عصر حاضر کا جہاد! دور نبویؐ کا جہادکیا ہے؟

روزنامہ منصف کے جمعہ ایڈیشن ’مینارہ نور‘ میں مولانا خالد سیف اللہ رحمانی کے مضمون کا عنوان ’عصر حاضر کا جہاد!‘ پڑھ کر حیرت کا جھٹکا لگا۔ فوری طور پر ذہن میں یہ سوال پیدا ہوا کہ اگر مولانا ’عصر حاضر کے جہاد‘پر روشنی ڈال رہے ہیں تو کیا ’دور نبویؐ ‘ کا جہاد کچھ اور تھا؟ کیا اسلامی اصطلاحات کی بدلتے ہوئے دور میں مزاجِ زمانہ کے اعتبار سے تعبیر پیش کی جانی چاہئے یا پھر دور نبویؐ کے پس منظر میں ان کی تشریح کی ضرورت ہے۔ مولانا نے مضمون کے آغاز میں یہ تو کہہ دیا کہ عالم عرب و عالم اسلام میں جاری مسلح جدوجہد ’جہاد کے نام پر فساد‘ ہے اور یہ بھی فتویٰ صادر فرمادیا کہ’انھوں نے مجاہدین اسلام کا لبادہ اوڑھ رکھا ہے لیکن حقیقت میں یہ اسلام دشمن طاقتوں کے آلۂ کار ہیں اور اسلام کو بدنام کرنے کے لئے استعمال ہورہے ہیں۔‘ لیکن پورے مضمون میں اس جہاد کا کوئی مفہوم ہی پیش نہیں کیا جس کی تعلیم دیتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے سورہ توبہ میں فرمایا ’آپ کہہ دیجئے کہ اگر تمہارے باپ ‘ بیٹے ‘ بھائی اور بیویاں اور تمہارے کنبے قبیلے اور تمہارے مال اور وہ تجارت جس کی کمی سے تم ڈرتے ہو اور وہ مکان جنہیں تم پسند کرتے ہو اگر تمہیں اللہ اور اس کے رسول اور اس کی راہ میں جہاد کرنے سے زیادہ عزیز ہیں تو تم اللہ کے حکم ( عذاب کے ) آنے کا انتظار کرو اور اللہ فاسقوں کو ہدایت نہیں دیتا۔‘ ( توبہ: آیت 24)اس میں جہاد سے مراد ’قتال بالسیف‘ واضح ہے کیونکہ اگلی آیت میں حنین کی لڑائی کا تذکرہ ہے۔
مولانا رحمانی نے جہاد کے معنی ’محنت و کوشش‘ کے بتاتے ہوئے ایسی احادیث پیش کیں جن میں کہیں حج کو افضل جہاد‘کہیں والدین کی خدمت کو جہاد سے تعبیر کیا گیا ہے۔ حالانکہ یہ حدیثیں پیش کرنے میں انہوں نے دیانت سے کام نہیں لیا۔ بخاری شریف میں کتابُ الجہاد و السیر کے باب ’جہاد کی فضیلت ‘کی جس حدیث کا حوالہ مولانا رحمانی نے دیا ہے اس میں ام المومنین حضرت عائشہؓ سے مروی ہے کہ انھوں نے کہا یا رسول اللہ ؐ ہم سمجھتے ہیں کہ جہاد تمام نیک عملوں سے افضل ہے کیا ہم عورتیں جہاد نہ کریں آپؐ نے فرمایا ’تمہارے لئے افضل جہاد وہ حج ہے جس میں گناہ نہ ہو۔‘مولانا نے عورتوں کے لئے جہاد سے متعلق حدیث‘ عورتوں کا تذکرہ کئے بغیر اس طرح بیان کیا کہ عام مسلمان یہ سمجھ لیں کہ حج کرنا افضل جہاد ہے۔اس سلسلہ کی ایک اور حدیث مزید واضح ہے جس میں بی بی عائشہؓ سے مروی ہے انھوں نے کہا میں نے رسول اللہﷺ سے جہاد پر جانے کی اجازت مانگی آپؐ نے ارشاد فرمایا ’تم عورتوں کا جہاد حج کرنا ہے‘( اسی میں تم کو جہاد کا ثواب ملے گا) (بخاری) حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبیؐ نے فرمایا ’بوڑھے، کمزور اور عورت کا جہاد حج ہے۔‘ (سنن نسائی) یہ کمزوروں کو رعایت و اجازت ہے ویسے جہاد کا حکم عمومی ہے۔ ابن عباسؓ سے مروی ہے نبی کریم ؐ نے فرمایا ’مکہ فتح ہونے کے بعد ہجرت نہیں رہی (یعنی مکہ سے )البتہ کافروں سے جہاد کرنا اور نیت بخیر رکھنا باقی ہے اور جب تم سے کہا جائے جہاد کے لئے نکلو تو نکل کھڑے ہو۔‘ ابن عباسؓ کی دوسری حدیث جو بخاری کے اسی باب میں ہے ’جہاد اور جہاد کی نیت باقی ہے وہ قیامت تک قائم رہے گی‘ کے الفاظ اضافہ ہیں۔
فضیلت حج والی حدیث کے سلسلہ میں یہ بھی واضح ہو کہ یہ عورتوں کے لئے ترجیح ہے قاعدہ کلیہ نہیں کیونکہ بخاری شریف کے بشمول تمام کتب حدیث میں یہ احادیث موجود ہیں کہ آپؐ جب جہاد کے لئے تشریف لے جاتے تو امہات المومنین کے ناموں کا قرعہ ڈالتے اور جس کا نام نکلتا ان زوجہ مطہرہ کو اپنے ساتھ جہاد میں لے جاتے۔ بخاری شریف کی متعلقہ حدیث میں حضرت عائشہؓ وضاحت فرماتی ہیں کہ ’غزوہ بنی مصطلق میں قرعہ میرے نام نکلا اوریہ واقعہ اس کے بعد کا ہے جب پردے کا حکم اترچکا تھا۔‘ خواتین کے جہاد میں حصہ لینے سے متعلق کئی احادیث ہیں جن میں سے ایک ربیع بنت معوّذ سے مروی ہے وہ کہتی ہیں ’ہم نبی ؐ کے ساتھ جہاد کیا کرتے تھے ہمارا کام یہ ہوتا لوگوں کو پانی پلانا ‘ ان کی خدمت کرنا اور شہید ہونے والوں اور زخمیوں کو مدینہ تک لے آنا۔ ‘(بخاری۔ باب الجہاد) حضرت انسؓ سے مروی ہے رسول اللہﷺ جب جہاد کے لئے جاتے تو ام سلیمؓ اور انصار کی چند عورتوں کو اپنے ساتھ لے جاتے کہ دورانِ جنگ پانی پلائیں اور زخمیوں کی مرہم پٹی کریں۔ (مسلم)
مولانا رحمانی نے عورتوں سے متعلق ایک حدیث کا ادھورا حصہ پیش کرنے کے بعد والدین کی خدمت سے متعلق حدیث کے ذریعہ جذبہ جہاد کو ختم کرنے کی کوشش کی ہے۔ مکمل حدیث یوں ہے۔ عبداللہ بن عمر بن عاصؓ نے کہا کہ ایک شخص معاویہ بن جاہمہ نبی ؐ کے پاس آیا اور آپ سے جہاد میں جانے کی اجازت چاہی آپؐ نے پوچھا تیرے ماں باپ زندہ ہیں وہ کہنے لگا جی ہاں ‘ آپ ؐ نے فرمایا تو جا انہی میں جہاد کر۔‘ رسول اللہﷺ جانتے تھے کہ جاہمہ کے والدین ضعیف ہیں اور ان کی خدمت کرنے والا کوئی نہیں اس لئے آپ نے یہ نہیں پوچھا کہ کیا تو نے اپنے ماں باپ سے اجازت لی ہے بلکہ یہ دریافت کیا کہ کیا وہ زندہ ہیں۔ اس حدیث کی شرح میں محدثین نے لکھا ہے کہ اس شخص کے ضعیف والدین تھے جن کی خدمت کرنے والا کوئی نہ تھا۔ ورنہ سب کے لئے والدین کی خدمت کو جہاد قرار دے دیا جائے تو مجاہدین فی سبیل اللہ نہ ملیں گے۔ اوپر سورہ توبہ کی آیت 24کا حوالہ گزرچکا ہے جس میں ’تمہارے باپ ‘ بیٹے ‘ بھائی اور بیویاں ‘ کہتے ہوئے ان کی محبت میں جہاد فی سبیل اللہ سے منہ چرانے والوں کو عذاب کی دھمکی دی گئی ہے۔ معاویہ بن جاہمہؓ کا واقعہ ایک اقدامی جہاد سے متعلق ہے جو فرض کفایہ ہے علماء کا اس پر اتفاق ہے۔ لیکن دفاعی جہاد ایسا فریضہ ہے جس میں شرکت کے لئے اولاد کو والدین سے اجازت کی ضرورت ہے اور نہ غلام کو آقا سے۔
مولانا رحمانی نے سورہ توبہ کی آیت 41 کے حوالہ سے ’جان و مال سے جہاد‘ کی تشریح میں فرمایا ’جان کے ذریعہ جہاد کا مطلب صرف قتل و قتال نہیں ہے بلکہ اس کا تعلق جہاد کرنے والے کی قدرت اور جن سے جہاد کیا جارہا ہے ان کے حالات سے ہے‘مولانا نے لفظ ’صرف‘ استعمال کرکے یہ تو اعتراف کرلیا کہ اس میں ’قتل و قتال‘ بھی شامل ہے لیکن اس کی حیرت انگیز تشریح کی ہے۔ جن سے جہاد کیا جارہا ہے ان کے حالات سے کیا مراد ہے یہ تو مولانا کا دل ہی جانتا ہے۔ آگے وہ لکھتے ہیں ’جو شخص کسی ظلم کو روکنے کے لئے طاقت کے استعمال پر قادر ہو اس کو طاقت استعمال کرنا چاہئے ‘ لیکن فوراً ہی سنبھل جاتے ہیں کہ کہیں طاقتور مسلمان ’جان و مال سے جہاد‘ پر عمل کا قصد نہ کرلیں چنانچہ ان پر لگام کسنے دوسرے لفظوں میں جہاد کے جذبہ کو ’کچلنے‘ کے لئے یہ شرط لگادی ’طاقت پر قادر ہونے میں یہ بات بھی شامل ہے کہ اس کا عمل قانون کے دائرہ سے باہر نہ چلا جائے‘ کسی ملک میں بسنے والا شہری اس ملک کے قوانین کا پابند ہے‘ اگر وہ قانون و آئین کی حدود سے باہر نکل جاتا ہے تو اس کا یہ عمل درست نہیں کیوں کہ شرعاً اس کے لئے اس کی اجازت نہیں ہے، ایسے عمل سے بدامنی اور انارکی کا ماحول پیدا ہوتا ہے۔‘ اس پر کسی تبصرہ کے بجائے میں رحمانی صاحب سے یہ جاننے کی جسارت کروں گا کہ وہ حاکم وقت ہونے کا دعویٰ کرنے والے یزید کے خلاف امام حسینؓ کے جہاد کے لئے نکلنے کو کیا سمجھتے ہیں ؟جب کہ دیگر تمام امت نے جبراً ہی سہی اسے حاکم تسلیم کرلیا تھا اور اس وقت کے قانون کی روشنی میں امام حسینؓ کا اقدام حکومت وقت سے بغاوت کے سوا کچھ نہیں تھا جس سے انارکی اور بدامنی کے اندیشے لاحق تھے اور اس کے نتائج سے تاریخ کے اوراق بھرے ہوئے ہیں۔ لیکن کیا رحمانی صاحب اس کو جہاد تصور نہیں کرتے؟
’عصر حاضر‘ کے تناظر میں ’اسلام کے بدنام ہونے‘ سے خوفزدہ ہوکر جہاد کے معنی و مفہوم کو بدل کر رکھ دینے کے بجائے علمائے دین کو بالخصوص جو علمائے حق کہلانے کا دعویٰ رکھتے ہیں انہیں چاہئے کہ ’جہاد‘ کا حقیقی اور مکمل مفہوم پیش کریں تاکہ امت مسلمہ کے ذہن میں اس اہم ترین اسلامی اصطلاح کے بارے میں کوئی الجھن باقی نہ رہے اور ’مخالفین‘ پر بھی جہاد کی حقیقت واضح ہو کہ اسلام میں طاقت کا استعمال اندھا دھند نہیں بلکہ پورے اصول و ضوابط کے ساتھ ہے۔ اس کے بجائے جہاد سے ہی انکار کردینا اللہ کی عطا کردہ نعمت ’قلم‘ کی ناشکری سمجھی جائے گی۔ ویسے بھی مولانا نے ’جہاد کے نام پر فساد‘ تو کہا لیکن کیا وہ یہ کہنے کے موقف میں ہیں کہ دنیا میں کہیں جہاد ہوبھی رہا ہے اور ’عصر حاضر‘ میں کوئی گروہ ایسا بھی ہے جسے ’جہادی‘ کا لقب دیا جاسکتا ہے۔ اگر ایسا نہیں ہے تو پھر آپ بخاری کی اس حدیث کی کیا تشریح پیش کریں گے جس میں رسول اللہ ؐ نے فرمایا ’گھوڑوں کی پیشانی سے قیامت تک برکت بندھی ہوئی ہے۔‘ لازمی بات ہے کہ گھوڑوں کی پیٹھ پر بیٹھ کر نہ ہی والدین کی خدمت کی جاتی ہے اور نہ حج کیا جاتا ہے بلکہ وہی جہاد کیا جاتا ہے جس کا جذبہ‘ اہل ایمان کے دلوں سے کشیدکرکے نکال دینے کی آج ساری دنیا میں کوشش ہورہی ہے۔ بخاری کی ہی ایک اور حدیث ہے ’میری امت کا ایک گروہ ہمیشہ حق پر ہوکر لڑتا رہے گا۔‘ دوسری حدیث میں ’قیامت تک ‘ کے الفاظ آئے ہیں۔ان احادیث میں ’جہاد‘ نہیں بلکہ ’قتال‘ آیا ہے اس لئے مولانا رحمانی یہ نہیں کہہ سکتے کہ یہاں لڑائی سے مراد سوشل میڈیا پر حق کے لئے لڑائی ہے۔ اس حدیث کی روشنی میں کوئی بھی دور ’حق کی خاطر لڑائی ‘ سے خالی نہیں ہے تو پھر موجودہ دور میں حق کے لئے لڑنے والے کون ہیں؟ اگر مولانا رحمانی ایسے حق پرست مجاہدین کو پہچان نہیں سکتے تب بھی انہیں یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ دنیا کبھی بھی حق پرست مجاہدین سے نہ خالی رہی ہے اور نہ خالی رہے گی۔
مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے ’عصر حاضر ‘کے اپنے ’جہاد ‘کو حق ثابت کرنے کے لئے جو کھینچ تان کی ہے اس میں دامن حق بھی چھوٹ گیا اور وہ استدلال سے بھی محروم ہوگئے۔ وہ لکھتے ہیں ’اس دور میں پُرامن جہاد کی متعدد ایسی شکلیں سامنے آئی ہیں کہ گذشتہ ادوار میں ان کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا تھا۔ایک سوشل میڈیا اور دوسرے ظلم کے خلاف قانونی جدوجہد‘ محترم رحمانی صاحب پتہ نہیں ’پُرامن جہاد‘ کی اصطلاح کہاں سے ڈھونڈ لائے لیکن انہیں یہ وضاحت ضرور کرنی ہوگی کہ گزشتہ دور سے کیا ان کی مراد ’دور نبویؐ ‘ اور ’دور خلفائے راشدین‘ ہے؟ کہیں وہ ’فقیہ عصر‘ ہونے کے ساتھ ساتھ ’مجدد عصر‘ یا پھر ’مزید کچھ ‘ہونے کا دعویٰ تو کرنے نہیں جارہے ہیں جو اپنے اختیارات سے (نعوذ باللہ) عصر حاضر میں جہاد بالسیف کی جگہ جہاد بالسوشل میڈیا کا فتویٰ صادر کرتے ہوئے اصل جہاد کو ساقط قرار دیں۔ انہیں ’پرامن جہاد‘ کی وضاحت کرتے ہوئے یہ بھی بتانا پڑے گا کہ کیا وہ رسول اللہﷺ اور صحابہ کرامؓ کے جہاد کو نعوذ باللہ ’ پُرتشدد جہاد‘ سمجھتے ہیں! نعوذ باللہ من ذالک۔وہ جہاد جہاں تلواریں چلائی جاتی تھیں‘ خود لگائے جاتے ‘ زرہیں پہنی جاتیں‘ قتل کئے جاتے اور دشمنوں کا تعاقب کیا جاتا تھا۔ جہاں جہاد سے پیچھے رہ جانے والوں پر عتاب نازل ہوتا یا انہیں منافق سمجھا جاتا تھا۔
جہاں تک ظلم کے خلاف قانونی جدوجہد کی بات ہے تو بابری مسجد ہو یا گجرات فسادات ‘ہندوستان میں مسلمانوں کو کہاں انصاف ملا؟ بین الاقوامی محاذ پر فلسطینیوں کو نام نہاد ’عالمی عدالت انصاف‘ کا صرف رکن بننے میں 60 سال لگ گئے۔ افسوس کہ مولانا رحمانی کا قلم اس وقت جوش میں نہیں آیا جب یہ خبریں آئیں کہ احمد آباد میں سینکڑوں مسلم طلبہ سے سرسوتی کی پوجا کروائی گئی!
مولانا رحمانی جس ’مدلل طور پر سنجیدگی کے ساتھ اور شائستہ لب و لہجہ میں پیام محبت و نصیحت ‘ سے دشمنان اسلام کا جواب دینے کی بات کررہے ہیں نعوذ باللہ کیا اللہ کے رسولؐ سے زیادہ کوئی اور شائستہ و سنجیدہ اور مدلل گفتگو کا مظاہرہ کرسکتا ہے لیکن آپؐ کی ہر نصیحت کے جواب میں دشمنان اسلام کی دشمنی بڑھتی گئی۔ حتیٰ کہ آپؐ اور آپؐ کے صحابہؓ کو ہجرت کرنا پڑا۔یہ سلسلہ اس وقت تک جاری رہا جب تک آپ ؐ کو جہاد کی اجازت نہیں مل گئی اور جہاد کے ذریعہ اہل مکہ پر آپؐ کی دھاک نہیں بیٹھ گئی۔
محترم رحمانی نے بڑی جسارت کرتے ہوئے مسلمانوں کے جوش ایمانی کو ٹھنڈا کرنے کے لئے یہاں تک کہہ دیا ’لاٹھی اور تلوار سے بھی بڑی طاقت قانون کی طاقت ہے ‘ اور دوسری جانب حقیقت اور اسوۂ رسولؐ کی مثال یہ ہے کہ اللہ کے رسولؐ کی دعوت اسی وقت غالب آئی جب بدر و حنین کے معرکے ہوئے۔ اہل مکہ کی ریشہ دوانیاں فتح مکہ تک بھی جاری رہیں لیکن جب انھوں نے دیکھ لیا کہ حق اس طاقت کے ساتھ غالب آگیا ہے کہ اب محمدﷺ اور آپؐ کے صحابہؓ کا مقابلہ کرنا ان کے بس کی بات نہیں ہے تب انہوں نے گھٹنے ٹیک دیئے۔ لاٹھی کی اسی طاقت کو رسول اللہﷺ نے گھوڑوں کی پیشانی میں برکت بتائی ہے۔
آخر میں یہ احادیث پیش کرتے ہوئے مولانا رحمانی کا مقدمہ بارگاہ خداوندی میں پیش کرتا ہوں اور ان کے حق میں نیک توفیق اور حق پرستی کی دعا کرتا ہوں۔ (۱) ’جان رکھو کہ جنت تلواروں کے سائے میں ہے۔‘ (۲) ’قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے جو کوئی اللہ کی راہ میں زخمی ہوتا ہے وہ قیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ اس کے زخم سے خون بہہ رہا ہوگا لیکن اس سے مشک کی خوشبو آرہی ہوگی۔‘ (بخاری شریف )قلم کا جہاد کرنے والوں کو اس کی سیاہی سے مشک کی خوشبو کی بشارت کہیں نہیں دی گئی اور سوشیل میڈیا پر انگلیاں چلانے والے ویسی تمنا زندگی بھر نہیں کرسکتے جو رسول اللہﷺ نے سکھائی ہے: ’قسم اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے میں چاہتا ہوں اللہ کی راہ میں مارا جائوں پھر زندہ کیا جائوں پھر مارا جائوں پھر زندہ کیا جائوں پھر مارا جائوں اور پھر زندہ کیا جائوں پھر مارا جائوں۔‘ راوی حضرت ابو ہریرہؓ کہتے ہیں یہ الفاظ آپ نے تین مرتبہ دہرائے۔ بخاری کی اس حدیث میں ’اُقْـتَلُ‘ کا لفظ آیا ہے جس کے معنیٰ قتل ہونا ہے نہ کہ وہ محنت و جدوجہد جو مولانا رحمانی کے تعریف کردہ ’عصر حاضر کے جہاد‘ میں ہے۔
مولانا ابو الحسن علی ندوی ؒ نے ایک موقع پر لکھا ’علما کی جماعت درحقیقت ملت و انسانیت کے لئے ’قطب نما‘ ہے جس سے قبلہ کی سمت متعین ہوتی ہے، اس لئے اس کا صحیح اور سچا رہنا اور اپنا کام کرتے رہنا ضروری ہے۔‘ (علماء کا مقام اور ان کی ذمہ داریاں) رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا ’جو شخص اس حال میں مرا کہ اس نے نہ جہاد کیا اور نہ اس کے دل میں اس کا خیال آیا تو وہ نفاق کی ایک حالت پر مرا۔‘ (مسلم شریف۔ ابو ہریرہؓ)
آنجناب کو ناچیز کا یہی مشورہ ہے کہ اگر آپ کو جہاد اور فساد میں فرق سمجھ میں نہیں آتا تو خدا کے واسطے ایسی تحریریں بھی نہ لکھیں جن سے جوش ایمانی ختم ہو ‘ اسلامی تعلیمات مسخ ہوں‘ لوگوں کے دلوں میں منافقت پروان چڑھے اور اللہ کے دین کے لئے قربانیاں پیش کرنے کا خیال بھی دلوں سے نکل جائے۔

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *