دنیا نہیں مردان جفا کش کے لئے تنگ

’’یہ شریعت۔۔بزدلوں اور نا مردوں کے لئے نہیں اتری ہے نفس کے بندوں اور دنیا کے غلاموں کے لئے نہیں اتری ہے۔ہوا کے رخ پر اڑنے والے خش و خاشاک اور پانی کے بہاؤ پر بہنے والے حشرات الارض اور ہر رنگ میں رنگے جانے والے بے رنگوں کیلئے نہیں اتری ہے۔یہ ان بہادر شیروں کے لئے اتری ہے جو ہوا کا رخ بدل دینے کا عزم رکھتے ہوںجودریا کی روانی سے لڑنے اور اس کے بہاؤ کو پھیر دینے کی ہمت رکھتے ہوں جو صبغت اللہ کو دنیا کے ہر رنگ سے زیادہ محبوب رکھتے ہوں اوراسی رنگ میں تمام دنیا کو رنگ دینے کا حوصلہ رکھتے ہوں۔‘‘
یہ مولانا مودودی ؒکا وہ اقتباس ہے جسے ہر تحریکی اپنے گھر میں یا دکان میں یا آفس میں لگا کر رکھنے کی خواہش رکھتا ہے۔اس اقتباس میں ملت کے ان مردان کار کی صفات بیان کی گئیں ہیں جو دین و ملت کے عروج کے لئے کام کرتے ہیں ۔آج ملت کی یہ حالت ان صفات سے عاری ہونے کی بناء پر ہی ہوئی ہے۔اور یہ صفات عام مسلمانوں میں تو کچھ نہ کچھ مل ہی جائیں گی مگر ان کا بڑا فقدان ہمارے علماء کرام اور رہنمایان میں ملے گا۔عام آدمی کے بگاڑ کی اصلاح تو آسانی سے ہو سکتی ہے مگر جن پر اصلاح کی ذمے داری ہووہی بگڑے ہوں تو اصلاح کون کرے۔قومیں عام لوگوں کے کرتوتوں سے تباہ نہیں ہوتیں اسے تو خاص لوگوں کے کرتوت تباہ کرتے ہیں۔اور تبدیلی یا اصلاح ہمیشہ اندر سے ہوتی ہے باہر سے نہیں۔آج تک کوئی قوم غیروں کے دم پر مائل بہ عروج نہیں ہوئی۔اسلئے اگر قوم کی اصلاح درکار ہو تو سب سے پہلے اور سب سے زیادہ داخل پر توجہ دینی ہوگی۔اسلئے بی جے پی کی حکومت بننے کے بعد سے اردو اخبارات میں بی جے پی اور سنگھ پریوار کے خلاف جو واویلا مچا ہے اس کی ہمارے نزدیک رتی برابر اہمیت نہیں۔ قوم جن کے سبب بیمار ہوئی ہے ان کو کوئی کچھ نہیں کہتا۔حالانکہ charity begins at home کے مصداق سب سے پہلے اور سب سے زیادہ توانھیں گالیاں دی جانی چاہئے تھی جن کے سبب قوم کی یہ حالت ہوئی ہے اور جس طرح بی جے پی کے لوگوں کو نام بہ نام کوسا جا رہا ہے بالکل وہی کچھ اپنوں کے ساتھ بھی ہونا چاہئے ۔آج جو کچھ ہو رہا ہے یہ تو آزادی کے بعد ہماری لیڈر شپ کے رخ سے ہی طے ہوگیا تھا۔اس زوال کو اس وقت بھی روکا جاسکتا تھا اور روکنے کی کوشش کی گئی مگر پیٹ کے بندوںنے جسمیں سیاسی اور مذہبی ہر قسم کے رہنما شامل ہیںایسی کوئی کوشش کامیاب نہ ہونے دی اور آج بھی روکا جا سکتا ہے مگر آج یہ کام اس وقت کے مقابلے میں بہت ۔۔بہت مشکل ہے۔بہرحال دنیا میں کوئی کام نا ممکن نہیں۔بس خلوص نیت اورانتھک محنت ہوناچاہئے۔
آج شائع ہونے والے ہر اخبار اور رسالے میںبی جے پی کے خلاف ایک آدھ مضمون ضرور مل جائے گا۔کبھی بابری مسجد؍رام مندر کے معاملے پر انھیں گالیاں دی جارہی ہیںکبھی پرسنل لاء پر صلواتیں سنائی جارہی ہیں۔کسی مضمون میں دہشت گردی کو بنیاد بنایا گیا ہے اور کسی میں انکاؤنٹرس کا رونا رویا جارہا ہے اور اب تو نوبت یہاں تک پہونچ چکی ہے کہ مسلمانوں کو ووٹنگ کے حق سے محروم کرنے کی باتیں بار بار دہرائی جارہی ہیں۔سوال یہ ہے کہ کیا یہ سب کچھ مسلمانوں کی پیاری بلکہ ہمارے لیڈروں اور علماء کرام کی پیاری کانگریس میں نہیں ہو رہا تھا۔ہمارے سارے بڑے لیڈر اور علماء آج بھی کانگریس سے چپکے ہوئے ہیں۔بہت بڑے عالم دین ہیں مولانا اسرار الحق قاسمی، ان سے کیوں نہیں پوچھا جاتا کہ بٹلہ ہاؤس انکاؤنٹراور فرقہ وارانہ فساد مخالف بل کی مخالفت کرنے کے بعد بھی وہ کانگریس سے کیوں چپکے ہوئے ہیں۔آخر دنیا کی تاریخ میں اس طرح رونے گانے سے دوسرے کو گالیاں دینے سے ،اپنی ہر خامی کا ٹھیکرا دوسروں کے سر پھوڑنے سے کوئی قوم کب اور کہاں سرخرو ہوئی ہے؟
مسلمان جب پہلی بار عروج و ترقی کی طرف گامزن ہوئے تھے تو اس وقت بھی انھوں نے اپنے دشمنوں کے برسوںظلم و ستم سہے تھے مگر ایسے زنخوں کی طرح انھوں نے کبھی واویلا نہیں مچایا تھا ۔انھوں نے ہر ظلم کو خاموشی سے سہا یہاں تک کہ ان کا پہلا اور آخری سہارا جو تھا اس سے دشمنوں کے بد دعا بھی نہیں کی ۔ہر زخم ہر طمانچے اور چرکے کو اپنی کمزوری نہیں بلکہ طاقت بنایا۔دشمنوں کے ہر طرح کے ٹارچر کے باوجود وہ انتشار میں مبتلا نہیں ہوئے۔دشمنوں سے اپنے خاندان اور رشتے داروں کی حفاظت کے واسطے کسی نے قوم سے غداری کی نہ مخبری۔نہ ان کی چاپلوسی کی نہ ان کے معمولی عہدیداروں کے ساتھ چائے پی کر تصویریں کھنچوائیں۔بلکہ وہ ہر ستم کے بعد بنیان مرصوص بنتے گئے۔اور ہم۔۔۔شاید اسلئے انتشار میں مبتلا ہیں کہ حضور ﷺ کی ۷۲ فرقوں میں بٹنے کی پیشین گوئی ہے۔اور ہمارے علماء شاید اسلئے دین و ملت فروشی کر رہے ہیں کہ حضور ﷺ کی پیشین گوئی ہے کہ ایک وقت آئے گا جب تمھارے علماء دنیا کی بدترین مخلوق ہونگے۔
آج نہیںبرسوں سے ہم یہ سمجھتے ہیں کہ وطن عزیز میں اس جمہوری دور میں بھی جمہوری ذرائع سے ہم حکومت کر سکتے ہیں۔بس ذرا حکمت عملی سے کام لینے کی ضرورت ہے ۔اور منفی نہیں مثبت۔برسوں پہلے سہ روزہ دعوت دہلی میں ایک رپورٹ شائع ہوئی تھی جس میں بتایا گیا تھا کہ وطن عزیز میں ۹۰حلقہء انتخاب ایسے جہاں سے مسلم ممبران پارلیمنٹ بآسانی منتخب ہو سکتے ہیں۔مزید ۲۰ حلقے ایسے ہیں جہاں سے اگر tactical لڑا جائے تو ان ۲۰ حلقوں سے بھی مسلم امیدوار نکل سکتے ہیں۔اب وہ قوم جس کے پاس ۱۱۰ نہ سہی ۱۰۰ ممبران پارلیمنٹ ہو وہ ملک کے موجودہ سیاسی حالات میںکتنی بڑی طاقت رکھتی ہے؟چلئے! بادشاہ نہ سہی بادشاہ گر تو بن ہی سکتی ہے اس کی خواہش کے بغیر ملک میں پتہ بھی نہیں ہل سکتا۔ہماری اس طاقت کو کمزوری میں بدلا کس نے؟غیروں نے یا اپنوں نے۔ہمیں مسلکوں میں بانٹ کر آپس میں لڑایا کس نے؟یہ ہمارے لیڈر ہمارے رہنما اور ہمارے علماء کرام ہی تو ہیں جنھوں نے ہمیں سمندر کا جھاگ بنا دیا ہے۔ہمارے رہنمایان کا کیا حال ہے اس کی چند مثالیں پیش خدمت ہے۔
(۱) بابری مسجد کی شہادت کے وقت مرکز اور مہاراشٹر میں ہمارے لیڈروں اور علماء کی پیاری کانگریس حکمراں تھی اور دین سے بڑھ کر پارٹی کے پیار نے ہمارے کسی بھی ایم ایل اے ،ایم پی اور وزیر کو ایسے نازک وقت میں بھی استعفیٰ نہ دینے دیا۔بمبئی کے فسادات کو روکنے میں ناکامی اور راحت رسانی کے کام میں سرکاری رکاوٹوں کی بناء پر بمبئی کے صرف ایک ایم پی نے وہ بھی کانگریسی ہندو ایم پی نے استعفیٰ دیا تھا ْ۔مگر اس کا انجام کیا ہوا؟اس کے لڑکے سنجے دت کو اس وقت بھی ڈیڑھ سال جیل میں رہنا پڑا تھا اور آج پھر وہ جیل میں ہے۔وجہ ۔باپ کی صرف اور صرف وہ جراءت رندانہ۔ہمارے پاس اب ایسے علماء ہیں کہاں جو یہ فیصلہ کریں کہ علامہ اقبالؒ کے اس مصرعے کا مصداق کون ہو سکتا ہے۔۔مسلم آئیں ہوا کافر تو ملے حور و قصور۔۔اس وقت کیرالہ میں کانگریس اور مسلم لیگ کا ہنی مون چل رہا تھا۔جس پر اتنے بڑے سانحے کے باوجود رتی برابر اثر نہیں پڑا تھا ۔سوال یہ ہے کہ ایسے لیڈروں کی موجودگی میں ہم اپنے حالات میں بہتری کی توقع کیسے کر سکتے ہیں؟پھر ایسے لوگوں کو نام لے لے کر گالیاں کیوں نہیں دی جاتیں؟
(۲)۲۰۱۰ میں بمبئی میں اردو مرکز میں ایک میٹنگ رکھی گئی تھی جس کا مقصد حکومت ہند پر دباؤ بنا کر توہیں رسالت کے خلاف قانون blasphemy law بنوانا تھا ۔میٹنگ میں پہلے ایک گھنٹے تک اس پر بحث ہوئی کہ شاتم رسولؐ کی سزا کیا ہونی چاہئے؟بحث کے بعد متفقہ طور پر یہ بات منظور کی گئی کہ شاتم رسولؐ کی سزا موت ہونی چاہئے۔اس بحث کے خاتمے پر ایک شخص نے اٹھ کر کہا کہ یہ سزا آپ غیروں کو دینا چاہتے ہیں نا؟تمام شرکاء نے ہاں کہا۔معترض نے کہا کہ یہی کام کوئی اپنا کرے تو۔۔تمام لیڈروں اور علماء کی پیشانیوں پر بل پڑ گئے۔پوچھا کہ آپ کہنا کیا چاہتے ہیں۔اس نے کہا کہ پچھلے چند مہینوں سے انجمن اسلام کے ایک تعلیمی ادارے میں یہی کام ہورہا ہے اور ایک ہفت روزہ اخبار کے ذریعے آپ کو با خبر کرنے کی بھی کوشش کی جارہی ہے مگر آپ نے اب تک کوئی ایکشن نہیں لیا ۔تو صاحب سب کو سانپ سونگھ گیا تھا ۔کیونکہ انجمن اسلام سے ہمارے تمام لیڈروں وعلماء کرام کو کام پڑتا ہے۔ہماری اس بات کے گواہ معروف صحافی عالم نقوی،نہال صغیر اورسید ارشاد الحسن جیسے حضرات ہیں۔دیکھئے کتنے زرا زرا سے مفادات کے لئے دین و ملت فروشی کی جاتی ہے۔
(۳) بمبئی میں قیام کے دوران ہم میڈیسن سپلائی کا کام کرتے تھے۔ایک مرتبہ ہم ایک بہت سینئر ڈاکٹر کے کیبن میں آرڈر کے لئے داخل ہو رہے تھے اسی وقت دو مولوی نما حضرات ان کے کیبن سے باہر آرہے تھے۔ دوران گفتگوڈاکٹر صاحب نے بتلایا کہ انھیں ایک بار ایک پولس آفیسر نے یہ بتایا تھا کہ آپ کے یہ مولوی حضرات روز پولس کمشنر کے آفس میں حاضری دیتے ہیں اور ان کی خواہش ہوتی ہے ایک دوسرے سے پہلے کمشنر کے دربار میں بار پالے کیونکہ دوسرے نے اگر اس کی لائی خبر دیدی تو اس کی اہمیت تو ختم ہو جائے گی۔اس کا مطلب یہ بھی ہوا کہ اپنی اہمیت بڑھانے کے لئے یہ لوگ خبریں گھڑتے بھی ہونگے۔قوم تو یتیم ہے ان کا کیا بگاڑ لے گی۔
(۴)پہلے رمضان کے آخری عشرے میںافطار پارٹیوں کی بہار آتی تھی اب یہ بہار دوسرے عشرے سے ہی شروع ہو جاتی ہے۔مگر ہر سال اخبارات میں ایسے مراسلے بھی آتے ہیں،دیواروں پر پمفلٹس بھی لگائے جاتے ہیںکہ سرکاری افطار پارٹیوں سے اجتناب برتا جائے مگر آج تک ہمارے علماء کرام اور لیڈران کو اس سے پرہیز نہ ہو سکا۔ایک بار ایک سیاسی مولانا نے جو کہ خود بھی ہر قسم کی افطار پارٹیوں سے لطف اندوز ہوتے رہے تھے رمضان کی ابتدا میں ہی یہ مراسلہ شائع کروایا کہ سیاسی افطار پارٹیوں میں شریک نہ ہوا جائے۔کم سے کم ان حالات میں تو دینی غیرت و حمیت کا مظاہرہ کیا جائے۔مگر یہ جنس تو مسلمانوں کے درمیان سے عنقاء ہو چکی ہے۔ہوا یہی کہ کسی نے بھی ان کی بات کا کوئی اثر نہ لیا اور دوسرے سال وہ خود بھی سب کے ساتھ شامل ہوگئے۔اگر نہ ہوتے تو سیاستدانوں کے نزدیک ان کے نمبر کم ہو جاتے۔اللہ کو کس نے دیکھا ۔جب جائیں گے تب سوچیں گے۔پھر وہ تو غفورو رحیم ہے ۔یہ دنیا والے ایسے تھوڑی ہیں۔پھر وہاں حضور ﷺ کی شفاعت حاصل ہوگی۔یہاں کوئی شفاعت نہیں کرتا بلکہ ایک دوسرے کی جڑیں کا ٹنے کی کوشش کی جاتی ہے
(۵)ابھی چند دنوں پہلے ایک اخبار میں یہ رپورٹ پڑھنے کو ملی کہ اتر پردیش کے مدرسہ بورڈ نے امتحان میں ۸ سوال پوچھے تھے جسمیں سے ۵ سوال حل کرنے تھے۔۸سوالوں میں سے ۷سوال ہندو مذہب کے بارے میں تھے اور ایک سوال سکھ مذہب کے بارے میں تھا۔اسلام کے تعلق سے ایک بھی سوال نہیں پوچھا گیا تھا۔اس معاملے میں مہاراشٹر کے مسلمان قابل تعریف ہیں کہ انھوں نے مدرسہ بورڈ بنانے کی کوئی کوشش کبھی بھی کامیاب نہ ہونے دی۔جال وہاں پر بھی بہت ڈالے گئے۔منافقین کو حمایت میں کھڑا کیا گیامگر کچھ نہ ہوا۔درج بالا واقعہ سے کیا یہ ثابت نہیں ہوجاتا کہ مہاراشٹر والوں کے اندیشے صد فی صد درست تھے ۔کیا اتر پردیش کے مدرسے اب مدرسے کہلائے جا سکتے ہیں۔اب سرکاری پیسوں پر جو موج مستی کی جارہی ہے وہ حلال ہے یا حرام؟جو کھا رہے ہیں وہ ثابت بھی کر سکتے ہیں کہ وہ حلال ہے کیونکہ قرآن اجرت پر پڑھنایا اسکی اجرت پر تعلیم دینا بالاتفاق حرام ہے مگر اب اسے حلال کر لیا گیا ہے۔امید ہے کہ مہاراشٹر میں جو طبقہ مدرسہ بورڈ کی حمایت کیا کرتا تھا اب وہ اس کی جرا ء ت نہ کرپائے گا۔کیونکہ اسوقت جو اندیشے ظاہر کئے گئے تھے آج وہ تقریباً تمام ہی مدرسہ بورڈوں میں عمل میں آرہے ہیں۔
(۶)تحریک کے افراد مساجد میں درس قرآن دیتے آرہے ہیں۔جہاں جہاں بھی ان کی تعدادقابل ذکر ہوتی ہے اور درس دینے کی استعداد رکھنے والے افراد ان کے پاس ہوتے ہیں وہ مختلف مساجد میں درس دیتے ہیں ۔دیکھا گیا ہے کہ کچھ مسلمان اور دینی جماعت کے افراد بھی انھیں روکنے کی کوشش کرتے ہیں کیوں؟یہ درس قرآن سے نفرت ہے یا خوف۔یہ بات بہت اچھالی جاتی ہے کہ قرآن کو سمجھنا ہر کس و ناکس کے بس کی بات نہیں۔تعجب خیز ہے کہ یہ بات اس وقت کہی جاتی ہے جب اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتا ہے کہ ہم نے اس ذکر کو تمھارے لئے آسان بنایا ہے۔پھر آجکل تو قبول اسلام کی باڑھ آئی ہوئی ہے۔۹۰ فی صد غیر مسلم قرآن پڑھ کر ہی تو مسلمان ہو رہے ہیں۔اگر قرآن مسلمان نہیں سمجھ سکتے تو پھر یہ غیر مسلم کیسے سمجھ سکتے ہیں۔ہم کو لگتا ہے یہ بات اسلام ، بلکہ صحیح اسلام کے پھیلاؤ کو روکنے کے لئے منافقین پھیلاتے ہیں ۔اور ہماری تاریخ تو منافقین سے بھری پڑی ہے۔
منافقین توحضور ﷺ کے زمانے میں اور صحابہ کرامؓ کے دور میں بھی موجود تھے مگر وہ لوگ مومن تھے ۔ان میں ایسا اتحاد تھا جسے بنیان مرصوص کہا گیا تھا اسلئے منافقین دین وملت کو کوئی قابل ذکر نقصان نہ پہونچا سکے۔پچھلے ۱۰۰ سالوں میں منافقین نے ملت کو جو نقصان پہونچایا ہے وہ ۱۰۰ملکوں کی فوجیں مل کر بھی نہیں پہونچا سکتیںتھیں۔(۱) لارنس آف عربیہ:ایک برطانوی جاسوس تھاجس نے شریف مکہ اور اس کے بیٹوں کو اپنے جال میں پھانس کرعربوں کو ترکوں سے لڑوایا تھا۔(۲) ترکی میں خلیفہ کو معزول کرکے مصطفیٰ کمال اتاترک سیاہ و سفید کا مالک بن بیٹھا۔یہ یہودی النسل تھا جس کا دادا بظاہر مسلمان ہو گیا تھا۔ان دونوں نے مل کر عالم اسلام کو وہ نقصان پہونچایا جو عالم کفر کی فوجیں مل کر ۱۰۰ سال میں بھی نہ پہونچا سکتی تھیں۔آج اسرائیل نامی ناسور جو عالم اسلام کے جسم میں ۶۷ سالوں سے رس رہا ہے ان ہی دونوں منافقین کی مساعیء خٰبیثہ کا پھل ہے۔ابھی حال ہی میں مصر میں عبد الفتاح السیسی نامی ایک منافق کو اقتدار میں لایا گیا ہے۔ ہمارے دشمنوں کی سازشوں کی گہرائی کہئے یا خود ہمارا اسلام سے خوف کہ منافق کو اقتدار میں لانے والے خادم الحرمین کہلاتے ہیں۔برطانیہ کا ایک جاسوس تھا ہمفرے جس نے عرب ممالک کی مختلف مساجد میں ۲۲ سال تک امامت کی تھی ۔وہ اپنی یادداشت میں لکھتا ہے کہ مسلمانوں کو لڑانے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ ان میں مسلکی و فقہی اختلافات پیدا کئے جائیں۔سوچئے !کیا مسلمانوں کے درمیان شیطان کی ذریت بس اتنی ہی موجود ہوگی۔ہماری عقل تو یہ کہتی ہے ہر وہ شخص جو مسلمانوں میں انتشار پیدا کرے منافق ہے۔
حضور ﷺ نے فرمایاتھا وہ قومیں تباہ ہو جاتی ہیںجو اپنے کمزوروں پر تو قانون نافذ کرتی ہیں اور طاقتوروں سے در گذر کرتی ہیں۔۔کیا ہم ایسا ہی نہیں کر رہے ہیں۔ ہمیں موجودہ حالات سے نکلنے کے لئے انتہائی سختی سے اپنی تطہیر کرنی ہوگی۔ہمیں اپنے درمیان چھپے منافقین کو پہچاننا ہوگااور دوبارہ بنیان مرصوص بننا ہوگا۔ورنہ اس سے زیادہ خراب حالات کے لئے تیار رہئے۔

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *