نظریہ قوم پرستی ۔ ایک جائزہ

قوم پرستی Nationalismکا تاریخی پس منظر
یورپ میں نیشنلزم کی جڑیں پوپ اور شہنشاہیت کے زوال کے بعد گہرائی تک پہنچیں ۔ دراصل یہ ایک رد عمل تھا پادریوں اور شہنشاہیت کے لا محدود اختیارات کے خلاف جس نے بین الاقوامیت کا لبادہ اوڑھ رکھا تھا۔ سیکولرزم کی طرح نیشنلزم نے بھی مذہبی اور سیاسی اقتدار سے بغاوت کے نتیجے میں جنم لیا اس کی نظریاتی بنیاد اسی طرح ناقص رہی جس طرح اکثر و بیشتر کسی جذباتی ردعمل کی ہوا کرتی ہے۔ قوم پرستی کے عناصر ترکیبی کو سمجھنے کے لئے اس تاریخی پس منظر تک نگاہ ڈالنا ضروری ہے۔ یاد رہے کہ بحث جدید فلسفہ قوم پرستی یا وطنی قومیت سے ہے۔۔۔۔۔ جب ہم اس کی تفصیلات پر غور کرتے ہیں تو حسب ذیل نکات ابھر کر سامنے آتے ہیں۔
(۱) قومی غرور: قوم پرستی صرف قومی یا وطنی رشتہ پر ہی قائم نہیں ہوئی بلکہ قوم کو اعلیٰ و اشرف قرار دینے سے پروان چڑھتی ہے۔ اس قوم پرستی کا لازمی تقاضہ ہے کہ ہم اپنی قوم کو دوسروں سے برتر سمجھیں اور دوسروں کو ڈرانے دھمکانے اور دبانے اور لوٹنے کا حق قومی مفاد کے نام پر اپنے لئے محفوظ کر لیں۔ یہ ہی وجہ ہے کہ امریکی قوم پرستی ہو یا جرمنی کا نازی ازم، برطانیہ کا نیشنلزم ہو یا ہندوستان کا ’’راشٹرواد‘‘ سب اپنی بڑائی کا ڈھول پیٹتے ہیں اور سب نے ہی قومی مفاد کے نام پر دوہرے پیمانے ایجاد کئے ہیں فرق صرف طرز ادا اور طریقہ کار کار ہا ہے۔ ایک سچا قوم پرست وہی ہے یا ہو سکتا ہے جو دوسری قوموں سے بڑھ کر اپنی قوم کے اشرف و اعلیٰ ہونے اور اس کی غیر معمولی صلاحیتوں کا دعویدار ہو۔ بڑائی کے اسی زعم میں قوم پرستوں نے اپنی قوم کی عظمت کے ترانے گائے اور دوسری قوموں کے مقابلے میں اپنی قوم کو خصوصی مفادات کا حق دار ٹھہرایا ۔قوم پرستوں کے اس گھمنڈ کا شکار پڑوسی قوموں کو ہی نہیں بننا پڑا بلکہ انہوں نے اپنے ہم وطن ان لوگوں کو بھی نشانہ بنانا ضروری سمجھا جو ان کے دعوؤں اور ارادوں میں کسی قسم کی رکاوٹ نظر آئے۔ اس کی تازہ مثال ہندوستان کے ان قوم پرستوں کے خیالات اور عمل میں ملتی ہے جو اپنے ہم وطن مسلمانوں اور عیسائیوں بلکہ سکھوں اور بودھوں کے ساتھ امتیازی سلوک روا رکھتے ہیں۔ جرمنوں کا نیشنلزم ہٹلر کی زبان سے جو کچھ کہلاتا ہے، ہندوستان کا نیشنلزم ہندو راشٹر والوں سے بھی وہی کچھ بیان کراتا ہے۔ یا یوں کہئے کہ جرمنی کے آریوں نے اپنے ہم وطن یہودیوں کے ساتھ جو جارحانہ سلوک کیا اسی نوعیت کے منصوبے ہندوستانی آریوں کے پیش نظر ہیں، حالانکہ بظاہر دونوں اپنے نیشنلزم کی بنیاد وطن کی سرزمین پر رکھتے ہیں وہ قوم پرستی کے مجرمانہ کردار کا منھ بولتا ثبوت ہے۔ جرمنی کے نازیوں نے اپنے (ہم قوم؟) غیر آریوں کو ناپاک پیدائشی قوم قرار دیا، تعلیمی مراکز میں ان پر غیر معمولی پابندیاں عائد کی گئیں ۔ انہوں نے حصول تعلیم کے لئے ملک سے باہر جانا چاہا تو صرف چلے جانے کی اجازت دی گئی۔ واپس آنے کی نہیں۔ ملک سے باہر جانے والوں کو اپنی املاک کا نوے فیصد حصہ جرمنی میں چھوڑ جانے کا پابند کیا گیا۔ انگلینڈ میں طویل مدت تک پارلیامنٹ میں داخل نہیں ہونے دیا گیا۔ آکسفورڈ اور کیمبرج جیسی تعلیم گاہوں میں ان کا داخلہ ممنوع رکھا گیا۔ امریکہ کی گوری اکثریت والے قانونی مساوات کے باوجود کلیساؤں میں داخل نہیں ہو سکتے۔ ادنیٰ ہوٹلوں تک میں وہ ایک ساتھ بیٹھنے کی ہمت نہیں کر سکتے۔ حبشیوں کو فوجی خدمت اور مشقت کے کاموں کے لئے تو ملازمت دیدی جاتی ہے مگر ان کا کسی اعلیٰ منصب پر فائز ہونا محال ہے۔ ناقابل تردید واقعات کی بنیاد پر کہا جا سکتا ہے کہ قوم پرستی کا جھنڈا اُٹھانے والے بالا دست عناصر اکثریت اور اقلیت کے لئے دو مختلف پیمانے استعمال کرتے ہیں اور کوئی چیز ان کی راہ میں رُکاوٹ نہیں ڈال سکتی۔ اسی دوہرے معیار کے نتیجہ میں ان کی مرضی قوم کی مرضی (National-will)کہلاتی ہے اقلیتوں کا مقدر یہ رہ جاتا ہے کہ وہ اکثریت کی مرضی میں اپنی مرضی ضم کریں یعنی اپنے وجود کو قوم پرستی کی بھینٹ چڑھا دیں۔
ہندوستان میں نیشنلزم کایہی تقاضہ قرار پایا کہ مختلف تہذیبوں اور زبانوں کی روح سلب کرکے قومیت کے نئے قالب میں ڈھال دیا جائے یہ الگ ہے کہ اس مفہوم یا مطالبے کو الگ الگ الفاظ یا اصطلاحوں میں بیان کیا جاتا ہے۔ ذرا ملاحظہ فرمائیں جرمنی کا ہٹلر کہتا ہے’’ہر وہ شخص جو قومی نصب العین کو اس حد تک اپنانے کے لئے تیار ہو کہ اس کے نزدیک اپنی قوم کی فلاح سے بالاتر کوئی نصب العین نہ ہو اور جس نے ہمارے قومی ترانے ’’جرمنی سب سے اوپر‘‘ کے معنیٰ و مقصود کو اچھی طرح سمجھ لیا ہو یعنی اس وسیع دنیا میں جرمن قوم اور جرمنی سے بڑھ کر کوئی چیز اس کی نگاہ میں عزیز اور محترم نہ ہو ایسا شخص نیشنل شوشلسٹ ہے (History of National SOCIAL ISM)اس کا یہ بھی کہنا ہے ’’اگر ہم نوع انسانی کو تین حصوں میں تقسیم کریں کلچر بنانے والے، اس کی حفاظت کرنے والے اور اس کو غارت کرنے والے تو صرف آریہ نسل ہی کا شمار پہلی قسم میں ہوگا۔ (My struggbe)
ہندوستان قوم پرستی کے دعویدار کا کہنا ہے ’’اقلیت کو بہر حال اکثریت کے رحم و کرم پررہنا ہوگا، ایک ہندو ہی سچا ہندو ستانی ہو سکتا ہے، وہ تمام لوگ جن کے مذاہب کی ابتداء اس بر صغیر سے نہیں ہوئی غیر ملکی ہیں، مسلمانوں، عیسائیوں، یہودیوں اور پارسیوں کو ہندو کلچر اور ہندی زبان اپنانی ہوگی، ہندو مذہب کی تکریم کرنی ہوگی، ہندو نسل اور کلچر و عظمت کو تسلیم کرنا ہوگا۔ ہندو ہی واحد اور اصل قوم ہیں۔ مسلمان اور دوسرے گروہ اگر قوم دشمن نہ سہی تو کم از کم قومی دائرے سے باہر ہیں۔۔۔۔۔۔We and out National hood (از سنگھی گورو گول والکر)
ایسا نہیں کہ قوم پرستی کا یہ نشہ خاص لوگوں پر سوار ہے آنجہانی اندرا گاندھی نے بھی اپنے ایک مسلمان دوست کو صاف صاف تحریر کیا تھا’’اقلیتیں اکثریت کو ناراض کرکے زندہ نہیں رہ سکتیں‘‘ (جنرل شاہنواز اور اندرا گاندھی کی مراسلت ملک و ملت بچاؤ تحریک کے دوران)طوالت سے بچتے ہوئے اتنا ہی کافی ہے کہ نیشنلزم کے پردہ میں جو نسلیت (Racialism)چھپی رہتی ہے وہ پڑوسی ملکوں ہی نہیں اپنے ہم وطنوں کو بھی نہیں بخشتی۔ کسی قوم پرست ریاست کی ابتداء بھلے ہی متحدہ قومیت سے کیوں نہ ہو منزل مقصود ہی قرار پاتی ہے جس کی جانب اشارے کئے گئے ہیں۔
تعصب و نفرت : قوم پرستی کی پیاس خود غرضی اور بے جا فخر سے بھی نہیں بجھتی بلکہ تعصب و نفرت بھی اس کی لازمی غذا ہے وہ صرف اپنی تعریف پر رضا مند نہیں ہوتی بلکہ اس کے لئے دوسروں سے نفرت کرنا اور تعصب رکھنا بھی ضروری ہے قوم پرستی ایک منفی رجحان ہے اور اس کا نشہ پلاکر بہت دن تک افراد قوم کو جمع نہیں رکھا جا سکتا۔ اس لئے ہوشیار قسم کے قوم پرست لیڈر اپنی قوم کو کسی نہ کسی دوسری قوم سے خوفزدہ رکھنے کی منصوبہ بندی بھی کرتے رہتے ہیں۔ اگر کوئی حقیقی دشمن اور واقعی نزاعی مسئلہ موجود نہیں ہوتا تو فرضی دشمن اور نزاعی مسئلے تراشے جاتے ہیں تاریخی انتقام کی آگ سلگائی جاتی ہے اگر تاریخ اس میں ساتھ نہیں دیتی تو تاریخ گھڑی جاتی ہے اور افسانوی انداز کے ہیرو پیدا کئے جاتے ہیں ہمارے ملک میں زوروں سے یہ کام ہو رہا ہے۔ متحدہ قومیت کے آغاز میں تو مشترک دشمن انگریز موجود تھامگر جب وہ رخصت ہو گیا مسلمانوں کے خلاف میدان کا ر زار گرم رکھنے کے لئے جانوروں سے لیکر دیوتاؤں تک کو گھسیٹ کر میدان میں اتارا گیا۔ مسلمان بادشاہوں کے مقابلہ میں ہزاروں سال پہلے کے راجاؤں کو لاکھڑا کر دیا گیا۔ ان پر جارحانہ الزام تراشیاں کی گئیں دوستی، مروت اور انصاف پر مبنی ہزار سالہ حکومت کے ماتھے پر چند واقعات اور مزید افسانوں کے داغ لگا دئیے گئے۔ انہیں حملہ آور اور قزاق ثابت کرنے کے لئے ایک سے بڑھ کر ایک جھوٹ بولا گیا اور ایسی منطق ایجاد کی گئی کہ اگر اس کو صحیح مان لیا جائے تو مسلمانوں سے پہلے وہ خود بھی اسی قطار میں کھڑے نظر آئیں گے۔
قومی خود غرضی: خود غرضی انسانی اخلاق کی بدترین خرابیوں میں سے ہے۔ ایک خود غرض آدمی بھی خود کو خود غرض کہلانا پسند نہیں کرتا ۔ جب ہم اس پیمانے سے ناپتے ہیں تو Nationalismکسی بھی دوسری لعنت سے کم نظر نہیں آتا۔ مفکر اسلام سید ابوالاعلیٰ مودودی جو مغربی نظریات کے کامیاب ترین نقاد ہیں قوم پرستی کی تعریف کرتے ہوئے فرماتے ہیں ’’قوم پرستی کی کوئی حقیقت اس کے سوا کچھ نہیں ہے کہ وہ قومی خود غرضی کادوسرا نام ہے‘‘ اگر ایک سوسائٹی کے اندر اس شخص کا وجود لعنت ہے جو اپنے نفس اور اپنی غرض کا بندہ ہو اور اپنے مفاد کے لئے سب کچھ کر گذرنے کے لئے تیار ہو اگر ایک بستی کے اندر وہ خاندان لعنت ہے جس کے افراد اپنے خاندانی مفاد کے اندھے پرستار ہوں، اور جائز و ناجائز تمام ذرائع سے بس اپنا بھلا کرنے پر تلے ہوں، اگر ایک ملک کے اند وہ طبقہ لعنت ہے جو اپنی طبقاتی خودغرضی میں اندھا ہو رہا ہو اور دوسرے کے بھلے برے کی پرواہ کئے بغیر اپنے فائدے کے پیچھے پڑ جائے مثلاً بلیک مارکیٹ کرنے والے تو آخر انسانیت کے وسیع دائرے میں وہ خود غرض قوم ایک لعنت کیوں نہیں ہے جو اپنے قومی مفاد کو اپنا خدا بنائے۔’’دعوتِ اسلامی اور اس کے مطالبات ‘‘ قوم پرستی کو بطور اصول اپنانے کے بعد جس خود غرضی کا مشاہدہ دنیا کررہی ہے اس کے بعد ہم مکرر کہتے اور علی الاعلان کہتے ہیں کہ تنہا یہی خرابی نیشنلزم کو مردود ٹھہرانے کے لئے کافی ہے۔ امن عام کا خود ساختہ ٹھیکیدار امریکہ اس قومی خود غرضی کا بدترین نمونہ ہے۔ کمیونزم کی خودکشی اور سوویت یونین کے بکھرنے پر اس نے نئے عالمی نظام New World Orderکا نعرہ لگایا اور دنیا دیکھ رہی ہے کہ اس نئے عالمی نظام کے ریشہ ریشہ میں امریکہ کی خود غرضی کس طرح کام کر رہی ہے۔ اسی نام پر دنیا کے پسماندہ بالخصوص مسلم ممالک کے وسائل و ذرائع کو من چاہے طریقوں سے تصرف بیجا میں لایا جا رہا ہے۔ امریکی مفاد کے محور پر منصوبہ بندیاں ہو رہی ہیں کہیں جنگ کے شعلے بھڑکا کر امریکہ کی ہوس کی پیاس بجھائی جاتی ہے اور کہیں امن کے قیام کے نام پر استحصال کا نشتر چل رہا ہے ۔ کتنے ممالک کی اقتصادیات امریکی قوم کے خود غرضانہ ہتھکنڈوں سے برباد کر دی گئی کہیں انسانی حقوق کی بحالی کی آڑ میں ملکوں کو لوٹا جا رہا ہے۔ اور کہیں لاکھوں انسانوں کو فاقہ کشی پر مجبور کر دیا جاتا ہے کہیں آزادی کے نام پر ملکوں کو تقسیم کرایا جاتا ہے اور کہیں آزادی کے طلب پر دہشت گردی کا الزام چسپاں کیا جاتا ہے، کہیں غذا دیکر بیماریاں پھیلائی جاتی ہیں اور کہیں بیماریاں دور کرنے کے لئے دواؤں کے ذریعہ امریکی خزانہ بھرے جاتے ہیں۔ مشرقی تمور میں ریفرینڈم کراکر بحالی امن کے نام پر فوجیں اتاری جاتی ہیں مگر دوسری جگہ اسی نوع کے مطالبات کو مسلسل ٹھکرایا جاتا ہے۔ آخر یہ سب کچھ کیوں؟ اس سوال کا مختصر مگر جامع جواب ہے’’امریکی قوم کی شان و شوکت اور اس کے عیش کدوں کی برقراری کے لئے‘‘۔ اب جنگی منصوبوں اور امن کانفرنسوں دونوں کا اہتمام امریکی مہاجن کے اشاروں پر ہوتا ہے امریکی دیو کی خواہش ہو تو عراق میں دس لاکھ بچوں کو بغیر غذا اور دوا کے ایڑیاں رگڑنے پر مجبور کیا جاسکتا ہے۔ یہ صرف ایک قوم کی قوم پرستی کا حال ہے اگر دنیا بھر کے قوم پرستوں کی خود غرضیوں پر نگاہ ڈالیں تو معلوم ہوگا کہ قومی خود غرضیوں نے انسانیت کا گلا گھونٹ دیا ہے۔ اس کے ضمیر کو خرید لیا ہے یعنی اب خلوص اور دیانتداری کسی فرد کا رویہ تو ہو سکتا ہے مگر کسی قوم کے بس کی بات نہیں رہی جو خود غرضیوں سے بیچ کر اپنے وجود کو قائم رکھ سکے۔
جارحانہ مزاج: ارباب مذاہب کے رویہ کو بہانہ بناکر فی الجملہ مذہب کو خیر باد کہنے کا شور ہم سب سنتے رہتے ہیں باطل پرستوں نے اس بات کو بطور نظریہ پیش کرنے میں پورا زور لگا رکھا ہے کہ اجتماعی معاملات کو مذہب سے اور مذہب کو اجتماعیت سے الگ رکھنا چاہئے۔ لہٰذا اب ایک قوم جدید نظریہ قوم پرستی کے تحت بہت سارے مذاہب کا مجموعہ ہو سکتی ہے کیونکہ سب کا مذہب ان کا پرائیویٹ معاملہ ہے جس کا اجتماعی زندگی سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ یہ الگ بات ہے کہ جس قوم میں جس مذہب کے ماننے والے زیادہ اور زور آور ہوں وہ کس طرح اپنے مذہب کو قومی لباس پہنائیں اور دوسروں کے مذہب کو جس طرح چاہیں مجروح کرتے رہیں جس طرح چاہیں ریاست کو اپنے مذہب کا خادم اور پاسبان قرار دیں اور اقلیتوں کی مذہبی آزادی کو بے معنیٰ بنا کر رکھ دیں۔ بہر کیف عموماً دلیل پیش کی جاتی ہے کہ اگر کسی ریاست کی بنیاد مذہب پر رکھی گئی تو لازماً نفرت پھیلے گی تشدد بڑھے گا یعنی ان کے بقول مذہب لڑاتا ہے۔ کاش یہ لوگ کبھی نیشنلزم کا بھی اسی پہلو سے جائزہ لیتے کہ اس کے مزاج میں کس درجہ جارحیت ہے۔ نیشنلزم کے نام پر مسلسل ہونے والی مقامی جنگوں سے صرف نظر کرکے صرف جنگ عظیم اوّل اور دوم کو دیکھا جائے تو اس کی ہولناکیاں رونگٹے کھڑے کر دیتی ہیں۔ صرف پہلی جنگ میں انسانی ہلاکتوں کی تعداد 13 ملین،زخمی 221ملین، معذورین 7ملین، اور مالی نقصان 186بلین ڈالر ہے۔ اور یہ طے شدہ حقیقت ہے کہ یہ دونوں جنگیں نیشنلزم کے نام پر لڑی گئیں۔ ذرا آگے بڑھ کر U.N.O.کی کار گزاریوں پر نظر ڈالئے جو بالادست قوموں کا اڈہ ہے ایشیائی اور افریقی خاص طور پر مسلم ملکوں کی شکست وریخت اس کا دلچسپ مشغلہ ہے۔ اس کے ہاتھوں ہونے والی ہر بے انصافی اور ہر ظلم کا جواز چند زور آور قوموں کی قوم پرستی ہی عطا کر رہی ہے۔ یعنی وہ جس طرح چاہیں دنیا کی گردن میں اپنی سیاسی اور اقتصادی غلامی کا طوق ڈالیں رکھیں جب چاہیں ملکوں کی سرحدیں تبدیل کر دیں۔ حکومتوں کا تختہ پلٹ دیں اور پھر اپنی ہر تخریب کو تعمیر اور ہر شرارت کو صداقت کا نام بھی دیتے رہیں۔ آخر کیوں؟ اس لئے کہ طاقتور قوموں کا نیشنلزم ایسا ہی چاہتا ہے۔
منفی کردار : یاد رہے کہ قوم پرستی کا اصول یا قوم پرستانہ رویہ ایک منفی رویہ ہے۔ اس کا مزاج تعمیر نہیں تخریب ہے۔ یہ کسی کے خلاف بطور ہتھیار تو مؤثر ہو سکتا ہے۔ مگر جب تک دوسرے سہارے نہ ہوں تعمیری کردار ادا کرنے سے محروم رہتا ہے۔ ہندوستان کی سر زمین میں مصنوعی قوم پرستی کے لئے تعمیری صلاحیتوں کو بروے کار لانا خاص طور پر بہت مشکل ہے آج علاقائیت ، طبقہ واریت اور ذات پات کی بنیاد پر جو معرکہ آرائیاں ہو رہی ہیں وہ دراصل اس وسیع تر نسل پرستی اور علاقہ پرستی کا منطقی نتیجہ ہیں جس کا نام قوم پرستی Nationalismرکھ دیا گیا ہے۔ حقیقت دونوں کی ایک ہے فرق صورت وشکل اور الفاظ کا ہے اگر ایک چیز کے کئے نام رکھ دئیے جائیں یا ایک جنس کو الگ الگ ناموں سے یاد کیا جائے تو اب کوئی بتائے کہ ایک چیز کے کئی نام رکھ دینے اور ایک جنس کو کئی ناموں سے پکارنے سے حقیقت اور اثرات میں کیا فرق پڑ سکتا ہے؟ جیسا کہ عرض کیا جا چکا ہے کہ قوم پرستی دراصل کسی گروہ کی خود غرضی اور اجتماعی غرور کا دوسرا نام ہے۔ یہ نفرت و استحصال سے خوراک حاصل کرتی ہے اس کے رد عمل سے کچھ دوسری نفرتیں اور تعصبات جنم لیتے ہیں۔ جو طبقات اس کے تیر ستم سے زخمی ہوتے ہیں وہ اکثر جوابی قوم پرستی کا سہارا لیتے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ بڑی قوم پرستی چھوٹی قوم پرستی کو کسی برے نام سے یاد کرے۔ مذکورہ صداقت کی گواہی اس پوری صدی کی تاریخ دے رہی ہے یورپ نے نیشنلزم کی راہ پر قدم رکھا تو اسے جنگ عظیم اوّل کی ہولناک مصیبت کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ نہ تو مذہبی جنگ تھی اور نہ طبقاتی جنگ تھی بلکہ متعدد طاقتور قوم پرستیوں Nationalismکا باہمی تصادم تھا۔ ایک جانب اٹلی کا نیشنلزم تھا اور دوسری طرف برطانیہ اور فرانس کا۔ مختلف قومی خود غرضیاں ایک دوسرے سے ٹکرائیں اور دیکھتے ہی دیکھتے پوری دنیا آگ اور خون کے سیلاب میں بہہ گئی۔ پھر بھی نیشنلزم کے دیووں نے ہار نہ مانی اور بیس سال بعد دوسری جنگ عالم گیر جنگ کی بھٹی گرم کر دی گئی۔ جرمنی کا نیشنلزم پوری دنیا میں اپنی خدائی کا ڈنکا بجانے کے لئے میدا ن کار زار میں اتر گیا ۔دوسرے زخمی بھیڑیوں نے اس کا مقابلہ کیا اور فتح حاصل کرنے کے بعد پوری دنیا خصوصاً عالم اسلام کو اپنی ہوس کے پنجوں میں دبا لیا۔ فاتح اقوام نے متحد ہوکر امن عالم کے نام پر ایک ایسا ادارہ قائم کیا جو غالب اقوام کے مفادات کی پاسبانی کا فرض انجام دے رہا ہے۔ U.N.O.جس کے بارے میں لوگوں کو یہ غلط فہمی ہے کہ وہ اقوام عالم کے مابین امن اور دوستی کے لئے کام کر رہا ہے در حقیقت امریکہ ، اور اس کے حلیفوں کی قوم پرستی کا خادم ہے جیسا کہ اس کے نام United Nation’s organisationسے ظاہر ہے یعنی وہ اقوام عالم کی تنظیم نہیں بلکہ جنگ عظیم دوم کے فاتحین کی مجلس ہے اگر دنیا کے سارے ملک اکٹھے ہوکر کسی ظلم کے خلاف فیصلہ کر بھی لیں تو ان فاتح اقوام کا ایک نمائندہ Vetoاستعمال کرکے اس پر پانی پھیر سکتا ہے۔ اب اس کو کیا کہئے کہ مشرقی اقوام خاص طور پر مسلم ممالک اس تنظیم کے ظلم و جبر کو برداشت کر رہے ہیں اور خود میں یہ طاقت نہیں پاتے کہ کم از کم علیحدگی اختیار کر لیں۔ کیا ان تفصیلات کے بعد بھی اس سچ کو جھٹلایا جا سکتا ہے کہ Nationalismتخریبی سرگرمیوں کا سب سے بڑا منبع ہے کیا اتنے بڑے تخریب کار سے تعمیر جہاں کی امیدیں وابستہ رکھی جاسکتی ہیں؟
قوم پرستی کے مطالبات: نیشنلزم کوئی مرتب فلسفہ نہیں ہے نا ہی اس کی کوئی مستند تعریف ہے۔ اجتماعی خود غرضی ،نفرت اور بے جا تعصبات کے داعیات کو ایک اصول اور ایک رویہ کا نام دے دیا گیا ہے۔ اسی لئے قوم پرستی (نیشنلزم) کے تقاضے حسب موقع و ضرورت بدلتے رہتے ہیں ۔ ابتداء قومی ہمدردی، قوم پروری اور قومی حقوق کے معصوم حوالوں سے ہوتی ہے۔ مگر طاقت ملتے ہی یہ اپنا اصلی رنگ روپ دکھانے لگتی ہے قوم پرستی Nationalism اپنے پڑوسیوں کے لئے ہی درد سر نہیں بنتی بلکہ داخلی معاملات میں بھی جارحانہ اقدامات پر اتر آتی ہے۔اگر پہلے سے کوئی ایسی قوم موجود ہو جو زبان اور تہذیب کی یک رنگی کے رشتہ سے بندھی تو الگ بات ہے ورنہ قوم پرست قیادت مکروفریب اور جبر و ظلم کے ہتھیاروں سے ایک ’’قوم‘‘ بنانے پر اتر آتی ہے۔ اس سلسلے میں اسے حقوق انسانی ،جمہوریت اور آزادی کسی کی بھی پرواہ نہیں رہتی۔ قوم اگر مختلف عقیدوں ،زبانوں اور تہذیبوں سے تعلق رکھتی ہو تو طاقتور عناصر کمزور عناصر سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ قومی یکجہتی کے لئے خود کو نئے ’’قومی پیمانے‘‘ میں ڈھال دیں۔ اپنے تہذیبی تشخص کو بھول جائیں تاریخی حقائق کو فراموش کر دیں اور اپنی زبان کا رسم الخط بھی تبدیل کر دیں۔ اتنا ہی نہیں مذہب اگر قوم کے مقابل آجائے تو اس کو بھی خانہ قید (House arrest)کرنے کے احکامات صادر کر دئیے جاتے ہیں۔
آزاد ہندوستان اس طرح کے قومی مطالبات اور قوم پرستانہ کوششوں کی نمایاں مثال ہے جہاں انگریزی سامراج سے لڑنے کے لئے تو ’’ہندو مسلم سکھ عیسائی آپس میں ہیں بھائی بھائی‘‘ کا نعرہ لگایا گیا تھا۔ مگر اب ہندوستانی نیشنلزم کے مطالبات کہاں تک پہونچ گئے ہیں اس کا حال کوئی یہاں اقلیتوں سے پوچھے۔ ’’ہندی ، ہندو، ہندوستان‘‘ اور ’’اکھنڈ بھارت‘‘ کے نعروں میں جو جارحانہ ارادے مضمر ہیں ان کی تفصیل میں جائے بغیر اتنا کہہ دینا کافی ہے کہ اب ہندوستانی قومیت کو ہندو راشٹر واد یا ہندوتو کا ہم معنیٰ بناکر پیش کیا جا رہا ہے اور اس جھوٹ کی پرورش نیشنلزم کے زیر سایہ ہو رہی ہے۔ غرضیکہ نیشنلزم کو مسولینی کا فاشزم اور ہٹلر کا نازی ازم بننے میں کوئی خاص تکلف نہیں ہوتا۔ (جاری)

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *