تاخلافت کی بنا دنیا میں ہو پھر استوار – 4

اس میں کوئی شک نہیں کہ بحالاتِ موجودہ خلافت کا قیام سخت مشکل اور صبر آزما کام ہے۔ جس کے لئے محکم یقین اور پیہم جدو جہد کے ساتھ ساتھ باریک بینی اور دور اندیشی بھی درکار ہے۔ گذشتہ تین شماروں میں ہم اس جانب توجہ دلا چکے ہیں، اور اس راہ کی چند مشکلات کی نشان دہی بھی کر چکے ہیں۔ اسی کے ساتھ خلافت کے قیام کی ضرورت اور اہمیت سے مطلع کرتے ہوئے یہ بتانے کی کوشش بھی کی گئی ہے کہ خلافت کا قیام مسلمانوں کی صرف سیاسی ضرورت ہی نہیں بلکہ منصبی ذمہ داری بھی ہے۔ یعنی خلافت کے بغیر امت ایک ایسی جماعت ہے جس کا کوئی رہنما نہیں ہے۔ یا ایسی تنظیم ہے جو عملاً مرکزیت سے محروم ہے۔ یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی کو ایسی ذمہ داری کا مکلف نہیں بناتا جس کی فی الواقع اس میں وسعت نہ ہو۔ سطور ذیل میں ہم زمانۂ حال میں اسلامی خلافت کے قیام کے مواقع اور امکانات سے مطلع کرنے کی کوشش کریں گے۔

اقامتِ دین کے سلسلے میں جس کا تکمیلی مظہر خلافت علیٰ منہاج النبوۃ ہے، یہ جان لینا ضروری ہے کہ اصل ذمہ داری خلافت قائم کر دینا یا کرکے دکھا دینا نہیں ہے ۔کسی بھی شے کو عالمِ وجود میں لے آنا انسانوں کے بس کی بات نہیں ہے۔ پوری کائنات اور اس میں پائی جانے والی ہر شے کا وجود اور بقاء مشیت ایزدی یعنی ارادۂ الٰہی کا مرہون منت ہے۔ خدا وند تعالیٰ جب تک چاہتے ہیں کوئی چیز زندہ و باقی رہتی ہے اور جب اس کی مقررہ مدت پوری ہو جاتی ہے تو وہ اپنے انجام کو پہنچ جاتی ہے۔ کسی فرد یا قوم میں یہ طاقت نہیں ہے کہ حکم الٰہی کے علی الرغم کسی چیز کو وجود بخشے یا قائم رکھے۔ کائنات کا ذرہ ذرہ اس سچ کی گواہی دے رہا ہے۔ (لکل امت اجل۔۔۔ولا یستقدمون (القرآن)

لہٰذا ہمارا کام یہ نہیں ہے کہ اپنے دم پر خلافت قائم کرکے دکھا دیں اور اگر قائم ہو جائے تو اسے اپنی منشا کے مطابق قائم رکھ سکیں ۔ہماری اصل ذمہ داری یہ ہے کہ خلافت اسلامی کے قیام اور بقا و استحکام کے لئے مقدور بھر جدو جہد کرتے رہیں۔ یہ قدرت تو اللہ تعالیٰ کو ہی حاصل ہے کہ بذریعہ اسباب اور ماوریٰ اسباب جب چاہیں اس کو وجود بخش دیں اور جب تک چاہیں قائم رکھیں۔ خلافت اسلامی کے باب میں ہماری اولین ذمہ داری یہ ہے کہ اس کی ضرورت اور اہمیت کو جانیں اور سمجھیں۔ اور جو چیز مدت دراز تک قائم رہ چکی ہے اس کے آئندہ قائم ہونے کا یقین رکھیں۔

دوسرا اہم نکتہ جس کو سمجھنے کی ضرورت ہے یہ ہے کہ خلافت کا قائم ہو جانا کوئی محال کام نہیں ہے۔ جس کے لئے کوشش کرنا سعی ٔلاحاصل سمجھا جائے ۔ اس وقت دنیا میں دوسری بڑی آبادی مسلمانوں کی ہے ۔محل وقوع کے لحاظ سے بھی مسلمان دنیا کے اہم ترین علاقوں پر قابض و متصرف ہیں ۔اسی کے ساتھ ساتھ قدرتی وسائل و ذرائع کے تعلق سے بھی وہ اعلیٰ درجہ کی حیثیت کے مالک ہیں۔ اس صورت میں اگر فکر و عمل کی یگانگت اور یکسوئی سے کام لیتے ہوئے خلافت کو ترجیح اوّل کے طور پر لیکر میدان میں اتریں تو مقصد کے حصول میں کامیاب ہونا بعید نہیں۔ دو ہزار سال بعد اگر دو کروڑ یہودی صیہونی ریاست قائم کر سکتے ہیں تو صرف 90سال بعد خلافت کا قیام کیوں محال سمجھا جائے۔ بلا شبہ سائنسی ترقی کے میدان میں مسلم دنیا کی پسماندگی کو رکاوٹ شمار کیا جا سکتا ہے مگر اس میدا ن میں بھی مشرق اب اتنا پیچھے نہیں رہ گیا جتنا پچاس سال پہلے تھا۔ آج ایشیا ہی میں واقع ہند ،چین، جاپان اور کوریا کا معیار پہلے سے کافی اونچا ہے۔ اسی طرح ایٹمی ترقی میں ایران، پاکستان اور ترکی جیسے ملک اب وہاں نہیں ہیں جہاں پہلے تھے۔ اور کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ مزید آگے نہیں بڑھیں گے۔ یوں بھی علم و ایجاد پر کسی قوم اور ملک کی ہمیشہ کے لئے اجارہ داری کا دعویٰ قابل تسلیم نہیں ہے۔ فوجی ساز و سامان کی کمی کا جائزہ لیا جائے تو بلا شبہ مہلک ہتھیاروں کے استعمال میں بالاتری پر نظر ڈالنے سے پتہ چلتا ہے کہ یہ عام شہریوں کی نسل کشی کا اقدام ہے۔ جنگی اصول و آداب اس کو تسلیم نہیں کرتے۔ کارپیٹ بمبنگ (Carpet Bombing) در حقیقت فوجی قوت کی برتری کے بجائے جنگی جرائم پیشگی کی علامت ہے۔ امریکی سرپرستی میں صیہونی دہشت گردی کا مقابلہ فلسطینی عوام اور حماس کے مجاہدین جس صبر و ثبات اور حوصلہ مندی سے کر رہے ہیں وہ مسلمانوں کی زبردست قوت مزاحمت کا پتہ دیتا ہے اور اس حقیقت سے آگاہ کرتا ہے کہ ہتھیاروں کی برتری فیصلہ کن قوت نہیں ہے۔ کسی فوجی ماہر نے کیا خوب کہا تھا کہ ’’جنگ ہتھیاروں سے لڑی جاتی ہے مگر ہتھیار جنگ نہیں لڑتے‘‘۔ اور علامہ اقبال نے اس نکتہ کو واضح کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ مومن ہو تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی۔ بارود اور ایمان کے مقابلہ میں کامیابی ایمان کے حصہ میں آتی ہے۔ ساری دنیا کے ایمانداروں کے لئے یہ ایک مژدۂ جاں فزا ہے۔

صیہونی اور صلیبی دنیا کا قائم کردہ نظام زر جس کی چمک دمک سے آج کی دنیا مرعوب بھی ہے اور خوف زدہ بھی ۔اگر مردہ نہیں تو عالم نزع میں ضرور گرفتار ہے۔ انسانی ضمیر اس کے بہتر متبادل کی تلاش میں ہے اور یہ صلاحیت صرف اور صرف اسلام میں ہے۔ بشرطیکہ اس قوت کو اظہار کا موقع میسر آ سکے۔ اللہ کا دین اسلام جس طرح صدیوں پہلے عالمی قیادت کا اہل تھا اسی طرح آج بھی ہے اور آئندہ بھی رہے گا۔ نظام زر پرستی نے قافلۂ انسانی کو حیرانی اور سرگردانی کے صحرا میں لاکر کھڑا کر دیا۔ اس نے دنیا کو جو کچھ دیا وہ اس سے بہت کم ہے جس سے محروم کر دیا اس کے بنائے ہوئے مراکز صحت انسانی ہمدردی سے خالی ہیں ۔ اس کی محفلوں میں قلبی سکون اور راحت کا تصورتلاش کرنے پر بھی نہیں ملتا۔ اس کی آبادیوں پر تنہائیاں مسلط ہیں اس کے قائم کردہ معاشروں میں انسان کا احترام مفقودہے۔ اس کا نظامِ سیاست فرعونیت ہے۔ اس کی معاشیات کی روح قارونیت ہے اس کے دانش کدو ں پر ہامانیت قابض ہے۔ وہ ذہانت سے استفادہ نہیں کرتے بلکہ اس کا استحصال کرتے ہیں۔ دریں حالات اگر دنیا کے کسی خطے میں اسلام کی کھیتی لہلہاتی نظر آئے گی تو اس کے استقبال و احترام سے دنیا کو روکا نہیں جا سکتا ۔ اس سچائی سے اسلام کے دوست واقف ہوں یا نہ ہوں لیکن اسلام کے دشمن ضرور باخبر ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے دنیا کے سامنے اسلام کو ایک مشترک خطرہ اور مسلمانوں کو ایک مشترک دشمن کے نام پر پیش کرنے کی ٹھان رکھی ہے اور اسلامی خلافت کا قیام اس بات کا اعلان ہوگا کہ اشتراکیت کے خاتمہ کے بعد نظامِ زر کے دن بھی پورے ہونے کو ہیں۔

دراصل خلافت کے قیام میں سب سے بڑی رکاوٹ مسلم حکمرانوں کا وہ طبقہ ہے جس کی مثال ان محافظوں جیسی ہے جو ڈاکوؤں سے ملکر اس گھر کو لٹوادیں جس کی حفاظت پر وہ مامور ہوں۔ بلاشبہ یہ لوگ بھی مسلمانوں کے گھروں میں پیدا ہوئے ہیں ،ان کے نام مسلمانوں جیسے ہیں ۔ازروئے فتویٰ ان کو مسلم معاشروں سے علاحدہ بھی شمار نہیں کیا جا سکتا ،ان میں بعض لوگ وہ بھی ہیں جو اپنے دورِ اقتدار میں کچھ ایسے کام بھی انجام دیتے ہیں جنہیں ان کے مداح فخریہ بیان کرتے ہیں مگر ان سے یہ توقع نہیں کی جاسکتی کہ وہ خلافت کے قائم کرنے میں کوئی مثبت کردار انجام دے سکیں گے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو احیاء خلافت کی منزل صرف دو قدم دور سمجھی جا سکتی تھی۔ مسلمانوں کے سروں پر اس مصنوعی قیادت کو مغربی استعمار نے بڑی عیاری اور محنت سے مسلط کر رکھا ہے۔ انہیں پروجیکٹ بھی کیا جاتا ہے اور بشرط ضرورت پروٹیکٹ بھی کیا جاتا ہے۔ مگر کام نکلتے ہی مصنوعی انقلاب کے ذریعہ سے دوسرے خدمت گاروں کو خدمت کا موقع فراہم کر دیا جاتا ہے۔ اس کی ایک نمایا ں مثال مصر ہے جہاں پون صدی سے ڈکٹیٹروں کو جمہوریت کے لباس میں مسلط کیا جاتا رہا ہے۔ دوسری مثال شام کی ہے جہاں عرصۂ دراز سے حافظ الاسد اور اس کے بیٹے بشار الاسد کو ملک کی واضح اکثریت کے سروں پر زبردستی مسلط کر رکھا ہے اور اس کی حمایت ایران کی اسلامی ریاست بھی فرما رہی ہے۔ تیسری مثال سعودی ملوکیت کی ہے جس کا معاشقہ طویل عرصہ سے قصر ابیض (White House)کے حکمرانوں سے چلا آرہا ہے۔ اور اس پر کوئی رسمی سا پردہ یا ہلکا سا نقاب بھی باقی نہیں ہے۔

—— لہٰذ ا —–

خلافت کے قیام کے لئے ایک پر امن عوامی تحریک کی اشد ضرورت ہے۔ جس کی ابتدا لازمی طور پر آزاد مسلم ممالک سے ہونی چاہئے۔

اگرچہ اسلامی تحریکات دنیا کے متعدد ممالک میں اپنا سفر جاری رکھے ہوئے ہیں لیکن ایران اور ترکی کے علاوہ سیاسی قوت کے حصول میں پوری طرح کامیاب نہیں ہو پارہی ہیں۔ ان کا مد مقابل صرف حکمراں طبقہ ہی نہیں ہے بلکہ وہ دینی شخصیات اور ادارے بھی ہیں جو ان کی کامیابی کو اپنی ناکامی سمجھتی ہیں۔ ان کی روش ع ۔ باغباں بھی خوش رہے راضی رہے صیاد بھی ،پر موقوف ہے۔ تحریک خلافت کی کامیابی اسی وقت ممکن ہے جب بڑے پیمانے پر متعدد ملکوں میں اسے عوامی تائید و حمایت میسر آ سکے اور دینی اعتبار بھی حاصل ہو۔اگرچہ آخری عثمانی خلیفہ سلطان عبد الحمید خاں مرحوم کی بلاجواز معزولی کو صرف 90سال ہوئے ہیں مگر گوناگوں دشواریاں خلافت کے قیام نو میں حائل ہو چکی ہیں۔ اس لئے حصول مقصد کے لئے ایک تدریجی حکمت عملی اختیار کی جانی چاہئے۔ جس کے تحت مؤثر اقدامات عمل میں لائے جا سکیں۔ مثلاً (۱) ہر سال مکہ معظمہ یا کسی اہم مقام پر خلافت کے لئے نمائندہ اجلاس منعقد کئے جا ئیں ۔ (۲) اہل رائے یا عالمی مجلس شوریٰ کی تشکیل کی جائے تاکہ خلافت علیٰ منہاج النبوۃ کی جانب پیش قدمی کے لئے اہم فیصلے نافذکئے جا سکیں۔

والسلام

ع۔ ہوا ہے گو تند و تیز لیکن چراغ اپنا جلا رہا ہے وہ مرد درویش خدا نے جس کو دیا ہے انداز خسروانہ

 

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *