بدلتے حالات۔ لمحۂ فکریہ

        حالات ہمیشہ یکساں نہیں رہتے۔ دنیا ایک معنیٰ میں بے قراری اور تغیر کا دوسرا نام ہے۔ ایسا بھی ہوتا ہے کہ محلوں میں پیدا ہونے والے سڑکوں پر مرتے ہیںاور صحراؤں میں پیدا ہونے والے محلوں میں زندگی گزارتے ہیں۔ یہ ہمیشہ ہی ہوتا ہے۔ حالات کی مسلسل تبدیلی کا یہ عمل روز مرہ کی زندگی میں بھی جاری رہتا ہے مگر قومی و اجتماعی سطح پر یہ عمل ادوار کی شکل میں رونما ہوتا ہے۔ تغیر تبدل کے اس مسلسل عمل میں فیصلہ کن چیز تو خدا کی مشیت ہے ۔ لیکن اسباب و عوامل کے درجے میں انسانی ارادوں اور اقدامات کی بھی اہمیت ہے۔ ملتوں اور قوموں کی زندگی میں لمحوں کی خطاؤں کا حساب صدیوں پر محیط ہوجاتا ہے۔ اس لئے ہر ناکامی اور کامیابی پر جائزہ و احتساب زندہ قوموں کی علامت وضرورت ہے۔ رہے وہ لوگ جن کے دل یقین سے محروم اور احتساب سے عاری ہوں ان کی حیثیت خس و خاشاک جیسی ہوتی ہے جنہیں وقت کی آندھی جدھر چاہتی ہے اڑا کر لے جاتی ہے، علامہ اقبال مرحوم نے کیا خوب کہا ہے   ؎

ع۔         صورت شمشیر ہے دست قضا میں وہ قوم

                کرتی ہے جو روز و شب اپنے عمل کا احتساب

        اس وقت عالمی تناظر میں کچھ کہنے کے بجائے ہم صرف ملکی (ہندوستانی) پس منظر میں کچھ معروضات ہدیۂ قارئین کرنا چاہتے ہیں:۔

        ہندوستان ایک ایسا ملک ہے جس کے قدیم باشندوں کی نشاندہی ایک پیچیدہ کام ہے۔یوں بھی انسانی آبادی کا آغاز ایک خاندان سے ہوا ہے۔ لہٰذا کسی ملک کی قدیم باشندگی کا مطلب یہ نہیں ہے کہ قدیم باشندے ہی اس ملک کے اصل مالک اور  حقدار ہیں۔ یہ نظریہ بھی ناقابل فہم اور ناقابل قبول ہے کہ کسی ملک میں صدیوں سے رہنے بسنے والے لوگ قدیم باشندگی کی بنا پر اپنے بعد میں آکر بسنے والے باشندوں کو بے دخل اور بے حق کر دیں ۔ یہ دعویٰ تو کسی قصبے اور گاؤں میں بھی لائق تسلیم نہیں ہے۔ ملکوں اور شہروں کے بیع نامے نہیں ہوتے کہ وہاں کے رہنے والے کسی اور کو اس میں رہنے و بسنے سے روکنے کا حق رکھتے ہوں ۔ مگر ہوتا یہ رہا ہے کہ کثرت و قوت کی بنیاد پر اکثر یہ بے دلیل دعویٰ دہرایا جاتا رہا ہے۔ کہیں تو حملہ آوروں نے قدیم باشندوں کو بے دخل کر دیا یا انہیں غلام بنا کر رکھا اور کہیں قدامت کو بہانہ بناکر بعد میں آکر رہنے والوں کو محکومی و مجبوری پر رضا مند ہونے کو کہا گیا۔

        یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ ہندوستان کے قدیم باشندے جنہیں اب ’آدی باسی ‘کہا جاتا ہے ، متعدد اور مختلف نسلوں اور قبیلوں سے تعلق رکھتے ہیں جن میں ہن ، منگول اور دراوڑ شامل ہیں ۔آریہ نسل کے لوگ عرصۂ دراز کے بعد ہندوستان آنے شروع ہوئے اور اسی نسل کے کچھ لوگ یوروپ کی جانب نقل مکانی کرکے پہنچے۔ چنانچہ جرمنی ڈکٹیٹر ہٹلر بھی خود کو آریہ نسل سے منسوب کرتا تھا اور اس کے جھنڈے پر سواستھک کا نشان آریائی علامت کے طور پر رہتا تھا۔ ہندوستان میں آریہ قبائل کی آمد ایک لمبے عرصے تک ہوتی رہی ۔ وہ یہاں ایک فاتح اور جنگجو قوم کی طرح آئے ،ان کی جنگجوئیت اور فتحمندی کے واضح تاریخی حوالے موجود ہیں۔ ویدوں کا شمار قدیم مذہبی کتابوں کی حیثیت سے ہوتا ہے مگر انہیں تاریخی ماخذ کی حیثیت بھی دی جاتی ہے ان میں بھی آریہ فاتحین کی جنگی داستانیں اور مقابل قوم پر برتری حاصل کرنے کے منتر اور پرارتھنائیں شامل ہیں۔ جن میں مفتوح قوموں کو پست ذلیل (ملیچھ اور داس)کہہ کر پکارا گیا ہے۔ اس طرح رفتہ رفتہ ہندوستان کے ایک بڑے حصہ پر آریہ نسل کے لوگ قابض اور حکمراں بن گئے ۔ اگرچہ ہندوستان کا دستور بلا امتیاز رنگ و نسل ،عقیدہ و زبان بلکہ ملک کے سارے شہریوں کی یکساں حیثیت تسلیم کرتا ہے۔ اور ان کے مساوی حقوق مانتا ہے۔ مگر اس کے باوجود ہندوستان میں ذات پات اور زبان کے تعصبات کی جڑیں بہت گہری ہیں۔ اور ان بنیادوں پر کشمکش و تنازعات بھی سامنے آتے رہتے ہیںاور ابھی تک ان کو ختم کرنے کی کوئی کوشش پوری طرح کامیاب نہیں ہو سکی۔

        جدید ہندوستان (بھارت) میں قوم پرستی کا جو فلسفہ مغرب سے درآمد کیا گیا ہے اگر چہ اس میں قوم کی بنیاد نسل و زبان پر نہ رکھ کر وطن پر رکھی گئی ہے۔ مگر یہ پودا بھی پوری طرح بارآور نہیں ہو سکا۔ نسل و زبان کے تعصبات کے مقابلے میں اس کی جڑیں مضبوط نہ ہو سکیں۔ بدقسمتی سے ہمارے ملک میں ایک ایسا طبقہ انگریز حکمرانوں کے زیر اثر پیدا ہو گیا تھا ۔ جو کوئی ایسی مثبت فکر یا فلسفہ پیش کرنے سے تو قاصر رہا جس میں ملک کے عام باشندوں کے لئے کوئی کشش موجود ہو۔ مگر اس نے ہندوؤں کو نسل اور مذہب کی بنیاد پر ایک قوم کی حیثیت سے مضبوط اور منظم کرنے کے فراق میں مسلمانوں کو اپنا حریف اور دشمن قرار دینا ضروری سمجھا۔ اس کے نزدیک ذات پات کے اختلافات اور طبقاتی کشمکش میں تقسیم شدہ ہندو سماج کو مضبوط اور متحد کرنے کا واحد طریقہ یہ ہی ہے کہ ہندوؤں کو مسلمانوں کے خلاف خوف اور نفرت کی نفسیات میں مبتلا کیا جائے۔

        انہوں نے برطانوی سامراج کے اشاروں پر دیگر مذاہب خاص طور پر اسلام کے خلاف وہ سب کام انجام دئیے جو انتہا پسندی اور جارحیت پر مبنی تھے۔ ابتداً آریہ سماج نے اسلام ،عیسائیت اور دیگر مذاہب کے خلاف بے بنیاد الزام تراشیاں کیں۔ اور ایسا لٹریچر پھیلایا جو عقل اور مذہب دونوں اعتبار سے نامعقول اور غیر معیاری تھا۔ جس کا منشا مذہب کی تبلیغ و اشاعت کے بجائے مختلف قوموں کے درمیان تصادم کی فضا تیار کرنا تھا۔ مذکورہ تنظیم اپنی علمی خامیوں اور دوسری کوتاہیوں کی بنا پر ہندو سماج پر ایک محدود دائرۂ اثر سے آگے نہ بڑھ سکی۔ اس کے جانشین کے طور پر ہندو مہاسبھا اور آر ایس ایس سامنے آئی ۔جنہوں نے مذہب کے بجائے جارحانہ قومیت کے تصور کا سہارا لیا ۔ ہیڈ گوار، مونجے اور ساورکر جیسے بظاہر قوم پرست لوگوں نے ہندوستانی قومیت کو ہندو قومیت کے ہم معنی قرار دیا تقسیم ملک کے وقت تک اس نظریۂ کو ہندو سماج میں کوئی خاص قبولیت حاصل نہ ہو سکی۔ لیکن آزادی کے بعد جوں جوں وقت گزرتا گیا اس کے اثرات ایک خاص رفتار سے بڑھتے رہے۔ ہندوستانی قومیت اور سیکولرزم کے علم برداروں کی موقع پرستانہ سیاست بھی اس کی بڑی وجہ بنی۔ جب بھی وقت آیا یہ عناصر اپنے تصور قومیت کے مطابق آزمائش کی کسوٹی پر کھرے ثابت نہ ہو سکے۔ سیکولر پارٹیوں میں بھی فرقہ پرستوں کی ایک بڑی تعداد پرورش پاتی رہی ۔ حتی کہ ان کی کوئی واقعی شناخت باقی نہ رہی۔ ان کے بڑے بڑے لیڈر کپڑوں کی طرح پارٹیاں تبدیل کرتے رہے۔ یہ جارح ہندو قوم پرستوں کا ہی اثر تھا کہ مسلمانوں کی اقتدار میں شراکت نہ مان کر ملک کی تقسیم کو قبول کر لیا گیاتھا ۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ہندوؤں اور مسلمانوں کے مابین ایک ایسی خلیج پیدا ہو گئی جس کو عبور کرکے حالات کو معمول پر لانا امر محال بن گیا اور صدیوں تک ساتھ رہنے والے ایک ہی ملک کے شہری ایک دوسرے کے دشمن بناکر رکھ دئیے گئے۔ نفرت اور دشمنی کے اس سیلاب کو روکنے میں وہ سب لوگ ناکام ہو گئے جو اس کو روکنا چاہتے تھے۔

        سال رواں (۲۰۱۴ئ) کے پارلیمانی الیکشن کے بعد ملک کے سیاسی افق پر نمودار ہونے والا منظریہ بتا رہا ہے کہ ہندوستان میں جمہوریت، دستوری تحفظات ،بنیادی حقوق اور سیاسی رجحانات میں نمایاں تبدیلیاں سامنے آسکتی ہیں۔ مراکز اقتدار پر ان لوگوں کا قبضہ ہوتا جا رہا ہے۔ جو نہ تو متحدہ ہندوستانی قومیت پر یقین رکھتے ہیں اور نہ ہی اقلیتوں کو مساوی حقوق دینے پر راضی ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ اقلیتوں کو اکثریت کے آگے سپر انداز ہو جانا چاہئے۔ وہ انہیں مذہبی آزادی اور تہذیبی تشخص کو بھی برقرار رکھنے کا حق بھی دینا نہیں چاہتے۔ اقلیتوں کے اپنے قائم کردہ تعلیمی مراکز بھی ان کے نشانہ پر ہیں۔ قوم و وطن کا ان کا خود تراشیدہ تصور ہے۔ جن کو ماننے کے لئے وہ دوسروں پر زور زبردستی جائز سمجھتے ہیں۔ آج ملک کی سب سے زیادہ باثر کرسی پر ایک ایسے صاحب بیٹھے ہوئے ہیں جن کا سیاسی ماضی سنگین الزامات سے آلودہ ہے۔ اگرچہ حالیہ بیانات میں وہ اپنی ایک تصویر پیش کرنے میں مصروف نظر آتے ہیں مگر تلافی مافات تو کیا کسی غلطی پر معذرت خواہی کی ضرورت بھی محسوس نہیں کرتے۔ وہ سب کو ساتھ لے کر چلنے کی بات تو کہتے ہیں مگر رویہ اس کی تصدیق نہیں کررہا ہے۔ مرکزی سرکار کے اب تک کے اقدامات اس بات کا ثبوت ہیں کہ مرکزی حکومت کی سمت سفر طے کرنے والی وہی مخصوص ذہنیت ہے جو ہندوستان کو اپنی آبائی جاگیر سمجھتی ہے۔ اس کے ارادے اور منصوبے اس کا رویہ اور فکر نہ تو اقلیتوں کے لئے قابل قبول ہو سکتا ہے نہ ہی ہندوستان جیسے ملک کے استحکام اور سا  لمیت کے لئے مفید قرار دیا جا سکتا ہے۔ دریں حالات یہ شدید اندیشہ بھی موجود ہے کہ گجرات کو اپنے مکروہ تصورات کی تجربہ گاہ (Labortry)قرار دینے والے ملک کے دوسرے حصوں کو بھی ایسی ہی تجربہ گاہوں میں تبدیل کرنے کی کوشش کریں۔ خدا نہ کرنے کہ ایسا ہو۔

        مذکورہ بالا حالات کا تقاضہ یہ ہے کہ مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے بااثر لوگ اپنے باہمی تعلقات کو استوار کریں ، خوف و بے جا توقعات سے اوپر اٹھ کر حالات کا گہرائی سے جائزہ لیں۔ اپنی غلطیوں اور کوتاہیوں کو نہ صرف تسلیم کریں بلکہ ان کے تدارک اور تلافی مافات کی تدبیریں اختیار کریں۔ اکثریتی جبر سے محفوظ رہنے کے لئے حکمت عملی مرتب کریں۔ اور ایسا مشترکہ علامیہ مرتب کریں جو نہ صرف اقلیتوں کی تائید و توجہہ کے قابل ہو بلکہ جملہ انصاف پسند عناصر اس کی اہمیت و ضروت کو محسوس کریں۔ ہندوستان کی سب سے بڑی اقلیت یا دوسری اکثریت ہونے کے ناطے مسلمانوں کو آگے بڑھ کر اس جانب پیش قدمی کرنے کی ضرورت ہے۔۔۔ مگر اس تلح حقیت کو تسلیم کرنا چاہئے کہ ہماری قیادت (اگر واقعی اپنا وجود رکھتی ہے )ابھی تک اس ذمہ داری کو پورا کرنے نے قاصر نظر آتی ہے۔ جائزہ و احتساب یا آئندہ لائحہ عمل تو دور کی بات ہے باہم مل بیٹھنے کی نوبت بھی اب تک نہیں آسکی۔ جبکہ ہر بڑی کامیابی یا ناکامی یہ تقاضہ کرتی ہے کہ اربابِ حل وعقد بلا تاخیر یہ کام انجام دیں۔

کیا ان گزارشات کو لائق توجہ سمجھا جائے گا؟

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *