’ہندوتو‘۔۔۔۔ یا۔۔۔۔ہندوستان

ہندوستانی کون؟
اس سوال کا سیدھا سا جواب ہے ہندوستان ایک ملک ہے اور اس کا ہر شہری ہندوستانی ہے مگر افسوس کہ دن کی طرح روشن اس سچائی کو جھٹلایا جارہاہے ایک طبقہ خودکو ہندوستان کا مالک اور اس ملک کو اپنی آبائی جاگیر سمجھ رہاہے اب اس بات کافیصلہ بھی اس نے اپنے ہاتھ میں لے لیاکہ کون ہندوستانی ہے اور کون نہیں ہے ۔ حالانکہ دستور ملکی میں صاف صاف درج ہے۔ کہ
’’اس آئین کی تاریخ کے نفاذ پر ہر شخص بھارت کا شہری ہوگاجس کی بھارت کے علاقہ میں مستقل جائے سکونت ہو۔۔۔۔۔۔۔۔ اور (الف)جوبھارت میں پیدا ہوا ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یا (ب)جس کے والدین میں سے کوئی ایک بھارت کے علاقہ میں پیداہواہو۔۔۔۔۔۔ یا (ج)جو ایسی تاریخ نفاذ کے عین قبل کم سے کم پانچ سال تک بھارت کے علاقہ کا باشندہ رہاہو‘‘۔ دستور ہند صفحہ (۵)باب دوم ’’شہریت‘‘
ہندوستانی کون؟ اس سوال کے مذکورہ بالادوٹوک جواب کے بعد بھی جو لوگ من چاہے طور پر خودکو ہندوستانی اور دوسروں کو غیر ملکی اور حملہ آور ثابت کرنے پر تلے ہوئے ہیں شاید اس خناس میں مبتلاہیں کہ وہ عقل عام ،دستور ملکی اوربین الاقوامی مسلمات سے بالاترہیں اپنے ملک کے برابر کے شہریوں کو حقوق سے محروم کرنے والے ملک کی کیاخدمت انجام دے رہے ہیں؟ یہ لوگ ہندوستان کی سالمیت کے خواہاں ہیں یا تقسیم کے؟ ایسے سوالوں کا معقول اور مدلل جواب دینا توانہیں کے ذمہ ہے اور وہ اس ذمہ داری سے سبکدوش ہونا چاہتے ہیں توانہیں واضح طورپر بتانا چاہئے کہ اگر طاقت کے بل پر دوسروںکو حق شہریت سے محروم کرنے کا انہیں حق حاصل ہے تو دوسروں کو کیوں نہیں ہے ؟کیا وہ پسند کریں گے کہ کل کوئی اور طاقتور ہوجائے اور انہیں اس ملک کی شہریت سے بے دخل کردے اگر دلیل کے بجائے طاقت وکثرت کے سہارے ہندوستان کے شہریوںکو شہریت سے محروم کردینے کا سلسلہ دراز ہوگیا تو کون کہہ سکتاہے کہ آریوں کو غیر آریہ، شودروں کو برہمن ، برہمنوں کو شودریاجنوب کے رہنے والے شمال کے رہنے والوں اور شمال کے باشندے اپنے زیر اثر علاقوں میں جنوب کے ہندوستانیوںکو حق شہریت سے محروم کرنے کی بات کبھی نہیں کریںگے ۔اگر ہندوفاشزم آج مسلمانوں اور عیسائیوں کو غیر بھارتی سمجھنے کی حماقت سے بازنہیں آتا اور حق شہریت کا فیصلہ اپنے ہاتھ میں رکھنا چاہتاہے تو یقین کرناچاہئے کہ یہ سوچ ایک آگ کی مثل ہے جس کے شعلے متحدہ اور وسیع ہندوستان کے وجود کو خاکسترکرسکتے ہیں۔ آر۔ایس۔ایس۔ کے سابق گروگول والکرکہتے ہیں’’ اقلیتوں کو بہرحال اکثریت کے رحم وکرم پر رہنا ہوگاایک ہندوہی سچاہندوستانی ہوسکتاہے وہ تمام لوگ جن کے مذاہب کی ابتدااس برصغیر سے نہیں ہوئی غیر ملکی ہیں۔ مسلمانوں ،عیسائیوں،یہودیوںاورپارسیوںکوہندوکلچراورہندوزبان اپنانی ہوگی ہندو مذہب کی تعظیم وتکریم کرنی ہوگی۔ ہندونسل اور کلچرکی عظمت کو تسلیم کرنا ہوگا۔ وہ اس ملک میں رہ سکتے ہیں لیکن ہندوقوم کے مکمل ماتحت اور محکوم بن کر ۔کوئی ترجیحی سلوک تودرکنار ہے وہ کسی مراعات بلکہ حق شہریت کا بھی دعویٰ نہیں کرسکتے ہیں اور نہ وہ اس کے مستحق ہیں۔ اس ملک میں ہندوہی واحد اور اصل قوم ہے ۔مسلمان اور دوسرے گروہ اگر قوم دشمن نہ سہی تو کم از کم قومی دائرے سے باہر ہیں‘‘ (کتاب’’ہم ‘‘ سے ماخوذ)
’’سنگھ کے ایک اور گروصاحب اقلیتوں کو حقوق سے محروم کرتے ہوئے کہتے ہیں ’’اقلیتوں کو اپنے تعلیمی ادارے چلانے سے محروم کردیا جائے‘‘ دستور کی دفعہ نمبر۳۰، اوردفعہ نمبر۳۱؎ کو ختم کردیا جائے جو اقلیتوں کو تعلیمی ادارے چلانے کا حق دیتی ہے‘‘۔ (مسٹربالا صاحب بحوالہ دعوت مورخہ ۱۹،۱۰،۸۶ئ)
ہندوستان کس کا ہے؟
اس سوال کا بھی صاف اور سیدھا جواب یہی ہوسکتاہے کہ ہندوستان ہندوستانیوںکا ہے۔ نئی بولی میں بھارت بھارت کے باشندوںکا ہے مگرافسوس کہ وہ طبقہ جودوسروں کو اپنا محکوم بناکر رکھناچاہتاہے اور سمجھتاہے کہ ہندوستان اس کی اپنی جائیداد ہے، یہ کہتاہے کہ ہندوہی اصل قوم ہے حالانکہ خوداس قوم کو اس نے ذات برادریوںمیں تقسیم کر رکھا ہے تاکہ اس اقلیت کے مقابلہ میں جو ہندوسماج کو گروی رکھنا اپنا حق سمجھتی ہے کوئی ذات برادری سراٹھاکر نہ چل سکے برہمنوں کی نسل پر ستی نے ہی ہندوستان کو یہ گمراہ کن عقیدہ بھی عنایت فرمایا کہ برہمن برہما کے سرسے پیداہواہے ،لڑنے بھڑنے والی قومیں (جاتیاں)بازئوں سے پیداہوتی ہیں ،دولت سمیٹنے والے پیٹ سے، اورکمزور خدمت گار ذاتیں برہما کے پیر سے پیداہوتی ہیں۔ نتیجہ ظاہر ہے سب کواسی حال میں راضی اور مطمئن رہنا چاہئے۔ اس طرح ہندومذہب (اگروہ مذہب ہے)؟اور سماج پر ایک خاص طبقہ کی اجارہ داری مستقل کردی گئی۔ اب حالات تبدیل ہوئے تو دوسری قوموں، طبقات اور مذہبوں کے خلاف لام بندی کی چال چلی گئی اور ہندوسماج کوڈراور خوف کی نفسیات میں مبتلاء کردیاگیا۔ اس لحاظ سے دیکھا جائے تو شاید ہندوستان پہلا اور آخری ملک ہے جہاں اکثریت کے دعوے داراقلیتوں سے محفوظ رہنے کی جنگ لڑناچاہتے ہیں۔ کہاجاتاہے کہ ہندوستان ہندئوں کا ملک ہے ثبوت کیاہے؟ کیا ہندوکوئی مذہب ہے؟ اس کا بنیادی عقیدہ کیا ہے؟ واضح طورپر ایسے سوالوںکا کوئی جواب اب تک نہیں دیاجاسکا نہ دیا جاسکتاہے۔ لہٰذایہ کہہ کر قصہ مختصر کردیا گیا کہ ہندوکہے سوہندوہو۔ اگر یہ محتاج ثبوت جواب جو جواب کم اور نعرہ زیادہ ہے ۔ما ن بھی لیا جائے تو بھی اس سے یہ کہاں ثابت ہوا کہ ہندوستان صرف ہندئوں کا ملک ہے اور یہ کہ انہیں نسلی بنیادوں پر بالاتری کا حق حاصل ہے۔
حملہ آور کون؟
ہندوفاشزم کے علمبردار کہتے ہیں کہ ہم اصل ہندوستانی ہیں اور مسلمان وعیسائی حملہ آور ہیں۔ عیسائی حملہ آور تو سنہ ۴۷ء ؁ میں اپنا بستربوریاںباندھ کر چلے گئے ۔اب ان کی زبان میں مسلمان حملہ آور ہی باقی رہ گئے ہیں ۔حالانکہ اس وقت ہندوستان کے مسلمان شہریوں کی واضح اکثریت نسلاً بھی ہندوستانی ہے ۔اس سچائی کو موقع بموقع ہندوراشٹروالے بھی تسلیم کرتے ہیں۔ اگر محمدبن قاسم ،محمود غزنوی اور بابر جیسے فاتحین حملہ آور تھے تو کیا سارے مسلمان حملہ آور ہیں ؟اور یہیں پیداہونے اور مرنے اور صدیوں سے اس ملک کو اپنا ملک ،اپنا وطن سمجھ کر رہنے والے کروڑوںمسلمان حملہ آور اور غیرملکی ہی ہیں؟ اگر یہ بات لائق تسلیم ہے تو پھربتائیے کہ آریہ حملہ آوروں کی اولاد حملہ آور کیوں نہ مانی جائے اور اسے ہندوستانی ہونے کی سند کیوں دے دی جائے؟ آخر اس تاریخی حقیقت پر پردہ کیسے ڈالاجاسکتا ہے کہ آریہ ہندوستان کے قدیم باشندے نہیں ہیں۔ وسطِ ایشیا سے چل کر ایران،ہندوستان اور جرمنی جیسے ملکوں میں غلبہ و تسلط جمانے والی قوم ہیں۔ ہندوستان میں انہوں نے یہاں کی قدیم اقوام سے جنگ کی اور انہیں زرخیز میدانوں سے بے دخل کرکے سمندری ساحلوں ،بیابانوں اور پہاڑوں کی طرف بھاگنے پر مجبور کردیا ۔آج بھی ان کی نسلیں انہیں علاقوں میں بھاری تعداد میں پائی جاتی ہیں ۔انہیں میںسے بہت سوں کو آریہ حملہ آوروں نے غلام (ملیچھ اورشودر)بناکر رکھا اور ابھی تک ان کے ساتھ جانوروںسے بدتر سلوک روارکھا جاتاہے ۔اب ووٹوں کی سیاست کے طفیل اگر چہ انہیں کچھ مراعات دی گئی ہیں اور دستوری طور پران کے حقوق بھی تسلیم کئے گئے ہیں۔ مگر یہ سب کچھ سیاسی سوداگری ہے ۔سماجی برابری کے لئے وہ آج بھی بڑی حدتک ماضی کی طرح ہیں۔پھر یہ کہ انہیں نیچ سمجھنا محض رویہ نہیں ہے بلکہ اصول وعقیدہ کا درجہ رکھتا ہے ۔اگریہ لوگ واقعی ہندوقوم کا حصہ ہیں توکس نے انہیں اس حال تک پہنچایا؟کڑواسچ یہ ہے کہ ۔۔۔اب اگر اولین سنگ دل حملہ آور (آریہ حملہ آور)ایک عرصہ کے بعد ہندوستانی بن گئے تو مسلمان کیوں ہندوستانی نہیں ہیں؟ کیوں انہیں برابر کا ہندوستانی ماننے میں تکلیف محسوس ہوتی ہے کیا اس لئے کہ اسلام اور مسلمان اس طبقاتی سماج کا غلام بن کر نہیں رہنا چاہتے جوآریہ حملہ آوروں نے تشکیل دیا ہے۔ اور جسے آریائی حملہ آورکسی نہ کسی طرح قائم بھی رکھناچاہتے ہیں ۔تاریخی طور پر ثابت نہ سہی مشہور مذہبی داستان سے ظاہر ہے کہ کسی زمانے میں ہندوستان کے ایک سورج ونشی راجانے سری لنکا پر حملہ کیا تھا اور اسے پھونک کرخاک کر دیاتھا۔ آج وہاں ایک بڑی تعداد (تامل)ہندوستانیوںکی آباد ہے کیا انہیں حملہ آور کہہ کر سری لنکا کی شہریت سے محروم کردیناقابل تسلیم ہوگا؟اگریہ اصول بنالیا جائے کہ تاریخ میں کوئی کبھی بھی کسی ملک پر حملہ آور ہواتھا تواس کے نسل ونسب سے تعلق رکھنے والوں کو اس ملک سے بے دخل کردیا جائے یا دوسرے درجہ کا شہری سمجھا جائے تو کیا دنیا میں ایک ہنگامہ بپانہیں ہوجائے گا؟ پھریہ اصول کس طرح قابل نفاذ ہوگا؟ آخر یہ سب غیر ملکی کس ملک میں جاکر بسیں گے؟سامنے کی مثال ہے اگر ہندوستان ،ایران اور جرمنی سے آریہ حملہ آوروں کی اولاد کو بے دخل کر دیاجائے تو سائبیریا کے علاوہ کون سی جگہ خالی ہے جہاں ان کو منتقل کیا جاسکے ۔بھولنا نہ چاہئے کہ تاریخی انتقام کی کوئی گنجائش ایک پرامن دنیا میں نکالی نہیں جاسکتی ۔جنگ عظیم اوّل کے بعد جومسائل پیداہوئے ہیں ابھی توان کو بھی حل نہیں کیا جاسکا حالانکہ انہیں حل کیا جاناچاہئے کیونکہ یہ بین الاقوامی معاہدات کے تحت آتے ہیں مگر صدیوں پہلے جب لوگوں کے درمیان معاہدے نہیں تھے، عوامی حکومتیں نہیں تھیں ،بین الاقوامی اور تسلیم شدہ سرحدیں نہیں تھیں، جب راجہ جے چند محمدغوری کو اور راناسانگا ظہیر الدین بابر کو اپنے پڑوسی کے راجائوں کو زیر کرنے کے لئے بلایا کرتے تھے اس وقت حملہ آوروں کی حیثیت بالکل دوسری تھی کوئی شک نہیں کہ جن حملہ آوروں نے قتل وغارت گری کے بازار گرم کئے، ہوس ملک گیری میں بے گناہ انسانوں کا خون بہایا ان کو ناپسند کیا جانا چاہئے ۔مگر جنہوں نے آکر ملک کی قسمت سنواری مثلاً محمدبن قاسم جیسے فاتحین توان کی آمد کو لائق تحسین اور قابل مبارک باد سمجھنا چاہئے ۔قومی جذبات کی تسکین کے لئے مغلوب قوموں کی ہمدردی میں ہرجیتنے والے کو براسمجھنا عقل مندی اور حقیقت پسندی کے خلاف ہے۔ پھر یہ عجیب تماشہ ہے کہ حملہ آوروں کے لئے دوہرامعیار برتاجارہاہے ۔آریہ حملہ آوروں کو سب سے پکا سچاہندوستانی مان لیا گیا اور مسلمان حملہ آوروں سے تعلق ،ایک ناقابل معافی جرم ثابت کیا جارہاہے۔ ایک کا تعلق ہندوستان کے پاتال سے زیادہ گہراثابت کرنے کے لئے تاریخ گڑھی ہے اور دوسروں کے لئے تاریخ کو مسخ کیاجارہاہے۔ غزنی ،غوری اور بابرکی تلوار سے زیر ہونے والوں کو تاریخی انتقام لینے پر اکسایا جارہاہے اور شودروں، منگولوں، آدی باسیوں سے سب کچھ بھلاکر ہندوتوکی پوجاکرنے کے لئے کہا جارہاہے۔ کیا کوئی ان حالات سے واقف ہو کر اس بے انصافی کو نظرانداز کرسکتاہے۔!!
قدیم باشندے کون ؟
جارحانہ ذہنیت رکھنے والا ایک طبقہ اور اس کے لیڈر مسلمانوں کو غیر ملکی کہنے کے ساتھ ساتھ خود کو اصل ہندوستانی بلکہ ہندوستان کا بلاشرکت غیرے مالک ثابت کرنے کے لئے اکثرکہتے ہیں کہ وہ یہاں کے قدیم باشندے ہیں ،ان کی تہذیب ان کی زبان اور ان کا مذہب یہاں کا قدیم مذہب ہے۔ مگرابھی تک یہ ثابت نہیں کیا جاسکا اور نہ کیا جاسکتاہے کہ وہ یہاں کے قدیم باشندے ہیں۔ سب سے اہم بات تو یہ ہے کہ ہندوستان میں تاریخی ریکارڈ بہت مختصر ہے۔ مجبوراً مذہبی داستانوں کو تاریخی ماخذکے طورپر استعمال کیاجاتاہے ۔ان کتابوں کا مذہبی درجہ جو کچھ بھی ہومگرتاریخی اعتبار برائے نام ہے۔ جو واقعات اور شخصیات ان میں مذکور ہیں ان کے زمانے کے بارے میں کچھ معلوم نہیں ۔جواندازے لگائے جاتے ہیں ان میں سیکڑوں بلکہ ہزاروں سال کا فرق ہے۔ مذہبی کتابیں بھی تحریری طورپر سیکڑوں ہزاروں برس بعد مرتب ہوئیں ۔پھرہندوستان کی تاریخ کا قدیم ترین حوالہ ایک یونانی سیاح Magasthenesمیگستھنیس کی تحریرکو مانا جاتاہے جو ۳۰۵قبل مسیح میں ہندوستان آیا اور ۲۹۸ ق،م تک تقریباًسات برس تک یہاں مقیم رہا مگر اس کا حوالہ بھی یونانی تاریخی ریکارڈ سے لیا جاتاہے کیونکہ ہندوستان میں اس کی تحریروں کو محفوظ نہیں رکھا جا سکا ۔تاریخ کا کوئی مستند حوالہ اس جھوٹ کی تائید کرنے سے قاصر ہے کہ آریہ ہندوستان کے قدیم باشندے ہیں ۔راماین جس کے مصنف بالمیک ریشی ہیں اس میں آریوں کے جنوب کی طرف بڑھنے اور اپنی حکومت کا سکّا جمانے کے حالات اور سورج ونشی راجارام چندرجی کی عظمت وشوکت کے احوال درج ہیں ۔اس کے بعد کے دور میں تلسی داس کی راماین اور بہت سی دوسری راماینیں بھی لکھی گئی ہیں ۔معلوم رہے کہ تلسی کرت راماین عہداکبری میں تصنیف کی گئی ۔حدیہ کہ اشوک راجہ کے زمانے کی بھی کوئی تاریخی کتاب موجود نہیں ہے ۔صرف وہ کتبات ہیں جو میناروں پر کندہ کرائے گئے تھے۔ جارحیت پسندلوگوںکے اس دعویٰ کے برعکس کہ وہ قدیم ہندوستانی ہیں دنیا کے قدیم وجدید مورخین اس بات پر متفق ہیں کہ آریوں سے پہلے ہندوستان میں مختلف قومیں دراوڑ،کول، بھیل، منگول ، توڈا، کوتا، گونڈوغیرہ آباد تھے۔ آریہ قدیم ہندوستانی نہیںہیں ۔ان سے پہلے کے دراوڑجوآج بھی جنوب میں کروڑوں کی تعداد میں موجود ہیں۔شمالی اور مغربی ہندوستان میں ایک متمدن قوم کی طرح رہتے تھے ۔وہ تجارت بھی کرتے تھے اور حکومت بھی۔ آریہ حملہ آوروں سے انکا تصادم ہوا ۔دیگر اقوام کو مجموعی طورپر آج بھی آدی واسی یعنی قدیم اقوام کے نام سے پکارا جاتاہے۔ شمال کے کوہستانی علاقوں میں چپٹی ناک والے تورانی یا منگول نسل کے لوگوں کو بھی آج تک پہچانا جاسکتاہے ۔آریوں کی آمد ہندوستان میںصرف تین سے چارہزار سال پہلے کے دورسے متعلق ہے ۔وہ مختلف مرحلوں میں یہاں آکر آباد ہوئے ۔سنسکرت اور فارسی زبان میں سیکڑوں الفاظ ایسے ہیں جواس بات کا سراغ دیتے ہیں کہ دونوں ایک سرچشمے سے متعلق ہیں ۔اسی طرح یورپ کی بعض اقوام نسلاً آریہ کہلاتی ہیں ۔جرمن توواضح طورپر خود کوآریہ کہتے ہیں ہٹلرکا قومی نشان بھی آریوں کا سواستک تھا ۔آریوں کے بارے میں تاریخی طورپر ثابت ہے کہ یہ سطح مرتفع اور وسط ایشیاء کے باشندے ہیں ۔بعض علوم میں دوسروں سے فائق تھے اور مختلف مرحلوں میں معاشی مفاد کے تحت فارس جس کا نام آریوں کی آمد پر ایران رکھاگیا تھا یورپ کے مختلف علاقوں ’’روس جرمنی وغیرہ‘‘ اور ہندوستان میں آکر آباد ہوگئے ہندوستان میں کوہ ہندوکش کے راستہ داخل ہوئے انہوںنے یہاں کے قدیم باشندوں سے لڑائیاں لڑکرانہیں بھاگنے یا غلام بن کر رہنے پر مجبور کیا جنہیں قدیم مذہبی کتابوں میں دسیو، یاداس یعنی غلام کے نام سے یادکیا گیا ہے۔ اب ظاہر ہے کہ اگر ہندوستانی ہونے کے لئے قدیم باشندہ ہونے کی شرط تسلیم کر لی جائے تومسلمانوں کے ساتھ ہی سورن ہندئوں کو بھی ہندوستان سے بے دخل ہونا پڑے گا کیا سنگھ خاندان کے لیڈراس کی رضامندی دے سکتے ہیں سوچ کر بتائیں؟ ضداور ہٹ دھرمی کی بات دوسری ہے مگر یہ تاریخی حقیقت ہے جسے جھٹلایا نہیں جاسکتاکہ آریہ(موجودہ سورن ہندو) ہندوستان کے قدیم باشندے نہیں ہیں باہر سے آئے ہیں۔ اور ان کی آمدایک حملہ آورقوم کی رہی ہے جس کی گواہی ہندوستان کی مذہبی کتابوں سے ملتی ہے ’’رگ وید آریوں کے حالات کا سب سے بڑاماخذہے اس میں دریائے سندھ کا نام پہلے لکھے ہوئے منتروں میں آٹھ بار آتاہے اور بعدازاں گنگا۔ پس ثابت ہواکہ آریہ لوگ سب سے پہلے سندھ کی وادی میں آباد ہوئے بعد میں اصلی باشندوں کو فتح کرکے جنوب مشرق کی طرف بڑھے (مفید تاریخ ہندصفحہ۱۸) سنسکرت زبان جسے آریائی ہندئوں کے یہاں مذہبی تقدس حاصل ہے دنیا کی قدیم زبانوں میں ہے مگر وہ بھی اصلاً ہندوستانی زبان نہیں ہے ماہر لسانیات فارسی اور سنسکرت دونوں کو ایک ہی اصل سے تعلق رکھنے والی زبانوں کا درجہ دیتے ہیں گویاوسط ایشیا سے آنے والی آریائی زبان نے ایران میں فارسی اور ہندوستان میں سنسکرت کی شکل اختیار کرلی۔ یہ معاملہ صرف ان دونوں زبانوں کا ہی نہیں ہے بلکہ دنیا کی بیشتر زبانیں اسی طرح ایک ارتقائی عمل کے ذریعہ وجود میں آئی ہیں۔ جس کی تازہ مثال اردو ہے جو خالص ہندوستانی زبان ہے اور مسلم عہد حکومت میں کئی زبانوں کے اشتراک سے فارسی رسم الخط کے قالب میں رونما ہوئی ۔اب اگر آریائی حملہ آوروں کی نسلیںہندوستانی اور ان کی مذہبی زبان سنسکرت ہندوستانی کہلاسکتی ہے تو مسلمان اور اردو بھی ان سے بڑھ کر ہندوستانی ہیں اور اگریہ الٹی منطق ہانکی جائے کہ اردو اور مسلمان ہندوستانی نہیں بلکہ غیر ہیں تو کوئی وجہ نہیں کہ آریائی نسل کے اعلیٰ ذات ہندئوں اور سنسکرت کو ہندوستانی قراردیا جاسکے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ (جاری)

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *