ندامت کا بوجھ

احد کی گھمسان لڑائی میں حمزہؓ کسی شیر کی طرح آگے بڑھتے جا رہے تھے۔ جدھر ان کے قدم بڑھ جاتے دشمن اس طرح دائیں بائیں پھٹ جاتے جیسے کسی غضب ناک لہر کی مار سے کائی پھٹتی چلی جاتی ہے۔ جہاد کے جذبے سے سرشار ہو کر حمزہؓ ہر خطرہ سے بے نیاز ہو کر لڑ رہے تھے۔ خود اپنے ہی بھائی بند۔۔۔۔۔۔۔ اپنے ہی دوست اپنے ہی رشتہ دار۔۔۔۔۔۔۔۔ان کی آنکھوں کے سامنے تھے۔ لیکن ان کی برہنہ تلوار جیسے آج سارے رشتے بھول گئی تھی۔ آج ایک رشتہ کے سوا کوئی بھی رشتہ ان کی آنکھوں سے نہیں جھانک رہا تھا۔ یہ وہ رشتہ تھا جسے ان کے بھتیجے نے ایک چراغ کی طرح ان کے دل میں جلا دیا تھا۔
بہت پہلے سے، احد کے میدان کے لیے روانہ ہونے سے بھی پہلے سب کو معلوم تھا کہ حمزہؓ کی تلوار کے آگے ٹھہرنا آسان نہیں ہے۔ سامنے کے مقابلے میں حمزہؓ کو شکست دینا کوئی سہل کام نہیں ہے۔ اسی لیے تو ہندہ نے وحشی کو ایک پہاڑ کی کھوہ میں چھپا کر بٹھا دیا تھا کہ جیسے ہی حمزہؓ ادھر سے گزریں وحشی اچانک اپنی برچھی پھینک کر انہیں شہید کر دے۔
’اگر حمزہ ختم ہوگئے۔۔۔۔۔۔۔۔ ‘ہندہ نے وحشی کو یقین دلاتے ہوئے کہا تھا ’تو میں تمہیں اتنا انعام دوں گی اتنا انعام دوں گی کہ تم تصور بھی نہیں کر سکتے۔‘
کاش حمزہ ختم ہو جائیں کسی طرح۔۔۔۔ ابو سفیان کی بیوی ہندہ کی سب سے بڑی تمنا یہ تھی۔ حمزہؓ اگر ختم ہو گئے تو اسلام کی ایک بہت بڑی طاقت ختم ہو جائے گی۔ محمدؐ کی کمر ٹوٹ کر رہ جائے گی۔ ان کا حوصلہ ہمیشہ کے لیے پست ہو جائے گا۔
’اے خداوندہ ہبل۔۔۔۔۔۔‘ ہندہ نے اپنے دیوتا کے آگے جھکتے ہوئے قسم کھائی’۔۔۔میں عہد کرتی ہوں کہ اگر حمزہ ختم ہو گیا تو میں اس کے ناک کان کاٹ لوں گی میں ان کا ہار بنا کر پہنوں گی۔ میں اس کا کلیجہ چبا کر اپنے دل کو ٹھنڈا کروں گی۔‘ اور ایسا ہی ہوا۔
جہاد کے جذبے سے سرشار حمزہؓ دشمنوں کا صفایا کرتے ہوئے جیسے ہی پہاڑی کے سامنے پہنچے جہاں وحشی روپوش تھا، وحشی نے اپنی برچھی پھینک کر ان کی ناف پر ماری۔
حمزہؓ وہیں میدان میں گر گئے۔ ایک زخمی شیر کی طرح منہ پھیر کر انہوں نے دیکھا۔ وحشی اپنی کامیابی پر مسکرارہا تھا۔ حمزہؓ اٹھ بھی نہ سکے اور دھیرے دھیرے ان کی آنکھیں بند ہو گئیں۔
کتنا سکون تھا ان کے چہرے پر۔ آخر آج انہوں نے اپنے چچا ہونے کا فرض ادا کر ہی دیا۔ ان کی جان ان کے پیارے بھتیجے کے کام آہی گئی۔
اور تھوڑی ہی دیر بعد حضورؐ میدان جنگ میں اپنے چچا کو تلاش کرتے ہوئے ان کی لاش تک پہنچے تو سرد آہ ان کے ہونٹوں سے نکل گئی۔ ان کے پیارے چچا کی کتنی بے حرمتی کی گئی تھی۔ ان کاسینہ چیر دیا گیا تھا، کلیجہ چبا لیا گیا تھا، ناک کان کاٹ لیے گئے تھے۔
’آہ میرے چچا۔۔۔۔۔۔۔۔۔! خدا آپ پر اپنی بے پایاں رحمتوں کی بارش کرے گا کیوں کہ آپ رشتوں کے قائم کرنے والے تھے۔ آپ اسلام کے بہترین مجاہد تھے —میرے چچا!‘
حضورؐ کی آنکھیں بھر آئیں۔ لاش کے سرہانے کھڑے بہت دیر تک آپ اپنے چچا کو آنسوؤں کا نذرانہ پیش کرتے رہے۔ اور پھرایک ٹیس سی اپنے دل میں لیے ٹھہرے ٹھہرے قدموں سے واپس لوٹ آئے وہ سوچ رہے تھے حمزہؓ کی شہادت کا یہ زخم کیا اب کبھی بھر بھی سکے گا؟ شاید کبھی نہیں— کبھی بھی نہیں—!!
اور جب مکہ کے اوپر اسلام کا پرچم لہرایا اور حضورؐ نے کعبہ میں ایک اللہ کی بڑائی کا اعلان کیا تب مکہ میںکوئی بھی ایسا نہ تھا جو اسلام کو چیلنج کر سکے۔
لوگ جوق در جوق دائرہ اسلام میں آرہے تھے سارے وہ لوگ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جن کے ہاتھوں کے لگائے ہوئے زخم حضورؐ کے دل میں اب تک تازہ تھے۔ حضورؐ ایک پاکیزہ مسکراہٹ کے ساتھ سب کو معاف کرتے جارہے تھے۔ سب کی ندامتیں۔ سب کی شرمساریاں قبول کرتے جا رہے تھے۔
ان لوگوں میں ابو سفیان بھی تھا۔۔۔۔ جو کبھی کافروں کا سپہ سالار تھا۔ ہندہ بھی تھی۔۔۔۔ جو اسلام کی بدترین دشمن تھی۔عکرمہ بھی تھا۔۔۔۔ جو ابو جہل کا بیٹا تھا اور نہ جانے کون کون۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
’کوئی بات نہیں —کوئی بات نہیں۔۔۔۔ ‘ حضورؐ کا ایک ہی رد عمل تھا۔ سارے لوگ سینے سے لگا لیے گئے۔ سب کے قصور معاف کر دئیے گئے تھے۔
مگر جب وحشی سر جھکائے اسلام قبول کرنے آیا توحضورؐ سے ضبط نہ ہو سکا۔ بھولی ہوئی یادیں ایک بار پھر تازہ ہو گئیں۔ آنکھوں میں آنسو بھر گئے۔وحشی سناٹے میں دیکھتے رہ گئے۔
’مجھے تم سے کوئی شکایت نہیں وحشی! تم نے اسلام قبول کر لیا۔ تم مسلمان ہو گئے۔ مگر کیا تم اتنا کر سکتے ہو وحشی کہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میرے سامنے نہ آیا کرو۔تمہیں دیکھتا ہوں تو میرے زخم ہرے ہو جاتے ہیں۔ مجھے اپنے پیارے چچا یاد آجاتے ہیں۔ بولو۔۔۔۔ کیا تم ایسا کر سکتے ہو وحشی۔۔۔۔۔۔۔۔؟
اور وحشی سر جھکائے نہ جانے کیا کیا سوچتے رہے وہ تو آج اپنی متاع دل و جان نذر کرنے کے لیے لائے تھے۔ وہ تو ندامت کے آنسوؤں سے آج اپنے سارے گناہ دھونے آئے تھے۔ حضورؐ کے پاکیزہ اور مقدس چہرے کا عشق انہیں حضورؐ کی غلامی میں کھینچ لایا تھا۔ لیکن غلامی کے اس دائرے میں آتے ہی یہ پہلا حکم جو ان کوملا تھا، اس نے انہیں شدید آزمائش میں ڈال دیا تھا۔
تو کیا اب کبھی وہ اس پاکیزہ،اس بے نیاز پیارے چہرے کو نہیں دیکھ سکیں گے؟ کیا پھولوں کی طرح ان پاکیزہ ہونٹوں سے جھڑتی ہوئی باتوں کو نہیں سن سکیں گے ؟کیا اس بار گاہ نے انہیں ٹھکرا دیا ہے جس کے عشق میں وہ اپنے خاندان،اپنے تعلقات کے سارے بندھن توڑ کر کھنچے کھنچے چلے آئے تھے۔
آخر ایسا کیوں نہ ہوتا۔ ان کا گناہ بھی تو کتنا بڑا ہے۔ اسلام کی آبرو حمزہؓ کو شہید کرنا۔ وہ حمزہؓ جن سے حضورؐ بے پناہ پیار کرتے تھے۔ جو ہر آڑے وقت میں حضورؐ کے لیے تحفظ کی ایک چٹان بن جاتے تھے چند سکوں کے لالچ میں انہوں نے حمزہؓ کو شہید کر دیاتھا۔ حقیقت میں وہ ہر سزا کے مستحق تھے۔ ہاں ہاں وہ اسی قابل ہیں۔
’حضورؐ!۔۔۔۔۔۔‘ اشک بار آنکھوں سے حضورؐ کودیکھتے ہوئے انہو ںنے گلوگیر لہجے میں کہا’ بہت اچھا حضورؐ اگر آپ ایسا کہتے ہیں تو میں کوشش کروں گا کہ میرا بدقسمت وجود آپ کے لیے کبھی باعث اذیت نہ بنے۔ میں اپنے گناہ کی قبر میں ہمیشہ کے لیے دفن ہو جاؤں گا۔ مگر آپؐ کے سامنے نہیں آؤں گا میں وعدہ کرتا ہوں حضورؐ۔‘
تھکے ہوئے قدموں سے وحشی اٹھ کر چلے گئے ان کے ایمان نے آج ان کا کتنا بڑا امتحان لیا تھا۔ کیا گناہ کی اس کالک کو وہ کبھی اپنے چہرے سے دھو سکیں گے یا ندامت کے اس بوجھ میں انہیں ہمیشہ ہی گھٹ گھٹ کرمرنا ہوگا۔۔۔۔۔۔؟؟
محرومیوں کا درد اپنے سینے میں لیے اور ندامت کا بوجھ اپنے کاندھوں پر اٹھائے ہوئے وحشی زندگی کے ہجوم میں نہ جانے کہاں گم ہوگئے۔ کسی نے پھر ان کو دیکھا بھی نہیں۔ وہ کسی راستے پر نظر نہیں آئے۔ زندگی کے تھپیڑے انہیں ادھر سے ادھر پٹختے رہے لیکن ان کے سینے میں ہمیشہ ایک ہی درد جاگتا رہا۔۔۔۔۔۔۔۔۔کیا وہ اپنے چہرے کی اس کالک کو کبھی چھڑا نہیں پائیں گے؟ اس زندگی میںنہ سہی۔۔۔۔۔۔۔۔۔کیا اگلی زندگی میں بھی حضورؐ کا سامنا نہ کر سکیں گے۔ سچ مچ انہوں نے جو گناہ کیا ہے اس کا کفارہ تو کوئی بھی نہیں ہو سکتا۔ کیسے ادا کریں گے وہ اس کا کفارہ۔۔۔۔ کس طرح جیت پائیں گے وہ حضورؐکا دل۔۔۔۔۔اپنے حضورؐ کا دل۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پھر ایک دن وحشی کو حضورؐ کے وصال کی خبر ملی اور وہ کراہ کر رہ گئے۔۔۔۔۔ان کا دل چاہا، وہ اب چلے جائیں مدینے۔۔۔۔دیکھ آئیں اپنے حضورؐ کی صورت کو آخری بار۔۔۔۔۔۔
لیکن وہ صرف سوچ کر ہی رہ گئے۔ نہیں وہ نہیں جائیںگے حضورؐ کے سامنے۔ وہ حضورؐ کا کیسے سامنا کر سکیں گے۔ اپنے اس گناہ گار وجود کے ساتھ۔۔۔۔۔۔ یہ دل کتنا ہی تڑپے، کتنا ہی سلگے، وہ حضورؐ کا کہا نہیں ٹالیں گے۔ وہ یہیں سے اپنے آنسوؤں کے کچھ گلدستے ان کی بارگاہ میں بھیج دیں گے۔
پھر انہوں نے سنا کہ ابوبکرؓ صدیق مسلمانوں کے خلیفہ ہو گئے ہیں۔
پھر انہوں نے سنا کہ کچھ لوگ اسلام کے خلاف بغاوت کر رہے ہیں۔
اب ابوبکرؓ صدیق ان کے خلاف لشکر کشی کر رہے ہیں۔
مسیلمہ کذّاب جس نے حضورؐ کے مقابلے میں نبوت کا جھوٹا دعویٰ کیا تھا۔ اس کا زور بڑھتا جارہا ہے۔ ہزاروں آدمی اس کے ساتھ ہوگئے ہیں۔ اسلام کو ایک بار پھر زبردست چیلنج کا سامنا ہے۔ ٹھیک ویسا ہی جیسا احد کے دن تھا۔
ابوبکرؓ صدیق اپنی پوری قوت سے مسیلمہ کے مقابلے کے لیے بڑھ رہے ہیں۔ اس لیے کہ یہ اسلام کے لیے موت و زیست کا مرحلہ ہے۔
وحشی ساری خبریں سنتے رہے۔ آخر اس مرحلہ پر میں کیا کر سکتا ہوں۔۔۔۔۔؟؟ میں اسلام کی کون سی خدمت انجام دے سکتا ہوں۔۔۔؟ وہ ہر وقت یہی سوچتے رہتے۔
اسلامی فوجیں مسیلمہ کذاب کی فوجوں پر نبردآزما تھیں۔ مسیلمہ کی صفوں میں ہزاروں غدار بھی نظر آرہے تھے جو اسلام کو چھوڑ کر مسیلمہ سے جاملے تھے۔ گھمسان کی لڑائی تھی۔ ہزاروں صحابہ شہید ہو رہے تھے جن میں اکثریت حفاظ، قراء اور علماء کی تھی۔ میدان جنگ ایک بار پھر احد کی کہانی دہرا رہا تھا۔
لگ رہا تھا جیسے جنگ کے اس میدان میں اسلامی فتوحات کا سورج ہمیشہ کے لیے غروب ہو جائے گا۔ مسیلمہ خود ایک محفوظ باغ کے اندر موجود تھا۔ باغ کی چہاردیواری بہت مضبوط تھی اور پھاٹک کے کواڑ بند تھے۔لوگوں نے دیکھا ایک فوجی دھیرے دھیرے چہار دیواری پر چڑھا اور اندر کود کر اس نے پھاٹک کھول دیا۔ اور اسلامی فوج چہار دیواری میں گھس گئی۔
مسیلمہ نے بھاگنے کی کوشش کی۔ تبھی ایک برچھی اس کے جسم کے پار ہوگئی۔ اسے دوبارہ اٹھنے کی مہلت بھی نہ ملی۔ اسلامی سلطنت پر حکمرانی کے اس کے تمام خواب خاک میں مل گئے۔
لاش کے قریب ہی وحشی کھڑے تھے۔ آنسوؤں میں ڈوبی مسکراہٹ ان کے چہرے پر بکھری ہوئی تھی۔ وہ اپنے ہاتھوں سے اپنے چہرے کو بار بار اس طرح پونچھ رہے تھے جیسے کوئی کالک چھڑانے کی کوشش کر رہا ہو۔
’آج سے برسوں پہلے۔۔۔۔۔‘ انہوں نے یاد کرتی ہوئی آواز میں کہا’میں نے اسلام کی ایک جلیل القدر شخصیت کو اسی طرح شہید کیا تھا۔ آج میں نے کفر کی اتنی ہی بڑی شخصیت کو اسی طرح قتل کر دیا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔اے خدا کیا میرے گناہ کا کفارہ ادا ہو گیا ہے۔۔۔۔؟؟‘
وحشی کے چہرے پر طمانیت کے رنگ ایک عجیب سی تابش بن کر بکھر گئے تھے—اور وہ سوچ رہے تھے کہ میرے حضورؐ حشر کے میدان میں اب تو مجھ کو نہیں دھتکاریں گے شاید۔۔۔۔۔۔
(ماخوذ اُجالوں کا قافلہ)

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *