ایک اپیل ملت کے قائدین اور ماہرین قانون سے

          27/11/14کے انڈین ایکسپریس میں پہلے صفحہ کی تشویشناک خبر میں بتایا گیا ہے کہ دہلی کے معیاری فلم ہال DVRمیں فلم کے شو سے پہلے 90سکنڈ کی دستاویزی فلم ’’آتنک واد‘‘ دکھائی جا رہی ہے۔ جسے ممبئی کے دستاویزی فلمساز برج بھوشن سنگھ نے بنایا ہے۔ فلم میں دکھایا گیا ہے کہ سفید کرتا پائجامہ اور ترنگا ٹوپی پہنے ایک نوجوان کو دوسرے سفید ٹوپی والے نوجوان بم کا پیکٹ دیتا ہوا 3لاکھ روپیہ دیتا ہوا کہتا ہے کہ ’’قسمت کی چابی ہے‘‘ لے لو اور بم رکھ دو۔ ترنگا ٹوپی پہننے والا مسلم نوجوان منع کر دیتا ہے ۔ اور سفید ٹوپی والا نوجوان مایوس چلا جاتا ہے۔ مرکزی سرکار کے احکامات کے مطابق کوئی بھی فلم شو سے پہلے کسی بھی سماجی موضوع پر ایک ۔ڈیڑھ منٹ کی دستاویزی فلم دکھانی ضروری ہے جسکا موضوع صحت، جہیز، عورتوں کی حفاظت، صفائی، دختر کشی کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ مذکورہ فلم کا فلمساز ان موضوعات پر 24سے زیادہ فلمیں بنا چکا ہے۔ انڈین

ایکسپریس کے پوچھنے پر اس نے کہا کہ ’’میں دہشت گردی کے خلاف بیداری پیدا کرنا چاہتا ہوں۔ اس کو اسکی پرواہ نہیں ہے کہ وہ ایک فرقہ کو ہی الزام دینے کا جرم کر رہا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ ہر بم دھماکہ مسلمان نے ہی کیا ہے۔ میں ہندوستانی مسلمانوں کو بتانا چاہتا ہوں کہ انہیں اپنی امیج سدھارنی ہوگی۔

          سرکاری حکام نے انڈین ایکس پریس کو بتایا کہ جب تک ہمیں شکایت نہیں ملتی ہم کچھ نہیں کر سکتے ۔ہم سنسر بورڈ اور سنیما ہاؤس کو اپنے طور پر کوئی حکم نہیں دے سکتے۔

          یہ مسلم دشمن فلمساز جس بنیاد پر سارا الزام تراش رہا ہے وہ اعداد و شمار وزارت داخلہ سے حاصل کرکے یا اس کے بغیر بھی اس فلمساز کے خلاف قانونی چارہ جوئی اور نفرت پھیلانے کے الزام میں مقدمہ درج کرایا جانا ضروری ہے۔ وزارت داخلہ اور وزیر داخلہ خود ماؤ وادی تشدد کو سب سے بڑا خطرہ مانتے ہیں اور تشدد میں اموات کی بات کریں تو وہ بھی سب سے زیادہ ماؤوادی، الفا، بوڈو تشدد میں ہو رہا ہے۔ فرقہ وارانہ تشدد کو ہمارا میڈیا اور حکام نجانے کیوں شیر مادر کی طرح پی جاتے ہیں۔ شاید اس لئے کیونکہ اس میں 90%جانی و مالی نقصان سفید کرتہ پائجامہ والوں کو ہوتا ہے؟ اور فرقہ وارانہ تشدد کے لئے زیادہ تر سنگھ پریوار ذمہ دار ہوتا ہے یا دیگر فرقہ پرست ہندو تنظیمیں اس لئے یہ دہشت گردی نہیں مانی جاتی۔ پرگیہ، اسیما نند، کرنل پروہت کے رول پر دستاویزی کیوں نہیں بنائی جاتی؟

          اس خط کے ذریعہ سے میں تمام انسان دوست تنظیموں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ اس فلم بنانے والے کے خلاف جہاں جہاں دکھائی جا رہی ہو مقدمہ دائر کریں۔ جس طرح A.M.U.کے خلاف دیکشا ترپاٹھی نے ’’الٰہ آباد‘‘ہائی کورٹ میں PILکی تھی اس سے سبق لے کر مسلم فرقہ کے نمائندوں کو کبھی کورٹ جاکر بحیثیت فرقہ ان کو بدنام کرنے کی اس ناپاک کوشش کا

سر کچل دینا چاہئے۔

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *