ملک کی جانچ ایجنسیاں ناقابلِ اعتبار

کلکتہ 27اکتوبر (یو این آئی) بردوان بم دھماکہ کی جانچ کر رہی مرکزی جانچ ایجنسی این آئی اے، این ایس جی پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے آل انڈیا مجلس مشاورت کے قومی صدر ڈاکٹر ظفر الاسلام خان نے کہا کہ مرکزی جانچ ایجنسیاں بی جے پی کے اشارہ پر کام کر رہی ہیں اور یہ سب 2016کے اسمبلی انتخابات میں اپنے امکانات کو مستحکم کرنے کے لئے بی جے پی اور سنگھ پریوار کے اشارہ پر ہنگامہ آرائی کی جارہی ہے اور مدرسوں کو بدنام کیا جا رہا ہے۔ ڈاکٹر ظفر الاسلام نے آج کلکتہ پریس کلب میں نامہ نگاروں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بردوان دھماکہ کو حقیقت سے زیادہ بڑھا چڑھا کر پیش کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے یہ دعویٰ کیا کہ ہندوستان میں ایک بھی مدرسہ میں دہشت گردی کی ٹریننگ نہیں دی جاتی ہے اور اگر کوئی یہ ثابت کردیں کہ مدارس اسلامیہ میں دہشت گردی کے اڈے چلائے جارہے ہیں تو وہ پھانسی پر چڑھنے کے لئے تیار ہیں۔ ظفر الاسلام نے کہا کہ جس دن مسٹر ڈوبھال کو قومی سلامتی مشیر بنایا گیا اسی دن میں نے یہ کہہ دیا کہ سابق وزیر اعظم لال کرشن اڈوانی کے وزارت داخلہ کے زمانے میں مدرسوں کے خلاف جو مہم شروع کی گئی تھی وہ اب پھر شروع کر دی جائے گی۔ ڈاکٹر ظفر الاسلام نے کہا کہ بی جے پی مغربی بنگال میں 2016میں ہونے والے اسمبلی انتخابات کے پیش نظر دہشت گردی کا ہوا کھڑا کر رہی ہے۔ انہوں نے یہ پیشین گوئی کی کہ آئندہ دنوں میں مغربی بنگال میں مزید فسادات ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہریانہ اور مہاراشٹر کے انتخاب سے قبل ہندوستان اور پاکستان کی سرحد پر گولہ باری شروع کر دی گئی تھی۔ اس وقت ایسا لگنے لگا تھا کہ اب ہندوستان اور پاکستان کے درمیان جنگ شروع ہو جائے گی۔ یہ سب انتخاب کے لئے تھا جیسے ہی انتخابات ختم ہوئے ویسے ہی سرحد پر پاکستان کی دادی گری بھی بند ہو گئی۔ (بشکریہ ہمارا سماج، نئی دہلی)

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *