چٹان

یہودی کے گھر سے دعوت کھا کر ابو شحمہ جانے کے لیے اٹھے تو ان کے پیر لڑکھڑا رہے تھے۔ شاید یہودی نے پانی کے دھوکہ میں انہیں شراب پلا دی تھی۔ وہ اسی طرح لڑکھڑاتے ہوئے بنی النجار کے باغ سے باہر نکل آئے۔ شراب کے نشے اور باغ کی مہکتی فضا نے سرور کی ایک کیفیت ان کے ذہن پر طاری کر دی تھی۔ اسی لیے تو سامنے سے آتی ہوئی خوبصورت لڑکی کو دیکھ کر وہ اپنے جذبات پر کنٹرول نہ کر سکے۔ جذبات کی رو میں وہ بہتے ہی چلے گئے۔اور پھر غفلت اور فراموشی کا ایک لمحہ۔ صرف ایک لمحہ جس نے امیر المومنین کے بیٹے ابو شحمہ کو ندامت کے نہ جانے کتنے داغ دے دئیے۔
ابو شحمہ کو ہوش آیا تو بہت دیر ہو چکی تھی۔ وہ بس فضاؤں کو گھورتے رہ گئے تھے۔
انہیں لگا کہ وہ کیچڑ کی ایک ایسی دلدل میں ڈوب گئے ہیں جس سے اب کبھی باہر نہ نکل پائیں گے۔ شرمندگی اور دہشت کی زردیاں ان کے چہرے پر امنڈآئیں اور وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے۔
امیر المومنین عمرؓ فاروق دربار خلافت میں بیٹھے ہوئے لوگوں کے مقدمات سن رہے تھے۔جلال اور دبدبے کا نور ان کی پیشانی پر جھلک رہا تھا۔ دنیا کے گوشے گوشے میں اسلام کا جھنڈا لہرانے والا عظیم الشان فاتح ایک بوریا نشین فقیر کی طرح سادے کپڑوں میں ملبوس خندہ پیشانی سے ہر ایک کا درد سن رہا تھا۔
تب ہی ایک خوبصورت سی، ایک پریشان سی لڑکی آتی دکھائی دی۔ شرم سے جھکی آنکھوں میںتیرتی افسردگی بھی امیر الومنین کی نگاہ سے چھپ نہ سکی۔ لڑکی کی گود میں ایک خوبصورت سابچہ ہمک رہا تھا۔
’’تم کو ن ہو بیٹی؟‘‘ امیر المومنین نے سلام کا جواب دے کر پوچھا۔ ’’یہاں کیسے آئیں؟‘‘
’’امیر المومنین ۔۔۔‘‘کہتے کہتے لڑکی رک گئی۔ الفاظ حلق میں اٹک گئے۔
آخر وہ کیسے کہے اپنی بپتا۔ کہاں سے لائے اتنی ہمت جو ساری کہانی سنا سکے۔ لیکن اسے کہنا تو تھا ہی۔ گناہ کا بھاری بوجھ اس کے سارے وجود کو پیسے ڈال رہا تھا۔
اس کے ماتھے پر پسینے کی بوندیں چھلک آئیں۔ دوسری طرف امیر المومنین اس کو ہمت دلارہے تھے۔
ہاں ہاں ۔کہو بیٹی ،ڈرو نہیں، مجھ سے ڈرو نہیں، مجھ سے گھبراؤ نہیں۔‘‘
لڑکی پورے وجود کے ساتھ لرزتی رہی اور دھیرے سے بولی۔یہ بچہ دیکھ رہے ہیں نا آپ؟
’’ہاں کیسا ہے یہ بچہ ‘‘امیر المومنین نے ذرا حیرت سے پوچھا۔ یہ آپ کا پوتا ہے امیر المومنین۔‘‘
’’کیا؟‘‘ امیر المومنین ایک دم چونک گئے ۔کیسی عجیب سی بات بتا رہی تھی یہ لڑکی۔
یہ بچہ میرے کون سے بیٹے کا ہے بیٹی۔۔۔۔
’’یہ ابو شحمہ کا ہے۔ اف وہ دن جب میں کہیں جا رہی تھی اور بنی النجار کے باغ سے ابو شحمہ لڑکھڑاتے ہوئے نکلے۔۔۔۔۔اور پھر ۔۔۔۔۔۔۔اور پھر ۔۔۔۔۔۔‘‘
لڑکی زور زور سے سسکنے لگی اور پھر کہتی ہی چلی گئی۔
’’میں سوچ رہی تھی امیر المومنین کہ گلا گھونٹ کر مر جاؤں یا کسی پہاڑ کی چوٹی سے کود کر جان دے دوں لیکن میں نے اس معصوم بچے کی زندگی کے لیے زندہ رہنے کا فیصلہ کیا۔‘‘
’’اب بتایئے فاروق اعظم ۔ میں کیا کروں۔۔۔۔بتائیے نا امیر المومنین؟‘‘
امیر المومنین عمرؓ فاروق لرز کر رہ گئے۔ ابو شحمہ کا چہرہ ان کی نگاہوں میںگھوم گیا۔ ان کا سب سے پیارا بیٹا تھا ابو شحمہ انہیں کتناپیار تھا اس سے۔
لیکن آج انہیں شاید اپنے ہاتھ سے اپنے پیار کی قبر کھودنی ہو گی۔
وہ ایک جھٹکے سے اٹھ کر اپنے گھر کی طرف چل دیئے۔
دسترخوان سجا ہواتھا اور گھر کے اندر بیٹھے ابو شحمہ کھاناکھا رہے تھے۔ سامنے بیٹھی ہوئی ان کی ماں پیار سے انہیں دیکھ رہی تھیں۔ انہیںکھانا کھلا رہی تھیں تب ہی ایک دستک کی آواز آئی۔ دروازے پر کھڑے عمرؓ فاروق ابو شحمہ کو پوچھ رہے تھے۔
ہاں ہے تو ابو شحمہ۔۔۔ اچانک ایسی کیا ضرورت پیش آگئی آپ کو۔ وہ اس وقت کھانا کھا رہا ہے۔‘‘
امیر المومنین کی اہلیہ مسکرا رہی تھیں۔ آنے والے ہر طوفان سے بے خبر۔
’’کھانا۔۔۔‘‘ایک زخمی مسکراہٹ عمرؓ فاروق کے چہرے پر بکھر گئی۔’’ اچھا کھا لو شاید یہ تمہارا آخری کھاناہو۔‘‘
ابو شحمہ ایک دم سناٹے میں آگئے۔ ہاتھ کا نوالہ زمین پر گر پڑا۔ ان کاسارا جسم لرزنے لگا۔ انہوں نے بہت کوشش کی کہ وہ اپنے ابو کے استقبال میں کھڑے ہو جائیں۔ لیکن وہ اٹھ ہی نہ پائے۔ انہیں ایسالگاجیسے ان کے کاندھوں پر لداشرمندگی کا بوجھ انہیںزمین دوز کر دے گا اور اب وہ کبھی بھی اپنے پیروں پر کھڑے نہیںہو پائیں گے۔
’’جانتے ہو میں تمہارا کون ہوں ابو شحمہ؟‘‘ امیر المومنین پوچھ رہے تھے۔
’’آپ میرے ابو ہیں اور امیر المومنین ہیں۔‘‘ابو شحمہ ابھی تک سر جھکائے ہوئے تھے۔
’’تب کیا تم سچ مچ بتاؤگے کہ اس روز جب تم بنی النجار کے باغ سے نکلے تھے تو تم سے کیا گناہ سرزد ہواتھا؟‘‘
آنسوؤں کا بند ایک دم ہی ٹوٹ گیا اور ابو شحمہ زاروقطار رونے لگے۔
’’ہاں ابو! میں اس روز اس لڑکی کے ساتھ۔۔۔۔۔۔ میرے اچھے ابو میں آپ کے آگے ہاتھ جوڑتاہوں مجھے آپ یہیں قتل کر دیجئے۔ مگر خدا کے لیے مجھے لوگوں کے سامنے رسوا مت کیجئے گا۔‘‘
ڈبڈبائی آنکھوں سے آنسو برساتے ہوئے ابو شحمہ نے جب اپنے ابو کی طرف نظر اٹھائی تو وہ کانپ کر رہ گئے۔
یہ ان کے ابو کی آنکھیں تو نہ تھیں۔ ان آنکھوں میں آج پہلی بار محبتوں اور شفقتوں کی جگہ ایک عجیب ساجذبہ جھلک رہاتھا۔ وہ آنکھیں جیسے ان سے بالکل لاتعلق ہوگئی تھیں۔
’’ابو شحمہ‘‘ ایک گونجیلی آواز میں عمرؓ فاروق انہیں مخاطب کر رہے تھے۔’’تمہیں سرعام ۱۰۰کوڑے مارے جائیں گے۔ یہ وہ سزاہے جو قرآن نے تجویز کی ہے اور اس میں تبدیلی کا کوئی حق تمہارے باپ کو نہیں ہے۔ کیاتمہیں معلوم نہیں؟‘‘
عمرؓ فاروق نے تیزی سے جھک کر ابو شحمہ کاگٹہ پکڑا اور کھینچتے ہوئے باہر لے آئے جہاں لوگوں کی ایک بڑی بھیڑ اکٹھا تھی۔
وہ اس وقت ابو شحمہ کے باپ نہیں صرف امیر المومنین تھے۔جسے ایک مسلمان کی حیثیت سے اپنے پیارے بیٹے کی جان اور رسوائی کی قیمت پربھی خدا کے حکم کے آگے سر جھکانا تھا۔
نہ جانے کتنی آنکھوں میں آنسو بھر آئے تھے۔ ابوشحمہ کتنے مقبول تھے مسلمانوں میں۔پھول کی طرح تروتازہ اور شاداب چہرہ۔ شاندار اور صحت مند ،خوش اخلاق اورملنسار۔۔۔۔۔ہر دلعزیز۔۔۔۔ابو شحمہ آج کس حال میں تھے۔
لیکن حضرت عمرؓ فاروق کاچہرہ ہر احساس سے بے نیاز تھا۔ جیسے پتھر کی چٹان سے ترشا ہوا چہرہ ہو۔ نرمی اور شفقت کی کوئی بھی رمق اس چہرے پر نہ تھی۔
بوڑھیوں کی معمولی التجاؤں پر بھی بھر آنے والی آنکھیں کتنی کٹھور اور اجنبی لگ رہی تھیں۔ لوگ حیرت سے عمرؓ کو دیکھ رہے تھے۔
’’افلح‘‘ عمرؓ فاروق نے سرد اور بے رحم لہجے میں اپنے غلام کو حکم دیا’’میرے بیٹے ابوشحمہ نے میرے سامنے بدکاری کااعتراف کیا ہے۔ تم اسے سو۱۰۰ کوڑے لگاؤ‘‘
’’نہیںامیر المومنین!‘‘افلح اپنی دونوں آنکھوں پر ہاتھ رکھ کر چیخ پڑے۔’’ ابو شحمہ کے پھول سے بدن پر میرے ہاتھ کوڑے نہیں برسا سکیں گے۔فاروق اعظم۔‘‘
’’افلح۔۔‘‘تیز لہجے میں افلح کو مخاطب کرتے ہوئے امیر المومنین آگے بڑھ آئے تھے۔ میں عمرؓ فاروق بحیثیت امیر المومنین تمہیں حکم دیتا ہوں ۔ ابو شحمہ کو کوڑے لگاؤ۔۔۔۔۔ اور فورا۔۔۔۔ ذرا بھی دیر نہ ہو۔‘‘
لاچار سے افلح ابو شحمہ کی قمیص اتارنے لگے۔ ان کی آنکھیں دھاروں دھار آنسو بہا رہی تھیں۔
ابو شحمہ کی قمیض اتر گئی۔ وہ چپ چاپ سب کچھ دیکھتے رہے۔ سارے لوگ زار وقطار رو رہے تھے۔ ایک بھی آنکھ ایسی نہ تھی جس میںآنسو نہ ہو سوائے عمرؓ فاروق کے۔ وہ آج کس قدر بے رحم ہوگئے تھے۔
محبت کے ہلکے سے جذبہ کی پرچھائیں بھی تو آج ان کے چہرے پر نظر نہیں آرہی تھی۔
انہیں معاف کر دیجئے۔ابو شحمہ کو معاف کر دیجئے خدا کے لیے۔‘‘ سب لوگ امیر المومنین سے التجا کررہے تھے۔ لیکن عمرؓ فاروق تو شاید سن ہی نہیں رہے تھے۔
میں کہتا ہوں افلح۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تم شروع کیوں نہیں کرتے؟ وہ افلح کو ڈپٹ رہے تھے۔ شروع کرو اور دیکھو مارنے میںکوئی کوتاہی نہ ہو۔ تمہارے ہاتھوں میں ذرا بھی نرمی آئی تو میں برداشت نہیں کرو ںگا افلح۔‘‘
ابو شحمہ بھی اپنے باپ کے آگے گڑگڑانے لگے۔ لیکن حضرت عمرؓ فاروق تو ایک پتھر کی چٹان کی طرح بے حس وحرکت کھڑے تھے۔
ابو شحمہ پر کوڑے برسناشروع ہوگئے۔ ننگی پیٹھ پرافلح پوری قوت سے کوڑے برسا رہے تھے۔
چند ہی کوڑوں میں ساری کمر لہولہان ہوگئی تھی۔
لوگ سسکاریاں لیتے رہے۔ کوڑے برستے رہے۔دس —بیس—پچاس—
ستر کوڑے ہوگئے تو لرزتی ہوئی آواز میں ابوشحمہ نے چند گھونٹ پانی کی درخواست کی۔ ان کے حلق میں خشکی کے مارے کانٹے پڑ گئے تھے۔
ابو— دو گھونٹ پانی۔‘‘ وہ ٹوٹتی ہوئی آواز میںکہہ رہے تھے۔
لیکن عمرؓ فاروق نے پوری سختی سے یہ درخواست بھی رد کر دی۔
’’ابو شحمہ۔پانی یہاں نہیں۔ اب حوض کوثر پر پینا، افلح۔۔۔کوڑے پورے کرو۔‘‘
دس کوڑے اور لگے ابوشحمہ کی آنکھیں پتھر گئیں۔ زخمی نگاہوں سے بمشکل انہوں نے اپنے سخت گیر باپ کو دیکھا اور الوداعی سلام کیا۔
’’السلام علیکم ابو۔‘‘
’’خدا حافظ ابو شحمہ۔‘‘ فاروق اعظم مضبوط لہجے میںجواب دے رہے تھے۔ ’’حضورؐ سے ملاقات ہو تو میرا سلام عرض کرنااور کہنا کہ حضورؐ میں نے عمرؓ کو قرآن پڑھتے اور اس پر عمل کرتے چھوڑا ہے۔‘‘
کوڑے پڑتے رہے۔ ۹۰کوڑے ہوئے تو افلح کے بازو شل ہو گئے، وہ ایک منٹ رکے۔
’’کیوں تم رکے کیوں افلح۔‘‘ امیر المومنین نے غضبناک لہجے میں کہا۔
’’اجازت ہوتو یہ دیکھ لوں امیرا لمومنین کہ ان میں کوڑے کھانے کی تاب ہے یا نہیں۔‘‘ افلح کے لہجے میں ہزاروں التجائیں چھپی ہوئی تھیں۔
’’ہرگزنہیں افلح۔جس طرح یہ گناہ کرتے نہیں رکاآج کوڑے بھی نہیں رک سکتے۔‘‘
سپاٹ سے لہجے میں امیر المومنین نے کہا تو لوگوں کے ضبط کے بندھن ٹوٹ گئے۔ وہ زور زور سے چیخ چیخ کر رونے لگے۔ امیر المومنین کی اہلیہ نے رونے کی آوازیں سنیں تو دوڑتی چلی آئیں۔ اپنے پیارے بیٹے کا حال دیکھا تو تڑپ کر رہ گئیں۔
۹۰ کوڑے پورے ہوگئے تھے۔ ابو شحمہ کے جسم میںکوئی حرکت باقی نہ تھی ممتا کی ماری ماںعمرؓ فاروق کے آگے زاروقطار روہی تھی۔
’’امیرا لمومنین۔ ۱۰کوڑے معاف کردیجئے۔مجھے خدا کی قسم ہے۔امیر المومنین میںایک ایک کوڑے کے بدلے پیدل چل کر حج کروں گی۔ مسکینوں کو کھاناکھلاؤں گی، کپڑے پہناؤں گی۔ میرے ابوشحمہ کی یہ اذیت اب کم کر دیجئے خدا کے لیے۔‘‘ لیکن عمرؓ فاروق نے اپنادل پتھر کر لیا تھا۔ انہوں نے زور سے افلح کو پکار کرکہا۔
’’کوڑے پورے کر و افلح۔ میں نے کیاکہاہے تم سے؟‘‘افلح کانپ کر رہ گئے۔ کیسی عجیب سی آواز تھی۔ جیسے چٹانیں بول رہی ہوں۔
سو کوڑے پورے ہوگئے۔ابوشحمہ ۔فاروق اعظم کے سب سے پیارے بیٹے ابوشحمہ نے آخری ہچکی لے کر آنکھیں موند لیں۔
تب ہی لوگوں نے حیرت سے دیکھا ۔حضرت عمرؓ فاروق تیزی سے نیچے جھکے اور ابو شحمہ کو گود میں اٹھالیا۔ لوگ حیرت سے دیکھ رہے تھے۔ چٹان پگھل گئی تھی۔ فاروق اعظم کی آنکھوں سے کسی موسلادھار مینہ کی طرح آنسو برس رہے تھے۔
وہ ابو شحمہ کے رخساروں کو چومتے جارہے تھے خوب زور زور سے رو رہے تھے اور کہتے جارہے تھے۔ ’’قربان ہو تیرا باپ تجھ پر۔ میرے بیٹے تو نے حق پر جان دی ہے میرے پیارے بیٹے تو نے حق پر جان دی ہے۔‘‘

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *