بنی اسرائیل کا عروج و زوال اور امت مسلمہ

اللہ تعالیٰ نے اس اعلان کے ساتھ انسان کی تخلیق کی ’’اِنِّی جَاعِلٌ فِی الْاَرْضِ خَلِیْفَۃً۔بے شک میں زمین میں ایک خلیفہ بنا نے والا ہوں۔‘‘پھر اسی اعلان کو اولاد نوح کے لیے یوں دہرایا۔۔۔۔۔۔۔وَاذْکُرُوْا اِذْ جَعَلَکُمْ خُلَفَائَ مِنْ بَعْدِ قَوْمِ نُوْحٍ۔۔۔۔(۷:۶۹)’’اور یا دکرو جب تم کو قوم نوح کے بعد ان کا جانشین بنایا۔‘‘پھر یہی ندا حضرت ابراہیم علیہ السلام کے متعلق بلند ہوتی ہے اِنِّی جَاعِلُکَ لِلنَّاسِ اِمَامًا۔میں تم کو(ابراہیم کو) انسانوں کا امام بنائوںگا۔انسان کے متعلق اللہ کے اس اعلان کو قرآن مجید نے مختلف الفاظ میں بیان کیا ہے ۔کہیں پر زمین پر نیابت تو کہیںخلافت،کہیں تمکین تو کہیں زمین کی وراثت سے تعبیر کیا ہے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام سے کیا گیا امامت کا وعدہ اولاد یعقوب ؑکے حق میں ایک زمانے تک پورا ہوتا رہا۔ ایک زمانے تک وہ اس سے فیض یاب ہوتے رہے اور اس کے تقاضوں کو بھی پورا کرتے رہے۔ پھر رفتہ رفتہ بنی اسرائیل کی روش میں تبدیلی رونما ہونے لگی اورخلافت ارضی کے تقاضوں کو پورا کرنے کے بجائے محض آبائی وراثت پر فخر و غرور باقی رہ گیا اور عمل سے فرار کی روش پیدا ہوگئی۔عمل سے فرار کا یہ مزاج جب انتہا کو پہنچا تو اس نے مجرمانہ شکل اختیا رکرلی اور بات یہاں تک پہنچی کہ یہود اپنے انبیاء و ناصحین کے دشمن بن گئے۔اس صورت حال پر آخری زمانے کے انبیائے بنی اسرائیل نے انہیں کافی تنبیہ کی ،لیکن جرائم کی شدت اتنی بڑھ چکی تھی کہ بالآخر زبانوں سے یہ اعلان ہونے لگا کہ اِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِیْحَ عِیْسٰی ابْنَ مَرْیَمَ رَسُوْلَ اللّٰہ’’ِ ہم نے مسیح عیسیؑ ابن مریم اللہ کے رسول کو قتل کیا‘‘تب اللہ خالق دو جہاں نے نسل براہیمی کے دوسرے حصے بنی اسماعیل سے آخری نبی کی بعثت کا فیصلہ کیا۔
عرب میں بنی اسرائیل کی آبادی کی وجہ مورخین ان پیشن گوئیوں کو بتاتے ہیں جو آخری نبی کے متعلق یہود کے پاس موجودکتب ِآسمانی میں پائی جاتی تھیں۔ جب آخری نبی کی بعثت بنی اسماعیل میں ہوئی تو بنی اسرائیل کو یہ خطرہ لاحق ہوا کہ کہیں یہ تبدیل امامت تو نہیں؟لیکن وہ انتظار کرتے رہے کہ دیکھیں اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے۔اس انتظار میں یہ اطمینان بھی پوشیدہ تھا کہ مسلمانوں کا قبلہ تو وہی ہے جو بنی اسرائیل کا ہے ۔گویا سیادت و قیادت پوری طرح سے منتقل نہیں ہوئی۔ یہاں تک کہ قرآنی آیات نے ان کے لیے آخری موقع کا اعلان کردیا ۔اس اعلان کے بعد بھی جب یہود رسول اللہ ﷺکے متعلق مخلص نہیں ہوئے تب تحویل قبلہ کا اعلان ہوا جو اس بات کا اعلان تھا کہ اب بنی نوع انسان کی رہنمائی کا تاج امت محمدیہ ﷺکے سر پر رکھاجاتا ہے جس کا قبلہ اور مرکز کعبۃ اللہ ہوگا۔اس اعلان کے بعد یہود نے وہی روش اختیار کی جو تخلیق آدم اور اسے مسجود الملائکہ بناتے وقت ابلیس لعین نے اختیار کی تھی کہ بجائے اپنی غلطی کو ماننے کے اس پر اڑ گیا کہ میں ثابت کرکے رہوںگا کہ بنی آدم خلافت ارضی کے لائق نہیں ہے۔ٹھیک اسی طرح یہود اس بات پر اڑ گئے کہ زمینی وراثت کے اصل حقدار ہم ہی ہیںاور ہم یہ ثابت کرکے بتائیں گے کہ مسلمان اس نعمت کے لائق نہیں ہیں ۔یہیں سے ملت اسلامیہ اور ملت یہود میںاس معرکہ کی ابتدا ہوئی ہے جو ہمیں تاریخ کے اوراق میں ملتا ہے اور جو اب تک جاری ہے۔اس معرکہ خیر و شر میں ثبات قدمی کے لیے جتنی چیزیں ضروری تھیں ان تمام سے اللہ کی کتاب اور رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات نے آگاہ کردیا۔ قرون اولیٰ کی امت اس سے اتنی زیادہ واقف تھی کہ اس بنا پر وہ ہر وقت اپنی ذمہ داری سے آگاہ اور دشمن سے چوکنا رہی۔مسلمان جب تک اصولی زندگی گزارتے رہے ،یہ امامت و خلافت کا تاج انہیں کے سر پر جگمگاتا رہا،لیکن جیسے جیسے امت اپنے اصولوں کو فراموش کرتی چلی گئی ویسے ویسے وہ اپنی اصل حیثیت سے غافل ہوتی چلی گئی۔ بالآخر خلافت ارضی کی یہ خلعت ان سے چھین لی گئی اور وہ زمین کے ہر گوشے میں ذلیل و خوار کردیے گئے۔
اس مقام پر آکرہمیں غور کرنا چاہیے کہ امت کے عروج و زوال کافلسفہ کیاہے؟امت مسلمہ کے وجود کا مقصد کیا ہے؟کیا ہم محض دنیا میں دوسری قوموں کی طرح ایک قوم ہیں؟ان جوابات سے پہلے اس سوال کا جواب معلوم کرنا ہوگا کہ نبی و رسول کی بعثت کا مقصد کیا ہے؟اور نبی آخر محمد رسول اللہ ﷺکو اللہ نے کس مقصد کے لئے مبعوث کیا تھا؟ آپﷺ خاتم النبیین ہیں اس لیے تمام انبیاء و رسل جس مقصد سے بھیجے گئے اس کو رسول آخر ﷺنے تمام و کمال تک پہنچایاہے ۔اس پوری بحث کا حاصل سمجھنا ہمارے لیے اس لیے بھی ضروری ہے اسی میں امت کے عروج و زوال کے اسباب مضمر ہیں۔
نبوت کا مقصد:
ذیل میں طویل بحث سے بچتے ہوئے محض ان آیات کے پیش کردیے جانے پر اکتفا کیا جا رہا ہے جو سابق انبیاء علیہم السلام کے بعثت کے مقصد کو واضح کرتی ہیں۔
(۱) ’’ہم نے نوح کو اس کی قوم کی طرف بھیجا،چنانچہ اس نے کہا:اے میری قوم!تم اللہ کی عبادت کرو،اس کے سوا تمہارے لیے کوئی الہ نہیں۔‘‘ُ(اعراف:۵۹)
(۲) ’’اور آپ سے پہلے ہم نے جو بھی رسول بھیجا،اس کی طرف یہی وحی کرتے رہے کہ بے شک میرے سوا کوئی معبود نہیں،لہٰذا تم میری ہی عبادت کرو۔‘‘َ(انبیائ:۲۵)
(۳) ’’اور بلا شبہ ہم نے ثمود کی طرف ان کے بھائی صالح کو بھیجاکہ اللہ کی عبادت کرو،تو اسی وقت وہ لوگ دو فریق(مومن اور کافر)ہوکر جھگڑنے لگے۔‘‘(نمل:۴۵)
(۴) ’’اور یقینا ہم نے ہر امت میں ایک رسول بھیجا کہ اللہ کی عبادت کرو،اور طاغوت سے بچو۔‘‘(نحل:۳۶)
(۵) ’’اس نے تمہارے لیے وہی دین مقرر کیا ہے جس کا حکم اس نے نوح کو دیا تھا اور جو ہم نے (اے نبیﷺ)آپ کی طرف وحی کیا ہے اور جس کا تاکیدی حکم ہم نے ابراہیم،موسیٰ اورعیسیٰ کو دیا تھا کہ تم اس دین کو قائم رکھواور تم اس میں فرقہ فرقہ نہ ہوجائو۔ ‘‘(شوری:۱۳)
(۶) ’’اے نبیﷺ)کہہ دیجیے:اے اہل کتاب!تم ہر گز اصل دین پر کاربند نہیں ہو سکتے یہاں تک کہ تم تورات اور انجیل اور اپنے رب کی طرف سے نازل کی گئی (دوسری)کتابوں کے احکام کو ٹھیک ٹھیک قائم نہ کرو۔‘‘(مائدہ:۶۸)
مندرجہ بالا آیات میں لفظ ’’عبادت‘‘قابل غور ہے،اس لیے کہ عبادت کو محض پوجا اور پرستش کے معنی میں لینے کی وجہ سے دین اسلام کا حقیقی مفہوم بدل گیا ہے۔ہم صرف ایک مثال دیںگے۔ قرآن مجید نے فرعون اور اس کے وزراء کا ذکر کرتے ہوئے یہ وضاحت کی کہ جب انہوں نے بنی اسرائیل پر اپنے تسلط کا اظہار کیا تو یوں کہا’’فَقَالُوْا اَنُوْمِنُ لِبَشَرَیْنِ مِثْلِنَا وَقَوْمَھُمَا لَنَا عَابِدُوْنَ۔(المومنون:۴۷)’’چنانچہ وہ کہنے لگے کہ کیا ہم اپنی ہی طرح کے دو انسانوں پر ایمان لائیں ،جب کہ ان کی قوم کے لوگ ہمارے غلام(ماتحت)ہیں۔‘‘ابن اثیر کا قول ہے:معنی العبادۃ فی اللغۃ الطاعۃ مع الخضوع’’لغت میں عبادت کے معنی ہیں ،اطاعت عاجزی کے ساتھ۔‘‘(تاج العروس۲:۴۱۰؍قرآنی اصطلاحات اور علماء سلف و خلف ص۱۲۳)گویا عبادت محض پرستش نہیں ہے بلکہ انسان کا اپنے آپ کو کلی طور پراللہ کی غلامی اور اطاعت میں دے دینا ہے۔اور تمام انبیاء علیہم السلام کی دعوت یہی تھی کہ قوم اپنی زندگی کا اختیار اللہ کے حوالے کردے۔بس اسی دعوت کو لے کر خاتم النبیین ﷺ تشریف لائے۔
رسول اللہ ﷺکامقصد بعثت:
یہ بات جان لیجیے کہ دین کی اقامت اور اس کا غلبہ نبی اکرم ﷺکی بعثت کے بنیادی مقاصد میں سے ہیں۔یہ بات پوری وضاحت کے ساتھ سورہ الصف کی مرکزی آیت کے حوالے سے ہمارے سامنے آئے گی۔ھو الذی ارسل رسولہ بالھدی ودین الحق لیظھرہ علی الدین کلہ اس میں اگر کسی کو اشتباہ ہے ،اور نیک نیتی کے ساتھ اشتباہ ہے تو وہ اللہ کے ہاں تو عذر پیش کر سکے گا ،لیکن واقعہ یہ ہے کہ دین کو دنیا میں ایک عملی اور ایک زندہ نظام کی حیثیت سے قائم اور برپا کرنا بعثت محمدیﷺ کا بنیادی مقصد ہے۔اسی کے لیے محنت،اسی کے لیے جد و جہد،اسی کے لیے کوشش،اسی کے لیے جینا،اسی کے لیے مرنا،اسی میں جان و مال کھپانا بندئہ مومن کے ایمان کا لازمی تقاضا ہے۔
(سورئہ الصف کی تفسیر از ڈاکٹر اسرار ؒ،ص۱۹/۱۸)
وَرَبَّکَ فَکَبِّرْ کی تفسیر میں مولانا امین احسن ؒ لکھتے ہیں:’’حضرات انبیاء علیھم السلام کی دعوت میں توحید کو بنیادی حیثیت حاصل رہی ہے یعنی صرف اللہ کی کبریائی و یکتائی کا اعلان۔مفعول کی تقدیم سے یہاں حصر کا مضمون پیدا ہوگیا ہے۔یعنی اللہ کے سوا جو بھی کبریائی کے مدعی ہیں یا جن کی کبریائی کا بھی دعویٰ کیا جاسکتا ہے وہ سب باطل،تم صرف اپنے رب ہی کی عظمت و کبریائی کا اعلان کرو۔‘‘
اللہ رب العزت نے نبی آخر ﷺکی بعثت کا مقصدتین مقام پر تھوڑی سی تبدیلی کے ساتھ بیان کیا ہے :
ھو الذی ارسل رسولہ بالھدی ودین الحق لیظھرہ علی الدین کلہ و لو کرہ المشرکون۰یہ آیت سورہ صف اور سورہ توبہ میں آئی ہے اورسورہ فتح کے آخری رکوع میں آیت نمبر ۲۸:ھو الذی ارسل رسولہ بالھدی و دین الحق لیظھرہ علی الدین کلہ وکفی باللہ شھیدا۔
مولانا مودودی ؒ جاہلی نظام کے متوالوں کا ذکر کرنے کے بعد رقم طراز ہیں:’’اللہ کا رسول ان کے ساتھ مصالحت کرنے کے لیے نہیں بھیجا گیا ہے بلکہ اس لیے بھیجا گیا ہے کہ جو ہدایت اور دین حق وہ اللہ کی طرف سے لایا ہے اسے پورے دین،یعنی نظام زندگی کے ہر شعبے پر غالب کردے۔یہ کام اسے بہرحال کرکے رہنا ہے۔کافر اور مشرک مان لیں تو،اور نہ مانیں تواور مزاحمت میں ایڑی چوٹی کا زور لگادیں تو،رسول کا یہ مشن ہر حالت میں پورا ہوکر رہے گا۔‘‘
(تفہیم القرآن،سورہ المدثر،ص۴۷۷)
ابن کثیر نے آیت ھو الذی ارسل رسولہ بالھدی و دین الحق لیظھرہ علی الدین کلہ و لو کرہ المشرکون۰(سورہ توبہ:۳۳)کی تفسیر میں یہ روایت نقل کی کہ:حضرت عدیؓ فرماتے ہیں،میرے پاس رسول کریمﷺ تشریف لائے۔مجھ سے فرمایا۔’’اسلام قبول کر،تاکہ سلامتی ملے۔‘‘میںنے کہا میں تو ایک دین کو مانتا ہوں۔آپﷺ نے فرمایا۔’’تیرے دین کا تجھ سے زیادہ مجھے علم ہے۔‘‘میں نے کہا سچ؟آپﷺنے فرمایا ’’بالکل سچ۔کیا تو رکوسیہ میں سے نہیں ہے؟کیا تو اپنی قوم سے ٹیکس وصول نہیں کرتا؟‘‘میں نے کہا یہ تو سچ ہے۔آپﷺ نے فرمایا’’ تیرے دین میں یہ تیرے لیے حلال نہیں۔‘‘پس یہ سنتے ہی میں تو جھک گیا۔آپﷺ نے فرمایا:’’میں خوب جانتا ہوں کہ تجھے اسلام سے کون سی چیز روکتی ہے؟سن صرف ایک یہی بات تجھے روک رہی ہے کہ مسلمان بالکل ضعیف اور کمزور و ناتواں ہیں،تمام عرب انہیں گھیرے ہوئے ہے،یہ ان سے نپٹ نہیں سکتے لیکن سن حیرہ کا تجھے علم ہے؟‘‘میں نے کہا دیکھا تو نہیں لیکن سنا ضرور ہے۔آپﷺ نے فرمایا:’’اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اللہ تعالیٰ اس امر دین کو پورا فرمائے گا یہاں تک کہ ایک سانڈنی سوار حیرہ سے چل کر اکیلے امن کے ساتھ مکہ مکرمہ پہنچے گا اور بیت اللہ شریف کا طواف کرے گا۔واللہ تم کسریٰ کے خزانے فتح کروگے۔‘‘میں نے کہا۔کسریٰ بن ہرمز کے؟آپﷺ نے فرمایا:’’ہاں کسریٰ بن ہرمز کے۔تم میں مال کی اس قدر کثرت ہو پڑے گی کہ کوئی لینے والا نہ ہوگا۔‘‘اس حدیث کو بیان کرتے وقت حضرت عدی ؓنے فرمایا،رسول اللہ ﷺ کا فرمان پورا ہوا۔یہ دیکھو آج حیرہ سے سواریاں چلتی ہیں ۔‘‘گویا غلبہ دین کے بغیر کار نبوت مکمل نہیں ہو سکتا۔
اسی آیت کی تشریح میں شیخ الاسلام مولانا شبیر احمد عثمانی ؒ تحریر کرتے ہیں:’’اسلام کا غلبہ باقی ادیان پر معقولیت اور حجت و دلیل کے اعتبار سے ،یہ تو ہر زمانے میں بحمداللہ نمایاں طور پر حاصل رہا ہے۔باقی حکومت و سلطنت کے اعتبار سے وہ اس وقت حاصل ہوا ہے اور ہوگا جب مسلمان اصول اسلام کے پوری طرح پابند اور ایمان و تقوی کی راہوں میں مضبوط اور جہاد فی سبیل اللہ میںثابت قدم تھے یا آئندہ ہوںگے اور دین حق کا ایسا غلبہ کہ باطل ادیان کو مغلوب کرکے بالکل صفحہ ہستی سے محو کردے،یہ نزول مسیح ؑ کے بعد قریب قیامت کے ہونے والاہے۔‘‘لیظھرہ علی الدین کلہکی وضاحت میںصاحب روح البیان لکھتے ہیں:’’لیجعلہ ظاہرا ای عالیا وغالبا علی جمیع الادیان المخالفۃ لہ‘‘(روح البیان جلد ۹،ص۵۰۴)
اس پوری بحث سے یہ امر اظہر من الشمس ہوجاتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا مقصد بعثت غلبہ دین ،اقامت دین یا اعلاء کلمۃ اللہ تھا۔چنانچہ جب آپﷺ نے کار نبوت کی یہ ذمہ داری مکمل کی تب جس رب نے آپﷺ کو قُمْ فَأَنْذِرْ۰وَرَبَّکَ فَکَبِّرْ کا حکم دیا تھا اسی نے اعلان کیا کہ:الیوم اکملت لکم دینکم واتممت علیکم نعمتی و رضیت لکم الاسلام دینا(مائدہ:۳)۔حجۃ الوداع کے موقع سے رسول اللہ ﷺ نے کار نبوت کی یہ ذمہ داری اپنی امت پر عائد کی۔
مسلمانوں کا عروج:
قرن اول کے مسلمانوں کے عروج پر حالی مرحوم نے جو کچھ کہا خوب کہا:
گھٹا اک پہاڑوں سے بطحا کے اٹھی پڑی چار سو یک بیک دھوم جس کی
کڑک اور دمک دور دور اس کی پہنچی جو ٹیگس پہ گرجی تو گنگا پہ برسی
رہے اس سے محروم آبی نہ خاکی
ہری ہوگئی ساری کھیتی خدا کی
رسول خدا ﷺامت کو جوپیغام دے گئے اول دور کے مسلمانوں نے اسے اس طرح اپنے دانتوں سے پکڑا کہ بس وہی پیغام ان کا اوڑھنا بچھونا ہوگیا۔ کار نبوت کو لے کر ساری دنیا میں پھیل گئے ،انہوں نے زمین کی خشکی و تری کو اپنے گھوڑوں کے سموں تلے روندا،کبھی یورپ کے کلیسا ان کی اذانوں سے گونجتے تو کبھی افریقہ کے تپتے صحرا، انسانوں کی کوئی آبادی باقی نہ رہی کہ جہاں تک حکم خدا وندی نہ پہنچا دیا ہو۔فتح و کامرانی کا یہ سلسلہ خلفاء راشدین مہدین کے مبارک دور سے شروع ہوکر خلافت بنو امیہ،بنو عباس اور خلافت عثمانیہ تک دراز ہے۔بقول اقبالؔ
شان آنکھوں میں نہ جچتی تھی جہانداروں کی کلمہ پڑھتے تھے ہم چھائوں میں تلواروں کی
اگر ہم امت مسلمہ کے دور عروج کو دیکھیں تو اس کے کچھ بنیادی اسباب سمجھ میں آتے ہیں۔جو جماعت رسول ا للہ ﷺ کی معیت میں تربیت پاکر تیار ہوئی تھی ’’قرآن برابر ان کے قلوب کو طاقت اور گرمی بخشتا رہا،رسول اللہ ﷺکی مجالس سے ان کو استحکام ،خواہشات نفس پر قابو ،رضائے الٰہی کی سچی طلب اور اس کی راہ میں اپنے کو مٹانے کی عادت،جنت سے عشق ،علم کی حرص،دین کی سمجھ اور احتساب نفس کی دولت حاصل ہوئی،وہ لوگ چستی و سستی میں رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کرتے،جس حال میں ہوتے خدا کی راہ میں اٹھ کھڑے ہوتے،یہ لوگ رسول اللہ ﷺکی معیت میں ۱۰ سال کے اندر ۲۷ بار جہاد کے لیے نکلے اور آپﷺ کے حکم سے ۱۰۰ مرتبہ سے زائد کمر بستہ ہوکر میدان جنگ کی طرف گئے،ان کے لیے دنیا سے بے تعلقی آسان بن گئی تھی،اہل و عیال کے مصائب برداشت کرنے کے عادی بن گئے تھے،قرآن کی آیات وہ بے شمار احکام لائیں جو ان کے لیے پہلے سے مانوس نہ تھے،نفس و مال،اولاد و خاندان کے بارے میں احکام نازل ہوئے جن کی تعمیل کچھ ہنسی کھیل نہ تھی،لیکن خدا اور رسول کی ہر بات ماننے کی عادت پڑ گئی تھی،شرک و کفر کی گتھی جب سلجھ گئی تو ساری گتھیاں ہاتھ لگاتے ہی سلجھ گئیں،رسول اللہ ﷺ نے ایک بار ان کے ایمان کے لیے کوشش فرمائی،پھر ہر امر و نہی اور ہر نئے حکم کے لیے مستقل کوشش اور جد و جہد کی ضرورت نہ رہی۔(انسانی دنیا پر مسلمانوںکے عروج و زوال کا اثرص۹۹)یہ وہ خصوصیا ت ہیں جو مسلمانوں میں نبی کریم ﷺ کی صحبت کی وجہ سے پیدا ہوئی تھیں۔ان تمام خصائص میں وہ بنیادی اوصاف کیا تھے جو مسلمانوں کے اقبال و سربلندی کی وجہ بنے،انہوں نے اس وقت کی تہذیب یافتہ اور اپنے سے زیادہ طاقتور اقوام کے مقابلہ میں خود کو کیسے صحیح ثابت کیا کہ بنی نوع انسانیت آنکھیں بند کرکے ان کے پیچھے چل پڑی، آخر وہ کیا گر تھے جن کی بنا پرانہوںنے زندگی کے مختلف میدانوں میں خودکو دوسروں سے بہتر ثابت کیا اور دنیا نے مان لیا،عروج و غلبہ کے ان اسباب کا جاننا ہمارے لیے اس وجہ سے ضروری ہے تا کہ یہ معلوم ہو کہ امت مسلمہ زوال کا شکار کیوں ہوئی۔وہ کیا اسباب تھے کہ جن کی وجہ سے امت اپنے مقام و مرتبہ سے ایسے غافل ہوئی کہ ثریا سے زمیں پر آسماں نے ہم کو دے مارا۔
اسباب عروج:
قرآن مجید ہمیں غالب اقوام کی تاریخ سے واقف کراتا ہے تو اس کے کچھ اسباب بھی بتاتا ہے۔اقوام عالم پر غلبہ و تمکنت اور اقتدار اپنے حاملین سے کچھ تقاضے بھی کرتا ہے،جو قومیں غلبہ کی ان ضروریات کو پورا کرتی ہیں وہی اس کی حقدار بھی ہوتی ہیں اور ان کادور اقتداربھی طویل ہوتا ہے۔چنانچہ غالب اقوام میںعاد و ثمود کے علاوہ تفصیلی ذکر بنی اسرائیل کاملتا ہے۔
بنی اسرائیل کے زوال کے بعد چونکہ امت مسلمہ ہی کو دنیا کی امامت سے سرفرازکیا گیا تھا،اس لیے قرآن مجید نے امت کو عروج کے اسباب اور زوال امت کی وجوہات سے اول روز ہی واقف کرا دیا تاکہ مسلمان شروع ہی سے چوکنا رہیں۔امت مسلمہ کے عروج و تمکنت کے جن اسباب کو ہم شمار کر سکتے ہیں وہ مندرجہ ذیل ہو سکتے ہیں۔
(۱) قانون خدا کی بالاتری:حکمراں انسان جب یہ بھول جائے کہ وہ کسی کے سامنے جواب دہ ہے،کوئی اس کی نگرانی کر رہا ہے اور وہ ایسی ہستی ہے جو اس کے بیرون سے جس طرح واقف ہے ایسے ہی اس کے اندرون سے بھی واقف ہے،تب وہ انانیت کا شکار ہوکر فرعونیت کا دعویدار ہوجاتا ہے۔اور یہی کبر و غرور اس کے وجود کو عام لوگوں کے لیے فتنہ و آزمائش اور خود اس کے زوال کا سبب بن جاتا ہے۔چنانچہ اسلام نے اپنے ماننے والوں کو یہ درس دیا کہ وہ اس زمین پر اصل حاکم نہیں بلکہ اصل حاکم کے نائب یعنی خلیفہ ہیں۔یہ احساس و شعور ہی انسان کو قابو میں رکھتا ہے اور وہ اپنی پسند و ناپسندکو الٰہی قانون کے تحت رکھتا ہے۔مسلمانوں کی یہ وہ بنیادی صفت تھی جس نے انہیں اپنوں اور غیروں سب کے لیے یکساں کردیا تھا کہ قاضی کے کٹگھرے میں خلیفہ و ذمی دونوں برابر کے درجہ میں تھے۔یہ الٰہی قانون کا ہی کرشمہ تھا کہ حضرت ابو عبیدہ بن جراح ؓنے جب دیکھا کہ ہم اہلیان شہر کی حفاظت نہیں کر سکتے تو آپ نے شہر والوں کا ٹیکس واپس کردیا ،اس کا نتیجہ کیا ہوا ہم سب جانتے ہیں۔
(۲) بے مثال قیادت:جس وقت مسلمان میدان عمل میں آئے دنیا کی ساری قیادتیں زنگ آلود ہو چکی تھیں اور مختلف روگوں نے انہیں گھن کی طرح کھا لیا تھا۔مسلمانوں نے انہیں قیادت کے منصب سے معزول کرکے دنیا کو اپنے تصرف میں لایا اور انسانوں کو اپنے ساتھ لے کرخدائی قانون کی روشنی میں متوازن اور صحیح رفتار کے ساتھ منزل مقصود کی طرف بڑھنا شروع کیا۔وہ حکومت کے منصب پر مصبوط اخلاقی تربیت اور مکمل تہذیب نفس کے بعد فائز ہوئے تھے،وہ سالہا سال رسول عربی ﷺکی تربیت میں رہے تھے،اس کا نتیجہ یہ تھا کہ دن بھر خلافت کی ذمہ داریاں ادا کرنے کے بعد بھی راتوں میں جاگ جاگ کر رعایا کی نگرانی و ضرورتوں کا خیال رکھتے تھے،وہ ایسے کہ :
کفایت جہاں چاہئے واں کفایت سخاوت جہاں چاہئے واں سخاوت
جچی اور تلی دشمنی اور محبت نہ بے وجہ الفت نہ بے وجہ نفرت
جھکا حق سے جو جھک گئے اس سے وہ بھی
رکا حق سے جو رک گئے اس سے وہ بھی
وہ نسلی ،رنگی اور تہذیبی تعصبوں کے ساتھ دنیا میں نہیں نکلے تھے بلکہ وہ تو اس لیے میدان میں آئے تھے کہ بندوں کو بندوں کی غلامی سے نکال کر اللہ کی غلامی میں لے آئیں۔ان کی نگاہ میں امیر و غریب اور حاکم و محکوم کوئی قانون سے بالا تر نہ تھا۔وہ ایک ابر کرم تھے ،جو تمام عالم پر محیط تھا اور اس کا فیض سب کے لیے عام تھا۔گویا: رہے اس سے محروم آبی نہ خاکی ہری ہوگئی ساری کھیتی خدا کی
وہ ایسی قیادت تھی جو نہ اپنوں پر بلا وجہ فیاض تھی اور نہ غیروں کے حقوق کو پامال کرتی تھی،جو نہ ظالم تھی اور نہ ظلم کو قبول کرتی تھی،جس نے ذمیوں کی حفاظت کا ذمہ لیا اور پورا کیا تو اپنوں کی ایسی حفاظت کی کہ آج اپنی بے بسی و بے مائگی پر بے اختیار آنسو نکل آتے ہیں۔
(۳) ذمہ دار معاشرہ:رسول اللہ ﷺکی نبوت کے وقت انسانی سماج مختلف رنگ و نسل اور اونچ نیچ کا شکار تھا،سوسائٹی پر ان کا اختیار تھا جو خاندانی و مالی اعتبار سے بڑے سمجھے جاتے تھے۔اس بڑے پن میں بڑوں کو نہ اپنے چھوٹو ں کی پسند و ناپسند کا احساس تھا اور نہ چھوٹوں کو اس کااختیار،نتیجہ یہ ہوا کہ سماج سے ایک دوسرے کی ذمہ داری کا احساس ختم ہوگیا۔اسلام نے اس ترتیب ہی کو پلٹ دیا،اب اسلامی معاشرہ کا ہر فردذمہ دار تھا،اس کی عقل و بلوغ اور اس کے شعور کو تسلیم کیا جا چکاتھا،وہ چاہے باپ کی حیثیت میں ہو یا ماںکی،وہ چاہے حکمراں ہو یا پھر رعایا،ایک عام مسلمان کی بات کا اتنا ہی وزن تھا جتنا کہ سپہ سالار کا کہ اگر عام مسلمان اپنے دشمن کو امان دے دیتا تو امیر بھی اسے اپنی دی امان سمجھتا تھا۔معاشرہ میں یہ احساس اپنی آخری انتہا کو پہنچ چکا تھا کہ لا طاعۃ المخلوق فی معصیۃ الخالق یعنی خالق کی معصیت میں مخلوق کی اطاعت نہیںکی جاتی۔ان کا امیر عوام کا سرپرست تھا تو عوام اپنے خلیفہ کی اولاد کے مانند۔
(۴) احتساب نفس اور ملامت ضمیر:اول دور کے مسلمانوں میں احتساب نفس کا ذوق ایسا پروان چڑھ چکا تھا کہ تنہائی میںہونے والی خطا بھی انہیں چین نہیں لینے دیتی تھی،پھر چاہے وہ ماعز بن مالک اسلمی ہوں یا پھر غامدیہ ہوں ،یا پھر نافق حظلہ نافق حنظلہ کی صدائیں ہوں۔اس احتساب نفس نے انہیں خودکی زندگی میں بھی اور اپنے حکمرانوں کے اقتدار میںبھی خوب باریک بیں بنا دیا تھا۔
(۵) امانت و دیانت:عرب کے بدو جو اپنی ڈاکہ زنی میں ضرب المثل تھے،امانت میں خیانت کا عام چلن تھا،چوری چکاری نے بہادری کا جامہ پہن لیا تھا،یہی عرب جب اسلام سے مشرف ہوئے تو امانت و دیانت کے ایسے خوگر ہوئے کہ آج تک زمانہ ان کی قسمیں کھاتا ہے۔مدائن کے میدان میں جب مسلمانوں کو فتح ملی اورمال غنیمت جمع کیا جانے لگا تو ایک شخص نے انتہائی قیمتی مال لاکر جمع کیا ،وہ اتنا قیمتی مال تھا کہ اب تک جتنا مال جمع ہوا تھا وہ بھی اس مال کے بالمقابل کچھ نہ تھا،لوگوں نے نام پوچھا تو اس نے کہا کہ میں یہ بتا نہیں سکتا کہ تم تعریف کروگے ،سب تعریف اللہ ہی کی ہے۔ایسے بے شمار واقعات تاریخ اسلامی کے صفحات میں محفوظ ہیں۔
(۶) عدل بین الناس:اس معاشرہ نے رسول اللہ ﷺ کی یہ بات اپنی گرہ میں باند ھ لی تھی کہ ’’تم سے پہلے جو امتیں گزری ہیں وہ اسی لیے تو تباہ ہوئیں کہ وہ لوگ کم تر درجے کے مجرموں کو قانون کے مطابق سزا دیتے تھے اور اونچے درجے والوں کو چھوڑدیتے تھے۔‘‘عدل و انصاف کی ایسی لازوال تاریخ رقم کی کہ ایک ہی صف میں کھڑے ہوگئے محمود و ایاز
(۷) بے نظیر شجاعت اور زندگی کی حقارت:وہ عرب جو دور جہالت میں اپنی شان و افتخار کے لیے لڑا کرتے اسلام نے لڑائی کے اس رخ کو یوں تبدیل کیا کہ پھر تو زخم کے ساتھ زبان یہ صداء لگانے لگی کہ فزت برب کعبۃ۔چاہے میدان احد میں خنساء ؓکی بے نظیر بہادری ہو یا انس بن نضر ؓ جن کے جسم پر ۸۰سے زیادہ زخم گنے گئے،شجاعت و بہادری اور شہادت کا شوق اس قدر سر چڑھ کر بولتا تھا کہ عمر بن جموح ؓایک پیر سے معذوررسول اللہ ﷺسے اپنی خواہش کا اظہار یوں کرتے ہیں ’’یا رسول اللہ !یہ میرے بیٹے مجھ کوآپﷺ کے ہمراہ نکلنے سے روکتے ہیں اور بخدا میری یہ تمنا ہے کہ میں اپنے اسی معذور پائوں سے جنت میں چلوں پھروں‘‘،یہ واقعات کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ ہے جو بتا تا ہے کہ قرون اولی کے مسلمان اپنی بے نظیر شجاعت و بہادری میں کیسے ضرب المثل تھے اور ختم ہوجانے والی زندگی کے تعلق سے کیسے بیزار تھے۔
(۸) اطاعت و تابعداری،۹)مکمل سپردگی،۱۰)انسانی گلدستہ،۱۱)انسانوں کے غمخوار:
جو معاشرہ سرکشی میں اپنی مثال آپ تھا،جہاں انانیت ہی سب کچھ تھی،جو انسانوں کو خون میں تڑپتا دیکھ کراپنے سینہ کو ۵۶/ اینچ کاکردیا کرتے تھے،وہی جب اسلام کی آغوش میں آئے تو ایسی منضبط زندگی گزارنی شروع کی کہ چشم فلک نے اطاعت شعاری کی ایسی نظیر نہیں دیکھی،اپنے آپ کو جب رسول اللہ ﷺ کے حوالے کردیا تو پھر سارے پسند و ناپسند کے دھارے تبدیل ہوگئے،اب اپنا کچھ نہ رہا ،جوکچھ تھا وہ خدا و رسولؐ کا تھا،اللہ ورسول ؐکے نام پر باہم ایسے شیر و شکر ہوئے کہ ماں جائے سگے بھائی بھی اس کی مثال پیش کرنے سے قاصر تھے،ایسا انسانی معاشرہ وجود میں آیا کہ جس میں ہر شخص دوسرے کا خیر خواہ تھایہاں تک کہ صاحب کتاب نے اس کی تصدیق کردی وَیُوْثِرُوْنَ عَلٰی اَنْفُسِھِمْ وَلَوْ کَانَ بِھِمْ خَصَاصَۃٌ۔یہ اخلاص و للٰہیت محض اپنوں کے لیے خاص نہ تھی بلکہ یہ عام فیض تھا جس سے ہر کوئی اپنا و غیر فائدہ اٹھا سکتا تھا۔
استغنا :رسول اللہ ﷺکی صحبت نے انہیں دنیوی زندگی سے اس قدر بے نیاز کردیا تھا کہ وہ نعمت کے ملنے کو اپنے لیے آزمائش سمجھتے تھے،وہ اپنے لیے دنیا سے اتنا ہی لینا کافی جانتے تھے جس سے کہ دو وقت کا کھانا ہوجائے،ان کے لیے اتنا بھی گوارا نہ تھا کہ وہ پیٹ بھر کر کھاہی لیتے،استغنا کی یہ کیفیت محض کھان پان تک محدود نہ تھی بلکہ اقتدار و حکومت میں بھی ان کا معاملہ ایسا ہی تھا۔ (جاری)

(قسط دوم)

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *