بنی اسرائیل کادور غلامی اسباب اور نتائج

انسانی تاریخ میں غلامی کا رواج قریب قریب ہر بڑی تہذیب میں پایا گیا ہے ۔اس میں چاہے سلطنت روما ہو یا پھر عرب،ایران ،ہندوستان ہوں یا دنیا کے دیگر ممالک ہر جگہ یہ روایت نہ صرف یہ کہ موجود رہی ہے بلکہ انسانی معاشرہ کا ایک لازمی جز رہی ہے۔غلاموں کی زندگی جانوروں سے زیادہ بدتر ہوا کرتی تھی نہ ان کے کوئی حقوق ہوتے تھے اور نہ ہی انہیں انسانی مراعات حاصل تھیں۔ غلامی کا یہ رواج انفرادی بھی اور اجتماعی بھی۔ تاریخ کی بعض جابر اقوام نے اپنی رعایا کو اس لیے بھی غلام بنایا کہ اس کے ذریعہ وہ اپنی ہی عوام کو اپنا محکوم بنا کر رکھنا چاہتی تھی۔ اس کے لیے انتہائی جابرانہ طریقے بھی استعمال کیے گئے ۔اکیلے انسان کو اپنا غلام بنانا اتنا بڑا جرم نہیں جتنا ایک پوری قوم کو غلام بنانا۔نہ صرف یہ کہ اپنا محکوم بنانا بلکہ اس قوم کی بعد کی تاریخ اس بات کی گواہی دے کہ غلامی اس شدت کی تھی کہ صدیوں بعد بھی غلامی کے اثرات نے اس محکوم قوم کا دامن نہیں چھوڑا۔غلامی اس وقت اور زیادہ قابل مذمت بن جاتی ہے جب غلام قوم اپنے آقائوں کے طور طریق ،ان کی تہذیب اور رسوم ورواج اختیار کر لیتی ہے۔یہی غلامانہ بود و باش اگر ذہن و دماغ اور قلب و نظر پر قبضہ کرلے تب انبیائی تعلیمات بھی ایسی قوم کی تربیت نہیں کرپاتی۔یہی معاملہ ہمیں بنی اسرائیل کی تاریخ میں نظر آتا ہے:
دور غلامی:
بنی اسرائیل جو نبیوں کی نسل ہیں اور جسے اللہ تعالیٰ نے ساری دنیا پر عظمت و فضیلت سے نوازا تھا ، ایک وقت مقررہ تک خود مصر میں غالب قوم اور غالب تہذیب کے طور پر جانی تھی،آخر کیسے قوم فرعون کی غلام بنادی گئی؟یہ ایک ایسا سوال ہے جس کا جواب نہ صرف ماضی کی امت مسلمہ کی کمزوریاں واضح کرتا ہے بلکہ یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ جب کوئی امت اپنے فرض منصبی سے روکردانی کرتی ہے تو نتیجے میں نہ صرف یہ کہ وہ ذلیل کردی جاتی ہے بلکہ حالت یہاں تک پہنچ سکتی ہے کہ غالب قوم اسے اپنا غلام بنالے۔قوم فرعون کی غلامی نے یہود پربحیثیت قوم کے اتنا اثر ڈالا کہ وہ آج تک اس سے آزاد نہ ہوسکی۔اس باب میں قرآن مجید نے جو تبصرہ کیا ہے وہ اس طرح ہے:
اِنَّ فِرْعَوْنَ عَلاَ فِی الْاَرْضِ وَ جَعَلَ اَھْلَھَا شِیَعًا یُّضٰعِفُ طَائِفَۃً مِّنْھُمْ وَ یُذَبِّحُ اَبْنَائَھُمْ وَ یَسْتَحِی نِسَآئَ ھُمْ ط اِنَّہُ کَانَ مِنَ الْمُفْسِدِیْنَ(القصص:۴)
’’واقعہ یہ ہے کہ فرعون نے زمین میں سرکشی کی اور اس کے باشندوں کو گروہوں میں تقسیم کردیا ۔ان میں سے ایک گروہ کو وہ ذلیل کرتا تھا ،اس کے لڑکوں کو قتل کرتا اور اس کی لڑکیوں کو جیتا رہنے دیتا تھا ۔فی الواقع وہ مفسد لوگوں میں سے تھا۔‘‘
فرعون کے ذریعہ پوری امت مسلمہ(یہود)کو اپنے قہر و جبر میں گرفتار کرنا،اس سے بیگار لینانیز ان پر اپنی مضبوط پکڑ کے اظہار کے لیے ان کی اولاد نرینہ کو ذبح کرنااور غلامی و دیوثیت پیدا کرنے کے لیے ان کی عورتوں کو اپنے تصرف کے لیے زندہ چھوڑ دینا،یہ ایسی منصوبہ بندی تھی جس نے بنی اسرائیل کے اندر سے حوصلہ مندی و شجاعت ختم کردی تھی۔یہود کی اس حالت کو قرآن مجید نے یوں بیان کیا:
فَمَا اٰمَنَ لِمُوسیٰ اِلاَّ ذُرِّیَّۃٌ مِّنْ قَوْمِہِ عَلٰی خَوْفٍ مِّنْ فِرْعَوْنَ وَ مَلَاَ ئِھِمْ اَنْ یَفْتِنَھُمْ ط وَاِنَّ فِرْعَوْنَ لَعَالٍ فِی الْاَرْضِ ج وَاِنَّہُ لَمِنَ الْمُسْرِفِیْنَ(یونس:۸۳)
’’چنانچہ موسی علیہ السلام پر اس کی قوم کے چند نوجوانوں کے سوا کوئی بھی ایمان نہیں لایا ،فرعون اور اس کے درباریوں سے ڈرتے ہوئے کہ کہیں وہ انہیں فتنے میں نہ ڈالدے،اور بے شک فرعون سر زمین (مصر) میں سرکش بنا ہو ا تھا،اور بے شک وہ حد سے گزرنے والوں میں سے تھا۔‘‘
فرعون اور قوم فرعون کا یہ ظلم و جبر جس کے نتیجہ میں بنی اسرائیل میں خوف و ہراس اور کم ہمتی پھیل گئی تھی اس کو خود ان کی اپنی مذہبی کتابوں میں بیان کیا گیا ہے۔چنانچہ بنی اسرائیل کے بڑوں نے حضرت موسی علیہ السلام سے فرعون سے حوصلہ و ہمت کے ساتھ مقابلہ کے بجائے اس انداز میں اپنی بزدلی کا اظہار کیا:
’’جب وہ فرعون کے پاس سے نکلے آ رہے تھے تو ان کو موسیٰ اور ہارون ملاقات کے لیے راستہ پر کھڑے ملے۔تب انہوں نے ان سے کہاکہ خدا وند ہی دیکھے اور تمہارا انصاف کرے،تم نے تو ہم کو فرعون اور اس کے خادموں کی نگاہ میں ایسا گھنو نا کیا ہے کہ ہمارے قتل کے لیے ان کے ہاتھ میں تلوار دے دی ہے۔‘‘(بائبل ،خروج)
’’ہماری مثال تو ایسی ہے جیسے ایک بھڑیے نے بکری کو پکڑا اور چرواہے نے آکر اس کو بچانے کی کو شش کی اور دونوں کی کشمکش میں بکری کے ٹکڑے اڑگئے۔پس اسی طرح تمہاری اور فرعون کی کھینچ تان میں ہمارا کام تمام ہوکر رہے گا۔‘‘(تلمود)
جب کوئی امت اپنے تاریخی اقبال و سربلندی کو بھول جاتی ہے تو وہ ذلت و مسکنت کے اس انجام کو پہنچتی ہے کہ جہاں انبیاء کی حوصلہ افزاں تعلیمات بھی غلام امت کے لیے تکلیف دہ بن جاتی ہے۔بنی اسرائیل نے حضرت موسی علیہ السلام کی آمد پر یوں تبصرہ کیا:
قَالُوْا اُوْذِیْنَا مِنْ قَبْلِ اَنْ تَأْ تِیْنَا وَ مِنْ بَعْدِ مَا جِئْتَنَا(اعراف:۱۲۹)
’’انہوں نے (موسیٰ)سے کہا:ہمارے پاس تمہارے آنے سے پہلے بھی ہمیں تکلفیں دی گئیں اور تمہاررے آنے کے بعد بھی۔‘‘
جس موقع پر یہود نے حضرت موسی علیہ السلام سے یہ بات کہی اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ غلامی ایسی بدترین لعنت ہے جس کے بعد قوم میں بزدلی آجاتی ہے۔اوریہ بزدلی قوم سے دوست دشمن کی تمیز اٹھا دیتی ہے۔ہر بات میں انہیں اندیشہ ہوتا ہے کہ کہیں حکمران طبقہ ہماری مصیبتوں میں اور اضافہ نہ کردے۔بنی اسرائیل اپنے نبی کے ساتھ اس بیگانگی سے کیوں پیش آئے؟اس سوال کا جواب اگر ہم قرآن مجید اور دیگر آسمانی کتب میں تلاش کریں تو کچھ اس طرح کا پس منظر سامنے آتا ہے ۔اللہ تعالیٰ نے جب حضرت موسی علیہ السلام کو فرعون کے پاس بھیجا او ر آپ ؑ نے فرعون کے سامنے اپنا یہ مطالبہ رکھا کہ:
فَأَرْسِلْ مَعِیَ بَنِی اِسْرَائِیْلَ توتورات کی کتاب خروج یہ وضاحت کرتی ہے کہ حضرت موسیٰ ؑ نے ابتدأ یہ مطالبہ فرعون کے سامنے اس شکل میں رکھاکہ بنی اسرائیل کو میرے ساتھ عبادت کے لیے جانے دے ۔فرعون نے اس مطالبہ کو ماننے سے صاف انکار کردیا بلکہ غصہ میں آکر بنی اسرائیل کی بیگار اور مشقت میں مزید اضافہ کرنے کے احکا م جاری کردیے کہ یہ کاہل او ر کام چور ہوگئے ہیں اسی وجہ سے عبادت وغیرہ کے بہانے تلاش کررہے ہیں۔‘‘
سورہ اعراف کی آیت ۱۲۷ میں یہ ذکر ہے کہ:وَقَالَ الْمَلَأُ مِنْ قَوْمِ فِرْعَوْنَ أَ تَذَرُ مُوْسٰی وَ قَوْمَہُ لِیُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ وَ یَذَرَکَ وَ اٰلِھَتَکَ ط قاَلَ سَنُقَتِّلُ اَبناَئَھُمْ وَ نَسْتَحْیِ ِنسآ ئَھُمْ وَاِناَّ َفوْقَھُمْ قٰھِرُوْنَ(اعراف:۱۲۷)’’اور فرعون کی قوم کے چودھریوں نے (اس سے) کہا :کیا تو موسی اور اس کی قوم کو چھوڑ دے گا ،تاکہ وہ زمین میں فساد کریں اور وہ(موسی)تجھے اور تیرے معبدوں کو چھوڑ دے ؟فرعون نے کہا :ہم ان کے (نومولود )بیٹے قتل کردیںگے اور ان کی بیٹیاں چھوڑدیںگے اور بے شک ہم ان پر غلبہ رکھتے ہیں۔‘‘اور سورہ مومن کی یہ آیت :فَلَمَّا جَآئَ ھُمْ بِالْحَقِّ مِنْ عِنْدِنَا قَالُوْا اقْتُلُوْا اَبْنَآئَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَہُ وَاسْتَحْیُوْا نِسَآئَ ھُمْ (المومن:۲۵)’’پھر جب وہ ہمای طرف سے ان کے پاس حق لے کر آیا تو انہوں نے کہا :جو لوگ اس کے ساتھ ایمان لائے ہیں ان کے بیٹوں کو قتل کردو اور ان کی بیٹیوں کو زندہ رکھو۔‘‘اس ظلم و تعدی سے مقصود یہ تھا کہ حضرت موسیؑ کے حامیوں اور پیروئوں کو اتنا خوف زدہ کردیاجائے کہ وہ ڈر کے مارے آپؑ کا ساتھ چھوڑ دیں۔سورہ اعراف کی اس آیت میں شاید بنی اسرائیل نے انہی مظالم سے زچ ہوکر حضرت موسیٰ ؑ سے یہ بات کہی ہو۔واللہ اعلم۔
وَجٰوَزْنَا بِبَنِی اِسْرَائِیْلَ الْبَحْرَ فَأَتَوْا عَلٰی قَوْمٍ یَّعْکُفُوْنَ عَلٰی اَصْنَامٍ لَّھُمْ ج قَالُوْا یٰا مُوْسٰی اجْعَلْ لَّنَا اِلٰھاً کَمَا لَھُمْ اٰلِھَۃً(اعراف:۱۳۸)
’’بنی اسرائیل کو ہم نے سمندر سے گزار دیا ۔پھر وہ چلے اور راستے میں ایک ایسی قوم پر ان کا گزر ہوا جو اپنے بتوں کی گرودہ بنی ہوئی تھی۔کہنے لگے ،اے موسیٰ ہمارے لیے بھی کوئی ایسا معبود بنا دے جیسے ان لوگوں کے معبود ہیں۔‘‘
بنی اسرائیل جس قبیلے کے پاس سے گزرے یہ لحم قبیلہ کے اور ایک دوسرے قول کے مطابق یہ کافر لوگ کنعانی تھے۔ امام ابن جریر اور ابن منذر نے حضرت ابن جریج سے اس آیت کی تفسیر میں یہ قول بیان کیا ہے کہ اس قوم کے پاس تانبے سے بنی ہوئی گائے کے مجسمے تھے ۔(تفسیر در منثور،ج۳،ص۳۶۷)قوم فرعون کی غلامی نے بنی اسرائیل کو ذہنی طور پر اتنا کمزور کردیا تھا کہ جیسے ہی گائے کی پوجا ہوتی دیکھی فوراً اس کی محبت و وارفتگی ان کے دلوں میں پیدا ہوگئی۔اسی لیے قرآن مجید نے ان کی حالت پریوں تبصرہ کیا کہ:وَاُشْرِبُوْا فِی قُلُوبِھِمُ الْعِجْلَ بِکُفْرِھِمْ(البقرہ:۹۳)’’اور ان کے کفر کی وجہ سے ان کے دلوں میں بچھڑے کی محبت پلا(ڈال)دی گئی۔‘‘حالانکہ یہ وہ قوم تھی جسے اللہ تعالیٰ نے غلامی سے نجات دی اور ان کے لیے سمندر کو کاٹا ۔ان کے دشمن کو ہلاک و برباد کیا اور انہیں بڑی بڑی نشانیاں دکھائیں ۔پھر انہوں نے صریح شرک کا مطالبہ کردیا۔اس آیت کے ذیل میں صاحب درمنثور نے مسند احمد کی ایک روایت حضرت ابو واقد لیثی ؓ سے نقل کی ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کی معیت میں حنین کی طرف نکلے۔تو ہم ایک بیری کے پاس سے گزرے۔میں نے عرض کی:یا رسول اللہﷺ!اسے ہمارے لیے لٹکانے کی جگہ قرار دے دیجیے جیسے یہ کفار کے لیے لٹکانے کی جگہ ہے۔…کفار اپنے ہتھیار بیری کے درخت کے ساتھ لٹکایا کرتے تھے ۔…تو حضور ﷺ نے فرمایا:’’اللہ اکبر !یہ بات ایسی ہے جیسی بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کہی تھی کہ’’ہمارے لیے بھی ایک ایسا خدا بنائو جیسے ان کے خدا ہیں،بے شک تم ان لوگوں کے طریقے پر چل رہے ہو جو تم سے پہلے تھے۔‘‘
واقعہ یہ ہے کہ مدت دراز تک مصری بت پرستوں کے زیر سایہ رہنے کی وجہ سے بنی اسرائیل کا میلا ن بار بار اس طرح کے افعال و رسوم شرکیہ کی طرف ہوتا تھا۔یہ بیہودہ و جاہلانہ درخواست بھی مصر کی آب و ہوا اور وہاں کے بت پرستوں کی صحبت کے اثرات کو ظاہر کرتی ہے۔اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ مصر کی طویل غلامی نے بنی اسرائیل کی ذہنی و اخلاقی سطح اتنی پست کردی تھی کہ خدا کے جمال و جلال کی اتنی شانیں دیکھنے کے بعد بھی وہ گویا ابھی مصر کی ظلمات میں ہی تھے۔قدیم مالوفات سے وابستگی آسانی سے نہیں جاتی ۔شاید یہی نکتہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فتح مکہ کے بعد تمام آثار شرک یک قلم مٹا دینے کے احکام جاری فرمادیے کہ خام اور کمزور لوگوں کے لیے یہ چیزیں فتنہ نہ بن سکے۔
بنی اسرائیل کی ذہنیت کو اہل مصر کی غلامی نے جیسا کچھ بگاڑ دیا تھا اس کا اندازہ اس بات سے بھی بآسانی کیا جاسکتا ہے کہ مصر سے نکل آنے کے ۷۰ برس بعد حضرت موسی علیہ السلام کے خلیفہ اول حضرت یوشع بن نون اپنی آخری تقریر میں بنی اسرائیل کے مجمع عام سے خطاب کرتے ہوئے فرماتے ہیں:’’تم خدا وند کا خوف رکھو اور نیک نیتی اور صداقت کے ساتھ اس کی پرستش کرو اور ان دیوتائوں کو دور کردو جن کی پرستش تمہارے باپ دادا بڑے دریا کے پار اور مصر میں کرتے تھے اور خدا وند کی پرستش کرو۔اور اگرخداوند کی پرستش تم کو بری معلوم ہوتی ہو آج ہی تم اسے جس کی پرستش کروگے چن لو…اب رہی میری اور میرے گھرانے کی بات سوہم تو خدا وند ہی کی پرستش کریں گے۔‘‘(یشوع۲۴:۱۴۔۱۵)اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ۴۰ سال تک حضرت موسی کی اور ۲۸ سال تک حضرت یوشع کی تربیت و رہنمائی میں زندگی بسرکر لینے کے بعد بھی یہ قوم اپنے اندر سے ان اثرات کو نہ نکال سکی جو فراعنِ مصر کی غلامی کے دور میں اس کی رگ رگ کے اندر اتر گئے تھے ۔پھر بھلا کیوں کر ممکن تھا کہ مصر سے نکلنے کے بعد فوراً ہی جو بت کدہ سامنے آگیا تھا اس کو دیکھ کر ان بگڑے ہوئے مسلمانوں میں سے بہتوں کی پیشانیاں اس آستانے پر سجدہ کرنے کے لیے بیتاب نہ ہوجاتیں جس پر وہ اپنے سابق آقائوں کو ماتھارگڑتے ہوئے دیکھ چکے تھے۔‘‘(تفہیم القرآن،آیت ذیل)بنی اسرائیل کے لیے مصری غلامی اس قدر ہولناک ثابت ہوئی کہ بعد کی تاریخ میں ان کا یہ مستقل جرم بن گیا کہ وہ اپنے آپ کو بحیثیت قوم کے غلامی کے ان اثرات کو کبھی بھی دھو نہیں پائے۔ غلامی کے اثرات میںخصوصاً گوسالہ پرستی نے بعد کے دور میں ان کا دامن توحید پرستی کے بالمقابل ہمیشہ شرک سے آلودہ رکھا۔لہٰذا یہی مسئلہ اس وقت بھی پوری قوت کے ساتھ وقوع پزیر ہوا جب حضرت موسی علیہ السلام چالیس روزکے لیے کوہ طور پر گئے تو:
وَاتَّخَذَ قَوْمُ مُوسٰی مِنْ بَعْدِ ہِ مِنْ حُلِیِّھِمْ عِجْلاً جَسَدًا لَّہُ خُوَارٌ ط اَلَمْ یَرَوْا اَنَّہُ لاَ یُکَلِّمُھُمْ وَلاَ یَھْدِیْھِمْ سَبِیْلاً م اِتَّخَذُوْہُ وَکَانُوْا ظٰلِمِیْنَ(اعراف:۱۴۸)
’’موسی ؑ کے پیچھے اس کی قوم کے لوگوں نے اپنے زیوروں سے ایک بچھڑے کا پتلا بنایا ۔جس میں سے بیل کی سی آواز نکلتی تھی ۔کیا انہیں نظر نہ آتا تھا کہ نہ وہ ان سے بولتا ہے اور نہ کسی معاملہ میں ان کی رہنمائی کرتا ہے ۔مگر پھر انہوں نے اس کو معبود بنا لیااور وہ سخت ظالم تھے۔‘‘
حضرت یوشع بن نون کا جو قول ہم اوپر نقل کر آئے ہیں…… اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ حضرت موسی علیہ السلام کا بنی اسرائیل میں سے ان لوگوں کا قتل جو گوسالہ پرستی کے جرم کا شکار ہوئے تھے……اس قتل عام کے بعد بھی بنی اسرائیل اپنے دامن کو اس شرک سے پاک نہیں کر پائے تھے۔
(جاری)

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *