکی سرکار بننے سے حوصلوں کو جلا ملی ہے کیونکہ یہ سنگھ پریوار کی سرکار ہے۔
موہن بھاگوت ہی کیا، پروین تگڑیا اور تگڑیا ہی کیا پونہ کے ڈیسائی جیسے چھوٹے موٹوں کو بھی حوصلہ ملا ہے۔ محسن شیخ کا قتل اسی احساسِ برتری اور جرأت جاہلانہ کا مظہر ہے جو بی جے پی (سنگھ پریوار) کے سرکار بنانے سے پیدا ہوا ہے۔
سنگھ پریوار ایسا کنبہ ہے جو مل جل کر تو رہتا ہے لیکن الگ الگ چہرے و زبان رکھتا ہے۔ احوال میں ان چہروں اور زبانوں سے مدد لی جاتی ہے۔ اگر گہرائی سے دیکھا جائے تو سب کے معنیٰ و مطالب ارادے و تمنائیں ایک دوسرے سے مربوط ہوتی ہیں، سوائے دلوں کے جوڑ کے ،دل پھٹے ہوئے ہوتے ہیں۔ ایک گروہ کی دشمنی میں ہزار دوستاں نبھائی جاتی ہیں۔
موہن بھاگوت کو ہی لیجئے انہوں نے کہا کہ جو ہندوستان میں رہتا ہے وہ ہندو ہے۔ ہندو کوئی دھرم نہیں بلکہ ایک سبھیتا کا نام ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہندو کوئی مذہبی اصطلاح کا نام نہیں ہے۔ اُسے شناخت کے طور پر استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ لیکن موجودہ دور میں ہندو سے ہندوتو بنے لفظ کو ایک جیون پرنالی اور سیاسی وچاردھارا کے روپ میں اپنایا گیا ہے۔
ہندوستان خود کوئی دستوری لفظ نہیں ہے۔ تاریخ میں کسی نے اُسے استعمال کیا ہوگا تو مسلمانوں سے قبل بھارت کے لئے استعمال ہوا ہوگا۔ دستوری لفظ اس قطعہ آراضی کے لئے ہندی میں بھارت اور انگریزی میں Indiaاستعمال ہوا ہے۔ اس اعتبار سے بھارتی یا انڈین کہلانے سے مذہبی شناخت متاثر نہیں ہوتی۔ صرف جغرافیائی شناخت بنتی ہے۔ لیکن ہندو سے ایک مذہبی فرقہ کی شناخت جنم لیتی ہے جو مسلمانوں، عیسائیوں، پارسیوں، سکھوں اور یہاں کے شاید مول نواسیوں کے لئے بھی قابل قبول نہیں ہے۔
اس سُر میں تال کا کام وہ لوگ کر رہے ہیں جو بھاجپا کے چبائے ہوئے لقموں سے اپنا پیٹ بھر رہے ہیں۔ شاہنواز حسین اور مختار عباس نقوی چھوڑ دیجئے یہ تو ہیں ہی تماشہ، رشید انصاری اور نجمہ اللہ ایک اقلیتی امور کے ذمہ دار دوسری اقلیتی امور کی وزیر بے انصاف۔ انہیں بھی زعفرانی بخار چڑھا ہوا ہے۔
میڈم نجمہ ھپت اللہ نے جو دلیل پیش کی ہے کہ حضور ؐ کے سسرالی رشتے داری میں ہندہ نامی ایک عورت تھی۔ انہیں معلوم ہونا چاہئے کہ ’’ہندہ‘‘ اور ’’ہندو‘‘ میں اصطلاحی طور پر بڑا فرق ہے۔ ہندہ ایک اسم خاص ہے جو ہوسکتا ہے لیکن ہندو ایک عقیدہ کی شناخت سے جنم لیتا ہوا ایک لفظ ہے۔ جسے مسلمان اپنے لئے کبھی قبول نہیں کر سکتے۔
بھارت کی تہذیب جو ہزاروں سال پرانی ہے اس نے بڑے بڑے گروہوں کو اپنی شناخت میں ضم کر لیا ہے۔ جس سے ان گروہوں کی شناخت بالکل ختم ہو کر رہ گئی ہے۔ لیکن مسلمان اپنے ایمان و عقیدہ کی بدولت اپنی تہذیب و تمدن میں یکتا رہا ہے۔ سیکڑوں برس گزرنے کے باوجود اپنی شناخت و تعارف الگ رکھتا ہے۔
سنگھ پریوار کو جو اقتدار کا موقع نصیب نے دیا ہے شاید وہ اسی الجھن کو دور کرنے میں ختم ہو جائیگا کہ ۲۰ کروڑ ایمان والوں کو کیسے ہندوتو کی بھینٹ چڑھایا جائے۔ وزیر اعظم مودی نے صاف کہہ دیا کہ ’’سب کا ساتھ سب کا وکاس ‘‘۔ مطلب جو اُن کا ساتھ نہ دے اسکا وکاس ممکن نہیں۔ یہ زبان جارج بش جونیئر کی ہے۔ جو فرعونِ زمانہ بن کر اس نے کہی تھی جو ہمارے ساتھ ہیں وہ دوست اور جو نہیں وہ دشمن ہیں۔
اس بحث کو اگر ہم یہاں لاتے ہیں کہ اگر بھارت ’’ہندواستھان‘‘ ہے جہاں صرف ہندو رہتے ہیں تو یہ اصطلاح صحیح ہے اگر ہندوؤں کے علاوہ اور بھی مذاہب کے ماننے والے یہاں رہتے ہوں تو ’’ہندو استھان‘‘ کہنا ہی صحیح نہیں تو ہندو کیسے صحیح ہو سکتا ہے۔
راج دھرم کے سیوکوں کو یہ بات سمجھنی چاہئے کہ مذہبی امور میں کھلواڑ سے شانتتا جنم نہیں لیتی۔ پردھان سیوک بنائے گئے ہو تو وہی کرو جو اصول و ضابطہ میں آتا ہے۔ اگر بڑبول کی عادت ایسے ہی رہی تو اللہ جو سروسرشٹ ہے وہی ساری سرشٹی کا مالک ہے ۔ دن رات کے سفر کو گھما پھرا کر سب کو اپنی ہی پرانی جگہ پہنچا دیگا۔
بھارت میں سنگھ پریوار کا غلبہ بین الاقوامی صورتحال میں رونما ہونے والے واقعات کا ایک حادثہ ہے۔ تبدیلیوں کو دوام نہیں ہوتا وہ ہمیشہ ہوتی رہتی ہیں۔ ہماری سوچ اور Visionکو دوام چاہئے۔ دونوں ہاتھوں کو کشکول بنائے ہم درِ اقتدار پر کھڑے عید کی مبارکباد کے منتظر ہیں جبکہ یہی دونوں ہاتھوں کو اٹھاکر اللہ سے جو مانگا جائیگا امید ہے پورا ہو جائیگا۔ کیا ہماری عیدیں کسی کے مبارکباد کی منتظر ہیں؟
ہندو لفظ ’ایک مذہبی شناخت‘ بقول سپریم کورٹ ایک جیون پرنالی اور سنگھ پریوار کی مانے تو ایک وچار دھارا و سنکراتک قوم واد ہے۔ بھلا وہ لوگ اُسے کیسے اپنی شناخت بنا سکتے ہیں جنکی اپنی ایک مذہبی شناخت عبادات و معاملات و معمولات کے اظہار میں الگ ہے۔ انکی ایک الگ جیون پرنالی ہے جسے دین اسلام کہتے ہیں اور جنکی ایک الگ سیاسی وچار دھارا ہے جسے خلافت کہا جاتا ہے۔
حضرت ابراہیم ؑ نے ہمارا نام مسلم رکھا ہے یہی ہماری عالمی شناخت ہے۔ ’’ھو سمکم المسلمین ‘‘ (سورہ حج) اس نے تمہارا نام مسلم رکھا ہے۔ ہماری انفرادی ہو یا اجتماعی شناخت تو صرف مسلم سے ہوگی ،چاہے ہم دنیا کے کسی بھی کونے میں رہتے ہوں۔
ہمیں مرنے تک مسلم ہی رہنے کا حکم دیا گیا ہے۔ ’’ولا تموتن الا وانتم مسلمون‘‘ (آل عمران) اور تمہیں موت نہ آئے اس حال میں کہ تم مسلم رہو۔ یعنی تمہاری زندگی پوری کی پوری مرنے تک اسلام کے اصول و ضوابط کی پابند رہے۔
اس سے ایک قدم اور آگے ہمیں یہ بات بتلائی گئی ہے کہ ہم کہیں ’’مسلمان ہیں‘‘ ۔’’ اس سے اچھی کس کی بات ہو سکتی ہے جو اللہ کی طرف بلائے ، نیک اعمال کرے اور کہے کہ میں مسلمانوں میں سے ہوں ‘‘(قرآن) ’’انّنی من المسلمین ‘‘ ہر وقت، ہر جگہ اس بات کا اعلان اپنے عمل سے ،سیرت و کردار سے ،مجموعی احوال سے اور زبان سے یہ کہنا کہ میں مسلمانوں میں سے ہوں۔ یہی ہماری شناخت ہے۔ بھلا اتنے سارے احکامات کو چھوڑ کر موہن بھاگوت صاحب آپکے مشورے پر کیسے عمل کیا جا سکتا ہے؟ جبکہ یہ بات ابھی پایہ ثبوت کو نہیں پہنچی ہے کہ یہ ملک صرف ’’ہندو استھان ‘‘ ہی ہے۔ اگر نہیں ہے تو ’’ہندو ‘‘پر اسرار بے جا ہے۔

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *