یہ انسانیت کش جدید تعلیم و تہذیب

دہلی کے ایک ہی دن کے دو بڑے اخباروں میں انتہائی پڑھے لکھے لوگوں کے ذریعہ دل دہلانے والے جرائم کی خبر جدید تعلیم و تہذیب کے چہرہ بدنما حصہ کو اجاگر کر رہی ہے۔ پہلی خبر کے مطابق غازی آباد کے گوڑ گلوبل ولیج میں رہنے والے سافٹ ویئر انجینئر روہت شرما نے اپنی بیوی روچی شرما کو کرکٹ کے بلّہ سے مار مار کر ہلاک کردیا۔ جھگڑا صرف یہ تھا کہ روچی نوکری کرنا چاہتی تھی۔ اور روہت نوکری سے منع کرتا تھا۔ کل صبح مسئلہ پر بحث ہوئی تھی اپنے ہی 9سالہ بچے کے کرکٹ بلہ سے مار مار کر اپنی بیوی کو بے رحمانہ طریقہ سے موت کی نیند سلا دیا۔ (14/3/15انڈین ایکسپریس )
دوسری خبر میں مدھیہ پردیش میں IITدہلی کے فارغ انجینئر نے اپنی بیوی دو بیٹیوں ایک نو سال اور ایک دو سال کو صرف وہم کی بنا پر کہ ہم سب کو AIDSہو گیا ہے۔ پورے خاندان کو کار میں بٹھا کر اجتماعی خودکشی کے لئے گاڑی میں آگ لگا دی تاکہ پورا خاندان اکٹھا جل جائے۔ مگر یہ انجینئر گاڑی کھائی میں گرنے کے بعد گاڑی سے باہر نکل آیا اور گاڑی میں پٹرول چھڑک کر آگ لگادی مگر خود جلتی گاڑی میں نہیں گھسا۔ نتیجتاً ماں اور بچیاں جل کر خاک ہو گئیں اور یہ پتھر دل انجینئر زندہ بچ گیا۔ پولیس کی جانچ میں یہ ایڈس کا مریض بھی نہیں پایا گیا۔ جبکہ اس کا کہنا ہے کہ میں جب دہلی میں پڑھتا تھا طوائفوں سے تعلق رکھتا تھا اس کے نتیجہ میں مجھے ایڈس ہو گیا تھا۔ میں نے سوچا ہم سب کو الگ الگ مرنے کے بجائے ایک ساتھ مر جانا چاہئے مگر آخیر وقت پر میں اس کی ہمت نہیں جٹا پایا۔ (ٹائمس آف انڈیا 14/10/15)
یہ اکا دکا واقعات نہیں ہیں بلکہ پوری نئی جدید تعلیم یافتہ اور تعلیم حاصل کر رہی نسل کا رجحان ہے جس کی بنیادہی مادہ پرستی، شکم پرستی اور جنس پرستی کے خمیر سے اٹھائی گئی ہے۔ پروفیسر طاہر محمود کا شمار بھارت کے اہم مسلم قانون داں حضرات میں ہوتا ہے۔ یہ اقلیتی کمیشن کے چیئرمین بھی رہ چکے ہیں۔ مدراس ہائی کورٹ کی مدورائی بنچ نے ایک فیصلہ میں بھارتیہ قانون کے ذریعہ مقرر شادی کی کم سے کم عمر کے خلاف اپنی بیٹی کے نکاح کرنے کے ممانعت مجسٹریٹ کے ذریعہ روک کے فیصلہ پر تصدیقی مہر لگاتے ہوئے کہا کہ 2006ئ؁ کا نابالغ کا نکاح قانون ہر پرسنل لاء کے اوپر ہے۔ یہ تمام طبقات پر لاگو ہوگا۔
پروفیسر طاہر محمود صاحب تبصرہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں ’مسلمانوں کے روایتی پرسنل لاء کے بہت سے قوانین جو کچھ امور کی صرف اجازت دیتے ہیں جیسے تعداد ازدواج اور یکطرفہ طلاق وغیرہ ان کو غیر منصفانہ طریقہ سے الہامی مقدس میں سمجھ لیا گیا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دستور صرف ان حقوق کی حفاظت کی گارنٹی دیتا ہے جو ناگزیر مذہبی ہیں مگر ان روایات کی نہیں جن کی مذہب نے صدیوں پہلے اجازت دی تھی۔ اس زمانہ کے حالات کے مد نظر یہ دعویٰ کرنا کہ کوئی بھی الہامی یا آسمانی قانون دستور سے اوپر ہے احمقوں کی جنت میں رہنے کے مترادف ہے۔ (انڈین ایکسپریس 14/3/15)
پروفیسر موصوف کا کہنا ہے کہ شادی کی کم سے کم عمر قرآن و حدیث میں کہیں نہیں ہے۔ فقہ میں اسے 9-12یا 15مانا گیا ہے (دونوں کے لئے)۔ امید ہے کہ پروفیسر موصوف کی آرا پر مسلم پرسنل لاء بورڈ کے ذمہ داران تفصیلی وضاحت فرمائیں گے۔ ؟؟

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *