مولانا ابولقاسم نعمانی صاحب

مہتمم دارلعلوم دیوبند محترم مولانا ابولقاسم نعمانی صاحب کا وزیر اعظم مودی و صدر اوبامہ کے دورہ کے دوران اور اختتام پر جاری بیانات میں دہشت گردی کے خلاف مشترکہ مہم پر جاری بیان انتہائی انصاف پسندی اور بلند ہمتی و حق گوئی پر مبنی ہے۔ جو کہ اصلاً دارالعلوم کا طرّہ امتیاز رہا ہے۔ مولانا محترم نے فرمایا ’’امریکہ اور ہندوستان کے دو عظیم قائدین کو اسرائیل کی عالمی دہشت گردی کی طرف توجہ دیکر اس کے خلاف آواز بلند کرنی چاہئے۔ اور اپنی بات چیت میں اسرائیل کی دہشت گردی پر بھی بات ہونی چاہئے تھی۔ انہوں نے کہا اسرائیل اس وقت دنیا کا سب سے بڑا دہشت گرد بنا ہوا ہے۔ اور اس کی دہشت گردی سے عالم امن کو خطرہ درپیش ہے۔ اسرائیل فلسطین پر ناجائز قبضہ کرکے فلسطینیوں پر جو ظلم کر رہا ہے اس سے بڑی دہشت گردی کی مثال نہیں ملتی۔ اس کے علاوہ امریکہ سوچی سمجھی سازش کے تحت مسلم ممالک کو تباہ کر رہا ہے۔ وزیر اعظم کیونکہ پورے ہندوستان کی نمائندگی کر رہے تھے اس لئے انہیں امریکی صدر سے امریکی اور اسرائیلی دہشت گردی پر بھی بات کرنی چاہئے تھی۔ مولانا محترم نے اسرائیل کے مظالم ،ناجائز فلسطینی قبضہ کے خلاف اسرائیل کو دہشت گرد ملک قرار دینا چاہئے۔ اور وزیر اعظم کو اسرائیل کی دعوت ہر گز نہیں قبول کرنی چاہئے اگر امریکہ اور انڈیا نے دہشت گردی کے خلاف ملکر لڑنے کی بات کہی ہے تو اسی اعلان پر ایمانداری سے عمل ہونا چاہئے اور مجرمانہ ریکارڈ رکھنے والے تمام گروپوں اور ممالک کی فہرست میں اسرائیل کا نام بھی شامل ہونا چاہئے۔‘‘ (صحافت دہلی 3/10/14)
مولانا محترم نے دراصل اپنے اس بیان کے ذریعہ دنیا کے اربوں انصاف پسند انسانوں خصوصاً اہل توحید کی ترجمانی کی ہے۔ عجیب تماشہ اور منافقت یہ ہے کہ آج دنیا میں ہر طرف مسلمان ہی تباہی ،ظلم، غارتگری کا شکار ہیں۔ اور ان کے اوپر مظالم کے خلاف آواز اٹھائی نہیں جاتی۔ خصوصاً دہشت گردوں کا مائی باپ امریکا اور اسرائیل پوری ڈھٹائی اور مکاری کے ساتھ فلسطینیوں پر مظالم کر رہے ہیں۔ پورے یورپ میں مسلمانوں کے خلاف قوانین بن رہے ہیں ۔ میانمار اور سری لنکا دونوں جگہ کے نام نہاد بدھ کے ماننے والے اور عدم تشدد کے پرچارک بودھ بالاسینا اور میانماری دہشت گرد بدھسٹ مذہبی راہ نما ورانتھو جب دل چاہے بے روک مسلمانوں کا قتل عام ، مسجدوں کو شہید کرنا اور آبادیوں کو آگ لگاتے ہیں مگر امریکہ یوروپ، مودی سب چپ رہتے ہیں۔ خود ملک میں یوگی، مہنت، سادھو روزانہ جھوٹے بہانہ جیسے ’’لو جہاد‘‘ کے ذریعہ مسلمانوں کے خلاف اکثریت کو بھڑکا رہے ہیں۔ مسلمانوں کے قتل عام میں ملوث لیڈروں کو پارلیمنٹ میں ٹکٹ دیتے ہیں کیا انصاف کے ان دوہرے پیمانوں سے نام نہاد دہشت گردی پر قابو پایا جا سکتا ہے؟ یا یہ کہ دہشت گردی کی آڑ میں نشانہ کہیں اور لگایا جا رہا ہے؟؟؟ اس طرح کی اوچھی سازشیں کرکے دراصل یہ سنگھی میڈیا، حکومت اور ان کے مسلمان ایجنٹ خود اپنے اعتبار اور نیت کو مسلم عوام میں مشکوک بنا رہے ہیں۔ ہندوستان بھر سے مسلم عوام اپنی بچیوں کو یہاں بھیجتے ہیں تو وہ کسی اعتماد اور بھروسہ پر بھیجتے ہیں۔ اس اعتماد کو بنائے رکھنا ضروری ہے تاکہ تعلیم نسوان کو مسلم عوام میں فروغ حاصل ہو کہ دینی حدود میں رہ کر بھی جدید تعلیم حاصل کی جا سکتی ہے۔ جدید تعلیم کے لئے جدید مغربی /فحش ،عریانیت اور بیحیائی پر مبنی تہذیب کو اپنانا ضروری نہیں ہے۔
دہلی میں J.N.U.اور دہلی یونیورسٹی اور جامعہ ملیہ سبھی میں مخلوط ماحول ہے ۔ اسی کے ساتھ صرف طالبات کے لئے لیڈی شری رام L.S.R.اور اندر پرستھ I.P.کالج بھی ہیں۔
مخلوط تعلیم کے بغیر بھی دونوں گرلز کالج کا معیار مخلوط اداروں سے بہتر ہی ہے۔ ۲سال بیشتر TOIنے گرلز کالج سے مخلوط کالج جانے والوں اور مخلوط سے گرلز کالج جانے والی طالبات کا انٹرویو لیکر بتایا تھا کہ مخلوط گرلز اداروں میں آنے والی طالبات نے کہا کہ ہم یہاں یکسوہوکر تعلیم حاصل کر سکتے ہیں اور ہمارے خیالات منتشر نہیں ہوتے ہیں۔ جبکہ گرلز کالج سے مخلوط کالج جانے والی طالبات نے صرف یہ فائدہ بتایا کہ ہم لڑکوں سے زیادہ اعتماد سے بات کر سکتے ہیں۔ مگر تعلیمی معیار پر کوئی مثبت اثر وہ بھی نہیں بتا پائیں۔ ایک طرف تو ہم خاتون کی عزت، عصمت، حفاظت کے لئے سخت سے سخت قوانین بنا رہے ہیں دوسری طرف جرم کو بڑھانے والے سارے اقدامات کر رہے ہیں کیا ایسا کرکے ہم خواتین برادری کی مذمت کر رہے ہیں یا اپنی نفسانی خواہشات کی تکمیل کی بھینٹ چڑھا رہے ہیں۔ یہ میڈیا خواتین کی کتنی عزت کرتا ہے وہ TOI، امر اجالا، جاگرن، ہندوستان کے اندر شائع ہونے والے عریان اشتہارات سے ظاہر ہے۔ یہ اسی عریانیت کو فروغ دینے کے شیطانی ایجنڈہ پر کام کر رہے ہیں انہیں خواتین کی تعلیم، عزت اور انصاف سے کوئی غرض نہیں ہے۔
مسلم یونیورسٹی کو لیکر جس طرح سنگھی میڈیا اور وزیر نے ہنگامی کھڑا کیا ہے وہ اس بات کو صاف کرتا ہے کہ یہ طبقہ مسلمانوں کو کسی نہ کسی بہانہ ذلیل اور بدنام کرکے الجھائے رکھنا چاہتا ہے ۔ جس ارم آغا نما ٹمائمس آف انڈیا نے یہ شوشہ چھوڑا ہے اسی ارم آغا نے پچھلے سال بھی ٹھیک یہی اسٹوری لگائی تھی۔ ویمنس کالج کی یونین صدر نے وی۔سی۔ صاحب سے 5-6مانگیں کی تھی۔ اس میں کالج میں ایک ایمرجنسی اسپتال ،والدین کے قیام کے لئے مہمان خانہ اور کھانہ کی کوالٹی وغیرہ جیسے معاملات بھی شامل تھے۔ سوال اسمرتی ایرانی، ارم آغا، ٹائمس آف انڈیا اور ان کے حمایتیوں سے یہ ہے کہ باقی مانگوں پر واویلا کیوں نہیں اٹھا یا جا رہا ہے؟ جبکہ لائبریری 1936؁ سے ہی کالج احاطہ میں اسے مرکزی لائبریری سے لاکر دینے کے لئے 2 ملازم موجود ہیں۔ پھلے سال صرف 21کتابیں مرکزی لائبریری سے منگائی گئی ہیں۔ اگر کتابیں موجودہ لائبریری میں کم ہیں، نہیں ہیں یا ان کی تعلیم ٹھیک نہیں ہے تو اس کا انتظام زیادہ آسان ہے یا 2½ہزار طالبات کا 3کلومیٹر کے محفوظ سفر کا گلیوں اور بازاروں سے ہوکر جانے کا انتظام کرنا زیادہ عمل ہے۔
اگر اسمرتی ایرانی اور میڈیا کو طالبات کی اتنی فکر ہے تو ان کے کھانے پینے اور ہوسٹل کے انتظامات پر کیوں نہیں توجہ دیتے؟ صبح آٹھ بجے انڈا یا 2ٹوسٹ اور ایک چائے کے بعد دوپہر 1بجے کے بعد کھانا ملتا ہے اور 1بجے کھانے کے بعد 8بجے رات کا کھانا ملتا ہے۔ اس پر توجہ یہ سنگھی لابی کیوں نہیں دیتی؟ بچیوں کی صحت کے لئے اسپتال کے قیام پر توجہ نہیں دیتی، بچیوں سے ملنے آنے والے والدین جو ہزاروں کلو میٹر سے آتے ہیں ان کے ساتھ بیٹھ کر بات کرنے یا ان کے ایک دو دن ٹھہرنے کا انتظام اہم مسئلہ ہے۔ اس پر توجہ نہیں دیتی صرف ایسا مسئلہ جو کہ مسئلہ نہیں ہے صرف اس میں معمولی سدھار کی بات ہے اس پر اتنا ہنگامہ کس نیت سے اٹھا؟

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *