بلاتبصرہ

انگریزی روزنامہ انڈین ایکسپریس ،دہلی کی ۷؍مئی ۲۰۱۵ئ؁ کی اشاعت میں ایک نہایت دلخراش اور فکر انگیز حادثہ کی اطلاع صفحہ اوّل پر شائع ہوئی ہے۔ اس نوعیت کی خبریں بحیثیت مجموعی پورے ہندوستانی معاشرہ سے آتی رہتی ہیں۔ کچھ دن ہنگامہ ہوتا ہے پھر سب خاموش بیٹھ جاتے ہیں کسی اگلے ایسے ہی دلخراش حادثہ کے انتظار میں۔
مظفر نگر کے پھگانہ قصبہ کے قریب کے گاؤں کے ایک مسلم سبزی فروش کی ۱۷؍سالہ بچی نے مئی ۲۰۱۵ئ؁ کے پہلے ہفتہ میں اپنی منگنی کے اگلے روز ایک غیر مسلم دلت لڑکے کے ساتھ مل کر ایک ہی دوپٹہ سے نیم کے پیڑ کے شاخ پر لٹک کر خودکشی کر لی۔ مسلم لڑکی کی مانگ میں سیندور تھا ۔ منگل سوتر پہنا ہوا تھا۔ نقلی جیولری پاس ہی پڑی ہوئی تھی۔ لڑکی کے ماں باپ کہتے ہیں کہ ہمیں تعلقات کے بارے میں جانکاری نہیں تھی ۔ گاؤں والوں کا کہنا ہے کہ جھوٹ بول رہے ہیں ۔ گاؤں کے لوگوں کو معلوم ہے کہ سالوں سے چکر چل رہا تھا۔ لڑکے کا دوست کہتا ہے کہ ہاں لڑکی ہی پہل کرتی تھی اور کن انکھیوں سے اشارہ بازری میں پہل کرتی تھی۔
آئے دن ہم اخباروں میں ’’غیرت کے نام پر قتل‘‘ کی بہیمانہ وارداتیں پڑھتے رہتے ہیں۔ جس طرح کے معاشرہ اور تہذیب میں ہم رہ رہے ہیں وہ پوری امت مسلمہ کے لئے ایک زبردست چیلنج ہے۔ ایک طرف بے قید آزادی کا نعرہ ہے ۔ اسکول، کالج، گھر، بس، ہر جگہ مسلسل مرد و زن کا فری میل جول ہے۔ مسلم سماج میں ’’تعلیم نسواں ‘‘اور ’’مساوات مردوزن ‘‘کے نئے نئے جھنڈا برادران دن رات مصروف کار ہیں۔ خواتین اور نئی نسل میں دینی تعلیمات کا کوئی نظم نہیں ہے اور یہی گروپ سب سے زیادہ مغربی تہذیب کے نشانہ پر بھی ہے اور ’’بہو لاؤ بیٹی بچاؤ‘‘ گروپ کے نشانہ پر بھی ہے۔ ورنہ ملت میں دین کی محنت بھی بہت ہو رہی ہے ۔ مدارس بھی بہت کھل رہے ہیں مگر خواتین کی بنیادی تعلیم کا نظم صفر کے برابر ہے۔ ہاں ‘Z’سیریل خوب دیکھے جا رہے ہیں۔ جب مسلم معاشرہ ہی اپنی بچیوں اور بچوں کے انجام کے اعتبار سے اتنا لاپرواہ ہو رہا ہے کہ اس خبر ہی نہیں کہ اس کے نونہال یا تو زنا میں مبتلا ہو رہے ہیں یا ارتداد میں یا دونوں میں تو اللہ کی مدد کیونکر آئیگی؟ اپنی لاڈلی نئی نسل کو جہنم کی طرف جانے سے روکنے کا کوئی نظم ہے؟؟؟
چین: سنکیانگ میں مسلمانوں کے روزہ رکھنے پر سرکاری پابندی عائد
بیجنگ (ایجنسیاں): چین نے مسلم اقلیتی طبقہ کی اکثریتی آبادی والے مغربی صوبہ سنکیانگ میں ماہ رمضان کے دوران سرکاری ملازمین، طلبہ وطالبات اور اساتذہ کے روزہ رکھنے پر پابندی لگادی ہے اور شہروں میں تمام ریستوراں اور ہوٹلوں کو کھلارکھنے کا حکم دیا گیاہے۔ رمضان کے پورے مہینے کے دوران دنیا بھرکے مسلمان روزہ رکھتے ہیں، جس کا آغاز ہوچکاہے۔ بیجنگ سے موصولہ رپورٹوں میں بتایا گیا ہے کہ سنکیانگ کے دارالحکومت’ جِنگ ہے‘میں خوراک اور ادویات کے ریاستی محکمے کی ویب سائٹ پر تو یہ اعلان گزشتہ ہفتے ہی کردیاگیا تھا کہ رمضان کے مہینے کے دوران ریستوران معمول کے اوقات کار کے دوران ہمیشہ کی طرح کھلے رکھے جائیں گے۔ صوبہ سنکیانگ میں ‘بولے’نامی کائونٹی کی مقامی حکومت کی ویب سائٹ پر گزشتہ ہفتے ہونے والے ایک اجلاس میں کئے گئے فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے آج کہاگیا کہ رمضان کے دوران سرکاری اہلکاروں کو روزہ رکھنے ،راتوں کو جاگنے یاایسی ہی دوسری مذہبی سرگرمیوں سے اجتناب کرناچاہئے۔
(روزنامہ خبریں 25جون2015ئ)
پاکستان: روہنگیامسلمانوں کے لئے50لاکھ ڈالر کی امداد کا فیصلہ
اسلام آباد(ایجنسیاں): پاکستان روہنگیا مسلمانوں کو خوراک اور دیگر امدادی سامان کی فراہمی کے لئے ’’اوآئی سی‘‘ کے خصوصی فنڈ کی تشکیل کی تجویز بھی پیش کرے گا۔ پاکستان نے انڈونیشیا، ملیشیااور تھائی لینڈ میں روہنگیامسلمانوں کے کیمپوں میں امداد کی تقسیم کے لئے 50لاکھ ڈالر فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ادھر قومی اسمبلی نے بدھ کو روہنگیامسلمانوں پر ڈھائے جانے والے ’مظالم‘کے خلاف ایک قرارداد بھی منظور کی ہے۔ یہ امداد عالمی ادارہ برائے خوراک ’’ورلڈ فوڈپروگرام‘‘کے ذریعے خوراک کی شکل میں فراہم کی جائے گی۔ ایک سرکاری بیان کے مطابق وزیراعظم محمدنواز شریف نے روہنگیامسلمانوں کے معاملے پر وزارتی کمیٹی کی تمام تجاویز کی منظوری دے دی ہے۔ کمیٹی کی تجاویز کے تحت وزیراعظم نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے صدر کو ایک خط لکھتے ہوئے انہیں اس انسانی بحران سے آگاہ کیا اور بین الاقوامی انسانی قوانین کے مطابق روہنگیامسلمانوں کو شہری حقوق کی فراہمی کے لئے میانمار کی حکومت پر سفارتی اوراخلاقی دبائو میں اضافہ کرنے پرزوردیا ۔ بیان کے مطابق وزیراعظم کے مشیر برائے امورخارجہ سرتاج عزیز بھی اسلامی ممالک کی تنظیم ’’او آئی سی‘‘ کے سیکریٹری جنرل کو ایک خط کے ذریعہ اس معاملے کے حل کے لئے کوششیں کرنے پر زور دیںگے۔
(روزنامہ خبریں 11؍جون 2015ئ)
بزدل صہیونی فوجیوں نے حماس رہنما عزالدین کو مسجد سے
باہر نکلتے وقت گولیوں سے بھون ڈالا
جنین(ایجنسیاں) قابض صہیونی فوجیوں نے بدھ کے روز مقبوضہ مغربی کنارے کے شہر جنین میں نماز فجر کی ادائیگی کے بعد مسجد سے باہر نکلتے ہوئے اسلامی تحریک مزاحمت ’’حماس‘‘ کے رہنما کو گولیاں ماردیں جس کے نتیجے میںوہ موقع پر ہی دم توڑ گئے۔ درندہ صفت اسرائیلی فوجیوں نے جنین کے شمال میں فلسطینی پناہ گزین کیمپ میں تلاشی کے بہانے چھاپہ مار ااور گھرگھر تلاشی کا سلسلہ شروع کیا۔ اس دوران مشتعل شہری اسرائیل کے خلاف نعرے لگاتے سڑکوں پر نکل آئے ۔ اسرائیلی فوجیوں نے انہیں منتشرکرنے کے لئے لاٹھی چارج کیااور ان پر اشک آورگیس پھینکی۔ اسی دوران مہاجر کیمپ کی ایک مسجد سے حماس رہنما23سالہ عزالدین ولیدبن عزہ نماز فجر کی ادائیگی کے بعد باہر آرہے تھے کہ اسرائیلی فوجیوں نے ان پر گولیوںکی بوچھار کردی۔کئی گولیاں شہید کے سینے سے پارہوگئیں، جس کے نتیجے میں وہ موقع پر ہی جام شہادت نوش کرگئے۔ مقامی ذرائع نے مرکز اطلاعات فلسطین کے نامہ نگار کو بتایا کہ عز الدین بنی غزہ کی شہادت کے بعد جنین سمیت کئی دوسرے علاقوں میں اسرائیلی فوج کے خلاف احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوگیا تھا۔ عینی شاہدین نے بتایا کہ ولید بنی غزہ شہادت کے بعد صرف دس منٹ تک موت وحیات کی کشمکش میں رہے تاہم اسپتال پہنچائے جانے سے قبل ہی جام شہادت نوش کرگئے۔ عزالدین بنی غزہ اسرائیلی فوج کو مطلوب نہیں تھے اور نہ ہی ان پر کسی قسم کی مزاحمتی کارروائی کا الزام عاید کیاتھا۔ بزدل صہیونی فوجیوں نے بنی غزہ کواس وقت گولیاں ماریں جب وہ نہتے تھے اور مسجد میں نماز فجر کی ادائی کے بعد باہر آرہے تھے۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ شہید نے دوروز قبل سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’’فیس بک ‘‘ کے صفحے پر شہادت کی موت پانے کی آرزو کا اظہار کیاتھا۔ ادھر اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘نے بزدل صہیونی فوج کے حملے میں ایک نہتے کارکن کی شہادت پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے ان کی شہادت کو اسرائیلی فوج کی وحشیانہ اور منظم ریاستی دہشت گردی کا نتیجہ قراردیاہے۔ (روزنامہ خبریں 11؍جون 2015ئ)

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *