یہ وفاداری ہے یا دیش سے غدّاری

                برسوں پہلے ایک مضمون پڑھا تھا جسمیں بتایا گیا تھا کہ جب جب بھی NDA حکومت پر کوئی مصیبت آتی ہے توپاکستان اس کی مدد کو پہونچ جاتا ہے۔یعنی جب جب بھی NDA حکومت اپنے کرتوتوں کی بنا پر پارلیمنٹ اور میڈیا میں گھر جاتی ہے ۔بی جے پی کاسب سے الگ پارٹی ہونے کا دعویٰ، سب سے منضبط پارٹی ہونے کی باتیں نان کرپٹ ہونے کی شیخیاں زمین بوس ہونے لگتی ہیں اور اس کے پاس اپنے کارناموں کا کوئی مناسب جواب نہیں ہوتا ہے تو ISI لشکر طیبہ ،جیش محمد یا انڈین مجاہدین وطن عزیز میں کہیں دہشت گردانہ حملہ کر دیتے ہیںاور یوں بی جے پی کے چہرے پہ پتی ہوئی کالک ہٹ جاتی ہے۔حیرت انگیز اتفاق یہ ہے کہ ایسے حملے ممبئی دلی اور حیدرآباد میں ہی ہوتے ہیں۔احمدآباد کو بھی ملا لو تو یہی شہر انکاؤنٹرس کے بھی گڑھ ہیں۔یعقوب میمن کی پھانسی اور گرداس پور اٹیک کو بھی اسی تناظر میں دیکھے جانے کی ضرورت ہے۔حیرت ہے کہ ہفتے دس دن سے یعقوب میمن کی پھانسی کو اچھالا گیا تھا اور آج تک کسی دانشور کسی صحافی نے اس زاوئے سے اس معاملے کو دیکھنے کی کوشش ہی نہیں کی ،ورنہ اس سے پہلے تو ہر طرح کے میڈیا پر ہندوستان کا سب سے بڑا گھوٹالہ جو کہ بی جے پی کے سب سےEfficient کہے جانے والے (حقیقتاً سب سے زیادہ  ناکارہ)وزیر اعلیٰ ’’عزتمآب‘‘شیو راج سنگھ چوہان کے زیر سایہ برسوں سے پنپ رہا تھا ۔ویاپم کے نام سے جانے جانیوالے اس گھوٹالے کی تفتیش اگر سی بی آئی ایمان داری سے کرتی توبی جے پی شاید دہائیوں کے لئے دفن ہوجائے۔اور فی الوقت بی جے پی کی جان کو یہی ایک روگ لگا ہوا نہیں تھا بلکہ اس کی ۴ مہارانیاں بھی اس کی جی کا جنجال بنی ہوئی تھیں۔ہر ہائی نس شسما سوراج، ہر ہائی نس وسندھرا راجے سندھیا ،ہر ہائی نس سمرتی ایرانی اور ہر ہائی نس پنکجا منڈے نے بھی حصہ بقدر جثہ لیکر بی جے پی کو چار چاند لگایا ہوا تھا۔ویاپم کے ساتھ ساتھ یہ مہارانیاں بھی پرنٹ اور الکٹرانک میڈیا پر راج کر رہی تھیں۔اپوزیشن پارلیمنٹ میںحکومت کا ناطقہ بند کئے ہوئے تھی۔عوامی سطح پر بھی ان مہارانیوں کی سیاہ کاریاںبی جے پی کی مقبولیت کا گراف نیچے اور نیچے گرا رہی تھی ۔پھر بہار کا الکشن بھی سر پر کھڑا ہے جہاں نتیش اور لالو جیسے مہا رتھیوں سے مقابلہ ہے ۔ایسے میں پرانے اور آزمودہ دوست پاکستان کو آواز نہ دی جاتی تو کسے دی جاتی ۔یہ طنزاً نہیں لکھا جارہا ہے بلکہ یہ خبر یں اخبارات کی زینت بن چکی ہیںکہ ہندو دہشت گردوں کے وفود بھی پاکستان کا دورہ کرتے رہتے ہیں۔

                آج سے سال دو سال پہلے حکومت ہند کی وزارت داخلہ کے انڈر سیکریٹری جناب آر وی ایس منی یہ قبول کر چکے ہیں کہ پارلیمنٹ اٹیک اور ممبئی کا ۲۶ نومبر ۲۰۰۸ کا دہشت گردانہ حملہ گورنمنٹ sponsored تھا۔اس میں انکشاف کچھ بھی نہیں ہے۔اخبار بیں بچہ بھی سمجھ رہا تھا کہ اگر کر کرے کو نہ مارا جاتا تو اس کے ہاتھ آر ایس ایس میں بہت دور اندر تک پہونچنے والے تھے۔اندریش کمار کا نام اچھلتے ہی آر ایس ایس میں زلزلہ آگیا تھا ۔۲۶؍۱۱ کے حملے کے بعد پرنٹ اور الکٹرانک میڈیا کی خبریںاور انٹرویوزبتاتے ہیں کہ جیسے ہی ہندو دہشت گردی کی پرتیں کھلنے لگیں کرکرے پر دباؤبنانے کی ہر ممکن کوشش کی گئی۔سیاسی آقاؤں نے بھی دباؤ بنایا کہ کرکرے اپنی حد میں رہیں۔ٹیلیفون پر دھمکیاں دی گئیںمگر کرکرے اپنے فرض کے تئیں صد فی صد ایماندار تھے انھوں نے کسی دباؤ کو خاطر میں نہ لایا۔چند دنوں کے بعد خبر آئی کے جناب ایل کے ایڈوانی منموہن سنگھ سے ملنے والے ہیں اور وہ ملے بھی۔اور پھر ممبئی پر دہشت گردانہ حملہ ہو گیا۔اسی زمانے میں شاید ایک وفد پاکستان بھی گیا تھا ۔اس واقعے کی عجیب و غریب بات یہ تھی کہ جو بھی اس حملے پر سوالات اٹھاتا تھا یا کسی طرح کی تحقیق کی بات کرتا تھا تو کانگریس اور بی جے پی دونوں مل کراس پر پل پڑتے تھے ۔یہاں تک کہ انتولے مرحوم جیسے مہارتھی کو اس واقعے پر سوالات کھڑے کرنے کی بناپر کسمپرسی کی حالت میں مرنا پڑا۔

                اسی طرح پارلیمنٹ اور اکشر دھام مندر پر حملہ یہ بھی NDA کی ضرورت کی بنا پر ہوئے تھے۔ایک بات یہ بھی یاد آتی ہے کہ کارگل کی لڑائی کے بعد فوجیوں کی میتوں کے لئے جو تابوت منگوائے گئے تھے اس میں بھی بڑے پیمانے پر کرپشن ہوا تھا ۔میڈیا نے اس کفن چوری کو خوب اچھالا تھا اور دنیا سے الگ سیاسی پارٹی نے اس سے چھٹکارے کا طریقہ بھی دنیا سے الگ ڈھونڈا تھا ۔ہمارے علم کی حد تک تو دنیا میں اور کوئی سیاسی پارٹی ایسی نہیں جو اپنے کالے چہرے کو دنیا سے چھپانے کے لئے دہشت گردی کا سہارا لیتی ہو۔حیرت سیاسی پارٹی کے طرز عمل پر نہیں ہوتی، دنیا میں اور بھی سیاسی پارٹیاں ایسی ہو سکتی ہیںجو اپنی Ratnig بڑھانے یا گرنے سے بچانے کے لئے کسی بھی حد تک جا سکتی ہیں۔حیرت میڈیا اور عوام کے طرز عمل پر ہوتی ہے۔میڈیا جان بوجھ کر رائے عامہ کو بگاڑنے کی کوشش کرتا ہے ۔کیا یہ طرز عمل دیش کے مفاد میں ہے۔یہ دیش سے وفاداری ہے یا غداری؟میڈیا کی یہ ذہنیت نازک وقتوں میںدیش کے کام آئیگی یا دیش کے خلاف جائے گی؟

                ہمیں پہلے ہی دن سے یہ معلوم تھا کہ یعقوب میمن کو پھانسی ہو جائیگی۔کیونکہ بی جے پی کو فی الوقت یعقوب میمن کی لاش کی ضرورت ہے۔حکومت کو ویاپم گھوٹالے سے بچنا ہے۔شسما سوراج ،وسوندھرا راجے ،سمرتی ایرانی اور پنکجا منڈے کو بچانا ہے اور یہ کوئی مذاق نہیں۔اور مسلمان اس ملک میںیا تو قربانی کے بکرے ہیں یا تجرباتی چوہے۔اور اس کے لئے انھیں اپنے علماء کرام اور رہنمایان عظام کا ممنون احسان ہونا چاہئے۔عجیب بات یہ کہ ہمیں آج تک یعقوب میمن سے وہ ہمدردی نہیں ہو سکی جو افضل گرو سے تھی اور ہے۔افضل گرو صد فی صد معصوم تھا۔اسے زبردستی پھنسا یاگیا تھا جبکہ یعقوب میمن ہندوستانی ایجنسیوں کی باتوں میں پھنس کر خود جان دینے یہاں آیا تھا۔اسی لئے کم وبیش تمام ایجنسیا ںاس پھانسی کے خلاف تھیں۔ایسا کیوں تھا؟ شاید اسلئے کہ اب بین الاقوامی سطح پرہماری ایجنسیوں کا اعتبار ختم ہو رہا ہے۔ہماری ایجنسیاں ملک کا وقار بڑھانے کی کوشش کر رہی ہیںاور حکومت ان ایجنسیوں کے چہرے پر کالک پوت رہی ہے۔را کے سابق سربراہ نے ہنگامہ اسیلئے مچایا تھا کہ اب مستقبل میں ان کی باتوں پر بھروسہ کون کرے گا۔ہمیں اجمل عامر قصاب سے بھی ہمدردی تھی ۔سابق ڈی جی پی مہاراشٹر کے مطابق اسے نیپال سے گرفتار کرکے داشتہ آید بکار کے طور پر رکھا گیا تھا پھر کرکرے آپریشن کو کیموفلاج کرنے کے لئے اسے CST پر لے جا کر فوٹو کھینچے گئے اور اس دوران ۱۶CCTV کیمروں کو بند رکھا گیا اور ہمارے Learned ججوں نے اس پر کسی قسم کا سوال نہیں اٹھایااور ہمارے تحقیق و تفتیش کے رسیا صحافیوں نے بھی اجمل قصاب کی ایک ہی اینگل سے کھینچی گئی تصویر پر کوئی سوال نہ کھڑا کیا ۔افضل گرو اجمل قصاب اور یعقوب میمن تینوں کی پھانسیاںانصاف کے ساتھ مذاق ہیں۔تینوں میں عدالتی نظام کے تقاضوں کو ملحوظ نہیں رکھا گیا۔اور لگتا یہی ہے کہ پاکستانی نظریہء ضرورت کے تحت فیصلہ دیا گیا ۔ایسا لگتا ہے کہ اب ہم ہمہ گیر زوال کی زد میں ہیں۔اب عام کورٹ نہیں سپریم کورٹ کے فیصلوں پر TV چینلوں پر مباحثے شروع ہو چکے ہیں۔پہلے توہین عدالت کے ڈر سے لوگ عدالتی فیصلوں پر رائے زنی کرتے ہوئے خوف کھاتے تھے ۔اب عدالتی بد چلنی کی بنا پر خوف دور ہورہا ہے ۔۔نہیں۔۔۔بلکہ لوگfrustrate ہو کر اپنی حدوںکو پھلانگ رہے ہیںاور اگر عزت مآب ججوں نے اپنی روش نہ بدلی تو پھر وطن عزیز میں عام بد امنی پھیلنے کی ذمے داری بھی ان کے سر ہوگی۔

                علامہ اقبالؒ نے شاید سو سال پہلے کہا تھا ’’ ہے جرم ضعیفی کی سزا مرگ مفاجات ‘‘مسلمانوں کو یہ سمجھنا چاہئے کہ ان کی قوم کمزور ہے اس لئے حکومت کو جب ضرورت پڑتی ہے قربانی کے بکرے ان میں تلاشتی ہے ۔پولس کو جب اپنی کارکردگی دکھانی ہوتی ہے یا نشانے بازی کے لئے ٹارگٹ کی ضرورت ہوتی ہے تو وہ بھی قربانی کے بکرے ان میں ہی ڈھونڈتی ہے ۔ایسا کیوں ہے؟ ۲۵ کروڑ کی قوم اتنی کمزور کیوں ہے ؟اس کے لئے برسوں سے سیمینار اور کانفرنسیں کروائے جارہے ہیں۔مگر حضورﷺ کی اس حدیث کی طرف کوئی توجہ نہیں دینا چاہتاجسمیں کہا گیا ہے ’’ہر امت کا ایک فتنہ ہے اور میری امت کا فتنہ مال ہے‘‘آج ملت اسلامیہ دنیا کی تمام ملتوں سے زیادہ اس فتنے میں مبتلا ہے۔سیاسی لیڈروں کو چھوڑئے ہمارے ’’علماء کرام ‘‘کوڑیوں کے مول بک رہے ہیںاور یہ اس کے باوجود ہے کہ ملت کے پاس مال کی کمی نہیں ۔لاکھوں مدارس اپنے بل بوتے پر چلانے والی ملت فقیر نہیں ہوسکتی۔مال بہت ہے مگر ترجیحات غلط ہیں ۔اللہ نے یہودیوں کے چہرے بگاڑ دئیے تھے ۔ان کے دماغ بگڑ گئے ہیں ۔چند دنوں پہلے کی خبر تھی کہ عظیم ہاشم پریم جی نے اپنی آدھی دولت خیرات کردی ہے ۔میڈلے فارماسیوٹیکل والے وقتاً فوقتاًکروڑوں روپیہ اپنی این جی او کو دیتے رہتے ہیں۔ایک آدھ ماہ پیشتر یہ خبر بہت اچھلی تھی کہ عالم عرب کے سب سے زیادہ مالدار شخص ولید بن طلال نے اپنی ساری دولت خیرات کردی ہے ۔مگر یہ خبر کبھی نہیں آتی کے یہ ساری دولت جاتی کہاں ہے ؟ قوم کے کتنے اور کیا کام آتی ہے ؟مسلمانوں کے نزدیک سب سے بڑا ثواب کا کام مدرسہ یا مسجد بنانا اور حج و عمرہ کرنا ہے ۔معلوم نہیں مسلمانوں کی یہ ترجیحات کب بدلیں گی؟جو مال خیرات کیا گیا ہے اس سے انتہائی موثر پرنٹ اور الکٹرانک میڈیا کھڑا کیا جاسکتا ہے۔اگر یہ ہو گیا تو کسی کی مجال نہیں کہ آپ کے ایک معمولی فرد کو بھی غلط طریقے سے ایک دن کے لئے بھی جیل بھیج سکے۔اس مال سے عالم اسلام میں کئی بہترین یونیورسٹیوں کا قیام ممکن ہے۔دوسروں کو کیا ایران کو دیکھئے ۱۹۸۸ میں جنگ سے باہر آنے کے بعد علمی اعتبار سے اس نے کیا ترقی کی ہے؟امریکہ کو جھکنا پڑا ہے تو کیوں؟درست ترجیحات کے طفیل آج ایران عالم عرب کے سینے پر مونگ دل رہا ہے۔نئی خبر کے مطابق اس نے تہران کی واحد سنی مسجد کا نام و نشان مٹا دیا ہے۔طاقت نے امریکہ کی طرح اسے بھی متکبر بنا دیا ہے۔

                 برسوں پہلے جب مسلمان لیڈر نے لوک سبھا کا الکشن لڑا تھا تو اپنی دولت ۱۲۶ کروڑ بتائی تھی۔ہم نے انھیں خط لکھ کر گذارش کی تھی کہ اس دولت سے قومی سطح کا ایک ہندی یا انگریزی کا اخبار جاری کردیجئے۔یہ قوم کے کام بھی آئے گا اور آپ کے بھی کیونکہ اب آپ سیاسی لیڈر بن چکے ہیں۔مگر اے بسا آرزوکہ خاک شدہ۔ بس تو پھر جو ہو رہا ہے اس پر رونا کیسا؟

جو اصل غم ہے وہی غم کوئی نہیں کرتا؍؍ہماری عقل کا ماتم کوئی نہیں کرتا

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *