اپنے ہی ہاتھوں نا کاٹو شجر سایہ دار کو

’’ قدیم نصاب درس اور طریقہ تعلیم و تدریس کی وجہ سے ان مدارس میں پڑھنے والے طلبہ کے سامنے پڑھتے وقت ملک و ملت کے لئے کوئی تعمیری یا انقلابی پروگرام نہیں ہوتا۔ وہ اسلئے پڑھتے ہیں کہ پڑھنا ہی ایک کام ہے اور بس( اگرچہ آج کل وہ صحیح معنوں میں پڑھتے بھی نہیں بلکہ مدرسہ میں رہتے ہیں اور دن گزاررتے ہیں) یہ تصور نہیں ہوتا کہ مدرسہ کے اس نصاب کو پڑھکر اور ’’ فارغ التحصیل‘‘ ہو کر جب ہم باہر نکلیں گے تو اپنی خداداد صلاحتیں اور عملی و علمی طاقتیں کسی ایسے میدان میں کام کرنے کے لئے صرف کریں گے جہاں اسلام کے مقابلے میں کفر سے رزم آرائی ہو۔ جہاں حق کا جھنڈا سر بلند کرنے کے لئے باطل قوتوں سے نبرد آزمائی ہو۔ جہاں خدا کی زمین پر اللہ کے نازل کئے ہوئے قوانین اور احکام کو نافذ کرنے کے لئے خدا کے باغیوں اور طواغیت سے دو بدو مقابلہ کرنا ہو اور اس میدان رزم حق و باطل میں بھرپور مقابلہ کرنے کے لئے جس قسم کے علمی اسلحہ اور سیرت و اخلاق کے کارگرہتھیار کی ضرورت پیش آئے گی۔ اس کے حاصل کرنے کے لئے ہمیں ابھی سے فکر مندہوکر اسے جمع کرنا چاہیئے۔ جب ان مدارس کی چار دیواری میں رہ کر طلبہ کے اندر یہ تصور ہی نہیں پایا جاتا تو ان میں فراخ دلی، بلند نظری، حوصلہ مندی، مجتہدانہ روح اور زمانہ کے رخ کو پھیر دینے کا جذبہ بھی پیدا نہیں ہوتا اور وہ وہاں اسی نیت کے ساتھ کسی قسم کی تیاری نہیں کرتے کہ وہ باہر نکل کر خالص کفر کا محض اسلام کی خاطر مقابلہ کریں گے اور ایک اسلامی انقلاب لائیں گے۔‘‘
یہ طویل اقتباس میں نے مفتی سیّاح الدین کاکاخیلؒ کی ایک نایاب تحریر سے اخذ کیا ہے۔ موصوف مسلمانوں کی موجودہ حالت کے پیش نظر فرماتے ہیں۔
’’ مسلمان قوم کی موجودہ روحانی بیماری کی تشخیص تو یوں ہوتی کہ قرآن مجید کی تعلیم و تدریس کی طرف پوری توجہ نہیں اوران میں فرقہ بندیاں ہیں۔ گروہی عصبتیں ہیں، فروعی اور جزئی مسائل پر باہمی لڑائیاں ہیں۔ اور دین کے اہم اور اساسی مسائل پس پشت ڈالے جاتے ہیں۔ ان کی فکر مندی نہیں ہے۔ قرآن مجید کو مانتے ہوئیے بھی وہ اسکو سیکھنے کی کوشش نہیں کرتے ۔‘‘ اسکے لئے موصوف نے ایک وجہ تو یہ بتائی کہ مدارس کے طلبہ کی یہ صورت حال ہے۔ مفتی صاحب کے تجزیہ کے پیش نظر اگر ہم واقعی جائزہ لیں تو یہ بات اچھی طرح واضح ہو جاتی ہے کہ آج قرآن کی روشنی میں ملّت اسلامیہ کو انکے نصب العین اور ذمہ داریوں سے آگاہ نہیں کیا جارہا ہے۔ قرآنی مشن ہی ہمارے سامنے نہیں ہے۔ قرآن کا مقصد یہ تو قطعی نہ تھا کہ محض اسکا علم برائے علم ہو۔ بلکہ سرکار دو عالمؐ کا اسوہ جو قابل تقلید نمونہ ہے۔ ہمارے سامنے ہے۔ قرآن نازل ہوا اور ۔۔۔ اور آپ ﷺ کو فکر لاحق ہوئی کہ بس کس طرح یہ امانت لوگوں تک پہنچ جائے۔ اور واقعہ یہ ہے کہ آپ ﷺ نے انتہائی تڑپ کے ساتھ بندگان خدا تک قرآن کا پیغام پہنچایا۔
آپ ﷺ کی داعیانہ تڑپ کا اندازہ سورہ الکھف کی آیت نمبر ۶ سے اچھی طرح واضح ہو جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ’’ اچھا تو اے نبی ﷺ شاید تم ان کے پیچھے غم کے مارے اپنی جان کھودینے والے ہو اگر یہ اس تعلیم پر ایمان نہ لائے۔‘‘ پھر تمام ہی انبیاء کا مشن یہی تو رہا کہ انھوں نے گمراہ انسانوں کو اللہ کی طرف بلایا۔ذرا غور تو فرمائیے کہ قرآن مجید کا تخاطب جب انسان ہے۔ اور قرآن کے تعلق سے جب یہ فرمایا گیا کہ یہ ھدی الناس تمام انسانوں کی ہدایت کے لئے ہے۔ لہٰذا اب جب کہ کوئی نبی نہیں آئے گا۔ اور آخری رسول کی آخری امت پر ہی یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ لہٰذا اس طرف سے کوتاہی۔ ہماری ہلاکت کا سبب ہوگی۔ ہم جب یہ تسلیم کرتے ہیں کہ ہمارے لئے اب اللہ کے رسول ﷺ کا اسوہ حسنہ ہی قابل تقلید نمونہ ہے۔ تو پھر سیرت کے مطالعہ سے ہم آپ ﷺ کے داعیانہ کردارکی روشنی میں موازنہ کریں کہ ہم کہاں تک آپ ﷺ کے اسوہ حسنہ کی تقلید کررہے ہیں۔ سرکار دو عالم ﷺ کو توراست مخاطب کرکے فرمایا جاتا ہے کہ ۔
’’ اے محمدﷺ ، کہدو کہ لوگو! تمھارے پاس تمہارے رب کی طرف سے حق آچکا ہے۔ اب جو سیدھی راہ اختیار کرے اسکی راست روی اس کے لئے مفید ہے اور جو گمراہ رہے اسکی گمراہی اسی کے لئے تباہ کن ہے۔ اور میں تمھارے اوپر کوئی حوالہ دار نہیں ہوں۔‘‘
ہم اپنا جائزہ لیں کیا ہم نے اپنے درمیاں بسنے والے برادران وطن پر اتنی حجت تمام کردی ۔ انہیں بتایا کہ رب کا پیغام کیا ہے۔ صراط مستقیم کیا ہے اور کونسی راہ گمراہی کی راہ۔ پھر اللہ رب العزت اپنے رسول ﷺ پر بھی اور اہل ایمان پر بھی ذمہ داری صرف پہنچادینے کی ہی ڈال رہے ہیں۔ ہمیں ان پر حوالہ دار نہیں بنارہے ہیں۔ لہٰذا مفتی صاحب کا احساس کچھ غلط نہیں کہ مدارس سے قرآنی تعلیم حاصل کرنے والے آخر اس پہلو پر کیوں غور و فکر نہیں کرتے کہ انھیں اسلام کے اس پیغام کو بندگان خدا تک پہنچانا بھی ہے اور پھر اسی نظام رحمت کے غلبہ کی کوشش بھی کرنی ہے۔کیونکہ انسانوں کے دکھوں کا درماں صرف اور صرف اسی نظام رحمت کے ذریعہ ممکن ہے۔ اور یہ ذمہ داری۔۔ اس ’’ خیر امت‘‘ پر عاید ہوتی ہے۔
قرآن مجید کا یہ سخت ترین انداز بھی ملاحظہ فرمائیں۔ سورہ البقرہ آیت۱۵۹ میں فرمایا گیا ہے۔
’’جو لوگ ہماری نازل کی ہوئی روشن تعلیمات اور ہدایات کو چھپاتے ہیں، در آن حالیکہ ہم انہیں سب انسانوں کی رہنمائی کے لئے اپنی کتاب میں بیان کر چکے ہیں، یقین جانو کہ اللہ بھی ان پر لعنت کرتا ہے اور تمام لعنت کرنے والے بھی ان پر لعنت بھیجتے ہیں۔‘‘
اندازہ لگائیے کہ قرآن جب تمام انسانو ں کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے بہتریں رہنمائی ہے اور یہ امانت آج ہمارے پاس ہے۔ اب اگر انسانوں تک یہ امانت پہنچانے کا فریضہ ہم ادا نہ کریں۔ تو کس قدر سخت وعید سنائی جا رہی ہے کہ جو چیز پہنچانے کے لئے ہے اسے اگر چھپائیں گے۔ تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان پر لعنت ہو گی۔ کس پر ہوگی یہ لعنت۔ قرآن کو ماننے والوں اور قرآن کو جاننے والوں پر۔ اگر وہ اس قرآن کے پیغام کو بندگان خدا تک نہ پہنچائیں۔ لہذا ہمیں اس روش کو جس قدر ممکن ہو بدل دینا چاہیئے۔ اور ۔۔۔ اپنے اس تفاعل پر نادم و سرمسار ہو کر توبہ کرنی چاہیئے۔ کہ اللہ تعالیٰ آگے فرماتے ہیں۔ سورہ البقرہ ایت ۱۶۰ میں کہ:
’’ البتہ جو اس روش سے باز آجائیں اور اپنے طرز عمل کی اصلاح کرلیں اور جو کچھ چھپاتے تھے، اسے بیان کرنے لگیں، ان کو معاف کردوں گا اور میں بڑا درگزر کرنے والا اور رحم کرنے والا ہوں۔‘‘
ہمیں اس آیت کریمہ کی روشنی میں اپنا جائزہ لے کر فوراً اسکی اصلاح کرنی چاہیئے ۔ کیونکہ اللہ کی آیات کو چھپانے کی یہ مذموم روش یہودیوں نے اختیار کی تھی۔ لہٰذا اللہ رب العالمین ہمیں نصیحت فرمارہے ہیں کہ ہم اس روش کو اختیار نہ کریں۔ مفکر اسلام اور صاحب تفہیم القرآن اس سلسلہ میں رقم طراز ہیں کہ علمائے یہود کا سب سے بڑا قصور یہ تھا کہ انھوں نے کتاب اللہ کے علم کی اشاعت کرنے کے بجائے اس کو ربیّوں اور مذہبی پیشہ وروں کے ایک محدود طبقے میں مقید کررکھا تھااور عامّہ خلائق تو درکنار، خود یہودی عوام تک کو اسکی ہوا نہ لگنے دیتے تھے۔ پھر جب عام جہالت کی وجہ سے ان کے اندر گمراہیاں پھیلیں، تو علماء نے نہ صرف یہ کہ اصلاح کی کوئی کوشش نہ کی۔ بلکہ وہ عوام میں اپنی مقبولیت برقرار رکھنے کے لئے ہر اس ضلالت اور بدعت کو جس کا رواج عام ہوجاتا اپنے قول و عمل سے یا اپنے سکوت سے الٹی سند جواز عطا کرنے لگے۔ اسی سے بچنے کی تاکید مسلمانوں کو کی جارہی ہے۔دنیا کی ہدایت کا کام جس امت کے سپرد کیا جائے، اس کا فرض یہ ہے کہ اس ہدایت کو زیادہ سے زیادہ پھیلائے، نہ یہ کہ بخیل کے مال کی طرح اسے چھپارکھے۔‘‘
آج صورت حال بالکل اسی کے حسب حال ہے ۔ نہ ذمہ داری ادا کرنے کی فکر ہے اور نہ ہی ادا کرنے والوں کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے۔ اب اگر مفتی سیّاح الدین کاکاخیل ؒ کا یہ احساس تھا کہ’’ مدارس میں پڑھنے والے طلبہ کے سامنے پڑھتے وقت ملک و ملت کے لئے کوئی تعمیری یا انقلابی پروگرام نہیں ہوتا۔ وہ اس لئے پڑھتے ہیں کہ پڑھنا ہی ایک کام ہے اور بس۔‘‘
یہ واقعہ ہے کہ اگر حقیقتاً ہمارے مدارس کے فارغین کو اس بات کا احساس دلایا جائے کہ اسوہ حسنہ کی روشنی میں اور قرآن مجید کی تعلیمات کے پیش نظر اب معاشرے میںیہ عملی اور انقلابی اقدام اٹھانا ہوگا دعوت حق اور غلبہ دین کی ذمہ داری یہ ان کا فرض منصبی ہوگا۔ تو پھر۔ آج جو کچھ عملاً ہمارے معاشرے میں ہو رہا ہے۔ یعنی چند فروعی مسائل اور جزئی مسائل میں الجھ کر فضا کو خراب کیا جارہا ہے ۔ اور ایک دوسرے کی تکفیر، تفسیق اور تحمیق و تجہیل، جماعتی اور فرقہ وارانہ عصبیت اور عملی طبقہ واریت کو مشغلہ بنا کر ملت کے اتحاد کو پارہ پارہ کیا جارہا ہے۔ جب کوئی عظیم نصب العین سامنے نہ ہو تو پھر اسی طرح خرافات میں شیطان الجھائے رکھتا ہے۔ مفتی صاحب اسی صورت حال کو سامنے رکھتے ہوئے اپنے احساسات کا اظہار کرتے ہیں کہ:
’’ فرقہ پرور علماء کے ہاتھوں جو کچھ ہو رہا ہے اور جس کو دیکھ کر ملک و ملت کا ہر بہی خواہ خون کے آنسوں رو رہا ہے اسکی بنیادی وجہ وہی ہے کہ ان حضرات علماء کرام کی تعلیم و تربیت ابتداہی سے فرقہ وارانہ بنیادوں پر ہو رہی ہے۔ مدارس کی تاسیس فرقہ واری نظریہ سے کی جاتی ہے، بعض مدارس میں داخلہ لینے والے طلبہ کو اس شرط پر داخلہ دیا جاتا ہے کہ پہلے فلاں فرقے کے فلاں فلاں بزرگوں پیشواؤں اور اساتذہ کی تکفیر کرو ان کو برا کہو، ان سے برأت کرو پھر ہم داخلہ مدرسہ میں دیں گے۔ورنہ جاؤ یہاں داخل نہیں ہو سکتے۔ گویا اس معصوم طالب علم کے ننھے اور صاف دماغ میں داخلہ سے پہلے تکفیر مسلمین کا بیج بویا جاتاہے۔ اور وہ یہ سمجھنے لگتا ہے کہ علم دین حاصل کرنے کی پہلی سیڑھی اور اس قلعہ کا بنیادی پتھر دوسرے فرقہ کی تکفیر ہے اور پھر اس بیج کی مسلسل آبیاری ہو تی ہے۔ اور مدرسہ میں جسمانی غذا کے ساتھ روزانہ یہ غذا بھی دی جاتی ہیکہ جب تمھارا اصل مشغلہ یہاں پڑھ کر کچھ سیکھنے کا لازمی تقاضہ یہ ہے کہ دستار بند ہوکر جب نکلو گے تو اس خاص فرقہ کو ختم کرنا اور اس کے شر سے لوگوں کو محفوظ رکھنا اصل جہاد ہے۔چنانچہ پھر وہ عمر بھر یہی جہاد کرتے رہتے ہیں۔ فرقہ وارانہ فساد کی آگ بھڑکاتے اور مسلمانوں کی تمام صلاحیتوں کو اسی آگ میں جلا کر تباہ کرتے ہیں۔‘‘
ان حقائق کی روشنی میں ہر باشعور اور دانشمند ، سوچ سکتا ہے کہ کیا آج اسی ماحول نے ملت اسلامیہ کے شیرازہ کو بکھیر کر نہیں رکھدیا ۔ اور پھر اس کے وہ ثمرات ہمارے سامنے نہیں آرہے ہیں۔ ملک اور بین الاقوامی سطح پر۔ پوری طرح ملت انتشار کی چکی میں پسی جارہی ہے۔ اور آپس میںہی گردنیں کاٹ رہی ہے۔ پھر دشمن بھی نہایت ہی نرم نوالہ سمجھ کر جب چاہتا ہے اسے چبالیتا ہے۔ گاجر مولی کی طرح کٹ رہی ہے لٹ رہی ہے۔ جل رہی ہے۔ ان کی عورتوںکی عصمتیں تک محفوظ نہیں، نہ بچوں کو بخشا جارہا ہے،نہ بوڑھوں پہ رحم کھایا جارہاہے ۔معصوم نوجوانوں کو جیلوں میں سڑاکر ان کی زندگیوں کو تباہ کیا جارہا ہے۔ وہ اگر اپنی بے گناہی ثابت کرکے باعزت بری بھی ہو جائیں۔ تو ان کی کونسی عزت سماج میں باقی رہی۔ جوانی بھی ان کی تباہ کردی گئی اور ان کا تعلیمی کرئیر بھی تباہ کردیا گیا۔ علماء کرام کو ایک منظم سازش کے تحت۔ آپسی اختلافات میں الجھاکر۔ یہ دلچسپ مشغلہ تو دیا گیا۔ انھوں نے ملت کا شیرازہ تو بکھیر دیا۔ اور پوری ملت کی ہوا بھی اکھاڑدی۔ لیکن آخر میں بڑے درد مندانہ انداز میں مفتی کاکاخیل ؒ لکھتے ہیں کہ:
’’ اب تک تو جو کچھ ہو تا رہا وہ ہو چکا ۔ ان بیماریوں نے ملت اسلامیہ کو جس قدر کمزور اور نڈھال اور قریب المرگ کردیا وہ تو اب ہو چکا ۔ اس پر رونے دھونے کے بجائے اب یہ فکر ہو نی چاہیئے کہ مرض کے بنیادی اسباب کا موثر علاج کرکے ان کا ازالہ کریں، بین الاقوامی اور خود ملک کے اندرونی حالات کو پیش نظر رکھ کر خاص طور سے اس بات کی ضرورت ہے کہ پوری مسلمان قوم میں بلا تفریق نظریہ و مسلک اتحاد و اتفاق اور پوری یکجہیتی پیدا کی جائے اور ہر قسم کے اختلافات و انتشار کو ختم کرکے ان میں ہم رنگی وہم آہنگی کی کوشش تیز کردی جائے۔ اقامت دین اور اعلائے کلمۃ اللہ اور تنفیذ احکام قرآن و سنت کے لئے یہ انتہائی ضروری ہے کہ مسلمانوں کی قوت مجتمع ہو۔
ان نازک حالات اور معرکۂ حق و باطل کے موقع پر اگر اسلام کے نام لیواؤںاور اسلام کے نمائندوں کی صفوں میں انتشار و اختلاف ہوا، انکے دل ایک دوسرے سے پھٹے رہے، کسی کا رخ مشرق کو، کسی کا مغرب ہوا اور سب مل کر اور بنیان مرصوص بن کر مقابلے میں نہ آسکے تو یقیناً اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ باطل کو حق کے مقابلے میں صرف حق کے پرستاروں کی خود غرضی، کمزوری اور بے ہمتی اور اختلاف و تنازع کی وجہ سے ان کی ہوا اکھڑ جانے ہی کی بنا پر غلبہ حاصل ہوگا۔ اہل حق کو تو صرف ایمان کامل اور عمل صالح کے ساتھ ساتھ واعتصمو بحبل اللہ جمعیا و لا تفرقوا پر عمل کرنے سے ہی کامیابی حاصل ہو سکتی ہے۔ ظاہر ہے کہ اس بارے میں سب سے بڑھ کر ذمہ داری علمائے کرام کی ہے۔ مسلمانوں کے درمیان فرقہ وارانہ بنیادوں پر افتراق و نفاق کی بیماری بدقسمتی سے ان علماء کی فرقہ بندی کی وجہ سے پیدا ہوئی ہے اور اب اس مرض کا علاج بھی انہی کے پاس ہے۔ وہ اگر اس تقسیم و تفریق اور باہمی حرب و ضرب کی مشق کے بجائے جمع کرنے کا طریقہ اختیار کریں، ایک دوسرے سے نفرت دلا کر توڑنیکے بجائے اگر ان کے درمیان الفت و محبت اور موانست پیدا کرکے جوڑنے کو دین کی خدمت اور ایمان کا تقاضہ سمجھیں تو بڑی آسانی کے ساتھ یہ بکھرے ہوئے تسبیح کے دانے ایک دھاگے میں پروئے جا سکتے ہیں۔
ساتھ ہی مدارس دینیہ میں طلبہ کو نصابی کتاب پڑھاتے وقت یہ بات بھی روزانہ اور مسلسل ذہین نشین کراتے رہیں کہ یہاں مدرسہ میں علوم دینیہ پڑھکر فراغت کے بعد میدان عمل میں نکلوگے اور لوگ آپ کی رہنمائی اور علم و دیانت پر اعتماد کرکے آپ سے دین کی خدمت اور قیادت کی توقع وابستہ کریں گے تو تمھارا مشغلہ تکفیر و تفسیق اور دوسروں کی تذلیل، نیز مناظرہ بازی اور اشتہار بازی نہ ہو بلکہ تمھیں اپنی علمی اور عملی صلاحیتوں سے قرآن و سنت کی تعلیمات کو عام کرنا ہے۔ انکے نفاذ کے لئے کوشاں رہنا ہے۔ اپنے فرض منصبی کو سمجھ کر بندگاں خدا میں قرآنی پیغام کو پہنچانا ہے۔ طلبہ کے اذہان میں اس قسم کے نیک عزائم راسخ کرنے کا فائدہ یہ ہوگا کہ وہ ایک عظیم مشن کا حصہ بن جائیں گے اور جزئیات اور فروعیات میں پڑ کر اپنا وقت بھی ضائع نہیں کریں گے اور ملت کو بھی انتشار سے بچائیں گے۔
مسلمانوں کے باہمی تعلقات کو خوشگوار بنانایہ ایک عظیم کام ہے اور وقت کا اہم ترین تقاضہ بھی ورنہ ہمارے انتشار کی کیفیت ہمارے دین کی جڑکو ہی ختم کرکے رکھدے گی۔ سرکار دو عالم ؐ کی حدیث مبارکہ کی روشنی میں اسکی اہمیت کو سمجھئے۔
’’ حضور ﷺ نے صحابہ سے پوچھا کہ کیا میں تمھیں نماز روزہ اور زکوۃ سے افضل عمل نہ بتاؤں ؟ صحابہ نے کہا ہاں، اے اللہ کے رسول ﷺ!آپ ﷺ نے فرمایا: مسلمانوں کے باہمی تعلقات کو درست کرنا اور ان کے درمیان صلح صفائی کراناکیونکہ مسلمانوں کے باہمی تعلقات کی خرابی تو مونڈنے والی ہے۔ میں سر مونڈنے کی بات نہیں کہہ رہا ہوں بلکہ یہ تو دین کو جڑ سے ختم کردینے اور مونڈنے والی چیز ہے۔‘‘
یوں تو دشمنوں کی کچھ کمی نہ تھی، جو ہم کو اور ہمارے دین کو مٹانے کے مذموم منصوبے اور سازشیں رچانے میں مست ہیں۔ اوپر سے ہم بھی نادانی میں اپنے ہاتھوں اپنے ہی دین کے شجر طیبہ کی جڑکانٹنے میں لگے ہیں۔ کیا یہ اپنے ہاتھوں اپنی بربادی کا ساماں نہیں۔؟
لہٰذا ہمیں دین کے قیام کی کوشش کرنا ہے۔ دین کو مونڈنے کی نہیں! عزم کیجئے کہ آپسی انتشار سے بچیں گے تاکہ ہمارے ہاتھوں ہمارے دین کی جڑ نہ کٹے۔
قسط سوم

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *