اسکولی سطح پر مخلوط تعلیم تباہی کا پیش خیمہ

تعلیم کا واضح مطلب ہے چہار طرفی نشو نما ۔ شخصیت سازی، قوم و ملت کے لئے بہترین نو جوان، بہترین انجینئر ڈاکٹر اور وکیل کے علاوہ قانونی، اخلاقی، تہذیبی، سماجی و معاشرتی اعتبار سے بہترین پڑوسی ،بہترین ماں، بہن، بیٹی اور بیوی، بہترین باپ، بیٹا، بھائی اور شوہر، اور ان سب کے ساتھ ایک بہترین انسان کی تعمیر جس کے ساتھ رہ کر کسی کو کسی بھی طرح کا کوئی خطرہ لاحق نہ ہو بلکہ وہ خود کو مامون و محفوظ سمجھے، سبھی ایک دوسرے کے معاون و مددگار بن سکیں اور ایک بہترین معاشرہ کی تعمیر ممکن ہو سکے، ملک ترقی کے منازل طے کر سکے ، اقدار کی بحالی ہو سکے، انسانیت کا بول بالا ہو سکے اور صدیوں پرانی جنگل میں رہنے والی فرسودہ ذہنیت کا خاتمہ ہو سکے۔ اور یہ زندہ حقیقت ہے کہ شخصیت سازی کے اس عمل کی شروعات ابتدائی اور ثانوی تعلیم سے ہوتی ہے۔ اس لئے اس ضمن میں زیادہ غور و فکر کی ضرورت پڑتی ہے۔ یہاں صرف اصولی باتوں کو لے کر نہیں چلا جا سکتا بلکہ عملی طور پر گرد و نواح کے حقائق اور بچوں کی فطری جبلت کو پیش نظر رکھتے ہوئے، ان کی نفسیات کو مطالعے میں رکھ کر ان کی فلاح و بہبود کے لئے لائحہ عمل تیار کرنا ہوتا ہے، تاکہ ان کی روش کچھ غلط نہ ہو جائے، اور کسی ایسے راستے پر نہ چل پڑیں جو تعلیم کے واضح مطالب کے برخلاف ہو اور معاشرہ بننے کی جگہ بگڑنے لگے۔ خود ان معصوم نو نہالوں کی زندگی بھی کسی تباہی کے غار میں مدفون ہونے سے بچ جائے۔ تقریباً انہی جیسی باتوں کو ذہن میں رکھ کر تعلیمی نظام قائم کیا جاتا ہے، نصابی کتب تیار کرائی جاتی ہیں اور مکاتب، مدارس اور اسکول قائم کئے جاتے ہیں۔ لیکن مساوی حقوق کے نام پر جب تعلیم کے فروغ کی بات کی جاتی ہے تب لڑکے اور لڑکیوں کی فطری جبلت کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے اور مخلوط تعلیم کی پیروی شروع ہو جاتی ہے۔ لیکن اس حقیقت کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ یہاں سے تعلیم فروغ پانے کی جگہ تنزلی کا شکار ہو جاتی ہے اور شخصیت سازی کا یہ عمل منفی نظریات کو تقویت دینے لگتا ہے، اور معاشرہ بگاڑ کی راہ پر گامزن ہو جاتا ہے۔ مخلوط تعلیم کا طریقہ زمانہ قدیم سے بحث کا موضوع زیر بحث آتا رہا ہے، دنیا کے دیگر موضوعات کی طرح یہاں بھی موافقت اور مخالفت کا دستور اپنایا جاتا رہا ہے لیکن اگر بغور مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ دنیا کی اکثریت مخلوط تعلیم کے خلاف کھڑی رہی ہے اور سب نے اس کے مرتب ہونے والے مضر اثرات سے بچنے کی راہ تلاش کرنے کی کوشش کی ہے۔ اور اس تجویز کو عملی جامہ پہنانے کی فکر کی ہے کہ لڑکے اور لڑکیوں کے لئے الگ الگ اسکول قائم کئے جائیں اور کم از کم ان کی ابتدائی اور ثانوی تعلیم کے مدارج انفرادی طور پر طے ہوں ،مخلوط تعلیم کے موافقین یہ دلائل پیش کرتے ہیں کہ لڑکے اور لڑکیوں کے باہمی اختلاط سے دوریاں ختم ہو تی ہیں اور یکسانیت کو فروغ ملتا ہے۔ لیکن وہ شاید یہ بھول جاتے ہیں کہ اس باہمی اختلاط سے وہ کافی حد تک تعلیم سے دور ہوجاتے ہیں اور جنسی اختلاط فروغ پانے لگتا ہے جو طالب علمی کے ابتدائی دور میں اس لئے قطعی مناسب نہیں ہے کیونکہ اس وقت رغبت کا بے پناہ مادہ رکھنے والی جو عادتیں پڑ جاتی ہیں ان سے فرار اختیار کرنا آئندہ کی زندگی میں ایک دشوار گزار عمل ہو جاتا ہے، اگر اس سے آگے بڑھیں تو ماہرین کا تجزیہ یہ کہتا ہے کہ ان کے لئے آگے زندگی میں اس برے فعل سے بچنا ناممکن ہو جاتا ہے۔ شاید معاشرے میں پھیلنے والی جنسی بے راہ روی بھی اسی کا ایک غلط نتیجہ ہے۔ اس موضوع پر دنیا کے ترقی یافتہ ممالک بھی جو یکسانیت اور اختلاط کو اپنی تہذیب کا حصہ مانتے ہیں، وہ بھی منقسم ہیں۔ اور ان کی اکثریت single sex schoolکے قائم کئے جانے کی وکالت کرتی نظر آتی ہے۔ آسٹریلیا میں 55%لڑکے اور 54%لڑکیاں الگ الگ اسکول میں زیرِ تعلیم ہیں، بنگلہ دیش میں یونیورسٹی کے علاوہ تقریباً تمام تعلیمی ادارے غیر مخلوط ہیں، کینیڈا میں بھی غیر مخلوط اسکولوں کی تعداد زیادہ ہے، متحدہ عرب امارات میں زیادہ تر پرائیویٹ اسکول غیر مخلوط ہیں، پاکستان میں زیادہ تر سرکاری اسکولوں میں مخلوط تعلیم نہیں ہے، انگلینڈ اور امریکہ بھی غیر مخلوط اسکولوں کے قیام کے حق میں نظر آتے ہیں، اور اسرائیل جیسے ملک میں بھی مذہبی اسکولوں کو مخلوط نظام سے علاحدہ رکھا گیا ہے۔ انگلینڈ میں ایک سروے کی رپورٹ کے مطابق مخلوط تعلیمی اداروں میں پڑھنے والے بچوں کے مقابلے الگ الگ اسکولوں میں پڑھنے والے بچوں خصوصاً بچیوں کا رزلٹ زیادہ بہتر ہوتا ہے۔ ورجینیا میں 1995میں ایک سروے کیا گیا تھا جس میں آٹھویں کلاس کے 100طالب علموں کو منتخب کرکے علم الحساب اور سائنس کے مضامین لڑکے اور لڑکیوں کو الگ الگ پڑھاکر ان کا امتحان لیا گیا تھا، جس کا یہ نتیجہ بر آمد ہوا تھا کہ لڑکیوں نے بازی ماری تھی اور بہترین نمبرات کے ساتھ کامیاب ہوئی تھیں۔ دیگر تجزیاتی مطالعے سے بھی یہ ظاہر ہوتا ہے کہ الگ الگ اسکولوں میں پڑھنے پر خصوصاً لڑکیوں کا رزلٹ لڑکوں کے مقابلے زیادہ اچھا ہوتا ہے۔ جبکہ مخلوط تعلیم کا حصہ بننے پر وہ اکثر ہی بہترین کارکردگی سے محروم نظر آتی ہیں۔ اس کی وجہ یہ بتائی جاتی ہے اور مختلف سروے رپورٹ سے بھی یہ معلوم ہوتا ہے اور اساتذہ بھی اس بات کو تسلیم کرتے نظر آتے ہیں کہ کو ایجوکیشن میں طلبہ کا دھیان پڑھائی پر نہ ہوکر مخالف جنس کی حرکات و سکنات پر ہوتا ہے اور فطری کشش اور موقع کی فراہمی ان کی متوقع تعلیمی رغبت میں مانع بنتی ہے۔ سروے اس بات پر دلائل دیتے نظر آتے ہیں کہ لڑکے ’کو ایجوکیشن سسٹم‘ کو ترجیح دیتے ہیں جبکہ لڑکیاں ’سنگل سیکس اسکول‘ کی طرفدار نظر آتی ہیں۔ اس کے مطالب ہر خاص و عام پر ظاہر ہیں اس لئے اس کی وضاحت کی کوئی خاص ضرورت نہیں ہے لیکن سروے کے اس لب و لباب کو ظاہر کرنا ضروری معلوم ہوتا ہے کہ مخلوط تعلیم والے اسکولوں میں لڑکیاں کبھی playerنہیں بن پاتی ہیں بلکہ ان کی حیثیت ایک audinceکی ہوتی ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ لڑکیوں کی فلاح و بہبود اور معاشرے سے ان کی پسماندگی کے دھبے کو دھونے کے جو کوئی طریقے ایجاد کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، کیا وہ ایک کامیاب تجربہ ہے؟ حالانکہ اس موضوع پر مطالعہ کرنے سے یہ عقدہ کھلتا ہے کہ لڑکیاں علاحدہ اسکولوں میں اپنی تعلیم پر زیادہ توجہ دے پاتی ہیں، اپنی فطری نشونما اور حاجات و ضروریات کے مد نظر وہاں کے لئے ترقی کے راستے زیادہ ہموار ہو جاتے ہیں، وہاں وہ زیادہ محفوظ ہوتی ہیں۔ ان کے لئے علیحدہ بیت الخلاء کا نظم ہوتا ہے، ان کی خود اعتمادی کو فروغ ملتا ہے۔ قدرتی طور پر ان کے اور لڑکوں کے سیکھنے کا اسٹائل الگ الگ ہوتا ہے، اور جب ابتدائی سطح پر ان کے اس اسٹائل کو مربوط کیا جاتا ہے تو سب خلط ملط ہو جاتا ہے اور لڑکے اور لڑکیوں دونوں کو ہی سیکھنے میں دشواری ہوتی ہے، یہ یاد رکھا جا نا چاہئے کہ دنیا کی مشینری کی طرح فطری ترقیاتی اسٹائل کو تبدیل نہیں کیا جا سکتا، بلکہ اگر ہم اس کے موافق چلیں گے تبھی خاطر خواہ فائدہ ہوگا۔ مذہبی نقطۂ نگاہ سے اگر دیکھیں تو وہاں بھی مخلوط تعلیم کو نامناسب قرار دیا گیا۔ کیونکہ لڑکے اور لڑکیوں کا باہمی اختلاط معاشرے کی خرابی کا سبب بنتا ہے۔ اسلام کی نظر میں لڑکے اور لڑکیوں دونوں کے لئے علم کا حاصل کرنا فرض ہے لیکن انہیں اختلاط سے روکنے کی وجہ تعلیم کے مقصد اصلی کا حصول ہے نہ کہ تعلیم کے نام پر خرافات اور برائیوں کی تشہیر ۔ آج کا معاشرہ جن برائیوں کی جانب گامزن ہے ان کی یقینی اور بنیادی وجہ مخلوط تعلیمی نظام ہے۔ اسکولوں میں لڑکے اور لڑکیوں کی دوستی کا چلن، سیر و تفریح ، دوستی کے نام پر قتل و خوں ریزی، اور جنسی استحصال جیسی شرمناک برائیاں عام سی بات بن گئی ہیں۔ یہ یاد رکھا جانا چاہئے کہ جس ہندوستان میں تہذیبی اقدار کو اہمیت دی جاتی تھی اور عورتوں کی عزت و ناموس کی حفاظت کو اپنا فریضہ تسلیم کیا جاتا تھا اس ہندوستان میں اسکولوں کی سطح پر بڑھتے باہمی اختلاط نے معصوم ذہنوں کو ٹی وی اور فلموں کے ذرائع سے اتنا پراگندہ کر دیا ہے کہ ان کے لئے دیرینہ تہذیب کی کوئی قیمت نہیں رہ گئی ہے۔ اور شاید اسی ذہنیت کا اثر ہے کہ معصوم بچیاں جنسی استحصال کا شکار ہونے لگی ہیں۔ معاشرے کو واقعتا ان خرابیوں سے بچانے کے لئے اسکولی سطح پر مخلوط تعلیم سے کنارہ کشی کئے جانے کی ضرورت ہے۔ پھر ہم دیکھیں گے کہ مخلوط تعلیم نے جس تباہی کا پیش خیمہ تیار کیا ہے اس سے نجات بھی مل جائے گی۔
(بشکریہ روزنامہ صحافت)

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *