سیمی SIMI مرحوم۔۔انصاف پسندوں کو آواز دے رہی ہے

مرحوم سیمی ۲۷ ستمبر ۱۹۷۷کو علی گڑھ میں پیدا ہوئی تھی۔ کہتے ہیں کہ جس وقت اس کا جنم ہوا علی گڑھ یونیورسٹی میں پڑھنے اور پڑٖھانے والے لا دینیت کی چھتر چھایا میں پرورش پا رہے تھے۔ وہاں سے پڑھ کر نکلنے والا ہر شخص اپنے آپ کو بڑے فخر سے کمیونسٹ بتاتا تھا۔مسلمانوں کی اولادیں پڑھ لکھ کر خدا سے اظہار برائت کرتی تھیں۔ان حالات پر روک لگانے کے لئے مسلمانوں کی اولادوں کو خدا آشنا بنانے کے لئے سیمی کو وجود میں لایا گیا تھا۔کہا یہ بھی جاتا ہے کہ یہ سب کچھ جماعت اسلامی کے زیر سر پرستی ہوا تھا۔ اگر ناتھو رام گوڈسے جیسی اولاد کے لئے اس کے ماں باپ کو قصور وار نہیں ٹھہرایا جا سکتا تو سیمی (جس کا جرم ہزار کوششوں کے باوجود ابھی تک ثابت نہیں ہوا) کے لئے جماعت کو کیسے ذمے دار ٹہرا سکتے ہیں۔۔حالانکہ یہ بات جماعت ہی نہیں انصاف پسند ہندو بھی جانتے ہیں اور جماعت تو نہیں کہتی(کیونکہ اس پر بھی تو اکثر حکمرانوں کی نظر کرم ہوتی رہتی ہے )مگر انصاف پسند ہندو کہتے ہیں کہ ایسا کوئی خلاف قانون واقعہ پیش نہیں آیا جس میں سیمی کے کسی بر سر کار ممبر نے حصہ لیا ہو۔ ظاہر ہے ریٹائرڈ ممبران تو پابندیوں سے آزاد ہوتے ہیں اور ان کی حرکات کے لئے سیمی تو کیا کسی بھی تنظیم کو نشانہ نہیں بنایا جا سکتا۔ اسی لئے تو سنگھ کسی کاروائی میں اپنے کسی ممبر کا نام آتے ہی اسے فوراً ریٹائر کردیتی ہے۔ اس سے پہلے بھی کئی بار لکھا جا چکا ہے کہ یہاں تو اندھیر نگری چوپٹ راج ہے۔برسوں سے کرنل پروہت جیل میں بند ہے اور برسوں سے اسے تنخواہ برابر ادا کی جارہی ہے۔مگر دوسری طرف تمام الزامات سے باعزت بری ہونے والے مسلمان کو تنخواہ سے محروم رکھا جا رہا ہے۔
سیمی پر اب تک جو سب سے بڑا ’دہشت گردانہ‘ واقعہ ثابت کیا گیا ہے وہ یہ ہے کہ اس نے بابری مسجد کی شہادت کے واقعے کے بعد جو غم و غصہ وطن عزیز کے مسلمانوں میں پھیلا ہوا تھا اس کے رد عمل میں دو۲ پوسٹر جگہ جگہ چسپاں کئے تھے جن میں سے ایک پر لکھا تھا ’الٰہی بھیج دے محمود کوئی‘۔اور دوسرے پر لکھا تھا۔ ’پھر کوئی صلاح ا لدین اٹھے۔ ‘چونکہ رد عمل کا یہ نظریہ بھی ہمارے حکمران طبقے کی پیدا وا رہے اسلئے اصولاً تو انھیں چپ رہنا تھا مگر مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں نام ’محمود ‘ ایک چڑ بن چکا ہے اسلئے ان پوسٹروں کو سیمی کا سب سے بڑا جرم بنا دیا گیا ہے اور ان ہی پوسٹروں کی دہائی دے دے کر ان پرپابندی کی راہ ہموار کی گئی۔اور پابندی کے بعد تو وطن عزیز میں ہونے والے ہردہشت گردانہ واقعے کو ان کے سر منڈھا جانے لگا۔اور اس میں مضحکہ خیزی کی حد کر دی گئی۔ حالیہ اسمبلی انتخابات سے ۲۰۔۲۵ دن پہلے اخبارات میں خبر آئی کہ کھنڈوہ جیل سے سیمی کے۷دہشت گرد فرار ہو گئے ہیں۔ہم نے مقامی افراد سے پوچھا تو معلوم ہوا کہ خبر کے ساتھ جو نام اور فوٹو ہیں ان میں سے کوئی بھی سیمی والا نہیں بلکہ یہ تمام تو معمولی چور اور گرہ کٹ ہیں۔مقامی حضرات نے یہ بھی بتایا کہ کھنڈوہ جیل سے فرار ہونا ممکن نہیں۔اس سے یہ نتیجہ نکالنا کیا بیجا ہوگا کہ یہ مدھیہ پردیش بی جے پی سرکار کا الیکشن اسٹنٹ تھا۔ کہنا چاہئے کہ اب سیمی کو قربانی کے بکروں کے طورپر بھی استعمال کیا جا رہا ہے۔
سیمی کا ایک ہمزاد انڈین مجاہدین کے نام سے بھی ایجاد کر لیا گیا۔ہمزاد ہے تو غیر مرئی بھی ہے اسلئے اس کا کوئی پتہ نہیں ہے کہیں دفتر نہیں ہے۔ خلا سے آپریٹ کرتے ہیں ٹریننگ سنٹر بھی نہیں ہے اس کے افراد سڑکوں پر یا گلی کوچوں میں کہیں چلتے پھرتے نظر نہیں آتے۔مگر ہر دھماکے کے بعد یا دہشت گردانہ کاروائی کے بعدخلا سے اتر کر ہماری حفاظتی ایجنسیوں کی پکڑ میں آسانی سے آجاتے ہیں۔صرف اتنا ہی نہیں بلکہ اپنے جرائم کے تمام ثبوت بھی ساتھ رکھتے ہیں تاکہ وطن کے پولس بھائیوں کو پسینہ نہ بہانا پڑے اور ان کی نگاہیں ثبوتوں کی عدم موجودگی میں بجرنگ دل، وشو ہندو پریشد، ابھینو بھارت یا سناتن سنستھا کی طرف نہ بھٹک جائے۔
سیمی کا مسئلہ یہ تھا کہ اسے پہلے ہی دن سے اسلامی پابندیوں کے باوجود آزادانہ خطوط پر پروان چڑھایا گیا تھا۔ اسے لا دینیت کے مقابلے میں اقدام کے لئے وجود میں لایا گیا تھا۔اس نے نظریاتی بحران کے دور میں کام کا آغاز کیا تھا۔مولانا مودودیؒ کی تحریروں سے روشنی پاکر سیمی نے اسلام کے حوالے سے معذرت خواہی کی نفسیات پر حملہ کیا۔ انھوں نے دفاع کے بجائے اقدام کی پالیسی اپنائی اور اسی غرض سے ۱۹۹۱ میں اقدام امت کانفرنس رکھی گئی۔ مگر ۱۹۹۱ تک جماعت پر دوسری اور تیسری نسل کے لوگ قابض ہو چکے تھے جو ظاہر ہے سابقون الاولون کی طرح نہ تھے۔ مولانا مودودی ؒکے مطابق تحریک اسلامی کا تنزل شروع ہو چکا تھا۔جماعت یہ سمجھ چکی تھی کہ سیمی کے یہ اقدام انھیں جیلوں میں ہی پہونچائیں گے اسلئے انھوں نے اسی میں عافیت سمجھی کہ سیمی سے خود کو دور کر لیا جائے۔اسلئے امیر حلقہ کے ہر طرح اس کانفرنس کے انتظامات میں شریک رہنے کے باوجود کانفرنس سے چند دنوں پہلے جماعت کے ہیڈ کوارٹر سے یہ اعلان ہو گیا کہ ان کا سیمی سے کوئی تعلق نہیں۔اور وہ سیمی کی سرپرستی سے دست کش ہو رہے ہیں۔خدا بہتر جانتا ہے کہ ایک مسلمان ہونے کی حیثیت سے ہم نہ یہ کہتے ہیں نہ چاہتے ہیں کہ جماعت یا قوم RSS کی طرح اپنے مجرم ساتھیوں کے لئے جانیں لڑا دے مگر حکمرانوں سے یہ تو کہا جا سکتا ہے کہ پہلے ثابت کرو پھر سزا دو۔بلا ثبوت جیلیں بھرنے کا سلسلہ اسی طرح برداشت کیا گیا تو وہ دن دور نہیں جب ہماری تاریخ بھی اسپین کی طرح ہو جائے گی یہ انسان کی عجیب فطرت ہے کہ وہ آخری ضرب پڑنے تک اس خوش فہمی میں مبتلا رہتا ہے کہ جو دوسروں کے ساتھ ہو رہا ہے وہ ہمارے ساتھ نہ ہوگا۔
خدا بڑا مسبب الاسباب ہے اگر اپنے بزدل ہو جائیں تو وہ دوسروں کو کھڑا کر دیتا ہے۔ہمارے جمہوری حکمراں فی الوقت بعض معاملات میں فوجی آمروں کے ریکارڈ توڑ رہے ہیں۔ سیمی پر معلوم نہیں کیوں۲۷ ستمبر ۲۰۰۱ کو پابندی لگائی گئی تھی۔ہمارے نزدیک اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ اسی مہینے میں چند دن پہلے ۱۱ ستمبر کو امریکہ اور اسرائیل کی ملی بھگت سے ایک ایسا حادثہ وجود میں لایا گیا تھا جس کو بنیاد بنا کر خوب اطمینان سے دنیا بھر میں مسلمانوں کا شکار کھیلا جا سکے۔اس وقت ہندوستان کے تخت اقتدار پر وہ پارٹی متمکن تھی جسے مسلمانوں سے ازلی بیر ہے۔اس نے بہتی گنگا میں ہاتھ دھونا اپنا فرض سمجھا اور آقا کی خوشنودی حاصل کرلی۔ادھر Pseudo سیکولر پارٹی بھی اس قسم کے مواقع سے فائدہ اٹھانے میں بڑی استاد ہے۔پابندی اس نے تھوڑی لگائی ہے وہ تو اپنے پیشرو کے کام کو بڑی ہنر مندی سے جاری رکھے ہوئے ہے۔مگر خدا بھلا کرے ٹریبیونل کی جج محترمہ گیتا متل اور تہلکہ کے سابق صحافی اجیت ساہی کا جنھوں نے اپنی کوششوں سے سیمی کے خلاف بنے گئے جال دنیا پر آشکارا کر دئے۔اور گیتا متل نے جو کہ اس وقت دہلی ہائی کورٹ کی جج تھیں۵ اگست ۲۰۰۸ کو سیمی پر سے پابندی یہ کہتے ہوئے ہٹادی تھی کہ حکومت کی طرف سے پیش کئے جانے والے ثبوت پابندی کے لئے ناکافی ہیں۔مگر صرف ۲۴ گھنٹے میں سپریم کورٹ نے حکومت کی ایما پرپابندی دوبارہ نافذ کردی تھی۔ہوم منسٹری نے ایسا کوئی قدم آج تک ہندو دہشت گردی کے خلاف کبھی نہیں اٹھایاہاں سیاسی ضروریات کے لئے بھگوا دہشت گردی کو گالیاں ضرور دی جاتی ہیں تاکہ ضرورت بھی پوری ہو جائے اور سیکولر حضرات کا ’اجتماعی ضمیر ‘ بھی مطمئن ہو جائے اور جانبداری کا الزام بھی سر سے اتر جائے۔
آئیے ملک میں جاری ہندو دہشت گردی پر ایک نظر ڈال لیں۔سب سے پہلے زعفرانی دہشت گردی کے چہرے سے نقاب ہٹانے کا کارنامہ آنجہانی ہیمنت کر کرے کا ہے۔ ان کا مسلمانوں پر اس ملک پر بڑا احسان ہے کہ سب سے پہلے انھوں نے مسلمانوں پر لگے الزامات کی حقیقت جانچنا شروع کی اس میں کامیاب ہوئے اور سنگھ پریوار سے تعلق رکھنے والوں کی گردن تک قانون کے ’لمبے ہاتھ ‘ پہونچائے۔ہندوستان کے شوشل ایکٹیوسٹوں،سیکولرسٹوں اور انصاف پسندوں کے لئے یہ بوالعجبی ہے کہ ان کے قتل کا الزام بھی مسلمانوں پر لگا دیا گیا تھا۔اور سارے دیش کے میڈیا نے اسے چٹخارے لیکر بیان کیا۔
یہ ساری دنیا جانتی ہے کہ آزاد ہندوستان کا پہلا دہشت گردانہ واقعہ ۳۰ جنوری ۱۹۴۸کو مہاتما گاندھی کے قتل کی صورت میں پیش آیا تھا۔مگر وطن عزیز میں RSS کو مقدس گائے کا درجہ حاصل ہے صرف دو لوگوں کو پھانسی دے کر ماسٹر مائنڈ کو کھلا چھوڑدیا گیا۔۱۹۳۴ٍ سے گاندھی جی پر قاتلانہ حملے شروع ہو چکے تھے جنوری ۱۹۴۸ میں پانچویں کوشش کامیاب ہوئی۔سبھاش گتاڑے نے اپنی کتاب گوڈسے کی اولاد میں اس سازش پر بڑی تفصیل سے روشنی ڈالی ہے۔ تمام واقعات میٹینگیں، ہتھیاروں کا حصول سازشی کردار نام بہ نام لکھے ہیں مگر صرف دو لوگوں کو پھانسی دے کر یہ باب بند کر دیا گیا۔یہ اور اس کے بعد بھی جتنے سیاسی قتل ہوئے ایک میں بھی کسی مسلمان کا نام نہ آیا۔اس کے باوجود مسلمانوں کو نشانہ بناناظاہر ہے ہندو دہشت گردی کی حوصلہ افزائی ہی کر سکتی ہے۔وطن عزیز میں فی الوقت سب سے بڑا دہشت گردگروپ نکسلی ہیں مگر درجنوں ایک ساتھ مارنے کے باوجود ان کے ساتھ نرم رویہ ہی اپنایا جاتا ہے۔شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ نکسلی عام لوگوں کو نہیں مارتے۔ ان کے ٹارگٹ عموماً پولس والے یا سیاست داں ہوتے ہیںاور یہ تو آفاقی حقیقت ہے کہ مارنے والے سے سب ڈرتے ہیں۔پھر رنویر سینا نے بھی بہار میں کئی قتل عام کئے مگر چونکہ وہ اونچی ذاتوں کی محافظ ہے اسلئے اس کے ساتھ بھی نرم رویہ اپنایا گیا۔
(۱) ۹؍۱۱ کے صرف دو مہینے بعد وطن عزیز میں بھی بالکل ویسا ہی ڈرامہ رچایا گیا۔ اس وقت NDA کی حکومت بڑے سنکٹ میں تھی اسلئے پارلیمنٹ پر حملہ کروایا گیا۔حفاظتی دستوں نے پہلے تو دہشت گردوں کو اندر گھسنے دیا پھر ایک ایک کو چن چن کر مار دیاکیونکہ زندہ پکڑے جاتے تو کسی نہ کسی طرح پول کھل جانے کا ڈر ہوتاہے۔ پول پھر بھی کھلی مگر ابھی چند دنوں پہلے۔مرکزی وزارت داخلہ کے انڈر سیکریٹری جناب آر وی ایس منی کی زبانی۔
(۲) اپریل ۲۰۰۶ میں ناندیڑ میں بم بناتے ہوئے زبردست دھماکہ ہوا۔اسکے باوجود کہ اس دھماکے میں راجکونڈوار اور ہمانشو پانسے مر گئے پولس کی پہلی کہانی یہ تھی کے یہ پٹاخوں کے دھماکے تھے پولس کو یہ قبول کرنے میںبڑی تکلیف ہوئی کہ بم بنائے جا رہے تھے جو بناتے بناتے ہی پھٹ گئے۔کسی طرح یہ خبر بھی باہر آئی کہ مختلف تلاشیوں کے دوران مسلمانوں کا بہروپ بھرنے کا سامان بھی برآمد ہوا۔مثلاً نقلی داڑھیاں کرتے پاجامے،ٹوپیاں وغیرہ۔اگر اس واقعے کے وقت ارباب اقتدار نیک نیتی ایمانداری اور سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے توبعد میں کم از کم مہاراشٹر میں کوئی دہشت گردانہ واقعہ نہ ہو پاتا۔اس واقعے کو ہندو دہشت گردوں کی حوصلہ افزائی کے لئے دبا دیا گیا۔
(۳) ۱۱ جولائی ۲۰۰۶ کو بمبئی لوکل؛ ٹرین میں ۷ بم بلاسٹ ہوئے۔تمام کے تمام وہ لوگ پکڑے گئے جن کا کبھی کسی زمانے میں سیمی سے تعلق رہا ہوگا مگر اس وقت سب اپنے اپنے دھندوں میں لگ چکے تھے۔جرم بیگناہی قبول کروانے کے لئے ان پر جو تشدد کیا گیااسے دیکھتے ہوئے اے ٹی ایس کے ایک ڈی سی پی جناب ونود بھٹ اس قدر متاثر ہوئے کہ وہ یہ برداشت نہ کر پائے اور خود کشی کرلی۔
(۴) ۸ ستمبر ۲۰۰۶ اور ۲۹ ستمبر ۲۰۰۸۔مالیگاؤں میں اب تک دو قسطوں میں بم دھماکے ہو چکے ہیں۔ستمبر ۲۰۰۸ کے دھماکوں کی تفتیش مسلمانوں کی خوش قسمتی سے آنجہانی ہیمنت کرکرے کر رہے تھے۔انھوں نے صحیح معنوں میں نہایت ایمانداری سے تفتیش کی۔یہیں سے زعفرانی یا ہندو دہشت گردی کے چہرے سے نقاب ہٹنا شروع ہوئے۔معلوم ہوا کہ ابھینو بھارت نامی تنظیم کے ممبران اس میں ملوث ہیں جس کی سربراہ ہمانی ساورکر ہے جو کہ ناتھو رام گوڈسے کی بھتیجی اور ساور کر کی بہو ہے۔
۲۰۰۶ کے مالیگاؤں دھماکو ں کی پولس چارج شیٹ کا حال یہ ہے کہ میناکیوزڈ محمد زاہد دھماکوں کے دن مالیگاؤں سے ۷۰۰ کلو میٹر دور مسجد میں امامت کر رہا تھا اور دوسرا شبیر مسیح اللہ ۸ ستمبر ۲۰۰۶ کے ایک ماہ پہلے سے پولس کسٹڈی میں تھا۔اس کے باوجود نہ حکمرانوں کی آنکھیں کھل رہی ہیں نہ عدالتوں کی۔
(۵) ۱۸ فروری۲۰۰۷ کو سمجھوتہ ایکسپریس میں بم دھماکے ہوئے جس میں ۶۸ لوگ مرے۔ اس سے پہلے ہند و پاک میں قربت بڑھنے کے اشارے مل رہے تھے جو کہ ظاہر ہے فرقہ پرستوں کو نا گوار گذر رہے تھے۔ اس کا الزام بھی حسب روایت سرحد پار کے سر گیا تھا۔
(۶) ۱۸ مئی ۲۰۰۷ کو مکہ مسجد میںبم دھماکہ ہوا جس کے لئے ۲۱ مقا می مسلمانوں کو گرفتار کرکے ٹارچر کے پہاڑ توڑے گئے۔عدالت نے انھیں با عزت بری کردیا۔ اب اس میں بھگوا دہشت گرد ماخوذ ہیں۔
(۷) ۱۱، اکتوبر ۲۰۰۷ میں خواجہ معین الدین چشتی اجمیری کی درگاہ میں بم دھماکہ ہوا۔پہلے تو الزام ان مسلمانوں پر ہی لگایا گیا جو قبر پرستی کے خلاف ہیں۔مگر جلد پتہ چلا یہ بھی بھگوا دھاریوں کا ہی کام ہے۔
(۸) دسمبر ۲۰۰۷ میں سنیل جوشی کا قتل ہوا جسے اب تک ہونے والے کم و بیش تمام بم دھماکوں کا ماسٹر مائنڈ کہا جا سکتا ہے۔ پہلے تو اس کے قتل کا الزام بھی مسلمانوں کے سر ڈالا گیا مگر جب ایمانداری سے تفتیش ہوئی تو معلوم ہوا کہ وہ تنظیم کے لئے خطرہ بن گیا تھا اسلئے اس کے ساتھیوں نے ہی اسے راستے سے ہٹا دیا۔
(۹) تھانے کے گڈکری رنگایتن میں ۴جون ۲۰۰۸ کو بم دھماکہ ہوا جس میں ہندو جن جاگرن سمیتی کے افراد پکڑے گئے جو کہ سناتن سنستھا کا ہی ایک حصہ ہے۔ یہی لوگ پنویل واشی اور رتناگیری کے بم دھماکوں میں بھی ملوث تھے۔
(۱۰) ناندیڑ کی طرح کانپور میں بھی اگست ۲۰۰۸ کو بجرنگ دل کے دو ممبر راجیو مشرا اور بھوپیندر سنگھ بم بناتے ہوئے مر گئے۔
(۱۱) ۲۴ جنوری ۲۰۰۸ کو تن کاسی تامل ناڈو میں آر ایس ایس کے آفس پر بم حملہ ہوا۔بڑا ہنگامہ مچایا گیا۔ اسلامی تنظیموں کے خلاف کاروائی کا مطالبہ کیا گیا۔ مگر پولس نے انتہائی غیر جانبداری اور پیشہ ورانہ مہارت کا ثبوت دیا۔ شہر میں سختی سے لاء اینڈ آرڈر کو قائم کیا گیا اور تفتیش بھی کی۔روی پانڈین کیبل آپریٹر اور ایس کمار آٹو ڈرائیور کو گرفتار کیا گیا جو ۲۳ جنوری تک ہندو منانی کے ورکر رہے تھے۔
(۱۲) ۱۷۔ اکتوبر ۲۰۰۹ کو ناندیڑ اور کانپور ہی کی طرح کا واقعہ گوا میں بھی پیش آیا۔مالگونڈا پاٹل اور یوگیش نائک اسکوٹر پر بم پلانٹ کرنے لے جا رہے تھے کہ وہ راستے میں پھٹ گیا۔ پاٹل مر گیا اور نائک زخمی ہو گیا۔یہ بھی سناتن سنستھا کے ممبر تھے۔ NIA نے اس واقعے میں سناتن سنستھا کے ۱۱ ممبران کو چارج شیٹ کیا ہے۔
درجنوں واقعات مثلاًجرمن بیکری بلاسٹ، بودھ گیا دھماکے وغیرہ ابھی باقی ہیں۔ کس کس کا رونا رویا جائے۔کہاں تک لکھا جائے۔ہمارے پاس ایک لمبی فہرست ان لوگوں کی ہے جنھوں نے دیش سے غداری کی تھی۔ ملک کے راز دشمنوں کو بیچے تھے۔ یہاں تک کے دیش کے ہتھیار بھی انھوں نے دیش کے دشمنوں کو بیچا۔سب کے سب ہندو ہیں۔ ہم یہاں چند نام ہی دے رہے ہیں۔(۱)مادھوری گپتا۔ یہ تازہ ترین واقعہ ہے۔پاکستان کے بھارتی سفارت خانے میں کام کرتی تھیں۔آئی ایس آئی کے کسی آفیسر کے عشق میں مبتلا ہوکر یا پھر’ لکشمی ‘کے لئے اپنے راز بیچ رہی تھیں(۲)روندر سنگھ۔را کا آفیسر۔امریکی ایجنسی سی آئی اے کے لئے جاسوسی کر رہا تھا۔شاید یہ وہی شخص ہے جسے NDA کے دور حکومت میں بھاگنے کے پورے مواقع دئیے گئے(۳)سکھجندر سنگھ۔نیوی آفیسر۔ ایک روسی خاتون کے عشق میں مبتلا تھے (۴)منموہن شرما۔ چین میںبھارتی سفارت خانے میں اعلیٰ افسر۔ایک چینی خاتون کے ساتھ تعلقات کی وجہ سے واپس بلا لئے گئے۔ وہ چینی مخبر تھی۔(۵)یشودا نند سنگھ۔CRPF سب انسپکٹر۔نکسلیوں کو ہتھیار بیچنے والے گروہ کا سرغنہ۔۔۔بہت لمبی لسٹ ہے مگر اس میں ایک بھی مسلمان نہیں۔آئیے اب عدالتوں کی روش پر بھی نظر ڈال لیں۔
(۱) پارلیمنٹ حملہ کیس میں ہماری عدالتوں نے افضل گرو کو پھانسی پر چڑھا دیا۔ اپنے فیصلے میں محترم جج کچھ اس طرح لکھتے ہیں کہ سازشیوں کے جرم کی شدت کو الفاظ میں بیان نہیں کیا جاسکتا کیونکہ اس جرم کی وجہ سے بہت لوگ ہلاک ہوئے حکومت کے کام کاج پر اثر پڑااور لوگوں کی روز مرہ زندگی متاثر ہوئی۔اس حادثے میں ہلاکتوں کی غیر معمولی تعداد(حیرت ہے کہ فسادات میںہلاکتوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہوتی ہے مگر آج تک کوئی نہیں ہلا۔کیا انسانوں کے ضمیر بھی الگ الگ طرح کے ہوتے ہیں)نے قوم کو ہلا دیا تھااب اجتماعی ضمیر اسی وقت مطمئن ہوگا جب اسے capital punishment دیا جائے گا۔یہ فیصلہ کورٹ نے اس وقت دیا تھا جب اس کے پاس افضل گرو کے ملوث ہونے کے ٹھوس ثبوت نہیں تھے۔اب تو چند ماہ پہلے وزارت داخلہ کے انڈر سیکریٹری نے یہ قبول کر لیا ہے کہ یہ اور ہیمنت کرکرے کی شہادت والی ۲۶؍۱۱کا واقعہ حکومت sponserd تھا۔ اب قوم کو مارو گولی جج صاحب بتائیں کہ ان کا ضمیر کیا کہہ رہا ہے۔اگر واقعی وہ با ضمیر ہیں انصاف پرور ہیںتو انھیں چاہئے کہ آر وی ایس منی کو کورٹ میں بلائیںاور اس واقعے کے ذمے دار حکمراںکو بھی capital punishment سے نوازیں (۲)۳۰ ستمبر ۲۰۱۰ کو الٰہ آ باد کی ہائی کورٹ بنچ نے بابری مسجد کے حق ملکیت کے تعلق سے جو فیصلہ سنایا ہے وہ دنیا کی عدالتی تاریخ میں معلوم نہیں کن حرفوں میں لکھا جائے گا۔ کیس صرف اتنا تھا کہ وہ زمین مسلمانوں کی ہے یا نہیں۔مگر منصف محترم نے اسے تین مختلف تنظیموں میں تقسیم کر دیا جبکہ اس بات کا سارے فسانے میں ذکر ہی نہیں تھا تقسیم کوئی بھی نہیں چاہتا تھا۔اس فیصلے کو دیکھ کر پاکستانی بھی ہم پر نظریۂ ضرورت کی ایجاد کا الزام لگا سکتے ہیں۔وہاں جرنیلوں سے ڈرنا پڑتا ہے یہاں فرقہ پرستوں سے (۳)ثبوت نہ ہونے کے باوجود ہماری عدالتیںایک مسلمان کو اسلئے پھانسی پر لٹکا دیتی ہیں کہ ایک جرم جو اس نے کیا (یا نہیں)مگر اس سے بہت سی ہلاکتیں ہوئیں اور ’لوگوں کی روز مرہ زندگی متاثر‘ ہوئی۔ اگر اس سے یہ سمجھا جائے کہ ہماری عدالتوں کو عوامی زندگی کی بڑی فکر ہے تو بے جا نا ہوگا مگر ان ہی عدالتوں نے آج سے چند سال پہلے دہلی میں ۱۸۲۷۶ اور بمبئی میں ۸۵۵عمارتوں کو ناجائز قرار دے کر منہدم کرنے کا حکم دیا تھا۔ کیا اس سے عوامی زندگی متاثر نہیں ہوئی تھی۔بجائے عمارتوں کو گرانے کے اس کے بنانے والوں اور اس میں مدد کرنے والوں کو پھانسی دینے کا حکم دیا ہوتا تو اجتماعی ضمیر مطمئن ہوتا۔ مگر عدالتیں جیسے فیصلے دے رہی ہیں اس سے تو اجتماعی ضمیر رو رہا ہے۔سنیل جوشی کے قتل سے تو سادھوی کو بری کر دیا گیا۔ مگر بری ہونے والے بھگووں جس مالیگاؤںکے دھماکوں میں گرفتار ہیں اس میں پہلے سے گرفتار مسلمانوں کو آج بھی بری نہیں کیا گیا۔ وہ صرف ضمانت پر ہیں۔
کسی بھی ملک میں اگر عدالتیں چست اور درست رہیں تو ملک کے دیگر شعبے مع حکمرانوں کے اپنے فرائض برابر انجام دیتے ہیں ورنہ پھر ملک میں دھیرے دھیرے جو انارکی پھیلتی ہے وہ سب سے پہلے اس کی ہمت افزائی کرنے والوں کی بھینٹ لیتی ہے پھر یکجہتی اور ملکی سا لمیت بھی داؤں پر لگتی ہے۔ آج عدالتوں کا کام خاص آدمیوں کو بچا کر عام آدمیوں کو سزائیں سنانا رہ گیا ہے۔ مسلمانوں نے جہاں بھی حکومت کی ہے ہزار یا کم سے کم ۵۰۰ سال تو حکومت کی ہی ہے۔انسانی نفسیات کو دھیان میں رکھ کر سوچیں کہ کیا کوئی ظلم اور نا انصافی کے ساتھ کسی بھی قوم پر اتنے طویل عرصے تک حکومت کر سکتا۔انگریز بھی انصاف پسند ہی تھے مگر صرف نسل پرستی کے مرض کی وجہ سے سو ڈیڑھ سو سال ہی حکومت کر پائے۔پھر وہ اپنے آپ کو آخر تک بیرونی قوم سمجھتے رہے۔ مسلمان تو جہاں گئے وہاں جذب ہو گئے۔مقامی سے بڑھکر مقامی ہونے کا ثبوت دیا ورنہ ہندوستان سونے کی چڑیا کیسے بنتا۔مقامی آبادی کا اتنا خیال رکھا گیا کہ گئو کشی پر پابندی تو نہ عائد کی گئی مگر اس کی حوصلہ افزائی بھی نہ کی گئی۔بابر نے ہمایوں کو اپنی وصیت میں گائے کے گوشت سے اجتناب کا مشورہ دیا تھا۔انصاف کیجئے اور حکومت کرئیے۔یا تو سیمی پر سے پابندی ہٹائیے یا پھر اسے عدالتوں سے مجرم ثابت کیجئے۔سنگھ پریوار کی مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث تنظیموں پرپابندی لگائیے یا پھر انھیں بے گناہ ثابت کیجئے۔مگر یہ کام آپ کی زرخرید پولس کے ذریعے نہ ہو۔
آخری بات۔ اگر کمیونسٹ کمیونزم کے اصولوں پر کاروبار حکومت چلانے کی بات کر سکتے ہیں۔اگر بھگوا وادی ہندو راشٹر اور رام راجیہ کی بات کرسکتے ہیں بلکہ اس کے لئے مار اور مر سکتے ہیںتو پھر اسلامی خلافت کی بات کرنے سے زمین کیوں پھٹ جاتی ہے اور آسمان کیوں ٹوٹ پڑتا ہے۔اور یہ بات تو بڑی مشہور ہے کہ گاندھی جی کہا کرتے تھے۔I want to see the period of Umar

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *