مکتوب:- ڈاکٹر ایم اجمل

مدیر محترم! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہٗ

          مورخہ 30/11/014کے تمام اخباروں میں ملک کے دو اہم ترین عہدہ داروں کے حیرت انگیز بیان شائع ہوئے ہیں۔ UNIکے حوالہ سے اردو اخبارات نے نائب صدر جمہوریہ جناب حامد انصاری صاحب کا بیان ’’ہم وطنوں کے ساتھ قدم ملاکر چلنے میں ہندوستانی مسلمان ناکام ‘‘ گذشتہ 67برسوں پر نگاہ ڈالیں تو پتہ لگتا ہے کہ ہم نے تبدیلی کو مکمل طور پر قبول نہیں کیا۔ سماجی روایات کو ہم اس کی وجہ قرار دیتے ہیں۔ اسی وجہ سے ہم سماجی ، تعلیمی، اقتصادی ہر طرح سے پسماندہ نظر آتے ہیں۔ ہم ان تمام دائروں میں آگے ہو سکتے ہیں۔ بشرطیکہ اس کے لئے قوت ارادی ہو۔ (عزیز الہند 30/11/14)

          دوسری طرف ’’اسلامک دہشت گردی اہم چیلنج‘‘ کے تحت گوہاٹی میں وزیر داخلہ کا ملکی سطح کے D.G.اور I.G.پولیس کے اجلاس میں دیا گیا بیان شائع ہوا ہے۔ اب اس بات کی شکایت تو فضول ہے کہ دنیا بھر میں جہاں عیسائی، ہندو، یہودی، بودھ، سکھ سبھی مذاہب کے ماننے والوں میں دہشت گرد موجود ہیں مگر ان کے نام کے ساتھ ان کے مذہب کو جوڑ کر پہچان نہیں بتائی جاتی۔ حالانکہ ان کی حرکتوں سے بھی جانیں جاتی ہیں ،مال تباہ ہوتا ہے، بچے یتیم ہوتے ہیں،

خواتین بیوہ اور بے گھر ہوتی ہیں۔ اس ذہنیت کے 67سالوں سے حکومت پر حاوی ہونے کا نتیجہ ہے جسے ہمارے نائب صدر صاحب صرف مسلمانوں کے سر مڑھ رہے ہیں۔ یہ قوم اگر روایتوں اور اپنی وجوہات کی وجہ سے پچھڑی تھی تو آزادی کے وقت نوکریوں میں 22-32%تک کیسے تھی؟ ہمارے دونوں لیڈران نے سنگھی ،مہاسبھائی ذہنیت اور فسادی و نفرتی ذہنیت کا ذکر وجوہات کے طور پر نہیں کیا جو بڑے افسوس کی بات ہے ۔ جس قوم کو آزادی کے ساتھ ساتھ فرقہ وارانہ فسادات کا لامتناہی سلسلہ تحفہ ورثہ میں ملا ہو وہ اپنی ترقی کے لئے کتنا یکسو ہو سکتی ہے؟ آزادی کے بعد سے 20ہزار فرقہ وارانہ فسادات میں 90%تک جانی مالی نقصان مسلمانوں کو ہوتا رہا ہے؟ تقریباً ہر فساد کی جانچ رپورٹ دیکھ لیں سب میں الزام کی سوئی اسی سنگھ پریوار کی طرف گھوم رہی ہے جو آج حکومت ہند کی رہنمائی کر رہا ہے۔ مدان کمیشن ، شری کرشنا کمیشن کی رپورٹ بطور خاص دیکھ لی جائیں۔ پچھلے ایک سال یا چھ ماہ میں ہونے والے فرقہ وارانہ فسادات میں سنگھ پریوار کا کیا رول رہا ہے؟ پروہت پرگیہ، اسمانند، اندریش کمار کے ساتھ رہے لوگ کیا ملک سے ختم ہو گئے ہیں؟ ان سے ملک کو خطرہ کیوں نہیں ہے؟ وزارت داخلہ میں تو حساب ہوگا کہ پچھلے سال فرقہ وارانہ فسادات میں کتنے لوگ مارے گئے اور نام نہاد اسلامک دہشت گردی میں کتنے مارے گئے تھے؟ پھر سنگھی خطرہ سے صرف نظریہ کیا معنیٰ رکھتا ہے؟ اب جبکہ انہیں کھلی چھوٹ ملی ہوئی ہے وہ جگہ جگہ تعلیمی اداروں میں بھرے جارہے ہیں جہاں وہ صرف تنگ نظر دہشت کو فروغ دے رہے ہیں۔ جناب حامد انصاری صاحب اگر سچّر کمیشن پر عمل درآمد پر بٹھائے گئے گنڈو کمیشن کی رپورٹ پر نظر ڈال لیں تو انہیں معلوم ہو جائیگا کہ ’’رواج پرستی‘‘ کے علاوہ بھی رکاوٹیں ہیں جنکی طرف اشارہ کرنے کی ہمت وہ نہ کر سکے۔ معاشروں اور حکومتوں کے استحکام ، امن و ترقی کے لئے انصاف اور عدل بنیادی شرائط ہیں ۔ انسانی تاریخ کا یہ سب سے بڑا

سبق ہے۔

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *