آنسوؤں کی گونج

پہاڑی کے دامن میں بنے اس گھر میںتیس چالیس آدمیوں کا قافلہ روپوش تھا۔ ارقمؓ کاگھر اسلام کے فدائیوں کے لیے سارے مکہ میں واحد پناہ گاہ تھا۔ ایک اللہ کے دیوانے ساری خدائی سے منھ موڑ کر ارقمؓ کے گھر میں چھپ کر رہ گئے تھے۔ کیونکہ مکہ کے باسی خود ان کے اپنے رشتہ دار،ان کے عزیز دوست انہیں اپنے خدا کے آگے سرجھکانے کی اجازت دینے کے لیے تیار نہ تھے۔
کیسی عجیب سی بات تھی وہ گلیاں ان کے لیے اجنبی ہو گئی تھیں جن کی دھول میںلوٹ لوٹ کر وہ بڑے ہوئے تھے، جن لوگوں نے ہر آڑے وقت میںا نہیں اپنے سینوں میں چھپا لیا تھا، آج وہی لوگ ان کے دشمن ہوگئے تھے، آنکھوں کا ساراپیار ایک بے رحم اجنبیت میں بدل گیاتھا۔ سارے آشنا غیر ہو گئے تھے۔ تمام اپنے پرائے بن گئے تھے ۔
ایسے میں ارقمؓ نے اپنے گھر کے دروازے ان کے لیے کھول دیے تھے— یہ گھر جس کے دروازے ہر وقت بند رہتے تھے اور اگر کوئی سننے والا وہاں کچھ سننے کی کوشش کرتا تو چند سرگوشیوں کے سوا شاید کچھ بھی سنائی نہ دیتا، گنے چنے مسلمانوں کا بسیرا بن گیاتھا— جہاں وہ دبی آوازوں میں قرآن کی تلاوت کرتے ۔راتوں کواپنے خدا کے حضور گڑگڑاتے اور دن بھر نمازیں پڑھ پڑھ کر اسلام کے لیے فتح کی دعائیں مانگا کرتے۔
ایسے میں کبھی کبھی حضورؐ کی درد بھری اور آنسوؤں میں ڈوبی آواز آتی۔ ’’یا اللہ! عمر بن ہشام ابوجہل یا عمر ابن الخطاب ان میں سے کسی ایک کو اسلام کی دولت عطا کردے۔ تاکہ اسلام کی بے چارگی کے یہ دن ختم ہوں۔‘‘ تو سب ہی آنکھوں میںآنسو بھر آتے۔ کیا یہ دعا کبھی قبول ہوگی— کیا پتھر دلوں میں کبھی شگوفے پھوٹ سکیں گے۔
ارقمؓ کے کچے آنگن میں خدا کے آخری رسولؐ کی یہ دعائیں گونجتی رہیں اور خطاب کا شیردل بیٹا عمر روز بروز اسلام کے لیے صبر آزما حالات پیداکرتا رہا۔ عمر کے ہوتے ہوئے کس کی مجال تھی جو اسلام کانام اپنے ہونٹوں پر لا سکے۔یہ لفظ سنتے ہی عمر کی آنکھیں چنگاریاں بکھیرنے لگتی تھیں، اور مکہ کے سارے سردار مطمئن تھے کہ جب تک ہشام کابیٹا ابو جہل اور خطاب کابیٹا عمر عرب کی سرزمین پر موجود ہے، اسلام ہمارے لیے کبھی کوئی خطرہ نہیں بن سکے گا۔
لیکن عمر کو تو یہی گھٹن کھائے جاتی تھی۔ آخر ایک بھی ،کوئی ایک بھی انسان ایسا کیوں ہو جو ہمارے معبودوں کوگالیاں دے۔ جو ہمارے بزرگوں کو برا کہے جو خواہ مخواہ کا جھگڑا کرکے دوستوں اور بھائی بہنوں میں پھوٹ ڈلوانے کی کوشش کرے، آخر بیٹھے بٹھائے یہ ہوا کیا ہے؟ یہ ہو کیا رہاہے؟
سوچتے سوچتے ان کے دماغ کی نسیں تن جاتیں اور کلائیوں کی رگیں چٹخنے لگتیں’’تم لوگ اس مصیبت کے علاج کے لیے آخر کچھ کرتے کیوں نہیں؟‘‘ وہ بار بار قریش کے سرداروں کو جھنجھوڑتے انہیں غیرت دلاتے۔’’کب تک مکہ کی سرزمین پر ہمارے معبودوں کو گالیاں دی جائیں گی۔ ایک نئے دین کاناٹک رچایا جائے گا۔ یہ ڈھونگ آخر کب تک برداشت ہوگا؟ عمر کے ہوتے ہوئے ایسا کبھی نہیں ہوگا۔‘‘
تب دار الندوہ میں ایک شام سارے سردار مشورہ کے لیے اکٹھا ہوئے اور عمر کو محمدؐ رسول اللہ کو شہید کرنے کے لیے مامور کیا۔
’’یہ ایک مقدس مشن ہے عمر۔۔۔۔۔۔ انہوں نے عمر کو رخصت کرتے ہوئے کہا، خداوند ہبل تمہاری مدد کرے۔ تمہارے اسلاف کی روحیں تمہاری مددگار ہوں۔۔۔۔۔۔۔‘‘ غصہ میں تمتماتے ہوئے عمر ارقمؓ کے مکان کی طرف بڑھے جارہے تھے انہیں معلوم ہوگیا تھا کہ ابو طالب کا بھتیجا اپنے چند ساتھیوں کے ساتھ وہیں روپوش ہے۔ ایک عجیب جذبہ سے سرشار ہو کر جو لوگ اپنا سب کچھ چھوڑ کر ایک گھر میں بند ہوگئے تھے، عمرؓ انہیں وہاں بھی چین کی سانس لینے کا موقعہ دینا نہیں چاہتے تھے۔
’’میں آج سارے فتنہ کی جڑ ہی کیوں نہ مٹادوں؟‘‘ وہ سوچ رہے تھے۔
’’تلوار کا ایک وار۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بس ایک وار۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور سارا قصہ ختم۔۔۔۔۔۔۔۔ ‘‘انہوں نے اپنی چمکتی ہوئی تلوار کو نگاہ بھر کر دیکھا اور اس کو سختی سے اپنے کندھے پر لٹکایا۔۔۔۔۔۔۔۔
قبیلہ زہرہ کے سعد ابن وقاص نے تیز تیز قدم بڑھاتے ہوئے عمر کو دیکھا تو ٹھٹھک گئے۔ سعد ابن وقاص بھی دل ہی دل میں مسلمان ہوگئے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔ لیکن عمر کے ڈر سے اظہار کی جرأ ت نہ تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ چونک کر رہ گئے۔ عمر کے ارادے خطرناک معلوم ہوتے تھے،ان کے جبڑے سختی سے بھینچے ہوئے تھے۔ان کی آنکھیں چنگاریاں اگل رہی تھیں۔ ایک عجیب سی سفاکی ان میں تیر رہی تھی۔۔۔۔ اور ان کے قدم دارارقم کی طرف بڑھ ر ہے تھے۔
’’کدھر جا رہے ہو عمر۔۔۔۔۔۔۔۔؟‘‘ سعد نے زور سے عمر کو آواز دی۔ تو عمر نے مڑ کر دیکھا۔ وہ رک گئے۔ سعد ابن وقاص ان سے پوچھ رہے تھے:
’’ارادے تو ٹھیک ہیں نا عمر۔۔۔۔۔۔۔بڑے غصّے میں لگتے ہو۔‘‘
’’سعد ! میں سوچتا ہوں، آج اس فتنہ کو جڑ ہی سے کیوں نہ ختم کردوں جس نے سارے عرب کو آفت میں ڈال رکھا ہے۔۔۔۔۔۔ جہاں دیکھو،جدھر دیکھو،عرب کا ہر آدمی پریشان ہے۔۔۔۔۔۔۔ چند سرپھرے لوگوں کا یہ ہنگامہ ہمیشہ کے لیے مٹا ہی کیوں نہ دوں؟۔۔۔۔۔۔۔کیوں ٹھیک ہے نا سعد؟‘‘
’’ٹھیک ہے ، ٹھیک ہے عمر،مگر تم پہلے اپنی بہن کی توخبر لو!محمدؐ کو قتل تو کر دوگے مگر اس کا جادو۔۔۔۔۔۔۔۔جو تمہارے گھروں کی چہار دیواریوں کو توڑ کر اندر گھس گیا ہے۔اس کا کیا علاج کرو گے؟‘‘
’’کیاکہاسعد؟‘‘ عمر غصے سے بے تاب ہوگئے۔ ‘‘میری بہن!کیا میری بہن؟کیا فاطمہ بھی اس کے جال میںآگئی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تمہارا بہت بہت شکریہ سعد! تو لو میں پہلے فاطمہ کو ہی سبق سکھاتاہوں۔۔۔۔۔‘‘ انہوں نے تلوار سونت لی اور اپنے بہنوئی کے گھر کی طرف تیزی سے جھپٹتے چلے گئے۔
’’طہ ۔ ما انزلنا علیک القرآن لتشقی۔‘‘(اچھے رسولؐ۔۔۔یہ قرآن ہم نے اس لیے تو نازل نہیں کیا کہ آپ دکھ میں ہی ڈوب کر رہ جائیں۔ یہ تو ایک یاد دہانی ہے خدا سے ڈرنے والوں کے لیے)۔۔۔۔
ایک پیاری سی آواز گھر کے آنگن میں گونج رہی تھی۔ صحابی رسول خبابؓ ،عمر کی چھوٹی بہن کو قرآن پڑھا رہے تھے،اور دروازے کے باہر عمر غصہ سے بل کھارہے تھے۔
’’دھڑ دھڑ دھڑ۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘انہوں نے زور زور سے کواڑ دھڑ دھڑ ائے تو گھر میں سناٹا چھا گیا۔ کون جانے عمرؓ ہی آگئے ہوں۔اب کیا ہوگا؟
بہن نے ڈرتے ڈرتے دروازہ کھولا تو۔۔۔۔غیظ و غضب کی تصویر بنے عمر ہی سامنے کھڑے تھے۔
’’کیا پڑھ رہی تھیں تم۔۔۔‘‘ انہوں نے چیخ کر پوچھا-’’بتاؤ فاطمہ، کیا پڑھ رہی تھیں تم۔۔۔‘‘
غصے کے مارے عمر کی آواز کانپ رہی تھی۔ انہوں نے تلوار کادستہ زور سے فاطمہ کے سر پر مارا—خون کی ایک پھوار چہرے کو بھگوتی چلی گئی۔
فاطمہؓ نے کچھ بھی نہیں کہا!کوئی شکایت انہوں نے نہ کی۔ صرف موتی جیسے آنسوؤں سے ان کی آنکھیں بھر گئیں اور یہ موتی ایک مالا بن کر ان کے خون میںبھیگے چہرے پر بکھر گئے۔
’’ہاں بھیا!ہمیں ستایا جاتاہے۔۔۔۔۔۔ہمیں مارا جاتا ہے اس لیے کہ ہم مسلمان ہوگئے ہیں۔ لیکن۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘ فاطمہؓ کی آواز اونچی ہی ہوتی چلی گئی۔
’’تم کچھ بھی کر لو عمرؓ۔۔۔۔جان سے مار ڈالو ہمیں پرسچائی کا یہ نور جو ہمارے من میں چراغ بن کر جل اٹھا ہے ، اسے کیسے بجھاؤگے عمر۔۔۔۔۔۔‘‘
خون میں بھیگے رخسار غیرت اور غصہ کی تمتماہٹ سے اور بھی سرخ ہوگئے۔۔۔۔۔۔ عمر دیکھتے ہی رہ گئے۔۔۔۔۔۔۔دیکھتے ہی رہ گئے۔۔۔۔۔۔۔۔آخر یہ کون ساجذبہ ہے عمر؟ ان کادل باربار پوچھ رہاتھا۔۔۔۔۔۔۔۔ان کی لال انگارا آنکھیں بہن کے آنسوؤں سے بجھتی چلی گئیں۔۔۔۔۔۔۔۔اور آگے بڑھ کر انہوںنے قرآن کاوہ نسخہ اٹھانا چاہا جو ابھی خباب ان کی بہن کو پڑھارہے تھے۔
بہن نے آگے بڑھ کر پہلے عمر کو وضو کرایا۔ پھر قرآن ان کے ہاتھ میں دے دیا۔۔۔۔۔عمر پڑھتے جارہے تھے۔۔۔۔۔اور جیسے ان کے من ہی میں کچھ ٹوٹتا جارہاتھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور جب پڑھتے پڑھتے وہ اس آیت پر پہنچے:
’’لا الہ الا انا فاعبدوني۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘جب میرے سواکوئی معبود نہیں ہے تو تم بس میری ہی عبادت کرو۔‘‘
تو وہ بے تاب ہو کر کھڑے ہوگئے۔’’فاطمہ!فاطمہ! میںبھی جاؤں گا،ضرور جاؤں گا۔ محمدؐ رسول اللہ کے پاس۔۔۔‘‘ اور وہ تیزی سے گھر سے باہر نکلے چلے گئے۔؎
ارقمؓ کے گھر میں چھپے حضورؐ کے فدائی حضورؐ کو گھیرے بیٹھے تھے۔۔۔۔عجیب عجیب احساسات ان کے من کو گھیرے تھے۔ آخر کب تک یہ سہمی سہمی زندگی گزاریں ۔۔۔۔۔۔۔کیا اللہ کا نام لینا اور سچائی کی طرف لوگوں کو بلانااتناہی بڑا جرم ہے۔
تب ہی دروازہ دھڑدھڑانے کی آواز آئی۔کواڑ کی ریخوں میں جھانک کر دیکھا تو عمرؓ ابن الخطاب کھڑے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔تلوار ان کے کندھے پر لٹکی تھی۔
’’کھٹ کھٹ کھٹ‘‘کافی دیر تک دروازہ کھٹکھٹایاجاتا رہا۔مگر کسی نے کھولا نہیں۔ عمرؓ آئے ہیں۔باہر کھڑے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔کواڑ کھولیں یا۔۔۔۔۔۔۔۔۔نہ کھولیں۔
’’کھول دو کواڑ!‘‘حضورؐ کے چچا حضرت حمزہؓ نے تلوار کے دستہ پر اپنی گرفت مضبوط کرتے ہوئے کہا!ان کی آواز میںایک ماہر فن۔۔۔۔۔اور آزمودہ کار سپاہی کا بھر پور اعتماد تھا۔’’تلوار کے ایک ہی وار میں عمرؓ کا سر اس کے پیروں پر ہوگا۔‘‘ حمزہؓ خطرہ میںگھرے ایک شیر کی طرح چوکنّا تھے۔ لیکن حضورؐ کے چہرے پر تو ایک معصوم مسکراہٹ پھیلی ہوئی تھی۔ حمزہؓ کوا یک ہاتھ سے روک کر حضورؐ کواڑو ںکی طرف بڑھے چلے گئے اور کواڑ کھول دیئے۔
جیسے ہی عمرؓ اندر آئے حضورؐ نے آگے بڑھ کر اپناہاتھ ان کے سینے پر رکھ کر بڑے پیار سے پوچھا:
’’یہاں کس ارادے سے آئے ہو عمر؟‘‘
’’آپؐ کے قدموں پر سر جھکانے کے لیے آیاہوں حضورؐ۔۔۔‘‘ آنسوؤں کے بوجھ میں دبی آواز میں عمرؓ نے جیسے ہی یہ الفاظ کہے۔ دارارقم میں روپوش فدائیان اسلام کی زبان سے بے اختیار نعرہ تکبیر بلند ہوگیا اور حضور ؐ کے چہرے پر جیسے پھولوں کی بارش ہوگئی۔
یہ نعرہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جو اسلام کی قوت کا سب سے پہلا جرأت مندانہ اظہار تھا۔۔۔۔۔۔۔۔یہ نعرہ جو ان مجبور لوگوں کی ایک للکار تھا جنہیں اللہ کانام لینے کے جرم میںگھٹ گھٹ کر جینے کے لیے مجبور کیا گیاتھا— غیرت، طاقت اور جوش سے بھرایہ نعرہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔جس نے مکہ کی ساری پہاڑیوں کو لرزا دیا تھا۔۔۔۔۔۔۔کون جانے کہ یہ صرف ان آنسوؤں کی گونج تھا جو فاطمہؓ کی آنکھوں سے بہے تھے۔
(اُجالوں کا قافلہ)

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *