بنی اسرائیل،ارض موعود اور مسیح

گزشتہ پانچ قسطوں میں بنی اسرائیل کی تاریخ کے مختلف مراحل جن میں اللہ کے انعامات،بنی اسرائیل میں طویل سلسلہ نبوت،یہود کی تاریخی سرکشیاں،انبیاء و رسل کے خلاف معاندانہ رویہ،کتب آسمانی میں تحریف،عروج کے بعد تنزل و غلامی،قارئین مطالعہ کر چکے۔ یہود کی طبیعت کے اس بگاڑ کو قرآن مجید نے وضاحت کے ساتھ بیان کیا ہے۔مسلسل تنزل اور اقوام عالم سے تکلیف و نکبت اور اپنی کمزوری و بزدلی کی وجہ سے یہود میں ایک ایسا طبقہ وجود میں آیا جو انبیاء سابقین کی پیشن گوئیوں کی ایسی تشریح و تفسیر میں لگا رہا جو آخری وقت سے تعلق رکھتی ہیں۔ بنی اسرائیل جو بغیر جد و جہد اور جہاد و قتال کے محض آرزئووں اور تمنائوں کی دنیا میں جی رہے تھے،کسی ایسے مسیح کے انتظار میں زمین ہموار کر ہے ہیں جو ان کو اس لعنت سے آزادی دلائے جس میں یہ جی رہے ہیں یا جینے پر مجبور ہیں۔یہود نے مسیح(دجال)کی آمد کے لیے سب سے کامیاب جو چا ل چلی …… جس میں وہ کامیاب بھی رہے…… وہ عیسائیت کو ’مسیح‘کے نام سے اپنے دام فریب میں گرفتار کرلینا ہے۔آج عیسائی دنیا اس مسیح کے انتظار میں ہے جو ان کا نہیں بلکہ یہودیوں کا مسیح دجال ہے۔جس کی آمد یہود کی بقا کے بجائے ان کے اختتام کا پیش خیمہ ثابت ہوگا۔وہ مسیح جسے یہود ’امن کا بادشاہ‘کہتے ہیں اس کے خروج کا تعلق براہ راست فلسطین میں بڑے پیمانے پر یہود کی آبادکاری سے ہے۔فی زمانہ پوری دنیا اور خصوصاً مسلم دنیا جس طرح سے یہود کے پنجہ استبداد کا شکار ہے، وہ سب اسی معرکہ سے تعلق رکھتے ہیں۔چنانچہ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم مسئلہ ارض موعود(فلسطین) اور مسیح دجال کو سمجھنے کی کوشش کریں۔
مسیح(دجال)کے متعلق یہود کی سوچ کیا ہے؟ان کی آسمانی کتابوں جن میں بڑے پیمانے پر یہ تحریف کر چکے ہیں اور وہ ساری پیشن گوئیاں جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور رسول اللہﷺ کے متعلق تھیں انہیں دجال لعین پر چسپاں کر چکے ہیں……میں کس طرح کی پیشن گوئیاں ہیں؟فی زمانہ یہود اس مسیح کی آمد کی تیاریاں جسے یہ اپنا نجات دہندہ سمجھ رہے ہیں کس انداز میں کر رہے ہیں؟اس مقصد کے لیے یہود نے عیسائیت کو کس طرح بے وقوف بنایا؟اور عیسائی دنیا یہود کے مسیح کی آمد کی تیاری کتنے بڑے پیمانے پر کر رہی ہے؟ مسیح کے باب میں ارض موعود اور ہیکل سلیمانی کی تعمیر کیا معنی رکھتی ہے؟اس تیسرے ہیکل سلیمانی کی تعمیر میں یہود کس قدر آگے بڑھ چکے ہیں ؟ان سوالات کے جواب ہمیں یہود کی موجودہ جد و جہداور مختلف ناموں سے پوری دنیا پر ان کے کنٹرول سے ملتے ہیں۔جو صدیوں اپنے قبیح جرائم کی بنا پر اللہ، رسول،ملائکہ اور مومنین کی لعنت جھیل رہے ہیں اور بجائے اپنی حالت سدھارنے کے اپنی بیجا خواہشات اور اَیمان کی تکمیل کے لیے اب وہ ساری پیشن گوئیاں جو ماضی میںانبیاء علیہ السلام نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام اورر سول پاکﷺ سے متعلق بیان کی تھیں اپنے من پسند قائد،مسیح (دجال)پر چسپاں کرکے اس کی آمد اور اس کی خروج کے لیے ماحول سازگار کر رہے ہیں۔
ارض موعود اور المسیح(دجال)کے باب میں یہود جو عقائد رکھتے ہیں وہ حسب ذیل ہیں:۔
ارض موعود:
فلسطین میں جرائم کی بہتات اور نبیوں کی مسلسل تنبیہات کے باوجود جب یہود نہ تائب ہوئے اور نہ جرائم کو چھوڑا تب اللہ تعالیٰ نے بخت نصر کی شکل میں ان پراپنے عذاب کا کوڑا برسایا۔بخت نصرفارس کے بادشاہ کی طرف سے رومی سرحدوں کے علاقے میں اس کا نائب السلطنت تھا۔(تاریخ ابن کثیر،ج۲،ص۴۱)اس نے فلسطین پر حملہ کیا اور ستر ہزار لوگوں کو قتل کیا،بیت المقدس کے زیورات چھین لیے۔بخت نصر نے ہیکل سلیمانی کو جس طرح لوٹا اس کا خاکہ کچھ اس طرح ہے۔ حضرت حذیفہؓ فرماتے ہیںمیں نے عرض کیا یا رسول اللہﷺ !بیت المقدس تو اللہ کے نزدیک بہت عظیم ہے؟فرمایا:’ہاں،اسے سلیمان بن دائود علیہما السلام نے سونے،موسی،یاقوت اور زبر جد سے بنایا تھا اور اس میں سونے اور چاندی کی ٹائلیں فرش پر لگوائی تھیں اور اس کے ستون بھی سونے کے تھے یہ تمام چیزیں بخت نصر لے گیا۔‘اس حدیث میں بیت المقدس کے جن زیورات کا ذکر آیا ہے کہ بخت نصر اسے لوٹ کر لے گیا تھا آخری زمانے سے متعلق یہ حدیث ملتی ہے کہ:
رسول اللہﷺ نے فرمایا:’یہ بیت المقدس کے زیورات کی صفت ہے انہیں مہدی علیہ السلام بیت المقدس کی طرف لوٹائیںگے۔(تفسیر طبری)
فرعون کی غرق آبی کے بعد بنی اسرائیل دو نبیوں کی تعلیم و تربیت میں کئی سال رہے۔ وقت مقررہ پر انہیں حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فلسطین پر حملہ کرنے کی ترغیب دی اور اللہ کا یہ وعدہ بھی یاد دلایا کہ یہ وہ سرزمین ہے جس کا وعدہ تم سے کیا جا چکا ہے۔قرآن مجید اس انداز میں اسے بیان کیا:
یٰقَوْمِ ادْخُلُوْا الْاَرْضَ الْمُقَدَّسَۃَ الَّتِی کَتَبَ اللّٰہُ لَکُمْ وَلاَ تَرْتَدُّوْا عَلٰی اَدْبَارِکُمْ فَتَنْقَلِبُوْا خٰسِرِیْنَ۰(المائدہ:۲۱)
’اور جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا اے میری قوم!مقدس زمین میں داخل ہوجائو جو اللہ نے تمہارے نام لکھ دی ہے اور تم اپنی پشت کے بل منہ نہ موڑو،پھر تم خسارہ اٹھانے والے ہو جائوگے۔ ‘
آج یہود کا قبضہ فلسطین پر اسی وعدہ کو لے کر ہے کہ یہ زمین ہمیں خدا وند نے دی ہے۔حالانکہ یروشلم پر قبضہ کا جو وعدہ اللہ کی طرف سے کیا گیا تھا وہ جن شرائط سے مشروط تھا یہود اس کو بھول گئے۔مذکورہ آیت میں ’ارض مقدس‘سے مراد کونسی زمین ہے؟اس سلسلہ میں امام ابن عساکر ؒ نے حضرت معاذ بن جبلؓ سے یہ روایت نقل کی ہے کہ یہاں ’الارض‘ سے مراد عریش سے لے کر فرات تک کا علاقہ ہے۔
حضرت قتادہ اس سے یہ مراد لیتے ہیں کہ ارض مقدس سے مراد شام کا علاقہ ہے۔
’الارض المقدسۃ التی کتب اللہ لکم‘ارض مقدس سے مراد کنعان اور فلسطین کا علاقہ ہے۔
امام ابن جریر نے حضرت ابن عباسؓ سے نقل کیا ہے کہ ’الارض المقدسۃ دمشق و فلسطین و بعض الاردن‘۔
یہود فلسطین میں اپنے جبریہ قبضہ کو لے کر تورات میں مذکور جن وعدوں کا ذکر کرتے ہیں وہ اس طرح ہیں:
(۱) دیکھو!میں نے یہ زمین جو تمہارے آگے ہے، تمہیں عنایت کی،داخل ہو اور اس زمین کو جس کی بابت خدا وند نے تمہارے باپ دادوں ابراہام اور اضحاک اور یعقوب سے قسم کی کہ تم کو اور تمہارے بعد تمہاری نسل کو دوں گا،میراث میں لو۔‘(استثنا۔۱:۸)
(۲) تو اس سرزمین میں جس کی بابت خدا وند نے تیرے باپ دادوں ابراہام اور اضحاک اور یعقوب سے قسم کھا کے کہا کہ اسے میں تمہیں دوںگا،سکونت کرے۔‘(استثنا۔۳۰:۲۰)
(۳) مضبوط ہوجائو اور دلاور ہو خوف نہ کھائو اور ان سے مت ڈرو۔کیوں کہ خداوند تیرا خدا وہی ہے جو تیرے ساتھ جاتا ہے۔وہ تجھ سے غافل نہ ہوگا اور تجھ کو نہ چھوڑے گا۔(استثنا۔۳۱:۶)
المسیح:
جب ہم توارتی صحیفوں …خصوصا بنی اسرائیل کے دور اسیری کے انبیاء سے منسوب صحیفوں… کا مطالعہ کرتے ہیں، تو اس حقیقت کو بہت واضح پاتے ہیں کہ یہ صحیفے یہود کے متعلق آخری زمانے کی پیشن گوئیوں پر مشتمل ہیں اور یہ کہ یہودی اس آخری زمانے تک باقی رہیں گے اور یہ آخری زمانے میں اکٹھا ہوںگے اور فلسطین میں ان کی ایک اور سلطنت قائم ہوگی …ان پیشن گوئیوںپر تورات کے مفسرین کی آرا عموماً دو بڑے نقطہ ہائے نظر پر مشتمل ہیں:
ایک نقطہ نظر یہ ہے کہ تورات میں مذکور یہ پیشن گوئیاں ماضی ہی میں پوری ہو چکی ہیں۔
دوسرا نقطہ نظر یہ ہے کہ یہ پیشن گو ئیاں اپنے ظاہر پر محمول ہوں اور ان کے مستقبل میں پیش آنے کو ہی ترجیح دی جائے……یہودی عقیدے کی رو سے یہ ’بادشاہ‘کے آنے سے مشروط ہے جو دائود کی نسل سے ہوگا اور جس کالقب ان کے ہاں ’شہنشاہ امن‘ہے۔(روز غضب ص ۹۲/۹۴)
جدید زمانے میں صہیونی تحریک نے اس دوسرے نقطہ نظر کو نئے سرے سے زندہ کیا اور اس کو مذہبی ایمانیات اور فکری جدلیات کا موضوع بنا دیا۔بائبل کی پیشن گوئیوں کی من گھڑت تاویلات کو ایک نئے انداز سے رواج دیا۔اسی نے یہ نظریہ اپنایا کہ (فلسطین میں )ایک یہودی ریاست کا قیام دراصل نزول مسیح کی تمہید ہے اور یہی وہ تحریک(صہیونیت) ہے جس کو مشرق وسطیٰ کے امن پروگرام کے ناکام ہونے اور انتفاضہ نو کے شروع ہوجانے پر خوشی ہے کہ اس طرح سے ارض موعود میں فریقین کے مابین برپا ہونے والا خون آشام معرکہ ہرمجدون شروع ہوجائے گا۔یہود ی عقائد کے مطابق اس معرکہ میں ایک ’امن کا بادشاہ‘ہوگا جو یہود کی طرف سے لڑے گا اور انہیں ساری دنیا پر غالب کرے گا۔آئیے دیکھیں اس ’امن کا بادشاہ‘جو درحقیقت دجال ہے، کے متعلق اسلامی تعلیمات کیا کہتی ہیں۔
دجال بروزن قوّال مبالغہ کا صیغہ ہے جو کہ دجل سے بنا ہے جس کے معنی جھوٹ، فریب،ملمع سازی اور حق و باطل کا آپس میں خلط ملط کرنا ہے۔کیوں کہ دجال میں یہ سارے عیب ہوں گے اس لیے اسے دجال کہتے ہیں یعنی بہت زیادہ جھوٹ بولنے والا،جوان ہوگا،شکل و صورت سے شریف اور خوبصورت لگے گا،اس کا رنگ گندومی اور صاف ہوگا،قد پستہ ہوگا،اس کا سر سانپ کی طرح ہوگا،سر کے بال گھنگریالے ہوںگے اور بہت زیادہ ہوںگے جو موٹے اور سخت ہوںگے جیسے درختوں کی شاخیں۔سر اور دھڑ اتنا ملا ہوا ہوگا گویا کہ اس کی گدی ہی نہیں ہوگی،اس کی ٹانگیں ٹیڑھی یعنی قوسین کی طرح کی ہوگی،اس کی پیشانی پر کافر لکھا ہوگا،آنکھ کی جگہ بالکل سپاٹ ہوگی،آنکھ سبز اور کنچے کی طرح چمکدار ہوگی۔بائیں آنکھ سے کانا ہوگا جو کہ دیکھنے میں بد شکل لگے گا۔آنکھ پر سخت ناخنہ ہوگا،داہنی آنکھ پھولے ہوئے انگور کی طرح کھڑی ہوگی،اس کے دونوں کلائیوں پر بال بہت زیادہ ہوںگے اور انگلیاں چھوٹی چھوٹی ہوںگی۔
’بعض نے کہا کہ ’دجال‘کا نام مسیح اس لیے رکھا گیا ہے کہ اس کے چہرے کی ایک جانب مسخ ہوچکی ہوگی۔چنانچہ مروی ہے اِنَّہُ لاَ عَیْنٌ لَہُ وَلاَ حَاجِبٌ ’کہ اس کے ایک جانب کی آنکھ اور بھویں کا نشان تک نہیں ہوگا۔‘(مفرادت القرآن،ج۲،ص۴۳۸)
حضرت حذیفہؓ رسول اللہﷺ سے دجال کے باب میں یہ بات روایت کرتے ہیں:’وَاِنَّ الدَّجَّالَ مَمْسُوْحُ الْعَیْنِ،عَلَیْھَا ظَفَرَۃٌ غَلِیْظَۃٌ‘
’بلاشبہ دجال مٹی ہوئی آنکھ والا ہے جس پر ایک غلیظ بھدا سا ناخونہ(پھلی)ہے۔‘
یہودی اپنے اس نجات دہندہ کا آخری معلوم نام’یبُل،یوبِل یا بُبل بتاتے ہیں جو ہماری اسلامی اصطلاح میں ’طاغوت‘اور بتوں کا نام ہے۔اس کا لقب ان کے ہاں مسیحا یا مسیا ہے۔(دجال کون؟کب؟کہاں؟،ص۱۲۴)
اس ’مسیح‘کے باب میں یہود کے پاس جو پیشن گوئیاں ملتی ہیں وہ حسب ذیل ہیں:
(۱) اے صیہون کی بیٹی خوشی سے چلائو!اے یروشلم کی بیٹی مسرت سے چیخو!دیکھو!تمہارا بادشاہ آرہا ہے۔وہ عادل ہے اور گدھے پر سوار ہے۔خچر یا گدھے کے بچے پر۔میں یوفریم سے گاڑی کو اور یروشلم سے گھوڑے کو علیحدہ کروں گا۔جنگ کے پر توڑ دیے جائیں گے۔اس کی حکمرانی سمندر اور دریا سے زمین تک ہوگی۔(زکریا:۱۰۔۹:۹)
(۲) اس طرح اسرائیل کی ساری قوموں کو ساری دنیا سے جمع کروں گا، چاہے وہ جہاں کہیں بھی بسے ہوں اور انہیں ان کی اپنی سر زمین میں جمع کروں گا،میں انہیں سرزمین میں ایک ہی قوم کی شکل دے دوں گا۔اسرائیل کی پہاڑی پر جہاں ایک ہی بادشاہ ان پر حکومت کرے گا۔(ایزخیل:۲۲۔۲۱:۳۷)
نوٹ:قارئین کو یاد ہوگا گزشتہ سالوں بھارت میں ایسے لوگوں کی شناخت کی گئی جن کے آبا و اجداد اسرائیلی نسل سے تعلق رکھتے ہیں۔
’اسرائیل کی پہاڑی پر‘یہ وہ جگہ ہے جہاں آج قبۃ الصخریٰ ہے یہودی عقائد کے مطابق اس چٹان کی نیچے یہود کی مقدس باقیات موجود ہیں۔
ان پیشن گوئیوں کو لے کر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہود سے زیادہ بعض نصاریٰ جذباتی ہیں۔خصوصا امریکی صدور اس میں پیش پیش نظر آتے ہیں۔مندرجہ ذیل بیانات ملاحظہ ہوں:
(۱) ’سابق امریکی صدرریگن نے ۱۹۸۳؁ء میں امریکن اسرائیل پبلک افیرز کمیٹی AIPAC))کے ٹام ٹائن سے بات کرتے ہوئے کہا:’آپ کو علم ہے کہ میں آپ کے قدیم پیغمبروں سے رجوع کرتا ہوں،جن کا حوالہ قدیم صحیفوں میں موجود ہے اور آرمیگڈن کے سلسلے میں پیشن گوئیاں اور علامتیں بھی موجود ہیں اور میں یہ سوچ کر حیران ہوتا ہوں کہ کیا ہم ہی وہ نسل ہیں جوآئندہ حالات کو دیکھنے کے لیے زندہ ہیں۔یقین کیجیے(یہ پیشن گوئیاں)یقینی طور پر اس زمانے کو بیان کررہی ہیں جس سے ہم گزر رہے ہیں۔‘
(۲) صدر ریگن نے مبشر چرچ کے جم پیکرسے ۱۹۸۱؁ء میں بات کرتے ہوئے کہا:’ذرا سوچئے! کم سے کم بیس کروڑ سپاہی بلاد مشرق سے ہوںگے اور کروڑوں مغرب سے۔سلطنت روما کی تجدید کے بعد(مغربی یورپ)پھر مسیح(دجال)ان پر حملہ کریں گے جو میگڈون یا آرمیگڈون کی وادی میں اکھٹا ہوںگی۔اس میں کوئی شک نہیں کہ یروشلم تک اتنا خون بہے گا کہ دو گھوڑوں کی باگ کے برابر ہوگا۔یہ ساری وادی جنگی سامان اور جانوروں اور انسانوں کے زندہ جسموں اور خون سے بھر جائے گی۔‘
واضح رہے کہ آرمیگڈون لفظ میگوڈو سے نکلا ہے یہ جگہ تل ابیب سے ۵۵ میل شمال میں ہے اور بحیرہ طبریہ اور بحر متوسط کے درمیان واقع ہے۔
(۳) پال فنڈلے کہتا ہے:
’انسان دوسرے انسان کے ساتھ ایسے غیر انسانی عمل کا تصور بھی نہیں کر سکتا لیکن اس دن خدا انسانی فطرت کو یہ اجازت دے دیگا کہ اپنے آپ کو پوری طرح ظاہر کردے۔دنیا کے سارے شہر لندن،پیرس،ٹوکیو،نیویارک،لاس اینجلس،شکاگو سب صفحہ ہستی سے مٹ جائیںگے۔تقدیر عالم کے بارے میں مسیح دجال کااعلان ایک عالم گیر پریس کانفرنس سے نشر ہوگا جسے سٹیلائٹ کے ذریعہ ٹی وی پر دکھایا جائے گا۔‘(ٹی وی پر ایونجیل قیصر ہلٹن ہسٹن)
(۴) مقدس سر زمین پر یہودیوں کے واپسی کو میں اس طرح دیکھتا ہوں کہ یہ مسیح(دجال)کے دور کی آمد کی نشانی ہے جس میں پوری انسانیت ایک مثالی معاشرہ کے فیض سے لطف اندوز ہوگی۔‘(سابق سینیٹر مارک ہیٹ فیلڈ)
(۵) Forcing gods handکی مصنفہ گریس ہال سیل کہتی ہیں:
’ہمارے گائڈ نے قبۃ الصخری (Tomb Stone)اور مسجد اقصیٰ کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم اپنا تیسرا ہیکل وہاں بنائیںگے۔اس کی تعمیر کا ہمارا منصوبہ تیار ہے،تعمیراتی سامان تک آگیا ہے، اسے ایک خفیہ جگہ رکھا گیا ہے۔بہت سی دکانیں بھی جس میں اسرائیلی کام کر رہے ہیں۔وہ ہیکل کے لیے نادر اشیاء تیار کر رہے ہیں۔ایک اسرائیلی خالص ریشم کا تار بن رہا ہے جس سے علماء یہود کے لباس تیار کیے جائیںگے۔(ممکن ہے یہ وہی تیجان یا سیجان والی چادریں ہوں جن کا ذکر حدیث میں آیا ہے۔)ہمارا گائڈ کہتا ہے:’ہاں تو ٹھیک ہے ہم آخری وقت کے قریب آپہنچے ہیں جیسا کہ میں نے کہا تھا کہ کٹر یہودی مسجد کو بم سے اڑادیں گے جس سے مسلم دنیا بھڑک اٹھے گی۔یہ اسرائیل کے ساتھ ایک مقدس جنگ ہوگی یہ بات مسیح (دجال)کو مجبور کرے گی کہ وہ درمیان میں آکر مداخلت کرے۔‘
(۶) ’میں نے لینڈا اور برائون(یہودی)کے گھر(اسرائیل)میں قیام کیا۔ایک دن شام کو دوران گفتگو میں نے کہا کہ تعمیر کے لیے مسجد اقصیٰ کو تباہ کردینے سے ایک ہولناک جنگ شروع ہو سکتی ہے تو اس یہودی نے فوراً کہا: ’ٹھیک بالکل یہی بات ہے ایسی ہی جنگ ہم چاہتے ہیں کیوں کہ ہم اس میں جیتیں گے پھر ہم تمام عربوں کو اسرائیل کی سرزمین سے نکال دیںگے اور تب ہم اپنی عبادت گاہ کو از سرنو تعمیر کریں گے۔(خوفناک صلیبی جنگ)دریائے فرات خشک ہوجائے گا: (book of revealation)الہام کی کتاب کے ۱۶ ویں باب انکشاف میںہے کہ دریائے فرات خشک ہوجائے گا اور اس طرح مشرق کے بادشاہوں کو اجازت مل جائے گی کہ اسے پار کرکے اسرائیل پہنچ جائیں۔‘
(۷) امریکی صدر نکسن نے اپنی کتاب وکٹری ود آئوٹ وار(Victory without war)میں لکھا ہے:
’۱۹۹۹ تک امریکی پوری دنیا کے حکمران ہوں گے اور یہ فتح انہیں بلا جنگ حاصل ہوگی اور پھر امور مملکت مسیح(دجال)سنبھال لیںگے۔‘ عالمی اقتدار کو اسی مسیح کے حوالے کرنے لیے 9/11کا واقعہ یا تو کیا گیا یا پھر اس بہانے عالمی اقتدار اس مسیح نے سنبھالا ہے۔
اس دور کے صلیبی جنگوں کے کمانڈرجارج بش جوخروج دجال، اس کے لیے راہ ہموار کرنے اوراس راہ کے دشمنوں کو ٹھکانے لگانے نیز غیبی آواز کا دعویٰ کرنے کے باب میں کافی شہرت حاصل کر چکا ہے،عراق پر حملہ سے پہلے کہا تھا کہ:
’ اس جنگ کے بعد ان کا مسیح موعود(دجال)آنے والا ہے۔اس کے بعد بش نے اسرائیل کا دورہ کیا ماسکو ٹائمز کے مطابق اس دورے کے دوران ایک مجلس میں، جس میں سابق فلسطینی وزیر اعظم محمود عباس اور حماس کے لیڈر بھی شریک تھے، بقول عباس بش نے دعوے کیے کہ:
۱۔ میں نے (اپنے حالیہ اقدامات کے لیے)براہ راست خدا سے قوت حاصل کی ہے۔
۲۔ خدا نے مجھے حکم دیا کہ القاعدہ پر ضرب لگائوں جو میں نے لگائی اور اب میرا پختہ ارادہ ہے کہ میں مشرق وسطیٰ کے مسئلہ کو حل کروں اگر تم لوگ(یہودی)میری مدد کروگے تو میں اقدام کروںگا ورنہ میں آنے والے الیکشن پر توجہ دوںگا۔(تیسری جنگ عظیم اور دجال،ص۱۰۷)
بش کے بارے میں ’فری تھاٹ ٹوڈے کے مدیر کا خیال ہے کہ’صدر بش جیسا مذہبی صدر ہم نے پہلے کبھی نہیں دیکھا۔وہ ایک مذہبی مشن پر ہیں،اور آپ مذہب کو ان کے عسکریت Militarismسے علیحدہ نہیں کر سکتے۔‘(تیسری جنگ عظیم اور دجال،ص۱۰۸)
(۸) عیسائی دنیا میں مسیح کی آمد کے منتظر کس شدت سے اس کا انتظار کر رہے ہیں اس سے اندازہ کیجیے:
ہال لنڈسے(Hal Lindsey)اپنی مشہور کتاب مرحوم زمینی سیارچہ(The Late Great Planet Earth)میں لکھتا ہے:
’جب اسرائیل کی حکومت ابھی نہیں بنی تھی، تب تو کچھ واضح نہ تھا۔مگر اب جب کہ یہ واقعہ رونما ہوچکا ہے۔سیٹی بجنے کے لیے گنتی شروع ہو چکی ہے جس کے ساتھ ہی ان تمام واقعات کو رونما ہوجانا ہے جو مقدس پیشن گوئیو ں سے متعلق ہیں۔ان پیشن گوئیوں کی بنا پر پوری دنیا کو اب آئندہ دنو ں میں مشرق وسطیٰ، خصوصا اسرائیل پر اپنی تمام توجہ مرکوز کردینا ہوگی۔‘(ماخوذ از حما۲۰۰۰‘سن دو ہزار کا بخار/روز غضب ص ۳۸)
مذکورہ شواہد کے تناظر میںامت مسلمہ کو بہت سنجیدگی کے ساتھ اس مسئلہ پر غور کرنا چاہیے۔آج پوری امت ……چاہے وہ مسلم دنیا ہو یا پھر وہ علاقے جہاں مسلمان غلامی کی زندگی بسر کر رہے ہیں ……جس طرح کے مسائل کا شکار کی جارہی ہے ان کے تار کہیں نا کہیں اسی مسئلہ سے ملتے ہیں۔دشمن اپنی فلاح و کامرانی کے زعم میں اس راستہ کو اختیار کر چکا ہے جو احادیث میں بیان گیا ہے، لیکن ان احادیث پر ایمان رکھنے والی امت اس باب میں زبردست غفلت کا شکار ہے۔
الاقصیٰ:
القدس،یروشلم کا عربی نام ہے جسے قبل اسلام ’ایلیا‘کہا جاتا تھا۔القدس دنیا کا قدیم ترین شہر ہے۔یہ یہودیوں،مسلمانوں اور عیسائیوں کے ہاں یکساں طور پر متبرک ہے۔’القدس کی جو تاریخ انسانی دنیا کو معلوم ہے اس کے مطابق یہ تقریبا ۴۵ صدیاں پرانا شہر ہے ……عام طور پر مشہور ہے کہ مسجد اقصیٰ کی پہلی تعمیر حضرت دائود و سلیمان علیہما السلام نے کی لیکن یہ بات صحیح نہیں،بخاری شریف میں حضرت ابو ذرؓ کی صحیح روایت موجود ہے کہ بیت اللہ اور مسجد اقصیٰ کی تعمیر میں چالیس سال کا فاصلہ ہے اور بیت اللہ کی تعمیر ابتدائے آفرینش میں حضرت آدم ؑ نے بحکم الٰہی کی تھی……اس طرح یہودیوں کا یہ دعویٰ ہی سرے سے باطل ہوجاتا ہے کہ یہاں حضرت سلیمان ؑ نے ہیکل تعمیر کی تھی۔
تورات میں کئی مقامات پر بیت المقدس کے لیے ’بیت الرب‘کا لفظ استعمال ہوا ہے لیکن یہود اس کے لیے ہیکلTempleکا لفظ استعمال کرتے ہیں۔ہم اندازہ لگا سکتے ہیں کہ یہود کو توحید کے بجائے بت پرستی اور اس کے آستھانوں سے کس قدر لگائو ہے کہ جو ’بیت الرب‘ہے اسے ہیکل کے نام سے موسوم کرتے ہیں۔ بیت المقدس تاریخ میں کئی مرتبہ مسمار کی گئی۔ خاص کر بخت نصر نے تو اسے زمین بوس کردیا تھا۔اب یہود کا یہ خیال ہے کہ اس مقام پر جب تک ہیکل سلیمانی تعمیر نہیں کیا جاتا تب تک ان کا نجات دہندہ نہیں آئے گا۔ (جاری۔۔۔۔)

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *