قرآن اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم

اسلام کی نعمت ہر زمانے میں انسان کو دو ہی ذرائع سے پہنچتی ہے۔ ایک اللہ کا کلام دوسرے انبیاء علیہم السلام کی شخصیتیں جن کو اللہ نے نہ صرف اپنے کلام کی تبلیغ و تعلیم اور تفہیم کا واسطہ بنایا بلکہ اس کے ساتھ عملی قیادت و رہنمائی کے منصب پر بھی مامور کیا تاکہ وہ کلام اللہ کا ٹھیک ٹھیک منشا پورا کرنے کے لئے انسانی افراد اور معاشرے کا تزکیہ کریں اور انسانی زندگی کے بگڑے ہوئے نظام کو سنوار کر اس کی تعمیر صالح کر دکھائیں۔
یہ دونوں چیزیں ہمیشہ سے ایسی لازم و ملزوم رہی ہیں کہ ان میں سے کسی کو کسی سے الگ کرکے نہ انسان کو کبھی دین کا صحیح فہم نصیب ہو سکا اور نہ وہ ہدایت سے بہرہ یاب ہو سکا۔ کتاب کو نبی سے الگ کر دیجئے تو وہ ایک کشتی ہے نا خدا کے بغیر جسے لے کر اناڑی مسافر زندگی کے سمندر میں خواہ کتنے ہی بھٹکتے پھریں منزل مقصود پر کبھی نہیں پہنچ سکتے، اور نبی کو کتاب سے الگ کر دیجئے تو خدا کا راستہ پانے کی بجائے آدمی نا خدا ہی کو خدا بنا بیٹھنے سے کبھی نہیں بچ سکتا۔ یہ دونوں ہی نتیجے پچھلی قومیں دیکھ چکی ہیں۔ ہندوؤں نے اپنے انبیاء کی سیرتوں کو گم کیا اور صرف کتابیں لے کر بیٹھ گئے۔ انجام یہ ہوا کہ کتابیں اُن کے لئے لفظی گورکھ دھندوں سے بڑھ کر کچھ نہ رہیں۔ حتیٰ کہ آخر کار خود انہیں بھی وہ گم کر بیٹھے۔ عیسائیوں نے کتاب کو نظر انداز کرکے نبی کا دامن پکڑا اور اس کی شخصیت کے گرد گھومنا شروع کیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ کوئی چیز انہیں نبی اللہ کو ابن اللہ بلکہ عین اللہ بنانے سے باز نہ رکھ سکی۔
پرانے ادوار کی طرح اب اس نئے دور میں بھی انسان کو نعمت اسلام میسر آنے کے وہی دو ذرائع ہیں جو ازل سے چلے آرہے ہیں ۔ایک خدا کا کلام جو اب صرف قرآن پاک کی صورت ہی میں مل سکتا ہے دوسرے اسوۂ نبوت جو اب صرف محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت پاک ہی میں محفوظ ہے۔ ہمیشہ کی طرح آج بھی اسلام کا صحیح فہم انسان کو اگر حاصل ہو سکتا ہے تو اس کی صورت صرف یہ ہے کہ وہ قرآن کو محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو قرآن سے سمجھے۔ ان دونوں کو ایک دوسرے کی مدد سے جس نے سمجھ لیا، اس نے اسلام کو سمجھا، ورنہ فہم دین سے بھی محروم رہا اور نتیجۃً ہدایت سے بھی۔
پھر قرآن اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم دونوں چونکہ ایک مشن رکھتے ہیں۔ ایک مقصد و مدعا کو لئے ہوئے آئے ہیں اس لئے ان کو سمجھنے کا انحصار اس پر ہے کہ ہم ان کے مشن اور مقصد و مدعا کو کس حد تک سمجھتے ہیں ، اس چیز کو نظر انداز کرکے دیکھئے تو قرآن عبارتوں کا ایک ذخیرہ اور سیرتِ پاک واقعات و حوادث کا ایک مجموعہ ہے۔ آپ لغت اور روایات اور علمی تحقیق و کاوش کی مدد سے تفسیروں کے انبار لگا سکتے ہیں اور تاریخی تحقیق کا کمال دکھا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اور آپؐ کے عہد کے متعلق صحیح ترین اور وسیع ترین معلومات کے ڈھیر لگا سکتے ہیں، مگر روحِ دین تک نہیں پہنچ سکتے، کیونکہ وہ عبارات اور واقعات سے نہیں بلکہ اس مقصد سے وابستہ ہے جس کے لئے قرآن اتارا گیا اور محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس علمبرداری کے لئے کھڑا کیا گیا۔ اس مقصد کا تصور جتنا صحیح ہوگا اتنا ہی قرآن اور سیرت کا فہم صحیح، اور جتنا وہ ناقص ہوگا اتنا ہی ان دونوں کا فہم ناقص رہے گا۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ قرآن اور سیرت محمدی علیٰ صاحبہا الصلوٰۃ والسلام، دونوں ہی بحرِ ناپید اکنار ہیں۔ کوئی انسان یہ چاہے کہ ان کے تمام معانی اور فوائد و برکات کا احاطہ کر لے تو اس میں کبھی کامیاب نہیں ہو سکتا۔ البتہ جس چیز کی کوشش کی جا سکتی ہے وہ بس یہ ہے کہ جس حد تک ممکن ہو آدمی ان کا زیادہ سے زیادہ صحیح فہم حاصل کرے اور ان کی مدد سے روحِ دین تک رسائی پائے۔
(ماخوذ دیباچہ محسن انسانیت )

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *