اسلام میں بھارت کا بھلا ہے!

مرکز میں برسرِاقتدار پارٹی سے وابستہ کچھ لوگوں نے اپنا مشغلہ یہ بنا رکھا ہے کہ مسلمانوں کو مشتعل اور اسلام کو بدنام کرتے رہیں۔آئے دِن ایسے بیانات سامنے آتے رہتے ہیں جن سے نفرت اور دل آزاری کو بڑھاوا ملتا ہے اور جوابی بیانات سے بھی ایک نفسیاتی تسلی کے علاوہ کچھ اور حاصل ہوتا نظر نہیں آتا۔ حکومت اور قانون کی چشم پوشی سے اس شبہ کو تقویت ملتی ہے کہ یہ سب کچھ جانے بوجھے اور منظم انداز پر ہو رہا ہے۔ مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے لئے یہ صورت قابل اعتراض ہی نہیں باعث تشویش بھی ہے۔ مقامی زبانوں میں نکلنے والے بہت سے اخبارات بھی اس تشہیری مہم میں کوئی مثبت کردار ادا کرنے سے قاصر نظر آتے ہیں۔ بے بنیاد الزام تراشیوں اور کردار کشی و اشتعال انگیزی کی تردید و مذمت میں الجھ کر وقت اور صلاحیتیں صرف ہوتی ہیں تو چشم پوشی اور سکوت سے بھی ناقابل تلافی نقصان پہنچتا ہے کیونکہ اس طرح ایک فریق کے ناپاک ارادوں کو تقویت ملتی ہے اور دوسرے فریق کے سکوت کو اعتراف جرم تصور کیا جاتا ہے۔

گذشتہ دنوں ایک دریدہ دہن لیڈر کا بیان شائع ہوا کہ ہمیں ’’اسلام مکت بھارت چاہئے۔‘‘ اس بیان کی بے ہودگی ثابت کرنے میں زیادہ محنت کی ضرورت نہیں ہے۔ ظاہر ہے جب تک مسلمان بھارت کے شہری ہیں بھارت اسلام سے بے تعلق نہیں ہو سکتا۔ پچیس کروڑ مسلمان آج بھی ہندوستان کی دوسری اکثریت کادرجہ رکھتے ہیں اور اُن کی اپنی تاریخ و تہذیب ہے۔ وہ اپنے دینی و تہذبی ورثہ کے ساتھ ہندوستان کا جزو لا ینفک ہیں۔ غیر تقسیم شدہ ہندوستان پر وہ صدیوں حکمراں رہے ہیں۔ کم وبیش ایک ہزار برس تک مسلمان اپنے دینی و تہذیبی تشخص و امتیاز کے ساتھ ہندوستان کے مشرق سے مغرب تک اور شمال سے جنوب تک نہ صرف یہاں کے شہری رہے ہیں بلکہ انہوں نے اس ملک کو بہت کچھ دیا ہے۔ یعنی وہ یہاں کے شہری ہی نہیں بلکہ اس ملک کے محسن بھی ہیں۔ کوئی چاہے تو بھارت کے بڑے شہروں سے لیکر چھوٹے دیہات و قصبوں تک اس سچ کا مشاہدہ بھی کر سکتا ہے کہ :
۔ ع۔ پتہ پتہ بوٹا بوٹا حال ہمارا جانے ہے جانے نہ جانے گل ہی نہ جانے باغ تو سارا جانے ہے
یہ اسلام ہی ہے جس نے ہندوستان سے انسانی مساوات کا تفصیلی تعارف کرایا اور غلام خاندان کی حکومتیں قائم کرکے اس کا مشاہدہ بھی کرا دیا۔ اس وقت کے برہمنی معاشرے میں انسان اپنی پیدائش (جنم) کی نسبت سے اچھا یا برا مانا جاتا تھا،یعنی اس کی قدر و قیمت اس کے افکار و کردار کے بجائے اس کے نسل و خاندان سے مقرر کی جاتی تھی۔ عقیدہ تناسخ (آواگون) کے نتیجے میں ہر مصیبت زدہ انسان ہمدردی اور تعاون کا مستحق ہونے سے پہلے مجرم اور خطا کار کا درجہ رکھتا تھا جو اپنے سابقہ نامعلوم گناہوں کی سزا پا رہا تھا۔ اسلام نے آخرت کے جامع اور حقیقت افروز عقیدے پر اخلاق و کردار کی پختہ بنیادیں فراہم کیں۔ ایک خاص طبقہ اسی لئے اسلام کی مخالفت کرنا ضروری سمجھتا ہے کہ اس کے ہوتے ہوئے تناسخ (آواگون )اور نسلی امتیاز کے اصولوں پر معاشرے کی تشکیل نہیں کی جاسکتی۔

انگریزی استعمار کے خلاف آزادی کی لڑائی میں مسلمانوں کا کردار نہ صرف یہ کہ برابر کا ہے بلکہ سب سے بڑھ کر ہے۔ آزادی کی لڑائی کو اگر دو حصوں میں تقسیم کریں تو پہلا حصہ دست بدست مقابلہ آرائی کا ہے۔ جس میں بلاشبہ مسلمانوں کا پہلا مقام ہے۔ پلاسی کی جنگ ۱۷۵۷ئ؁سے لیکر ۱۸۵۷ئ؁ کی بغاوت تک کون سرِ فہرست ہے؟ کس کی قربانیاں زیادہ ہیں؟ سراج الدولہ ،حیدر علی، سلطان ٹیپو سے لیکر بہادر شاہ ظفر تک جنگ آزادی کے سورماؤں کی فہرست تیار کی جائے تو خود بخود معلوم ہو جائے گا کہ اکثریت اسلام کے چاہنے والوں کی تھی۔ دوسرے دور میں برطانوی حکمرانوں نے اپنے پر فریب وعدوں کے ذریعہ اپنی حکومت کو طول دیا اور ہندوستان کو سیکڑوں ریاستوں میں تقسیم کرکے کسی حکمراں کو اس قابل نہ رکھا کہ وہ برطانوی اقتدار کا مقابلہ کر سکے۔ تو عوام کو میدان میں اتارنے والے کون تھے؟ کیا علماء اسلام نے انگریزوں کے خلاف جہاد کے فتوے دیکر یہ ثابت نہیں کیا کہ عوامی جدو جہد کے اس دور میں بھی اسلامی ہی برطانوی سامراج کا سب سے بڑا مخالف ہے۔ اور اس کے مقابلہ میں خود کو کمزور پاکر جہاد کو اسلام سے بے تعلق کرنے کی ناکام کوششیں آج بھی جاری ہیں۔ ہم یہ نہیں کہتے کہ ہندوستان کی آزادی میں اسلام اور مسلمانوں کے سوا کسی اور کا حصہ نہیں ہے مگر اس سچ کو کیسے جھٹلایا جا سکتا ہے کہ جنگ آزادی میں مسلمان کسی سے پیچھے نہیں تھے۔ آزادی کی جدوجہد میں شیخ الہند مولانا محمد علی جوہر، مولانا حسرت موہانی، اشفاق اللہ خان جیسے درجنوں سرفروش ملت اسلامیہ ہی کے چشم و چراغ تھے۔

سچ یہ ہے کہ اسلام کل بھی ہندوستان کا محسن تھا اور آج بھی ہے۔ اس موضوع پر ہم ہندوستان کے ہر مذہب و فکر کے حامل سنجیدہ لوگوں کو غور و فکر اور باہمی گفتگو کی دعوت دینا چاہتے ہیں۔ ہمارا پختہ خیال ہے کہ یہ مکالمات سب کے لئے مفید ہوں گے۔ اس طرح اگر بے بنیاد الزام تراشیوں اور جوابی الزامات کا سلسلہ رُک سکے گا تو اس کے علاوہ جو لوگ قومی مفاد کو ہی سب کچھ سمجھتے ہیں ان پر بھی یہ واضح ہو سکے گا کہ فی الواقع ملک کا مفاد کس میں ہے؟ اسلام دوستی میں یا اسلام دشمنی میں۔ !
جو لوگ اپنے آپ کو وطن پرست (دیش بھگت) ثابت کرتے ہیں اور اس ملک کو ہندو راشٹر بنانا چاہتے ہیں،آخر وہ ہندو راشٹر کا نعرہ لگاکر ہی کیوں رہ جاتے ہیں؟ کیا ہندو راشٹر ایک نعرہ ہے یا اس کا کوئی نظریہ اور نظام بھی ہے؟ اگر ایسا ہے تو اس کی کوئی مثال اور تعریف کیوں پیش نہیں کرتے؟ کیوں نہیں بتاتے کہ کون سی ہندو کتاب کو اس میں اصل اہمیت حاصل ہوگی؟ اوراس سے کیا فائدہ ہوگا؟ کیوں نہیں بتاتے کہ اس میں منو اسمرتی کو قانونی حیثیت حاصل ہوگی یا نہیں۔ کون سی راماین کو سرکاری درجہ ملے گا اور کیا اس کے مطابق ہندو راشٹر میں ڈھول اور پشو (جانور) کی طرح شودراور عورت کو بھی اذیت دی جاسکے گی یا نہیں؟ یہ سب کچھ چھوڑ کر محض اسلام اور مسلمانوں کو بدنام کرکے ہندو راشٹر کے لئے جواز پیدا نہیں کیا جا سکتا ۔

ہماری اس گفتگو کا محور اسلام ہے۔ آپ بے جانے بوجھے اسلام کی مخالفت کیوں کرتے ہیں؟ اگر ہر وہ چیز جس کا تعلق اسلام اور مسلمانوں سے ہے نا قابل قبول ہے اور آپ کو ’’اسلام مکت بھارت ‘‘(بھارت بلا اسلام)چاہئے تو کیا آپ مسلم ملکوں کا پیٹرول استعمال کرنا چھوڑ دیں گے؟ لاکھوں غیر مسلم بھارتیوں کو جو سعودی عرب سمیت مسلم ملکوں میں ملازمت کر رہے ہیں ،واپس بلا لیں گے؟ آپ اس جانب توجہ کیوں نہیں کرتے کہ بھارت کا مفاد آج بھی اسلام اور مسلم دنیا سے وابستہ ہے۔ دنیا کے سیاسی منظر پر نظر ڈالیں ،اگر بھارت کا شمار مسلمانوں کے دوست اور خیر خواہ کی حیثیت سے ہوتا ہے تو اس میں کس کا فائدہ ہے؟ اگر بلاشبہ مسلم دنیا سے خوش گوار تعلق میں بھارت کا فائدہ ہے تو وہ کون سے وطن پرستی ہے جو پھر بھی اسلام مکت (بغیر اسلام )بھارت کا مطالبہ کرتی ہے۔

سطور بالا میں ہم نے جو اشارے کئے ہیں وہ صرف ان مفادات تک محدود ہیں جن کا تعلق دنیا سے ہے۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ اسلام سب سے بڑھ کر ابدی فائدوں کی ضمانت دیتا ہے۔ انسان کا اصل فائدہ اور نقصان اس عارضی زندگی تک محدود نہیں ہے ،اور نہ ہی اس کی اس کامیابی کا تعلق اس عارضی اور فانی دنیا تک ہے۔ بلا شبہ اسلام دین کے معاملے میں زور زبردستی کی اجازت نہیں دیتا لیکن یہ دعوت ضرور دیتا ہے کہ انسان کی فلاح و کامرانی اللہ کے دین میں ہے۔ اور اسلام اللہ کا دین ہے، انسانوں کے رب کا دین ہے، یعنی سب کا دین ہے۔ ۔۔ اس کی دعوت پر اسی حیثیت سے غور کیا جانا چاہئے۔

ہندوستان کو ہندو راشٹر قرار دینے والوں کی اصل کمزوری یہ ہے کہ ان کے پاس اپنے خیالات کی کوئی مضبوط اور معقول بنیاد نہیں ہے۔ یعنی ہندوراشٹر (ہندو قوم )کی نہ صرف یہ کہ کوئی متعین تعریف نہیں ہے بلکہ لفظ ’’ہندو ‘‘بھی متنازعہ ہے۔ جس پر ہندو علماء کو اعتراض رہا ہے۔ اس کا استعمال قدیم ہندو مذہبی کتابوں میں نہیں ہوا ہے۔ بعض اس لفظ کو مسلمانوں کی دین بتاتے ہیں اور اس سے نفرت کرتے ہیں۔ اور اپنے لئے دوسرے الفاظ کے استعمال کی ترغیب دیتے ہیں۔ آریہ سماج نے خود کو آریہ ورت ثابت کیا۔ ویدک سماج کی بات کی۔ یہ گاڑی بھی آگے نہ چلی کیوں کہ ہندوستان میں آریوں کے علاوہ دوسری بہت سی قومیں بھی رہتی ہیں۔ دراصل ہندو راشٹر کا تصور قوم پرستی کا وہ جارحانہ تصور ہے جو ہندوستانی جغرافیائی قوم پرستی کے مقابلہ میں ہندو انتہا پسندوں نے ایجاد کیا اور جس کو ڈاکٹر ہیڈ گوار مونجے ،گولوالکر اور ساورکر جیسے سیاسی لوگوں نے ڈیزائن کیاہے ۔ اس تصور قوم پرستی کی سب سے بڑی خرابی یہ ہے کہ یہ اپنے سوا ہندوستان کی دوسری قومیتوں اور مذاہب کی نفی کرتا ہے اور اس نفی کے لئے زور زبردستی کے علاوہ کوئی دلیل بھی نہیں رکھتے۔ ہندو قوم پرستی کا یہ نظریہ نہ صرف مسلمانوں ،عیسائیوں، سکھوں، بودھوں اور پارسیوں وغیرہ کے لئے ناقابل قبول ہے بلکہ ہندوستان کی سلامتی اور وحدت کے لئے بھی مہلک ہے۔ ان سب باتوں پر سنجیدگی اور خلوص کے ساتھ تبادلۂ خیال اور غور و فکر کی اہمیت کو تسلیم کیا جانا چاہئے۔

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *