نظریہ قوم پرستی ۔ ایک جائزہ

انسانی بھائی چارہ اور نیشنلزم
نیشنلزم کے بارے میں بھی یاد رکھنا ضروری ہے کہ وہ کسی بھی عالمی نظریہ اور دعوت کا حریف ہے یہ اس لئے کہ قوم پرستی کی عمارت کسی خاص قوم (نسل یا علاقہ) کے لوگوں کے مفاد پر کھڑی ہوتی ہے۔ کسی بھی عالمی دعوت کے فروغ کو نیشنلزم اپنے وجود کے لئے خطرہ تصور کرتا ہے اگر قوم پرست کسی عالمی نظریہ و دعوت سے اتفاق کرتے بھی ہیں تو اسے اصل حالت پر قائم رکھنا نہیں چاہتے یہ ہی وجہ ہے کہ ہندوستان کے قوم پرستوں کو کعبہ کی جانب منھ کرکے نماز پڑھنا اچھا نہیں لگتا۔ جرمنی کے قوم پرستوں کو حضرت مسیح کا یہودی النسل ہونا برا لگتا تھا۔ حتیٰ کہ وہ آنجناب کو غیر یہودی النسل ثابت کرنے سے بھی نہیں جھجکتے تھے۔ تاریخ میں بھی اس کی متعدد مثالیں ملتی ہیں۔ خلافت راشدہ کے بعد جب اموی اور عباسی دور میں قومی (قبائلی) عصبیتیں بھڑکیں تو خلافت کے مقدس دامن کو بھی آلودہ کئے بغیر نہ چھوڑا۔ موجودہ دور کی نمایاں مثال امریکی اور روسی قوموں کی ہے جو خود کو اشتراکیت و جمہوریت کی علم بردار کہتی ہیں مگر انہوں نے ان نظریات کو قوی مفادات کے لئے ایک وسیلہ بنا کر رکھ دیا۔ کوئی نظریہ، کوئی دعوت، کوئی تحریک جو انسان کو بحیثیت انسان خطاب کرتی ہے اور عالمی اخوت کی داغ بیل ڈالتی ہے قوم پرستی کی فطرت سے متصادم ہے۔ قوم پرستی کا تخاطب کسی خاص قوم سے ہوتا ہے۔ اس کے سایہ میں وہی قیادت ابھرتی ہے جو اپنی قوم کے تعصبات اور مفادات کی ترجمان ہو اس لئے فطری طور پر اسے کسی ایسی دعوت و تحریک سے کوئی دلچسپی اور ہمدردی نہیں ہوتی جو جغرافیائی حدوں اور نسلی رشتوں سے آگے بڑھ کر عالم انسانیت کو خطاب کرتی ہو اور اسے انسان بحیثیت انسان عزیز ہو۔ دنیا میں جب تک قوم پرستی کی وبا پھیلتی رہے گی کوئی ایسا نظریہ یادعوت اپنی جڑیں مضبوط نہیں کر سکتا جو قوموں سے نہیں، انسانوں سے پیار کرنا سکھاتا ہو۔ یہ دونوں ایک دوسرے کے حریف ہیں اور یکجا و یکساں ترقی نہیں کر سکتے۔ جہاں قوم پرستی بڑھے گی وہاں پہلے سے موجود انسانی اخوت کو بھی کمزوریا تباہ کئے بغیر نہیں چھوڑے گی۔
نیشنلزم امت مسلمہ کا حریف
یہ بات جاننے اور سمجھ لینے کے بعد کہ ’خود غرضی، فخر بے جا اور تعصب و نفرت قوم پرستی کے لازمی اجزاء ہیں اور فطری طور پر وہ انسانی اخوت اور کسی عالمگیر دعوت سے میل نہیں کھاتی، بلکہ اس کی حریف اور مخالف ہے۔ اس حقیقت تک پہنچنا مشکل نہیں رہ جاتا کہ نیشنلزم امت مسلمہ کا حریف ہے۔
اسلام کی دعوت عام انسانوں کے لئے ہے وحدت الٰہ اور مساوات بنی آدم کی تعلیم اس کی اساس کا درجہ رکھتی ہے۔ وہ رنگ و نسل اور علاقہ و زبان کے تعصبات کا منکر ہے اور انسانی فضل و شرف کا مدار نیکی، خدا ترسی پر رکھتا ہے۔ وہ کالے اور گورے کے مابین فضیلت کی تقسیم نہیں کرتا اس لئے فطری طور پراس کے اور نیشنلزم کے درمیان اصولی اور مستقل نزاع ہے۔ اسلام نے آکر ان مصنوعی اور غیر حقیقی امتیازات کو ختم کر دیا جو انسانوں نے انسانوں کی گردنوں میں طوق غلامی کی طرح ڈال رکھے تھے۔ اس نے حبشی زادے کو مسلمانوں کی سرداری عطا کی اور ابو لہب کی ہاشمیت کو حارج نہیں ہونے دیا۔ اس نے سلمان فارسی کو اہل بیت نبی میں شمار کرایا۔ اور ابو جہل کی قریشیت کو بدر کے میدان میں ذبح کر دیا۔ اس کی تاریخ نے گواہی دی کہ جب مسلمانوں نے دوسرے معیارات قبول کرنے کی غلطی دہرائی تو ان کے ساتھ بھی رعایت نہیں کی گئی۔ خلافت راشدہ اور خلافت بنو امیہ و عباسیہ کو الگ الگ خانوں میں رکھ دیا گیا۔ پہلی چیز اسلام کی مثال ٹھہری اور بعد کے ادوار کو زوال کی علامتوں میں گنا گیا۔ اگرچہ سیاسی قوت اور مادی وسائل کے لحاظ سے ان کی قدر و قیمت کہیں زیادہ تھی۔
آج بھی امت مسلمہ کے احیاء کی راہ میں نیشنلزم ایک زبردست رُکاوٹ ہے۔ اس کے عروج کی راہ کا پتھر ہے۔ اس کی حقیقی ترقی کا طاقتور حریف ہے۔ نیشنلزم کے فتنے کو عالم اسلام میں مختلف وجوہ سے پاؤں پھیلانے کے مواقع میسر آئے۔ صلیبی جنگوں کے اختتام پر اگر چہ امت کے دشمنوں نے شکست تسلیم کر لی تھی۔ مگر یہ بھی ماننا پڑے گا کہ انہوں نے سامنے آکر مقابلہ کرنے کے بجائے چھپ کر وار کرنے کی حکمت عملی اختیار کی اور مختلف محاذوں پر سرگرم ہو گئے۔ وہ اس حقیقت کو سمجھ گئے کہ روح جہاد سے سر شار امت مسلمہ کو مسخر نہیں کیا جا سکتا۔ شہادت کو مقصود و مطلوب قرار دینے والی قوم (جو اپنی ترکیب میں خاص ہے) جنگ و جدال کے میدان میں زیر نہیں کی جا سکتی۔
٭ صدیوں پر محیط جنگوں نے اس حقیقت پر مہر تصدیق ثبت کر دی تھی ٭
افسوس اسلام کے بد نصیب حریفوں نے اس کی تاثیر و صداقت سے صحیح سبق حاصل نہ کیا۔ ادھر امت مسلمہ کی سمت سفر میں کچھ تبدیلیاں آئیں آخرت کے مسافر کی جگہ دنیا کے پر ستاروں نے لے لی۔ خدا پرستوں کے گھروں میں دنیا پرست پیدا ہونے لگے۔ اس کے دشمنوں نے ناقابل تسخیر قلعہ کے شگافوں کو رینگنے والے جانوروں کی طرح استعمال کرنا شروع کردیا۔ وہ دیمک کی طرح ان کے علمی سرمایہ کو چاٹنے لگے اور بچھوؤں کی طرح ڈنک مارنے کو اپنی طبیعت ثانیہ بنا لیا۔ انہوں نے مسلمانوں کے مسلکی اور گروہی اختلافات کو اپنی عیاریوں سے ہوا دی اور امت مسلمہ کو ان گنت خانوں میں بانٹ دیا۔ مسلمانوں کے اخلاقی انحطاط اور سیاسی زوال نے ان کی ہر مشکل کو آسان کر دیا۔ سلطنت عثمانیہ سے ایک بالشت زمین حاصل کرنے میں بھی کامیاب نہ ہونے والے یہودیوں نے مسلمانوں کے ہاتھوں ہی خلافت کی قبا چاک کرا دی۔ ترکوں کو تورانی قوم پرستی کی شراب پلائی گئی اور عربوں میں عرب قوم پرستی کا زہر گھولا گیا۔ ایران کو آریائی قوم پرستی کی طرف پلٹنے پر آمادہ کیا گیا۔ بالآخر امت کی قوم در قوم تقسیم کا سلسلہ دراز ہوتا چلا گیا۔ سب نے دیکھا کہ بنگالی قوم پرستی کے ہاتھوں ایک ایسے ملک کو دو حصوں میں بآسانی بانٹ دیا گیا جو چند سال پہلے اسلام کے نام پر وجود میں آیا تھا اور جس کی بہت بھاری قیمت بر صغیر کے مسلمانوں کو ادا کرنی پڑی تھی۔ آج دنیا کھلی آنکھوں سے یہ بھی دیکھ رہی ہے کہ اس دور میں پاپائیت چل رہی ہے مگر خلافت کے قیام کا تصور بھی پسند نہیں ہے۔ اس ساری فتنہ سامانی میں قوم پرستی کا اصول مرکزی کردار کا درجہ رکھتا ہے۔ قوم پرستی کے تیزاب میں امت کا وجود تحلیل ہوا جا رہا ہے خدا کرے کہ یہ عمل جاری نہ رہ سکے۔ کیا اب بھی اس کی کوئی گنجائش ہے کہ برضاء و رغبت قوم پرستی کے منحوس نظریہ کو گلے لگا یا جائے اور یہ سمجھا جائے کہ اس سے نہ ایمان میں کوئی خلل آتا ہے اور نہ اسلام کو کوئی نقصان پہونچتا ہے۔
ایسا بھی نہیں کہ اسلام کے خلاف قوم پرستی کو صرف استعمال کیا گیا ہے بجائے خود اس میں کوئی بات ایسی نہیں ہے جو خلاف اسلام ہو۔ بعض لوگوں نے تو معاملہ کو پوری طرح سمجھے بغیر اس غلط اندیشی کا اظہار بھی کیا کہ قوم پرستی تو ایک ہتھیار ہے جس سے کوئی بھی قوم اپنا کام نکال سکتی ہے۔ یعنی یہ کہ اگر اسلام کے دشمنوں نے اس سے اسلام کی تخریب کا کام لیا ہے تو ہم اس سے تعمیر کا کام بھی لے سکتے ہیں۔ ایسا سوچنا فکری عدم توازن کا ایک قابل عبرت نمونہ ہے۔ ہم اس بات کو یاد دلاتے چلیں کہ قومیت سے اسلام کا کوئی ٹکراؤ نہیں۔ نہ ہی کسی خاندان یا قوم سے اسے دشمنی ہے۔ فطری امتیازات خاندانی شکل میں ہوں یا علاقائی و لسانی دائروں میں، اسلام ان کو گوارہ ہی نہیں کرتا بلکہ ان کے وجود کو پروان چڑھاتا ہے۔ وہ ہر رنگ اور نسل کے لوگوں کی عزت کرتا ہے اور ہر زبان کو بحیثیت زبان قائم رہنے اور ترقی کرنے کا حق دیتا ہے۔ اس کا نزاع کسی قوم یا قومیت سے نہیں بلکہ قوم پرستی سے ہے۔ جیسے وہ ایک ایک فرد کی شخصیت کو مانتا ہے اسی طرح قوموں کے معاشرتی اور انتظامی وجود کو بھی تسلیم کرتا ہے۔ لیکن اگر کسی شخص کو پرستش کے مقام پر لا بٹھایا جائے تو وہ اس کو فرعونیت قرار دیتا ہے اسی طرح اگر کوئی قوم قوم پرستی کا جھنڈا اٹھا کر چلتی ہے تو اس قومی فرعونیت سے اس کی دشمنی قائم ہو جاتی ہے شرک اور ظلم میں اس سے کیا فرق پڑتا ہے کہ اس کا ارتکاب فرد کرتا ہے یا قوم کرتی ہے؟ قوم پرستی کوئی آلہ نہیں کہ اس کی حیثیت اس کے استعمال پر موقوف ہے بلکہ بجائے خود ایک باطل اصول اور ایک مہلک نظریہ ہے۔ اوقات و احوال کی تبدیلی اس کی حیثیت تبدیل نہیں کرتی یہ اصولاً اسلام کے خلاف ہے اور عملاً امت مسلمہ کے وجود کے لئے خطرہ ہے۔ کیونکہ
؎ اقوام میں مخلوق خدا بٹتی ہے اس سے ٭ قومیت اسلام کی جڑ کٹتی ہے اس سے
(اقبال)
یادش بخیر
قوم پرستی کے سایہ میں خود غرضی، نفرت اور استحصال جیسی برائیاں پروان چڑھتی ہیں۔ اس کے برعکس اسلام بھی ایک امت بناتا ہے یا ایک قومیت تشکیل دیتا ہے جو نسل، علاقہ اور زبان کی قیود سے آزاد ایک عالمی اور آفاقی ’قومیت‘ ہے وہ کل انسانیت کو ایک خاندان سے تعبیر کرتا ہے اور اسے اصول و عقیدہ کی بنا پر صرف دو خانوں میں تقسیم کرتا ہے ایک وہ جو اسلام کے ماننے والے ہیں دوسرے وہ جو اس کو مانتے نہیں پھر وہ امت میں فضل و شرف کی بنیاد رنگ و نسل یا علاقہ پر نہ رکھ کر کردار پر رکھتا ہے۔ اور اسی حسن کردار کو وہ تقویٰ یا خدا ترسی و پرہیز گاری سے موسوم کرتا ہے۔ یہ یاد رہے کہ اسلامی قومیت ایک ایسا وجود ہے جس کو قبول و تسلیم کرکے کوئی بھی فرداس سے اپنا تعلق جوڑ سکتا ہے اور اس کا انکار کرکے اپنا رشتہ منقطع کر سکتا ہے۔ اس لئے اسلامی قومیت کوئی جامد اور غیر اختیاری نسبت نہیں ہے جو انسان کے ترک و قبول کے دائرے میں نہ ہو۔ وہ تو عقیدوں، اصولوں اور احکامات پر مبنی ہے جس کو مانا بھی جاسکتا ہے اور ان کا انکار بھی ممکن ہے۔ اسی لئے قوم کی جگہ ملت، امت اور جماعت جیسے جامع الفاظ موزوں تر سمجھے گئے۔ الفاظ کے اس فرق سے قطع نظریہ واضح حقیقت ہے کہ اسلام بھی ایک اجتماعیت کی تشکیل کرتا ہے جسے مسلم یا اسلامی قومیت کہا جا سکتا ہے۔ا تنا ہی نہیں وہ ایک تہذیب اور ایک معاشرہ کی تعمیر بھی کرتا ہے جس میں کسی خاص رنگ کے لوگوں کو کسی دوسرے رنگ کے افراد پر کوئی برتری نہیں ہے، نہ ہی کسی نسل کو پیدائشی طور پر کسی دوسری نسل پر فوقیت (بڑائی) میسر ہے۔ امت کی قیادت وقتاً فوقتاً قریشی، ہاشمی، فاطمی، عباسی، ایرانی، تورانی، تاتاری، سلجوقی، اور عثمانی ترکوں کے ہاتھوں میں رہی مگر ان کی قیادت کو اس بنیاد پر نہ تو قبول کیا گیا اور نہ رد کیا گیا اس لئے شاعر مشرق نے کہا ہے:
اپنی ملت پر قیاس اقوام مغرب کو نہ کر ٭ خاص ہے ترکیب میں قوم رسول ہاشمی
یہ مقدس قومی وجود امت مسلمہ قوم پرستی سے بہت دور ہے اسے خبردار کیا گیا ’تمہیں کسی قوم کی دشمنی اس بات پر آمادہ نہ کردے کہ بے انصافی پر اتر آؤ۔ انصاف پر رہو یہ ہی خدا ترسی سے قریب ہے‘ (القرآن)
امت جب تک بحیثیت امت قائم تھی تو اس کے بڑے سے بڑے دشمن کی ہمت نہیں تھی کہ اس سے شکست تسلیم کرالے۔ ساری کمزوریوں کے باوجود گذشتہ صدی تک امت مسلمہ کو ایک عالمی قوت Super Powerکا درجہ حاصل تھا۔ ۱۸۸۰ئ؁ میں روسیوں نے خلافت عثمانیہ سے نا جنگ معاہدہ کیا تھا جنگ عظیم اوّل میں ترکی کو ایک فریق خاص کی حیثیت سے شریک رکھا گیا تھا مگر جوں ہی ترک قوم پرستی کا زہر اس کے گلے سے اتار دیا گیا اس کی سطوت قصہ پارینہ بن کر رہ گئی۔ آج دنیا کی ایک چوتھائی سے زیادہ آبادی مسلم ہے اور دنیا کے ملکوں میں ایک تہائی تعداد مسلمان ملکوں کی ہے۔ مگر ان کے حقوق اور وقار کی بحالی کی کوئی صورت نظر نہیں آتی۔ ترکی کا مرد بیمار یورپ کے شفاخانہ سے صحت یاب نہیں ہو سکا۔ عرب قومیت نے عربوں کو سرخروئی نہیں دی۔ فرعونی تہذیب کو یاد کرکے مصر کو عزت نہیں مل سکی۔ تیل کی دولت سعودی شہزادوں کو آبرو مند نہ بنا سکی۔ اور جزیرۃ العرب میں یہودیوں نے اپنے منحوس قدم رکھ دئیے۔ خود ہمارے ملک میں جو حالات رونما ہوئے ان کا تجزیہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آزادی کے جوش میں ہم نے اپنی ملی حیثیت کو اچھی طرح یاد نہ رکھا۔ ہمارے ہی افراد نے ایک ایسی قومیت کا جھنڈا اٹھا لیا جو دلچسپ نعروں اور پر فریب وعدوں سے مرکب تھی۔ ہم نے نہ دیکھا کہ جس قوم پرستی کو گلے لگا رہے ہیں وہ ہمارے ملی وجود کی منکر ہے۔ یہی نہیں بلکہ اس کے لئے خنجر بکف ہے۔ اس قوم پرستی کے سہارے جو سیاسی نظام مرتب ہوا ہم نے اس کو بھی تنقید و تحقیق کی نظروں سے نہیں دیکھا۔ ہماری زبان کھینچ لی گئی، ہماری تاریخ مسخ کرکے پیش کی گئی، ہماری سیاسی تنظیم کو فرقہ پرستی اور علیحدگی پسندی کا نام دیا گیا۔ ہمارے اوقاف تباہ و برباد ہوئے، بچے کھچے شرعی قوانین میں بار بار مداخلت کی گئی، ہمارے جان و مال اور عزت و آبرو کو پامال کیا گیا۔ اگر واقعی اس نئی قوم پرستی (Nationalism)اور اس کے نظام سیاسی میں ہمارا حصہ دار ہونا تسلیم ہو تا تو کیا ہمارے ساتھ یہ سب کچھ ہوتا یا ہو سکتا تھا؟
خلافت کی جانب: ایک طویل مدت کا لمحہ لمحہ پکار کر کہہ رہا ہے کہ مسلمان اگر بحیثیت مسلمان زندہ رہنا چاہتے ہیں، اگر اسلام سے تعلق پر انہیں بجا طور پر اطمینان ہے اور اس کے کامل ہونے پر وہ ایمان رکھتے ہیں تو اسی سے پوچھنا ہوگا کہ اس کی سیاسی منزل کیا ہے؟ وہ کیا اصول ہیں جن کی بنیادوں پر ان کی اجتماعیت کو قائم ہونا چاہئے اور وہ کون سی حدود ہیں جن کو توڑ کر وہ مجرموں اور باغیوں کی فہرست میں شامل ہونے سے نہیں بچ سکتے۔ اسلام صرف مسجد کا دین نہیں ہے اور واقعی نہیں ہے بلکہ پوری زندگی کا دین ہے تو یہ کس طرح مناسب ہے کہ وہ اعلان تو اسلام کا کریں اور دنیا والے اس نسبت سے ہی ان سے معاملہ کریں لیکن وہ اپنی سیاسی منزل کا پتہ راہ چلتوں سے معلوم کریں وہ دینی کتابوں اور وعظ کی محفلوں میں تو منصب امامت قیام خلافت کی یاد تازہ کریں مگر جس کا جی چاہے انکی قیادت کا دعویدار بن بیٹھے اور جس طرف چاہے انہیں لیکر چل پڑے۔ جس مسافر کی منزل متعین نہ ہو، جدھر کسی کو جاتے دیکھے کچھ دور اس کے ساتھ چل پڑے پھر کچھ دیر گزرے کہ کسی اور جانب رُخ کر لے۔ اس کے سفر کا انجام مایوسی اور اضطراب کے سوا اور کیا ہے؟ اس لئے امت مسلمہ کو وہ جہاں بھی ہو خلافت و امامت کے قیام کو اپنا سیاسی نصب العین قرار دینا چاہئے اس کے سارے اہداف جو وقتی اور عارضی ہوں اسی منزل کی طرف جانے والے ہوں نا کہ اس سے دور کر دینے والے۔
امت اگر منزل خلافت کی طرف کوچ کرے گی اور اسے ایسا کرنا ہی پڑے گا تو لازمی طور پر نیشنلزم اور سیکولرزم جیسے مردود نظریات کو بھی خیر باد کہنا پڑے گا انہیں ان سارے معاملات کی بنیاد بھی اسلام پر ہی رکھنی ہوگی اگر کوئی ان کے دین کا دشمن ہے تو وہ کبھی ان کا دوست نہیں ہو سکتا۔ اسلام سے دشمنی اور مسلمانوں سے خیر خواہی ایک فریب کے سوا کچھ نہیں اور دوست ودشمن کی پہچان زندگی کے لازمی تقاضوں میں سے ہے۔ اگر اس شخص کی حالت افسوس ناک ہے جو یہ نہیں پہچانتا کہ اس کا رفیق کون ہے اور حریف کون ؟ تو اس قوم کے حال پر کس طرح اطمینان ہو سکتا ہے جسے نیک و بد کی تمیز، نفع نقصان کا احساس اور دوست دشمن کی پہچان نہ ہو۔ کتنا عجیب ہے مسلمانوں سے یہ مطالبہ کہ وہ مسلمان تو رہیں مگر چلیں ادھر جدھر ہم چل رہے ہیں۔ نماز قبلہ کی جانب رُخ کرکے پڑھتے رہیں لیکن اپنی اجتماعی زندگی کے قافلہ کا رُخ ادھر کرلیں جدھر ہم بتاتے ہیں۔ عقیدہ تو اسلام پر رکھیں مگر فکر و عمل کو ہمارے فراہم کردہ سانچے میں ڈھال دیں۔ تو کیا اسے مسلم دوستی سے تعبیر کیا جا سکتا ہے؟ اگر یہ دوستی ہے تو دشمنی کیا ہوتی ہے؟
نوشتہ دیوار: مؤمنو! میرے اور اپنے دشمنوں کو اپنا دوست قرار نہ دو۔ (القرآن)
اسلام دشمن طاقتوں نے جو حد درجہ دسیسہ کار ہیں ہمارے خلاف جو منصوبہ بندیاں کر رکھی ہیں، اگر ہم ان کو سمجھنے کی کوشش کریں تو واضح طور پر چند حقیقت نوشتہ دیوار کی طرح سامنے آتی ہیں۔ (۱) ترقی و فلاح کے نام پر مسلمانوں کے عقیدوں کو متزلزل کیا جائے بالخصوص قرآن کریم کو رہنما کتاب کے بجائے محض ایک مقدس کتاب کی حیثیت دیدی جائے جس کو بے سوچے سمجھے پڑھ لینے پر مسلمان اکتفاء کر لیں۔ (۲) پیغمبر آخر الزماں محسن انسانیت ؐ سے عقیدت تو برقرار رہے مگر ان کا ہادی وقائد ہونے کا تصور فراموش کرا دیا جائے۔ عرب ممالک میں تو انہیں ایک عظیم عرب کی حیثیت سے پیش کرنے کے لئے مسلسل زور لگایا جاتا رہا ہے تاکہ ایک جانب آپ کی عظیم ترین شخصیت کو عرب قومیت کے حصار میں رکھا جا سکے اور دوسری طرف امت اور رسول کے درمیان ’قومیت‘ کی دیوار کھڑی کر دی جائے (۳) امت سے امت ہونے کا احساس چھین لیا جائے مسلم ممالک میں ایسی قیادتیں ابھاری جائیں جو صرف اپنے ملک اور قوم کی بات کریں (۴) مسلمانوں کے تصور دین پر ضربیں لگائی جائیں، قانون شریعت کو عقائد سے الگ کر دیا جائے اور بدلتے حالات میں جدید قانون کی ضرورت تسلیم کرالی جائے۔ اس طرح اسلام ایک آبائی دین بن کر رہ جائے اور اسے زندگی کے میدان سے بے دخل کر دیا جائے۔ اسی لئے شریعت پر نت نئے اعتراضات شائع کئے جاتے ہیںا ور اس خدمت کے لئے مسلمانوں میں علم فروش دانشوروں کی صف بندی کی جاتی ہے ان کو شہرت دلاکر ان کے واسطے سے ملحدانہ افکار، غلامانہ اجتہاد، لادینی رجحانات کو عام کیا جاتا ہے۔ (۵) مسلمانوں سے اسلام کے احیاء کا تصور چھین لیا جائے حتیٰ کہ باطل قوتوں سے پنجہ آزمائی کا یقین مردہ ہو جائے۔ (۶) فریضہ جہاد کو وحشت و بربریت کا ہم معنی بنا دیا جائے، مجاہدین کو دہشت گردی، ظلمت پسندی، انتہا پسندی جیسی اصطلاحات کے ذریعہ بدنام کیا جائے۔ جو عناصر مصروف جہاد ہوں انہیں امت سے کاٹ کر جرائم پیشہ افراد کے زمروں میں رکھ دیا جائے تاکہ وہ امت کی ہمدردی سے محروم ہو جائیں۔ اس طرح نہ صرف مجاہدین کو کمزور کر دیا جائے بلکہ امت مسلمہ ان کے حوصلوں اور قربانیوں سے متاثر ہوئے بغیر خود کو زوال کی آخری سر حد تک پہونچا دے۔
ان ساری سازشوں کو ناکام بنایا جا سکتا ہے بشرطیکہ ہم امت مسلمہ ہونے اور اسے آبرو مند کرنے کا جذبہ زندہ رکھیں۔ اسے پروان چڑھائیں۔ اور اس کے تقاضوں کو پورا کریں۔ لیکن اگر ہم نے خود فراموشی کے جرم کا ارتکاب کیا احساس امت کو فراموش کرکے قوم پرستی اور لادینیت کے مہلک نظریات کو قبول کر لیا تو دشمنوں کی سازشوں کا مداوا ممکن نہ ہو سکے گا لاقدر اللہ۔ خدا ہمیں ہر طرح کے فتنوں سے محفوظ فرمائے۔ آمین
فرد قائم ربط ملت سے تنہا کچھ نہیں ٭ موج ہے دریا میں اور بیرون دریا کچھ نہیں

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *