ہندو راشٹر ۔ ناقابل تسلیم

تصریحات کے زیر عنوان ہم نے دسمبر ۲۰۱۴ کے شمارہ میں تحریر کیا تھا کہ پارلیمانی الیکشن کے بعد ملک کے سیاسی افق پر نمودار ہونے والا منظر یہ بتا رہا ہے کہ ہندوستان میں جمہوریت دستوری تحفظات،بنیادی حقوق اور سیاسی رجحانات میں نمایاں تبدیلیاں سامنے آسکتی ہیں۔ مراکز اقتدار پر ان لوگوں کا قبضہ ہوتا جا رہا ہے جو نہ تو متحدہ ہندوستانی قومیت پر یقین رکھتے ہیں اور نہ ہی اقلیتوں کو مساوی حقوق دینے پر راضی ہیں۔۔۔۔

تقسیم ملک کے بعد نئی سیاسی حد بندیوں اور دستوری دائرے میں تشکیل پانے والی متحدہ ہندوستانی قومیت کا رشتۂ اشتراک سیاسی حد بندیاں اور دستوری یقین دہانیاں ہیں۔ ان کو وضاحت کے ساتھ تسلیم کیا جاتا رہا ہے۔ہر شہری کو بلا شرط وامتیاز مساوی حقوق اور حیثیت حاصل ہے۔ ان میں وہ مذہبی آزادی بھی شامل ہے جس کے مطابق اپنے اپنے مذہب پر عمل پیرا ہونا ہی نہیں اس کی تبلیغ و اشاعت کا حق بھی حاصل ہے۔ اس دستوری آزادی اور مساوات کو ہندوستان جیسے ملک کی سا لمیت اور استحکام کے لئے بھی ضروری سمجھا جاتا رہا ہے۔ جہاں ہزاروں سال سے مختلف عقیدوں، نسلوں اور زبانوں سے تعلق رکھنے والے لوگ ساتھ ساتھ رہ رہے ہوں۔ وہاں سب کو اطمینان و اعتماد بھی حاصل ہونا چاہئے کہ سیاسی حدود کو قائم رکھتے ہوئے ان کا عقیدہ، مذہب اور زبان و تہذیب کو نہ صرف یہ کہ کوئی خطرہ لاحق نہیں ہے بلکہ وہ مداخلت سے پوری طرح محفوظ ہیں۔ واضح رہے کہ جمہوریت اکثریتی جبر کا نام نہیں ہے۔ دستور میں جن بنیادی حقوق کو تسلیم کیا گیا ہے وہ پیدائیشی حقوق کا درجہ بھی رکھتے ہیں۔ جو کسی کی عطا کردہ مراعات نہیں ہیں جن کو واپس لیا جا سکتا ہو، ضبط کیا جا سکتا ہو یا جنہیں سیاسی، معاشی یا معاشرتی دباؤ کے تحت تبدیل کیا جاسکتا ہو۔ یاد رہنا چاہئے کہ جدید ہندوستان (بھارت) انہیں اصولوں اور بنیادوں کے ساتھ وجود پذیر ہوا تھا۔ کسی عمارت کے استحکام کے لئے اس کی بنیادوں کا مستحکم رہنا بھی لازم ہے۔ تقسیم ملک سے پہلے اور بعد سیاسی اور مذہبی قومیت پر زوردار بحثیں بھی ہوتی رہی ہیں۔ دستور کے بنانے والوں نے شعوری طور پر ان مغربی اصطلاحات سے بھی گریز کیا ہے جن کی کوئی مستند اور معتبر تعریف و تشریح نہیں کی جاسکی ہے۔ واضح رہے کہ ابھی تک نہ تو نیشنلزم کی کوئی وضاحت شامل دستور ہے او ر نہ سیکولرزم کی تشریح کی جا سکی ہے۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ دستوری تمہید (Preamble)میں ریاست کو سوشلسٹ، جمہوری اور سیکولر قرار دیا گیا ہے اور عدالت عظمیٰ (Supreme Court)نے بھی اسے دستور کا حصہ قرار دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ملک کی سیاسی زبان میں جمہوریت، سیکولرزم، سوشلزم اور نیشنلزم کا اس کثرت سے استعمال ہوتا رہا ہے کہ یہ الفاظ موجودہ سیاسی منطق کامحور بنے رہے ہیں۔

ملک کی اکثر سیاسی پارٹیوں کی پہچان بھی بالعموم سیکولر، جمہوری اور قومی پارٹیوں کی حیثیت سے ہوتی رہی۔ البتہ بائیں بازو کے رجحانات رکھنے والوں نے اپنی پہچان میں سوشلزم اور کمیونزم کا اضافہ بھی کیا ہے اور کہنے کی حد تک نظامِ سرمایہ داری کو ختم کرنے کی باتیں بھی کرتے رہے ہیں۔ ہندوستان ایک زرعی ملک ہے اور اس کی کثیر آبادی گاؤں اور قصبوں میں رہتی ہے، اس لئے سیاسی زور آزمائی کا وسیع تر میدان شہروں سے زیادہ دیہات کو ہی سمجھا جاتا ہے۔ انڈین نیشنل کانگریس مسلسل ایک طویل مدت تک مرکز اور ریاستوں میں قابض رہی، اس کے بعد بعض علاقائی پارٹیوں نے ریاستوں (صوبوں) کے حدود میں اپنی طاقت تسلیم کرا دی۔ مگر یہ ساری کشمکش حصول اقتدار کے لئے ہوتی رہی۔ سیاسی اہداف اور ارادوں میں کوئی خاص اصولی یا نظریاتی تبدیلی نہیں آسکی۔ مجموعی طور پر جمہوریت، سیکولرزم، سوشلزم اور ہندوستانی قومیت کی حدود میں ہی بازارِ سیاست گرم رہا۔ مگر ایک خرابی سیاسی پارٹیوں کے وجود کو گھن کی طرح کھاتی رہی۔ اسے موقع پرستی کی سیاست اور بد عنوانی کا چلن اور اہل سیاست کی بے کرداری قرار دیں یا سیکولرزم کی خرابی کہیں۔ رفتہ رفتہ سیاست کا وقار مجروح ہوتا رہا۔ یہاں تک کہ عوام کی یہ رائے راسخ ہوتی چلی گئی کہ ملکی سیاستداں کسی اصول و نظریہ کے پابند نہیں ہیں، سب موقع پرست اور ناقابل اعتبار ہیں، جس کا ایک نتیجہ یہ نکلا کہ طویل عرصہ تک برسراقتدار رہنے والے سیکولر جمہوری عناصر عوام کی تائید و حمایت سے محروم ہو گئے اور گذشتہ پارلیمانی انتخابات کے بعدوہ پارٹی بر سر اقتدار آگئی جو حقیقتاً نہ تو سیکولر ہے نہ جمہوری اور نہ ہندوستانی قومیت پر یقین رکھتی ہے۔ اس کا اپنا ہی نظریہ قوم پرستی ہے۔ یہ پارٹی ایک مخصوص طبقہ اور فرقہ کے مفاد کو ملک کا مفاد قرار دیتی ہے اور ایک خاص نسل کی قیادت کو پورے ملک پر مسلط کر دینا چاہتی ہے۔ اس کے نزدیک مذہبی اقلیتوں کو زیادہ سے زیادہ وہی درجہ دیا جا سکتا ہے جو جرمنی ڈکٹیٹر ہٹلر نے یہودیوں کو دیا تھا یا جو صہیونی ریاست اسرائیل نے فلسطینی مسلمانوں کے لئے مقرر کر رکھا ہے۔ جنہیں اپنے ہی وطن میں تارک وطن بنا کر رکھ دیا گیا ہے اور جو نہ صرف سیاسی آزادی بلکہ ضروریات زندگی سے بھی محروم کر دئیے گئے ہیں۔
موجودہ حالات میں سیاسی فوقیت حاصل کرنے والے عناصر ملکی شہریوں کی تقسیم و تفریق پر یقین رکھتے ہیں اور اپنے ناپاک عزائم کو پورا کرنے کے لئے جارحیت کو بھی جائز سمجھتے ہیں بلکہ اس پر عمل بھی کرتے ہیں۔ آزاد ہندوستان (بھارت) کی تاریخ کا ایک بڑا المیہ یہ ہے کہ اسی شخص کو جسے بابائے قوم (باپو) کا مرتبہ دیا گیا تھا اسی کے سینہ میں ناکردہ خطا کی پاداش میں اس وقت گولیاں اتار دی گئیں جب وہ پوجا پاٹ میں مشغول تھا۔ یہ ’کارنامہ ‘ کس نے انجام دیا اور کیوں دیا کوئی راز نہیں ہے؟ نہ ہی اسے نظر انداز کیا جا سکتا ہے یعنی ان باتوں کو ماضی کی داستان کہہ کر بھی بھلایا نہیں جا سکتا کیونکہ آج بھی اس قاتل کو ہیرو سمجھنے والے ملک میں موجود ہیں اور اس کے مجسّمے نصب کرنے کی مہم چلا رہے ہیں۔ یہ ایک تشویشناک علامت ہے۔ جس طرح بابری مسجد کی شہادت کے وقت یہ ظاہر ہو گیا تھا کہ مسلمانوں کے جان و مال اور دین و تہذیب کی حفاظت کرنے میں ملک کا دستوری ڈھانچہ نظام عدالت، حکومت اور انتظامیہ کسی پر انحصار نہیں کیا جا سکتا، اسی طرح آج بھی یہ سوال ابھر کر سامنے آرہا ہے کہ اپنے عزائم کی تکمیل کے لئے برسراقتدار آنے والے فسطائی عناصر کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں۔ یہ صرف اندیشے نہیں ہیں، آئے دن ان عناصر کی جانب سے ان ارادوں کا اعلانیہ اظہار بھی ہو رہا ہے۔ مرکزی حکومت پر قابض ہونے کے بعد ملک کی دو بڑی ریاستوں (یوپی اور بنگال) میں اپنے تسلط کے لئے شہروں اور دیہات میں فضا خراب کر رہے ہیں۔ اور ایسے گھناؤنے واقعات پیش آرہے ہیں جن کی کسی طرح اجازت نہیں دی جاسکتی۔ اعلانیہ مسلمانوں کو دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ مسجدوں، قبرستانوں، جان و مال اورعزت و آبرو پر حملے ہو رہے ہیں۔ اس طرح مستقبل کی جو تصویر ابھر کر سامنے آرہی ہے وہ کسی طرح قابل برداشت نہیں ہے۔

جارحانہ قوم پرستی کا یہ تصور متحدہ اس سیاسی قومیت سے بھی متصادم سے ہے جو انگریزی استعمار سے جنگ آزادی کے دوران پیش کیا گیا تھا۔ اور جس میں ’ہندو مسلم سکھ عیسائی، آپ میں ہیں بھائی بھائی ‘کا ترانہ بلند کیا گیا تھا۔ اگر ہندو ہی قوم ہیں تو یہ بھی بتانا چاہئے کہ جو ہندو نہیں ہیں وہ کیا ہیں؟ اور ان کی اس ملک میں کیا حیثیت ہوگی؟ کیا انہیں ملک کی سا لمیت اور تحفظ کی ذمہ داری سے بے تعلق اور سبک دوش رکھا جائیگا؟ جارحانہ ہندو قوم پرستی کے دعویداروں کو یہ بھی بتانا ہوگا کہ وہ کس دلیل سے خود کو اس ملک کا تنہا مالک سمجھتے ہیں؟ ان کے ذمہ یہ بھی بتانا ہے کہ مسلمان، عیسائی،بودھ، جین، سکھ اور پارسی کیوں برابر کے شہری نہیں ہیں؟ اور وہ برابر کے شہری ہیں تو مساوی حقوق کے حامل کیوں نہیں ہیں؟ آخر ملک کی پچیس فیصد آبادی کو کس بنیاد پران کے حقوق سے محروم کیا جا سکتا ہے اور جس ملک کے ایک تہائی باشندے دوسرے درجے کے شہری بنا دئیے جائیں گے، اس سے ملک کمزور ہوگا یا مستحکم ہوگا؟ اس طرح کے متعدد سوالوں کا جواب دینا ان لوگوں کے ذمہ ہے جو بلا دلیل اور بلا شرکت غیرے اس ملک کے مالک ہونے کے دعویدار ہیں۔ انہیں یہ بھی بتانا پڑے گا کہ وہ ملک کی ایک تہائی آبادی کو جبر و ظلم کا شکار بنا کر کیا خدمت انجام دے سکیں گے؟ اس تصادم کا کیا نتیجہ نکلے گا؟ اگر ملک میں مسجدیں شہید ہوں گی، گرجے گرائے جائیں گے اور گرودوارے منہدم ہوں گے تو مندروں کا مستقبل کیا ہوگا؟ اگر طاقت ہی دلیل ہوگی تو یقینی طور کمزوروں کا سہارا بھی طاقت ہی رہ جائے گی۔ جسکی طلب کمزوروں میں بھی پیدا ہوگی۔ مجبوریوں اور مشکلوں کے بطن سے نئے ارادے جنم لیں گے اور ایسا بھی ہوتا رہا ہے کہ مضبوط ارادوں سے ٹکراکر بڑی طاقتیں پاش پاش ہو تی رہی ہیں۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ ہندو راشٹر کا تصور ماضی کے ہندو سماج میں مفقود رہا ہے اور ملک مختلف ریاستوں پر مشتمل چلا آتا رہا ہے۔ ہندو مذہب بھی کسی ایک مرتب صورت میں تاریخ کے رکارڈ میں نہیں ملتا۔ بلکہ مختلف ادوار میں اس کی مختلف شکلیں سامنے آتی رہی ہیں۔ معروف ہندو مفکرین نے اس حقیقت کو بھی مانا ہے کہ ہندو مذہب نہیں ہے، سماج اور معاشرہ ہے جوسناتن دھرم، آریہ سماج اور دوسری متعدد شکلوں میں تبدیل ہوتا رہا ہے۔ اسی لئے ہندو راشٹر کا نعرہ لگانے والے بھی ابھی تک کسی ایک دھرم کی بات نہ کرکے ہندوستانی اصل (بھارتیہ مول ) کے مذاہب کے احترام کی بات کرتے ہیں حتیٰ کہ جین و بودھ مذہب کو بھی اسی صف میں شامل کر لیتے ہیں۔ حالانکہ یہ دونوں مذہب برہمنی سماج سے بغاوت کا نتیجہ اور اپنی علیحدہ شناخت کے دعویدار ہیں۔

جارحانہ قوم پرستی کی نمائندہ تنظیم (آر۔ ایس۔ایس) اور اس کے ہم خیال افراد اور اداروں کے ارادے کسی سے پوشیدہ نہیں ہیں۔ اور وہ خود بھی حسب موقع ان کا اظہار کرتے رہتے ہیں۔ گذشتہ پارلیمانی انتخاب کے بعد ان کے حوصلے کچھ زیادہ ہی بلند ہیں۔ ان کے لب و لہجے سے بوئے حکمرانی صاف طور پر محسوس کی جا سکتی ہے۔ مسلمانوں اور عیسائیوں کے بارے میں ان کی ایک مستقل سوچ ہے جس کے تحت نفرتوں کا ماحول بنائے رکھنا ان کے اپنے وجود کی ضرورت ہے۔ ’ہندو قوم ‘کا ان کا اپنا تصور مذہبی نہ ہوکر سیاسی نوعیت کا ہے۔ اپنے سماج کی کمزوریوں پر بھی ان کی نظر رہتی ہے۔ اسی لئے وہ حالات کے تحت اپنے تیور تبدیل کرتے رہتے ہیں۔ ’ہندوتوا ‘کے بجائے ان کا حالیہ نعرہ بھارت کو ’ہندو راشٹر‘ بنانے کا ہے۔ جب کہ اعلانیہ طور پر جو معروف ہندو اسکالر اور مفکرین اس حقیقت کو تسلیم کرتے رہے ہیں کہ ہندوستان ہندوستانیوں کا ہے۔ سوامی وویکانند، رابندر ناتھ ٹیگور، آریہ سماج کے بانی پنڈت دیانند بھی ان میں شامل ہیں۔
سچ کہہ دوں اے برہمن گر تو برا نہ مانے
تیرے صنم کدوں کے بت ہوگئے پرانے
(علامہ اقبالؒ)

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *