دِل کی زندگی

                آج دلوں کی سرزمین اس قدر بنجر ہوگئی ہے کہ اس میں کوئی روئیدگی، کوئی سبزہ، مہرووفا کی کوئی کونپل نہیں پھوٹتی۔ ہر فرد اپنے دِل کے ہاتھوں پریشان ہے، دوسرے انسان کے دل کی آہوں، سسکیوں کو سننے کی صلاحیت سے بھی محروم ہے۔ اپنے گھر سے لے کر باہر کی وسیع دنیا تک دلی صدمے وافر میسر ہیں، غم جگہ جگہ ملتا ہے، نفرت و کدورت کے چرکے قدم قدم پر لگ رہے ہیں۔

                ہمارے لئے دنیا و آخرت کی بھلائی اسی میں ہے کہ ہمارے سینوں میں دِل، اور دل میں جذبات محبت موجود رہیں۔ زندگی ایک پھول ہے اور محبت اس کی مٹھاس ہے، محبت سے ہی دل کی زندگی اور اطمینان کا سامان ہے۔ پاکیزہ اور پائیدار محبت کی خوبصورت رہنمائی ہمارے خالق نے اور اس کے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم نے کی ہے۔

                اللہ ارحم الراحمین ماں کے دِل میں بچے کی بے پناہ محبت ڈال دیتا ہے۔ پھر باپ کے دِل میں، بھائی کے دل میں بھائی کی، میاں بیوی کے درمیان، محبت جہاں بھی ہے، اللہ تعالیٰ کی عطا ہے۔ لیکن سب سے بڑھ کر تو اپنے خالق سے اور اس کے نبیؐ سے محبت حاصلِ زندگی ہے۔

محبت الٰہی:۔

                شیخ بدرالدین عینیؒ فرماتے ہیں: اسبابِ محبت تین ہیں: کمال، جمال ،جودوسخا۔ اللہ تعالیٰ اپنی صفات کے لحاظ سے لامتناہی کمالات کا حامل ہے کوئی خوبی ناقص نہیں ہے۔ اس کے کمالات کی کشش بندے کو گرویدہ کرتی ہے۔ جمال کے لحاظ سے بھی وہ ذات، انتہا کو پہنچی ہوئی ہے۔ یعنی اس جیسا کوئی حسین و جمیل نہیں۔ جودوسخا پر غور کریں، ہم اس کی عطا کردہ نعمتوں کا شمار تک نہیں کر سکتے۔

                اللہ کے نبیؐ نے فرمایا، اس شخص نے ایمان کا شیریں مزہ پالیا جو اللہ کے رب ہونے پر راضی ہوگیا۔ رضائے الٰہی کی مٹھاس تمام حلاوتوں سے زیادہ میٹھی ہے۔ ہم بے نصیب مسلمان اس مٹھاس سے اپنے دل خالی کر بیٹھے۔ اب محبت الٰہی کی حلاوت کہاں سے نصیب ہو! یہ کلام اللہ سے حاصل ہوگی۔ جب قرآن کریم کو دِل کی دھڑکنوں میں اتارا جائے گا تو حب الٰہی کی سرسبز شاخیں، کونپلیں اور کلیاں کھِل جائیں گی۔ آگاہ رہو! ذکر الٰہی سے دلوں کو اطمینان نصیب ہوتا ہے (۲۸:۱۳)۔ ذہنی سکون کی تلاش میں لوگ ملک ملک پھرتے ہیں۔ اطمینان قلب، ظاہری نماز روزہ کرنے والوں کو بھی کم ہی میسر آتا ہے۔ کیونکہ دلوں میں حب الٰہی کے برابر برابر اور کبھی بالاتر، اور بہت سی چیزوں کی محبت حسین بتوں کی شکل میں سجائی ہوتی ہے۔

                ایک صحابی ؓ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: حضور ؐ ، ایسا عمل بتائیں کہ خدا اور بندگانِ خدا مجھ سے پیار کرنے لگیں! آپؐ نے فرمایا: دنیا سے بے نیاز ہو جا، خدا تجھے پیار کرے گا۔ (ابن ماجہ) اسی کو استغناء کہتے ہیں۔ حضور ؐ نے فرمایا: استغناء کی شان اور مقام دل ہے۔ ہمارے ماحول میں زاہد اسے سمجھتے ہیں جو تارک دنیا ہو، میلے کچیلے کپڑے پہنے ہو، کسی گندی کٹیا میں بسیرا ہو، کسی سے سیدھے منہ بات نہ کرے۔ حالانکہ ارشاد نبویؐ کے مطابق زہد یہ ہے کہ دل غیر اللہ سے بے نیاز ہو جائے۔بقول اقبال مرحومؒ

                                                                ع۔            کہ پایا میں نے ااستغناء میں معراج مسلمانی

                یہ استغنائے قلب جسے نصیب ہو جائے چاہے امیر ہو، غریب ہو، اعلیٰ تعلیم یافتہ ہو، اَن پڑھ ہو، اس کے دل میں حبّ الٰہی کا بیج ثمر بار ہوگا۔ چاہے اسے عبادت و ریاضت، مراحلِ چلہ کشی کا کوئی موقع ہی نہ ملا ہو، تخم حبّ الٰہی ان کے دِل کی زر خیر زمین کو مالامال کرے گا۔ فرعون کا جبر و قہر ایسے مومن کے ایمان اور اطمینان کو ذرا بھی جنبش نہیں دے سکتے۔ اسے سولی پر لٹکانے کا حکم مل جائے، تب بھی برملا کہے گا۔ فاقض ما انت قاض ‘‘(۷۲:۲۰) تو جو کچھ کرنا چاہے کر لے‘‘۔یعنی اب مجھے اپنے خدا کی محبت کے سوا کسی کی پروا نہیں ہے۔

                دورِ حاضر میں مادّہ پرستی نے اکثریت کو دولت کا پجاری بنا دیا ہے، جس کے نتیجہ میں دلوں کے اندر بے اطمینانی ہے۔ حصولِ سکون کے لئے نشہ آور چیزیں استعمال ہو رہی ہیں۔ راتوں کو فطری نیند غائب ہونے پر خواب آور دوائیں استعمال کرکے مصنوعی طریقے سے نیند کا سامان ہو رہا ہے۔ بجلی کی تیز روشنیوں نے رات کے ستاروں کی جھلملاہٹ اور چاند کے نظاروں کی آیات کو نور سے محروم کر دیا ہے۔ ٹیلی ویژن نے اہلِ ایمان کا ٹائم ٹیبل ایسا تلپٹ کیا کہ نہ نمازِ عشاء باجماعت مقدر ہوتی ہے، نہ مسنون طریقہ سے نمازِ عشاء کے فوراً بعد سونا قسمت میں ہے، نہ وقت سحر بیداری کی توفیق رہی۔

                                                ع۔                            شب کی آہیں بھی گئیں صبح کے نالے بھی گئے

                حضور ؐ نے فرمایا: جو کوئی اللہ کی ملاقات کا آرزو مند ہوگا ، اللہ کو اس سے ملنے کی چاہت ہوگی۔ جو اللہ سے ملنا پسند نہیں کرے گا، اللہ اس سے ملنا پسند نہیں کر ے گا ۔(مسند احمد) اگر اللہ کے ساتھ بندے کا معاملہ صاف نہیں ہے بلکہ خدا کا چور ہے تو کس منھ سے سامنے جائے گا۔ نری شرمساری ہے۔ ایک دوسرا شخص جس نے خدا کے احکام کی فرمابرداری میں زندگی گذاری، نہ وہ خدا کے حقوق کا مقروض ہے نہ کسی بندے کے حقوق کا۔ اس کا دل تو ہر وقت چاہے گا کہ میں خوشی خوشی اپنے خالق سے جا ملوں۔ اسے کوئی حجاب نہیں ، کوئی رکاوٹ نہیں۔ دل کا آئینہ صاف ہے، تو ڈر کس چیز کا؟

حبّ رسول ؐ

                خالق کی محبت دل میں جاگزیں ہو تو پھر اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت بھی پیدا ہو جاتی ہے، جس کی رہنمائی خدا تک رسائی کا ذریعہ ہے۔ ’’النبی اولی بالمؤمنین من انفسہم‘‘ بلا شبہ نبی تو اہل ایمان کے لئے ان کی اپنی ذات پر مقدم ہے (۶:۳۳)

                غازی علیم الدین شہید ؒ ایک ترکھان کا نوجوان بیٹا کوچوان تھا۔ نہ کسی یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی، نہ کسی دارالعلوم سے فارغ التحصیل۔ جونہی اسے گستاخِ رسولؐ کی کتاب ’’رنگیلا رسول‘‘ کا علم ہوا، وہ کھانا پینا بھول گیا، اس کے دل میں حبّ رسول ؐ سے لبریز ایمان نے جوش مارا اور شاتمِ رسول کو جہنم واصل کرکے وہ پورے قلبی اطمینان کے ساتھ، ہنسی خوشی پھانسی پر لٹک گیا۔ اس کی شہادت پر، فلسفہ کا پی ایچ ڈی اقبال حسرت سے کہہ اٹھتا ہے ’’ترکھان دامنڈا ساڈے ساریاں تو بازی لے گیا، تے اسیں دیکھ دے ای رہ گئے۔‘‘

                قاضی عیاض ؒ نے ’’الشفائ‘‘ میں لکھا ہے: ایک رات حضرت عمرؓ رعایا کی خبر گیری کے لئے گشت کرتے کرتے ایک گھر کے پاس سے گذرے جس میں ٹمٹماتا ہوا چراغ جل رہا تھا۔ اندر ایک بڑھیا اون دھنک رہی تھی۔ ساتھ ساتھ محبت رسولؐ کا ترانہ نہایت جوش و خروش سے گا رہی تھی: موتیں تو بہتیری آتی رہتی ہیں، کاش ! مجھے معلوم ہو جاتا کہ میرے مرنے کے بعد میرے حبیب و محبوب سے ملاقات ہوگی اور زیارت نصیب ہوگی۔ یہ ترانہ محبت سن کر حضرت عمر ؓ کے قدم وہیں رُک گئے، دل گرفتہ ہوکر بیٹھ گئے۔ بہت دیر تک یادِ رسولؐ میں روتے رہے۔

                حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی نعش مبارک صحابہ کرام ؓ دفن کرکے فارغ ہوئے۔ خادم رسول ؐ حضرت انس ؓ سے دختر رسول فاطمہؓ بتول نے پوچھا: انس ؓ ،کس حوصلے سے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے جسدِ مبارک پر مٹی ڈال کر آئے ہو! (البدایہ والنہایہ)

                وفات النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ایک دِن حضرت ابوبکرؓ، عمر ؓ اور انسؓ (حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی رضاعی ماں) کے یہاں پہنچے تو وہ پھوٹ کر رونے لگیں۔ ابوبکرؓ و عمرؓ نے کہا: کس لئے روتی ہو! حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے اللہ کے پاس اس دنیا سے بہتر نعمتیں ہیں۔ خاتون نے کہا: بالکل، مجھے علم ہے کہ خدا کے ہاں دنیا سے بہت بہتر انعام ہیں۔ مگر میں تو اس صدمے سے روتی ہوں کہ حضورؐ کے جانے کے بعد آسمانوں سے وحی آنا بند ہو گئی ہے۔ یہ بات سُن کر شیخینؓ بھی رونے لگے۔

                حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ایک آدمی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر کہنے لگا: حضورؐ ،آپ کی ذات مجھے میری جان ،میری بیوی، میرے بچوں سے زیادہ محبوب ہے۔ میرے گھر میں جب آپؐ کا ذکر خیر ہوتا ہے تو آپ کے شوقِ زیارت میں بے صبر ہوجاتا ہوں۔ فوراً آکر آپؐ کو دیکھ کر اپنی آنکھیں ٹھنڈی کرتا ہوں۔ جب مجھے اپنی اور آپؐ کی موت یاد آتی ہے، میں پریشان ہو جاتا ہوں۔ آپؐ جنت میں داخل ہونے کے بعد، انبیاء ؑکے ساتھ اعلیٰ منازل میں ہوں گے۔ مجھے اندیشہ ہے کہ میں جنت میں آپ کی زیارتوں سے محروم نہ ہو جاؤں۔ حضورؐ یہ بات سُن کر خاموش ہو گئے تو جبرئیل ؑ وحی لے آئے کہ ’’جو لوگ اللہ اور رسولؐ کی اطاعت کریں گے (یعنی زبانی نہیں، عملی محبت) وہ ان لوگوں کے ساتھ ہوں گے جن پر اللہ نے انعام فرمایا ہے یعنی انبیاء اور صدیقین اور شہداء اور صالحین کے ساتھ۔ یہ آیت صاف اشارہ دے رہی ہے کہ جیسے اہلِ جنت کا جشن زیارت الٰہی ہوا کرے گا، ویسے ہی زیارت نبویؐ کے حسین مواقع بِلا تردد حاصل ہوں گے۔ اہل جنت حضور ؐ سے ملاقاتیں، مصافحے، معانقے کرکے آنکھوں کو فرحت اور دِل کو سرور بخشیں گے۔ انشاء اللہ۔

                حضرت حسانؓ نے حضور ؐ کی مدح میں کیا خوب کہا ہے:

                                خلقت مبرا من کل عیب                          کانک قد خلقت کماتشاء

                آپؐ ہر عیب سے پاک صاف پیدا کئے گئے ہیں۔ گویا خالق نے آپؐ سے پوچھ پوچھ کر آپؐ کو بنایا۔

                                واجعل منک لم ترقط عینا                       واحسن منک لم تلد النّساء

                آپ ؐ جیسا خوبصورت کسی آنکھ نے دیکھا ہی نہیں۔ آپؐ جیسا حسین کسی ماں نے جنا ہی نہیں۔ تری صورت، تری سیرت، ترا نقشہ،ترا جلوہ تبسم ، گفتگو، بندہ نوازی، خندہ پیشانی

                ربیعہ ؓ بن کعب اسلمی (خادم رسول اللہ ؐؐؐؐؐؐؐؐؐؐؐؐؐؐؐؐؐؐؐؐؐ) سے ایک رات حضور ؐ نے فرمایا: مجھ سے کچھ مانگ لے۔ انہوں نے کہا: حضور! میرا سوال صرف یہ ہے کہ جنت میں آپؐ کی رفاقت نہ چھوٹ جائے۔ آپؐ نے فرمایا اپنی تمنا کے حصول کے لئے سجدوں کی کثرت سے میری مدد کرو۔ (صحیح مسلم)

                حضرت سہلؓ بن عبد اللہ کہتے ہیں: حب الٰہی کی نشانی حبّ قرآن، حبّ قرآن کی علامت حبّ نبیؐ، حب نبیؐ کی علامت حبّ سنت، حبّ سنت کی علامت حبّ آخرت، حبّ آخرت کی علامت دنیا سے بغض اور بغضِ دنیا کی علامت یہ ہے کہ دنیا کا ذخیرہ کرنے کے بجائے، توشہ آخرت لے کر آخرت تک پہنچ جائے ۔ (الشفائ)

                کاش! آج کے اندھے دانش وروں کو آنکھیں نصیب ہوتیں، تو رہبر کامل حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی جامع کمالات شخصیت نظر آجاتی۔ جن کو زندگی میں پاکیزگی ہی پاکیزگی، افکار و کردار کا حسین امتزاج، جن کی حیات مبارکہ سراسر خلق خدا کے لئے رحمت ہی رحمت۔ پوری تریسٹھ سالہ زندگی ایسی بے داغ چمکتی چادر، کہ کوئی معمولی دھبّہ نہ دکھایا جا سکے۔ اس راہبرؐ کامل کے ہوتے ہوئے اِدھر اُدھر بھٹکتے پھرنا کیسی بے نصیبی ہے۔

                حبّ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا تقاضا ہے کہ آپ ؐ کی پوری پوری فرماں برداری کی جائے اور ساری زندگی اسی عہد لَااِلٰہَ اِلَّااللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہ کی وفا میں گذر جائے۔

                ہوحلقہ یاراں تو بریشم کی طرح نرم۔  ’’مومنوں پر نرم‘‘ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ ایک شخص اہلِ ایمان کے مقابلے میں اپنی طاقت کبھی استعمال نہ کرے۔ اس کی ذہانت ،اس کی ہوشیاری، اس کی قابلیت، اس کا اثر و رسوخ اس کا مال، اس کی جسمانی قوت، کوئی چیز بھی مسلمانوں کو دبانے اور ستانے اور نقصان پہنچانے کے لئے نہ ہو۔ مسلمان اپنے درمیان اس کو ہمیشہ نرم خو، رحم دِل، ہمدرد اور حلیم انسان پائیں۔

                حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب ایک مسلمان دوسرے مسلمان سے ملتا ہے، اس کا ہاتھ محبت سے پکڑتا ہے، تو دونوں کے گناہ یوں جھڑتے ہیں جیسے خشک درخت کے پتّے تیز ہوا میں جھڑتے ہیں۔ چاہے دونوں کے گناہ سمندر کے جھاگ برابر ہوں۔ سب معاف ہو جاتے ہیں۔

                مومن کی شان گلاب کے شگفتہ و دِلکش پھول کی طرح ہے۔ جس شاخ پر مسکرا رہا ہوتا ہے وہ شاخ کانٹوں سے بھری ہوتی ہے۔ اسے دوسروں سے زخم پہنچے تو بھی یہ کسی کو ذرا دُکھ نہیں دیتا۔ اللہ کے رسول ؐ نے فرمایا : لوگوں سے محبت کرنا آدھی عقل مندی ہے۔ یعنی دیگر تمام امور حیات کی دانائی ایک طرف اور صرف انسانوں سے محبت کا عمل ایک طرف۔ حضور ؐ نے فرمایا: مومن سراپا محبت و الفت ہے۔اس شخص میں کوئی خیر نہیں جو نہ کسی سے الفت رکھتا ہو نہ کوئی دوسرا اس سے انس رکھے۔ تمنا ہر فرد و بشر کی یہ ہے کہ لوگ مجھ سے پیار کریں۔ نسخہ نہایت سادہ اور آسان ہے کہ آپ ہر کسی سے پیار کریں لوگ آپ سے پیار کرنا شروع کر دیں گے۔

                مگر مومن کی شان صرف یہ ہی نہیں کہ خود صاف دِل رہے، بلکہ دوسروں کے دِل کی صفائی کا اہتمام کرے۔ کسی کو کسی سے غلط فہمی ہے تو اسے رفع کروائے۔تاکہ سب کے دل ایک دوسرے کے لئے صاف ہوں۔ دِل صاف ہو جائیں تو زبان خود بخود صاف ہو جاتی ہے۔ غیبت کے تیر ونشتر زبان سے اسی وقت چلتے ہیں جب دِل میلا ہو۔

                حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان بھی ہے کہ حسن و ظن بھی عبادت کے حسین مدارج سے ہے۔ جتنا بھی ممکن ہے، دوسرے کے بارے میں دِل صاف رہے۔ خواہ مخواہ دوسروں کی کرید لگاتے پھرنا، پھر اس کے چرچے کرنا، مناسب کام نہیں۔

                خدا وند کریم ہمیں ان ارشاداتِ نبوی ؐ پر عمل پیرا ہونے کی توفیق نصیب کردے۔ آج ہمارے اڑوس پڑوس میں کتنے مظلوم و مجبور، مرد عورتیں، بچے بوڑھے سسک رہے ہیں، بلک رہے ہیں۔ کون ہے جو اپنی آنکھ کے درد کی طرح ،کسی دوسرے مسلمان کے درد کا درماں کرے۔ کون ہے جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح دوسروں سے دُکھ سہہ کر ،ان کے سکھ کا سامان کرے۔ کون ہے جو دشمن سے پتھر کھاکر انہیں دعائیں دے؟ کون ہے جو سر شام پریشان حال بڑھیا کا سامان اٹھا کے اسے منزل تک پہنچا آئے۔ کون ہے جو ابوبکر ؓ کی طرح رات کی تاریکی میں ایک معذور بڑھیا کے گھر کی صفائی کرے۔ کون ہے جو عمر ؓ کی طرح راشن اپنی کمر پر اٹھا کر اپنی بیوی کو ساتھ لیکر کسی خانہ بدوش کی مدد کو جا پہنچے۔ کون ہے جو عثمان ؓ کی طرح اپنا سارا مالِ تجارت جہاد میں جھونک دے؟ کون ہے جو علیؓ کی طرح دشمن کے سینے پر بیٹھ کر صرف اس لئے اُسے چھوڑ دے کہ اس نے منہ پر تھوک دیا تھا؟ کون ہے جو دختر حاتم طائی کو ننگے سر گرفتار دیکھ کر اپنی چادر مبارک سے اس کا سر ڈھانپ دے؟ ہے کوئی آج جو اپنے ملازم کو سواری پر بیٹھا کر خود پیدل چلے؟ ہے کوئی جو مہمان کو کھلا کر خود بھوکا سوجائے؟ ہے کوئی جو اپنے اوپر کوڑا پھینکنے والی کی عیادت کرے؟ ہے کوئی جو غریبوں کی مجلس میں بیٹھ بیٹھ کر ان کی دِل جوئی کرے؟

                اللہ کی محبت، اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت ، مسلمان بھائی کی محبت، انسانوں کی محبت جو اللہ کی عیال ہیں ، یہی دِل کی زندگی اور قوت کا سامان ہے اور دِل کی زندگی ہی اصل زندگی ہے۔

(ماخوذاسلامک مومنٹ)

ہندوتو ۔۔۔۔۔یا۔۔۔۔۔ ہندوستان

قومیت اور قومی یکجہتی

ہندوستان میں اقلیتوں خاص طور پر مسلمانوں کے اجتماعی وجود کو ختم کرنے کا خواب دیکھنے والے کو طریقہ کار کے لحاظ سے توبہت سے دائروں میں تقسیم کیا جاسکتاہے مگر بنیادی مقصد اور فکر کے اعتبار سے یہ سب ایک ہی ہیں۔ ہندودیش ،ہندوقوم، ہندوتہذیب کا منصوبہ ہندوستانی قومیت اور قومی یکجہتی کے پردوں میں بھی زیر عمل لایاجارہاہے ۔یعنی زہر کی گولیاں شکرمیں ملاکر بھی کھلائی جاتی ہیں اس معنیٰ میں کانگریس اور بی جے پی جیسی پارٹیاں واقعی ایک سکے کے دو رخ ہیں سنگھ خاندان اگراقلیتوں کو خوف زدہ کرتاہے تو کانگریس ان کو خود اعتمادی اور خودانحصاری سے محروم کرکے محافظ وپاسبان کا حاجت مند بناتی ہے آنجہانی اندراگاندھی نے مرحوم جنرل شاہنواز کوایک خط کے جواب میں تحریری طورپر آگاہ کیا تھا کہ اقلیت اکثریت کو ناراض کرکے زندہ نہیں رہ سکتی (ملاحظہ ہوملک ملت بچائو تحریک کے دوران جنرل شاہ نواز اور اندراگاندھی کی مراسلت)اس پارٹی نے ہری جنوں کو جملہ مراعات سے محروم رکھا اگروہ اسلام یاعیسائیت قبول کرلیں گویامراعات پسماندگی کی بناپر نہیں ہندوسماج سے وابستگی کی شرط پر دی جاتی ہیں ۔سنگھ خاندان نے قوم اور قوم پرستی کی تاریخ وضع کی ہے اور کانگریس نے اس کو سرکاری سند عطافرمادی ایک نے کہا کہ ہندوہی سچاہندوستانی ہوسکتاہے۔ دوسرے نے ثابت کیا کہ ہم زیادہ بہتر ہندوہیں ایک بڑے لیڈر نے امرجنسی کے بعد اندراگاندھی کو برسراقتدار لانے کے لئے یہ بھی گواہی دی کہ یہ Indra Gandhi is better Hindu Than Bajpayeeملاحظہ ہو اچاریہ ونوبابھاوے کااخباری انٹرویو۔ ’’کانگریس نے اقلیتوں کے اندر حقیقی لیڈر شپ کی جگہ مصنوعی اور زرخریدلیڈرشپ پیداکرنے اور ان کی حق طلبی کی کوششوںکو فرقہ پرستی کاالزام دے کر خاموش رکھنے کا جو حربہ استعمال کیا اس سے تو یہ ظاہر ہوتا ہے کہ آریہ نسل پرستی کے وقار کو بحال رکھنے میں وہ زیادہ ماہر فن ہے۔ اقلیتوں کو بے دست وپارکھنے اور ان کی آواز کو دبانے کی پالیسی کی نمایاں مثال بابری مسجد کی تحریک کے دوران منظرعام پر آئی ۔مسلمانوں کے ساتھ کھلم کھلابے ایمانی کی گئی مسجد ڈھانے والوں اور مسجد بچانے والوںکو نہ صرف ایک ہی زمرے میں شمارکیا گیا، بلکہ مسجد کے تحفظ کے لئے زبان کھولنے والوں کے ساتھ تخریب کاروں جیساسلوک کیا گیا اور تخریب کاروں کو بھگت اور سیوک کی ڈگریاں تقسیم کی گئیں اور انہیں سرکاری تحفظ اور سرپرستی میں ان کے گھروں تک پہنچایا گیا۔ مرکز کی کانگریسی حکومت نے بی جے پی کی ریاستی حکومت اس وقت گرائی جب منصوبہ مکمل ہوگیا یعنی قتل بھی کرایا اور ثواب بھی لوٹناچاہا۔ سوال یہ پیداہوتا ہے کہ اگر اقلیتیں اپنے اوپر ڈھائے جانے والے ظلم کے خلاف آواز اٹھاتی ہیں یا اپناحق مانگتی ہیں تو کیا یہ فرقہ پرستی ہے ؟اگر قومی یکجہتی کا مطلب اکثریتی جبر کے آگے سپرانداز ہونا ہے تو ہندوقوم پرستی اور قومی یکجہتی میں واقعی فرق کیا ہے ؟صحیح یہ ہے کہ قومی یکجہتی کا مطلب اکثریت کے تابع فرمان بن کر رہنا نہیں ہے بلکہ مجموعی طورپر ملک کی تعمیر وترقی اور حفاظت کے لئے ایسی اصولی باتوں پر متفق ہونا ہے جو کسی کے حقیقی مفاد کے منافی نہ ہوں اس کے برعکس اگر عقیدوں میں یکجہتی، زبان وتہذیب میں یک رنگی کو قومی یکجہتی کے ہم معنیٰ بنادیا جائے گا تواکثریت کے زعم میں بدمست ہونے والوں کے علاوہ اور کون ہے جو اس سے اتفاق کرسکتاہے؟ کوئی بھی اقلیت اس قیمت پر قومی یکجہتی کا تحفہ حاصل کرنے پرراضی نہیں ہوسکتی۔

وطنی قومیت

انگریزوں نے سارے ہندوستانیوں کو بلاامتیاز INDIANیاہندوستانی کہنا شروع کیا یہ ایساہی ہے جیساکہ مسلمانوںنے ہندولفظ کا استعمال مقامی باشندوں کے لئے کیا تھا مگر مسلم عہد میں وطنی قومیت کا کوئی تصور موجود نہیں تھا نہ ہی مسلمانوں نے خود کوغیرملکی سمجھا بلکہ وہ اپنے نومسلم بھائیوں کے ساتھ اسی ملک کی ایک قوم بن گئے اور غیر مسلموںکو عام طور پر ہندوکہنے لگے خلاف ازیں انگریزوں نے نہ تو خود کو ہندو ستانی کہا اور نہ ہندوستان میں مستقل سکونت وحکومت کا حق دار قراردیا آخرتک وہ خود کو انگریز قوم کہتے رہے اور ہندوستان کو تاج برطانیہ کے تحت ممالک محروسہ British Coloniesکی فہرست میں شمار کرتے رہے موجودہ ہندوستانی قومیت کا تصور مغربی تصورِ قومی سے مستعار لیاگیا یعنی وطن کی بنیاد پر سارے ہندوستانی ایک قوم ہیں۔ تحریک آزادی میں اس تصور قومیت کو زبردست فروغ ملااور انگریزوں کے خلاف یہ ایک زبردست قوت محرکہ بن گیا متعدد مسلم ارباب علم ودانش نے اس کو اسلام کے تصور امت کے منافی قراردیا۔ علامہ اقبال ؔنے بھی جدیدسیاسی وطنیت کو وسیع تناظر میںغارت گردینِ مصطفویؐ کا نام دیکر اس کی قباحت سے آگاہ کیا۔مگرافسوس کہ علم وتحقیق کا موضوع بننے کے بجائے یہ ایک سیاسی تنازعہ بن گیا۔ہر سوال کا جواب سیاسی انداز پر دیاگیا اورہر دلیل راہ کی رکاوٹ سمجھ کر رد کردی گئی آزادی کی محبت میں مسلم علماء کسی خاص نتیجہ تک نہ پہنچ سکے اقلیتوں کو دستوری تحفظات کا تحفہ عنایت فرماکر حقیقت سے غافل کردیاگیا کچھ لوگوں نے متحدہ قومیت کی اصطلاح استعمال کرکے اپنا بوجھ ہلکا کرلیا بہرکیف ہندوستانی قومیت کے جدید سیاسی تصور کو جتنا واضح ہوناچاہئے تھا وہ نہ ہوسکا ساتھ ہی ملک کی تقسیم اورآزادی کا مرحلہ آگیا۔ بھارتی مسلمانوں کی سیاسی قیمت گھٹ کریہاں تک پہنچی کہ دستوری تحفظات کو ہی واحد سہارا تسلیم کرنا پڑا۔برسراقتدار اکثریت کے لیڈروں اور تنظیموں کو من چاہے طور پر سیاسی اصطلاحات ومسائل کی تفریق وتوضیح کا موقع مل گیا۔ سنگھ کے گروگوالکرکی کتاب ’’ہم اور ہماری قوم‘‘ اسی زعم بے جاکی ترجمانی ہے۔ جبر تشدد کے ماحول میں جان ومال، عزت وآبروکے تحفظ نے اقلیتوں کے نصب العین کا درجہ لے لیا۔ مسلسل ومتواتر حادثات نے ان میں یہ ہمت باقی نہ رکھی کہ وہ اکثریت کی وضع کردہ گمراہ کن توضیحات پر انگشت نمائی کرسکیں۔ حالانکہ ان کے سامنے ایساجارحانہ تصور قومیت پیش کیا جارہاتھا جس کی تائید نہ تو عقل وانصاف کی روسے کی جاسکتی ہے اور نہ ہی دستور ملکی اسکو جائز قراردیتاہے کسی خاص فرقہ کو یہ اجازت کیسے دی جاسکتی ہے کہ وہ دوسروں کو اپنی مرضی کے مطابق زندگی گذار نے پر مجبور کردے یعنی تہذیب ہوتواس کی، زبان ہو تو اس کی اور دوسرے زندہ رہنے کی قیمت پراپنا سب کچھ چھوڑدیں ۔آریہ نسل پرستی کو ہندوقومیت یاہندوتوکے روپ میں پیش کرنے والوں کا پارہ اتنا چڑھا ہواہے کہ وہ اقلیتوں کی شکایت سننا بھی پسند نہیں کرتے ۔ وہ چاہتے ہیں کہ جو کچھ وہ سوچتے ہیں وہی سب کو سوچنا چاہئے ۔یعنی سب کی کھوپڑیوں میں ان کا دماغ کام کرنا شروع کردے ،سب کی آنکھیں اسی طرح اور اسی طرف دیکھیں جس جانب وہ دیکھنا چاہتے ہیں۔ ان کے اس زعم باطل کو ملک کا سیاسی اور تعلیمی نظام بھی تقویت پہونچارہاہے۔ ذرائع ابلاغ پر بھی اسی طبقہ کے ہمنوائوںکا قبضہ ہے۔اقتصادی وتجارتی وسائل بھی بڑی حد تک انہیں کے ہاتھ میں ہیں۔ گویا آریوں کے طبقاتی سماج کا ’’پنرجنم‘‘ ہوچکاہے۔ انہیں فکر اب یہ ہے کہ اس کو کس طرح ہمیشہ زندہ رکھاجائے۔ مرکزی کابینہ ،سیاسی پارٹیوں کی لیڈرشپ اور افسرشاہی میں انہیں کودبدبہ حاصل رہتاہے۔ وقت پڑے تو ہریجنوں کے نازنخرے بلکہ گالیاں بھی برداشت کی جاتی ہیں۔مگر مسلمانوں کو دیانتداری سے تناسب آبادی کے لحاظ سے حصہ دینا تو بڑی بات ہے کچھ سوچنا بھی پسند نہیں ہے۔ آریہ نسل پر ست لیڈروں کا گمان ہے کہ جنہیں وہ کل شودراور آج ہریجن کہتے ہیں اپنے گھر کا پتہ بھول چکے ہیں۔ ان کا کوئی پرسنل لاء نہیں ہے ان کا اپنا کوئی کلچر نہیں ہے اس لئے منصوبہ بندسیاست کے تحت انہیں اپنے خاکہ میں سمویا جاسکتاہے۔ لیکن مسلمان اور عیسائی اپنی مذہبی وتہذیبی شناخت کا سودا کرنے پر رضامند نہیں ہوسکتے۔ اور وہ ایک عالمی رشتہ میں بندھے ہوئے ہیں۔ اس لئے انہیں ڈرانے دھمکانے اور محروم رکھنے کی روش اپنائی جاتی ہے ۔ قدرتی نتیجہ کے طور پر اقلیتوں میں بے چینی بڑھ رہی ہے۔ انہیں یہ خوف دامن گیر ہے کہ ان کے اپنے ملک میں ان کا کچھ بھی محفوظ نہیں ہے۔

                اکثریت کے بل پر ان کا سب کچھ چھینا جاسکتاہے۔ بابری مسجد اور گردوارہ امرتسر کے ظالمانہ انہدام نے تواس بے چینی کو دائمی بنادیا ہے۔ برا وقت پڑنے پر بارہا تجربہ ہو چکا ہے کہ خدا کے سوا اور کوئی ان کا مددگار نہیں ہے۔ یہاں دستور، انتظامیہ اور عدلیہ کوئی بھی تحفظ وانصاف دینے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ کچھ پتہ نہیں کہ کب ان کی کسی تنظیم کو بلاثبوت ’’ملک دشمن ‘‘ قراردیدیاجائے اور کس کے جرم بے گناہی کی سزا کس کو بھگتنا پڑے۔ جس ملک میں TADAجیسے وحشیایہ قوانین وضع کئے جاتے ہوں اور اقلیتوں پران کو بے دریغ استعمال کیا جاتاہو حتیٰ کہ ایساقانون منسوخ ہونے پر بھی ملزموں کی قید ختم نہ ہوتی ہو جہاں جس کو چاہے ’’دائود ابراہیم‘‘ گروہ کا آدمی قرار دیکر اس کا سب کچھ چھینا جاسکتاہو وہاں اس توقع کی کیا گنجائش ہے کہ اکثریتی جبر کے اس دیوکو ہندوستانی قومیت کا دیوتامان لینا چاہئے ۔ہندوستان کے بہی خواہوں کو سوچنا چاہئے کہ سب کے ملک کو صرف اپنا ملک مان کرچلنے والوں کی چال کتنی خطرناک ہے اوراس کے نتائج کتنے مہلک ہوں گے ۔یہ تووہی کھلی ہوئی نسل پرستی اور جارحیت ہے جو جرمنی میں ہٹلر اور اٹلی میں مسولینی کی صورت میں اپنا تعارف کراچکی ہے۔

ناجائز مطالبے

نہ جانے کس منھ سے مسلمانوں سے وفاداری کا مطالبہ کیا جاتاہے اگر کسی کو اپنا سمجھاہی نہیں جاتاتواپنائیت کے ناتے شکایت کیسی ؟فسطائی لیڈرکہتے ہیں ہندوستان ہماراہے ۔ ہندوہی قوم ہیں تو پھر ان سے وفاداری کی خواہش کیوں جوآپ کی نظر میں نہ ملک میں حصہ دارہیں ،نہ قوم میں شامل ہیں۔ در اصل ظالموں نے ہمیشہ ہی خود کو دلیل سے بے نیاز سمجھا ہے اور اسی لئے نسل پرستی کی بنیادوں پر ہندوتو یاہندوقوم پرستی کا محل تعمیر کرنے والے کھوکھلے دعوے اور بے اصل مطالبے کرتے رہتے ہیں ۔ کیا یہ مناسب ہے کہ ہندوسماج سے پوچھا جائے کہ ان کے اسلاف جے چند ،راناسانگا نے بابر اور غوری کو کیوں ہندوستان پر حملہ آورہونے کی ترغیب دی تھی اوراس طرح کسی کے شخصی فعل کو ایک قوم کا ذمہ دار ٹھہرایاجائے !کیا مرہٹہ سرداروں کے انگریزوں کے ساتھ مل کر سلطان ٹیپو کے خلاف جنگ کرنے کی ذمہ داری ہندومرہٹوں کے سرڈالی جاسکتی ہے؟ کیا گاندھی جی کے قاتل ناتھورام گوڈسے اور گوپال گوڈ سے کے مجرمانہ فعل کی بنیاد پر برہمنوں سے محاسبہ کیاجاناچاہئے ؟ کیا ۱۸۵۷ء میں پنجابی فوج کی وفاداریوں کا انگریزوں سے وابستہ رہنا اس بات کا جواز ہے کہ اس علاقے کے باشندوں کی حب الوطنی مشکوک ٹھہرائی جائے اگر یہ اور اس طرح کے بہت سے سوالوں کا جواب نفی میں ہے اور ہونا چاہئے تو ہندونسل پرست لیڈروں کو یہ حق کیسے مل گیا کہ بعض اشخاص اور واقعات کے حوالے سے کسی دوسری ہندوستانی قوم یا فرقہ سے اپنی پسند کے مطابق وفاداری کا ثبوت طلب کریں۔ اور جب تک وہ ایسانہ کرسکیں (اور انہیں ایساکرنا بھی نہیں چاہئے )اس وقت تک ان کی شہری حیثیت اور وطنی حصہ داری کا انکار کرتے رہیں ۔ بابر جیسے انصاف پسند اور وسیع المشرب بادشاہ کی بنائی ہوئی مسجد اور دوسری نشانیاں اگر مٹادینے کے قابل ٹھہرائی جائیں گی تو بودھوں اور جینیوں کے مندروں پر قبضہ کرکے انہیں ہندومندروں میں تبدیل کرنے کا حساب کتاب مانگنے پر کیاکہوگے؟ اور یہ منطق اور آگے بڑھے گی تو ہندوستان کے ایوان پارلیمنٹ سے لے کر وہ تمام ڈاکخانے اور ریلوے اسٹیشن اور لاکھوں تعمیرات منہدم کرنے کا پروگرام کب بنائوگے؟ جن کا انگریزی سامراج کی نشانی ہونے سے انکار ممکن نہیں ہے۔۔۔۔

عدل و انصاف قرآن و حدیث کی روشنی میں

                اللہ ربّ العزّت نے ساری دنیا کو وجود بخشا اور اپنی مخلوقات میں انسان کو اشرف المخلوق بنایا پھر اسے خلافت کے منصب سے سرفراز فرمایا، جیسا کہ اللہ رب العزّت نے ارشاد فرمایا، انی جاعل فی الارض خلیفۃ (البقرہ) تاکہ وہ اللہ کے احکام کو اللہ کی زمین پر نافذ کرے، خالق کائنات نے انسان کے کچھ ایسے پہلوؤں کا ذکر فرمایا ہے جس سے پتہ چلتا ہے کہ انسان جنگ و جدال میں آگے بڑھ جاتا ہے۔ جیسا کہ قرآن کریم میں ارشاد ہے وکان الانسان اکثر شیء جدلا (الکھف ۵۴) بسا اوقات انسان اپنی خواہشات اور جذبات کے سامنے کمزور پڑ جاتا ہے جیسا کہ اس کا اظہار قرآن کریم میں اس طرح کیا گیا ہے خلق الانسان ضعیفا (النسائ۲۸) اسلام جو آخری مذہب ہے وہ انسانوں کے لئے ہر حیثیت سے مکمل ہے، اور گم گشتہ راہ کی اصلاح کے لئے کافی ہے خواہ وہ جنگ و جدال کا مسئلہ ہو یا نفرت و شقاوت کا، اللہ تعالیٰ نے روئے زمین پر عدل و انصاف قائم کرنے کا حکم دے کر اسے تقویٰ سے زیادہ قریب فرمایا ہے۔ اعدلو ہو اقرب للتقویٰ (القرآن) اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ انصاف کے ساتھ فیصلہ کرنے والے قیامت کے دن نورانی ممبروں پر فائز ہوں گے، مشہور صحابی حضرت عبد اللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ فرماتے ہیں کہ اپنی زندگی کا ایک دِن قضا کے مشغلہ میں گذاردوں ، وہ ایک دِن مجھے ستر برس کی عبادتوں سے زیادہ محبوب ہے، عدل الیوم افضل من عبادۃ سبعین سنۃ، قیام عدل و قضا کی اہمیت کی اصل وجہ یہ ہے کہ خود کار قضا بے حد اہم اور ضروری ہے یہی وجہ ہے کہ قضا کے اس اہم فریضہ کوتاحیات خود نبی کریم ﷺ انجام دیتے رہے، حضور اکرم ﷺ حق تعالیٰ کی طرف سے اس منصب پر فائز کئے گئے تھے، اور اہل ایمان سے کہا گیا تھا کہ وہ اپنے جملہ تنازعات میں حضور ﷺ کو ہی حاکم و قاضی مانیں، اور ان کے فیصلوں کو برضاورغبت قبول کرتے ہوئے ان کے فیصلوں کے سامنے سر تسلیم خم کریں ورنہ ایمان باقی نہیں رہے گا ۔ فلاوربک لایؤمنون حتی یحکموک فیما شجر بینہم ثم لا یجدو فی انفسہم حرجا مما قضیت ویسلمو تسلیما (القرآن) چنانچہ خاندان مخزوم کی ایک عورت نے چوری کی ،قریش نے چاہا کہ وہ حد سے بچ جائے، انہوں نے حضرت اسامہ بن زید ؓ سے جو رسول اللہ ﷺ کے محبوب خاص تھے، ان سے درخواست کی کہ آپ سفارش کیجئے، تاکہ وہ حد سے بچ جائے، حضرت اسامہ ؓ نے نبی کریم ﷺ سے سفارش کی ، آپ ﷺ نے فرمایا کہ تم حد میں سفارش کرتے ہو تم سے پہلے لوگ (بنی اسرائیل) اسی سبب سے تباہ ہوئے کہ وہ غریبوں پر حد جاری کرتے اور امیروں کو چھوڑ دیتے، خدا کی قسم اگر فاطمہ بنت محمد ﷺ بھی ایسا کرتی تو میں اس کا ہاتھ کاٹ دیتا۔ (لو سرقت فاطمۃ بنت محمد لقطعت یدہا) صحیح بخاری ۲/۴۶۸) بعد میں اللہ کے رسول ﷺ نے ایسے افراد بھی تیار کئے جو اس فریضہ محکم کی ادائیگی کے اہل ہوں، چنانچہ بہت سے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے خود عہد نبویؐ میں منصب قضا کی ذمہ داریاں انجام دیں، چنانچہ حضرت علی بن ابی طالب ؓ کو یمن کا قاضی مقرر فرمایا تو انہوں نے اپنی کم عمری کا عذر کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا : ان اللہ عز و جل سیھدی قلبک وثبت لسانک، اللہ رب العزت تیرے دِل کی رہنمائی فرمائے گا اور تیری زبان کو قوت بخشے گا، سیدنا حضرت علی رضی اللہ فطری ذکاوت اور فطانت اور امور قضا میں غیر معمولی بصیرت کے مالک تھے، یہی وجہ ہے کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے ان کے اس جوہر کا ان الفاظ میں اعتراف فرمایا لولا علی لھلک عمر ، اگر علی نہیں ہوتے تو عمر ہلاک ہو جاتا، عہد نبویؐ میں نبی کریم ﷺ جب کسی کو کسی حلقہ کا قاضی مقرر فرماتے تو ان کا نٹر ویو خود لیتے، حضرت معاذ بن جبل ؓ اصحاب افتاء و قضا کے لئے نمونہ ہیں۔ کار قضا کی صلاحیت کے لئے اللہ کے رسول ﷺ نے خود ان سے سوال کیا، اور سوال کیا کہ تم کیسے فیصلہ کروگے؟ سیدنا حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ کتاب اللہ و سنت رسول سے اور ان دونوں میں نہیں ملے تو میں اجتہاد کروں گا، اور کوئی کوتاہی نہیں کروں گا اس کے بعد رسول اللہ ﷺنے انہیں یمن کا قاضی مقرر فرمایا۔ کہا جاتا ہے کہ حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کو بھی یمن کا قاضی بناکر بھیجا گیا، خود خلیفہ دوم حضرت عمر رضی اللہ عنہ بھی عہد نبویؐ میں کارقضا انجام دیتے تھے، اسی طرح سیدنا ابی بن کعب، زید بن ثابتؓ اور عبد اللہ بن مسعود ؓ بھی عہد نبویؐ کے قضاۃ میں شمار کئے جاتے ہیں۔ حضور اکرم ؐ ﷺ نے حضرت معقل بن یسار رضی اللہ عنہ کو بھی بعض مقدمات کے فیصلہ کرنے کا حکم دیا تو حضرت معقل بن یسارؓ نے معذرت کی کہ میں کار قضا انجام دینے کے لائق نہیں ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ قاضی کے ساتھ ہے جب تک وہ جان بوجھ کر ظلم نہ کرے (رواہ احمد بن حنبل فی المسند) ،معاشرہ خواہ کوئی بھی ہو اس معاشرہ کے افراد کے درمیان زندگی کے تمام میدانوں اور تمام ضروریات میں ایک دوسرے کا تعاون اور مدد کرنے کا اصول پایا جاتا ہے۔ اگر یہ اصول ان کے درمیان عدل و مساوات کے میزان پر قائم ہو تو وہ معاشرہ عدل پر اور بہتر ہوگا، اور اگر اس کی بنیاد ظلم و جبر پر ہو تو وہ معاشرہ ظالم اور غیر متوازن ہوگا، اگر معاشرے کے افراد کے درمیان اخوت و محبت اور بھائی چارگی مفقود ہو تو حاکم وقت کے لئے ان کے درمیان عدل کے اصولوں کا نفاذ کسی صورت میں ممکن نہیں، بلکہ اس بات کا بھی امکان ہے کہ یہ اصول ان افراد کے درمیان بغض و نفرت ظاہر کرتے ہیں۔ اس لئے حضرت محمد ﷺ نے مہاجرین اور انصار کے درمیان مواخات کو اس عدل اجتماعی کے اصولوں کی بنیاد بنایا، جس کے نفاذ پر دنیا کا سب سے عظیم اور بے مثال عدل و انصاف کا نظام وجود میں آیا، اسی عدل و انصاف کے اصولوں نے بعد میں ترقی کرکے لازمی شرعی احکام و قوانین کی شکل اختیار کر لی اگر یہ عظیم اخوت و ہمدردی نہ ہوتی تو اسلامی معاشرے کو تقویت پہونچانے اور اس کی بنیادوں کو مستحکم کرنے میں ان اصولوں کا کوئی عمل اور مثبت اثر نہ ہوتا۔ یاد رکھئے کہ عدل و انصاف اسلامی نظام کا بنیادی اصول ہے، جیسا کہ اللہ رب العزت نے قرآن کریم میں ارشاد فرمایا  ان اللّٰہ یامر بالعدل والاحسان (النحل ۹۰) کہ بے شک اللہ جل شانہ عدل و احسان کا حکم دیتا ہے اس آیت کی ایسی اہمیت ہے کہ پوری دنیا کی مسجدوں میں ائمہ اور خطباء جمعہ کے خطبہ میں پڑھتے ہیں، نیز دوسری جگہ ارشاد فرمایا کہ جب تم لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو انصاف کے ساتھ فیصلہ کرو، واذا حکمتم بین الناس ان تحکموا بالعدل (النساء ،۵۸) اس بات کو بھی ذہن نشین رکھنا چاہئے کہ کتاب و سنت کے فیصلوں کا واجب التسلیم ہونا مادی حکومت و طاقت پر موقوف نہیں، بلکہ اس کا اندورنی ایمان اور آخرت کی فکر مجبور کرے گی کہ وہ اللہ کے احکام پر عمل کرے اگر کوئی خارجی رکاوٹ اسے اللہ کے حکم پر عمل کرنے سے روکے گی تو وہ ان مواقع کو اپنے بس بھر دور کرنے کی کوشش کرے گا، یہی وجہ ہے کہ جہاں قرآن کریم میں یہ کہا گیا فان تنازعتم فی شی فردوہ الی اللہ والرسول یعنی اگر کسی معاملے میں تمہارے درمیان باہم تنازعہ پیدا ہو تو اس معاملے کو اللہ اور اس کے رسول کے پاس لے جاؤ۔ وہیں آگے کہہ دیا ان کنتم تؤمنون باللہ والیوم الاخر۔اگر تم اللہ پر اور آخرت کے دِن پر یقین رکھتے ہو اور اس بات کی طرف بھی اشارہ کر دیا کہ ہمارے ایمان و یقین کا تقاضہ ہے کہ ہم کتاب و سنت ہی کو معمول بنائیں اور اپنی زندگی پر کتاب و سنت کے مطابق نافذ کریں، اسی میں ہماری فلاح و کامرانی ہے۔

یہ وفاداری ہے یا دیش سے غدّاری

                برسوں پہلے ایک مضمون پڑھا تھا جسمیں بتایا گیا تھا کہ جب جب بھی NDA حکومت پر کوئی مصیبت آتی ہے توپاکستان اس کی مدد کو پہونچ جاتا ہے۔یعنی جب جب بھی NDA حکومت اپنے کرتوتوں کی بنا پر پارلیمنٹ اور میڈیا میں گھر جاتی ہے ۔بی جے پی کاسب سے الگ پارٹی ہونے کا دعویٰ، سب سے منضبط پارٹی ہونے کی باتیں نان کرپٹ ہونے کی شیخیاں زمین بوس ہونے لگتی ہیں اور اس کے پاس اپنے کارناموں کا کوئی مناسب جواب نہیں ہوتا ہے تو ISI لشکر طیبہ ،جیش محمد یا انڈین مجاہدین وطن عزیز میں کہیں دہشت گردانہ حملہ کر دیتے ہیںاور یوں بی جے پی کے چہرے پہ پتی ہوئی کالک ہٹ جاتی ہے۔حیرت انگیز اتفاق یہ ہے کہ ایسے حملے ممبئی دلی اور حیدرآباد میں ہی ہوتے ہیں۔احمدآباد کو بھی ملا لو تو یہی شہر انکاؤنٹرس کے بھی گڑھ ہیں۔یعقوب میمن کی پھانسی اور گرداس پور اٹیک کو بھی اسی تناظر میں دیکھے جانے کی ضرورت ہے۔حیرت ہے کہ ہفتے دس دن سے یعقوب میمن کی پھانسی کو اچھالا گیا تھا اور آج تک کسی دانشور کسی صحافی نے اس زاوئے سے اس معاملے کو دیکھنے کی کوشش ہی نہیں کی ،ورنہ اس سے پہلے تو ہر طرح کے میڈیا پر ہندوستان کا سب سے بڑا گھوٹالہ جو کہ بی جے پی کے سب سےEfficient کہے جانے والے (حقیقتاً سب سے زیادہ  ناکارہ)وزیر اعلیٰ ’’عزتمآب‘‘شیو راج سنگھ چوہان کے زیر سایہ برسوں سے پنپ رہا تھا ۔ویاپم کے نام سے جانے جانیوالے اس گھوٹالے کی تفتیش اگر سی بی آئی ایمان داری سے کرتی توبی جے پی شاید دہائیوں کے لئے دفن ہوجائے۔اور فی الوقت بی جے پی کی جان کو یہی ایک روگ لگا ہوا نہیں تھا بلکہ اس کی ۴ مہارانیاں بھی اس کی جی کا جنجال بنی ہوئی تھیں۔ہر ہائی نس شسما سوراج، ہر ہائی نس وسندھرا راجے سندھیا ،ہر ہائی نس سمرتی ایرانی اور ہر ہائی نس پنکجا منڈے نے بھی حصہ بقدر جثہ لیکر بی جے پی کو چار چاند لگایا ہوا تھا۔ویاپم کے ساتھ ساتھ یہ مہارانیاں بھی پرنٹ اور الکٹرانک میڈیا پر راج کر رہی تھیں۔اپوزیشن پارلیمنٹ میںحکومت کا ناطقہ بند کئے ہوئے تھی۔عوامی سطح پر بھی ان مہارانیوں کی سیاہ کاریاںبی جے پی کی مقبولیت کا گراف نیچے اور نیچے گرا رہی تھی ۔پھر بہار کا الکشن بھی سر پر کھڑا ہے جہاں نتیش اور لالو جیسے مہا رتھیوں سے مقابلہ ہے ۔ایسے میں پرانے اور آزمودہ دوست پاکستان کو آواز نہ دی جاتی تو کسے دی جاتی ۔یہ طنزاً نہیں لکھا جارہا ہے بلکہ یہ خبر یں اخبارات کی زینت بن چکی ہیںکہ ہندو دہشت گردوں کے وفود بھی پاکستان کا دورہ کرتے رہتے ہیں۔

                آج سے سال دو سال پہلے حکومت ہند کی وزارت داخلہ کے انڈر سیکریٹری جناب آر وی ایس منی یہ قبول کر چکے ہیں کہ پارلیمنٹ اٹیک اور ممبئی کا ۲۶ نومبر ۲۰۰۸ کا دہشت گردانہ حملہ گورنمنٹ sponsored تھا۔اس میں انکشاف کچھ بھی نہیں ہے۔اخبار بیں بچہ بھی سمجھ رہا تھا کہ اگر کر کرے کو نہ مارا جاتا تو اس کے ہاتھ آر ایس ایس میں بہت دور اندر تک پہونچنے والے تھے۔اندریش کمار کا نام اچھلتے ہی آر ایس ایس میں زلزلہ آگیا تھا ۔۲۶؍۱۱ کے حملے کے بعد پرنٹ اور الکٹرانک میڈیا کی خبریںاور انٹرویوزبتاتے ہیں کہ جیسے ہی ہندو دہشت گردی کی پرتیں کھلنے لگیں کرکرے پر دباؤبنانے کی ہر ممکن کوشش کی گئی۔سیاسی آقاؤں نے بھی دباؤ بنایا کہ کرکرے اپنی حد میں رہیں۔ٹیلیفون پر دھمکیاں دی گئیںمگر کرکرے اپنے فرض کے تئیں صد فی صد ایماندار تھے انھوں نے کسی دباؤ کو خاطر میں نہ لایا۔چند دنوں کے بعد خبر آئی کے جناب ایل کے ایڈوانی منموہن سنگھ سے ملنے والے ہیں اور وہ ملے بھی۔اور پھر ممبئی پر دہشت گردانہ حملہ ہو گیا۔اسی زمانے میں شاید ایک وفد پاکستان بھی گیا تھا ۔اس واقعے کی عجیب و غریب بات یہ تھی کہ جو بھی اس حملے پر سوالات اٹھاتا تھا یا کسی طرح کی تحقیق کی بات کرتا تھا تو کانگریس اور بی جے پی دونوں مل کراس پر پل پڑتے تھے ۔یہاں تک کہ انتولے مرحوم جیسے مہارتھی کو اس واقعے پر سوالات کھڑے کرنے کی بناپر کسمپرسی کی حالت میں مرنا پڑا۔

                اسی طرح پارلیمنٹ اور اکشر دھام مندر پر حملہ یہ بھی NDA کی ضرورت کی بنا پر ہوئے تھے۔ایک بات یہ بھی یاد آتی ہے کہ کارگل کی لڑائی کے بعد فوجیوں کی میتوں کے لئے جو تابوت منگوائے گئے تھے اس میں بھی بڑے پیمانے پر کرپشن ہوا تھا ۔میڈیا نے اس کفن چوری کو خوب اچھالا تھا اور دنیا سے الگ سیاسی پارٹی نے اس سے چھٹکارے کا طریقہ بھی دنیا سے الگ ڈھونڈا تھا ۔ہمارے علم کی حد تک تو دنیا میں اور کوئی سیاسی پارٹی ایسی نہیں جو اپنے کالے چہرے کو دنیا سے چھپانے کے لئے دہشت گردی کا سہارا لیتی ہو۔حیرت سیاسی پارٹی کے طرز عمل پر نہیں ہوتی، دنیا میں اور بھی سیاسی پارٹیاں ایسی ہو سکتی ہیںجو اپنی Ratnig بڑھانے یا گرنے سے بچانے کے لئے کسی بھی حد تک جا سکتی ہیں۔حیرت میڈیا اور عوام کے طرز عمل پر ہوتی ہے۔میڈیا جان بوجھ کر رائے عامہ کو بگاڑنے کی کوشش کرتا ہے ۔کیا یہ طرز عمل دیش کے مفاد میں ہے۔یہ دیش سے وفاداری ہے یا غداری؟میڈیا کی یہ ذہنیت نازک وقتوں میںدیش کے کام آئیگی یا دیش کے خلاف جائے گی؟

                ہمیں پہلے ہی دن سے یہ معلوم تھا کہ یعقوب میمن کو پھانسی ہو جائیگی۔کیونکہ بی جے پی کو فی الوقت یعقوب میمن کی لاش کی ضرورت ہے۔حکومت کو ویاپم گھوٹالے سے بچنا ہے۔شسما سوراج ،وسوندھرا راجے ،سمرتی ایرانی اور پنکجا منڈے کو بچانا ہے اور یہ کوئی مذاق نہیں۔اور مسلمان اس ملک میںیا تو قربانی کے بکرے ہیں یا تجرباتی چوہے۔اور اس کے لئے انھیں اپنے علماء کرام اور رہنمایان عظام کا ممنون احسان ہونا چاہئے۔عجیب بات یہ کہ ہمیں آج تک یعقوب میمن سے وہ ہمدردی نہیں ہو سکی جو افضل گرو سے تھی اور ہے۔افضل گرو صد فی صد معصوم تھا۔اسے زبردستی پھنسا یاگیا تھا جبکہ یعقوب میمن ہندوستانی ایجنسیوں کی باتوں میں پھنس کر خود جان دینے یہاں آیا تھا۔اسی لئے کم وبیش تمام ایجنسیا ںاس پھانسی کے خلاف تھیں۔ایسا کیوں تھا؟ شاید اسلئے کہ اب بین الاقوامی سطح پرہماری ایجنسیوں کا اعتبار ختم ہو رہا ہے۔ہماری ایجنسیاں ملک کا وقار بڑھانے کی کوشش کر رہی ہیںاور حکومت ان ایجنسیوں کے چہرے پر کالک پوت رہی ہے۔را کے سابق سربراہ نے ہنگامہ اسیلئے مچایا تھا کہ اب مستقبل میں ان کی باتوں پر بھروسہ کون کرے گا۔ہمیں اجمل عامر قصاب سے بھی ہمدردی تھی ۔سابق ڈی جی پی مہاراشٹر کے مطابق اسے نیپال سے گرفتار کرکے داشتہ آید بکار کے طور پر رکھا گیا تھا پھر کرکرے آپریشن کو کیموفلاج کرنے کے لئے اسے CST پر لے جا کر فوٹو کھینچے گئے اور اس دوران ۱۶CCTV کیمروں کو بند رکھا گیا اور ہمارے Learned ججوں نے اس پر کسی قسم کا سوال نہیں اٹھایااور ہمارے تحقیق و تفتیش کے رسیا صحافیوں نے بھی اجمل قصاب کی ایک ہی اینگل سے کھینچی گئی تصویر پر کوئی سوال نہ کھڑا کیا ۔افضل گرو اجمل قصاب اور یعقوب میمن تینوں کی پھانسیاںانصاف کے ساتھ مذاق ہیں۔تینوں میں عدالتی نظام کے تقاضوں کو ملحوظ نہیں رکھا گیا۔اور لگتا یہی ہے کہ پاکستانی نظریہء ضرورت کے تحت فیصلہ دیا گیا ۔ایسا لگتا ہے کہ اب ہم ہمہ گیر زوال کی زد میں ہیں۔اب عام کورٹ نہیں سپریم کورٹ کے فیصلوں پر TV چینلوں پر مباحثے شروع ہو چکے ہیں۔پہلے توہین عدالت کے ڈر سے لوگ عدالتی فیصلوں پر رائے زنی کرتے ہوئے خوف کھاتے تھے ۔اب عدالتی بد چلنی کی بنا پر خوف دور ہورہا ہے ۔۔نہیں۔۔۔بلکہ لوگfrustrate ہو کر اپنی حدوںکو پھلانگ رہے ہیںاور اگر عزت مآب ججوں نے اپنی روش نہ بدلی تو پھر وطن عزیز میں عام بد امنی پھیلنے کی ذمے داری بھی ان کے سر ہوگی۔

                علامہ اقبالؒ نے شاید سو سال پہلے کہا تھا ’’ ہے جرم ضعیفی کی سزا مرگ مفاجات ‘‘مسلمانوں کو یہ سمجھنا چاہئے کہ ان کی قوم کمزور ہے اس لئے حکومت کو جب ضرورت پڑتی ہے قربانی کے بکرے ان میں تلاشتی ہے ۔پولس کو جب اپنی کارکردگی دکھانی ہوتی ہے یا نشانے بازی کے لئے ٹارگٹ کی ضرورت ہوتی ہے تو وہ بھی قربانی کے بکرے ان میں ہی ڈھونڈتی ہے ۔ایسا کیوں ہے؟ ۲۵ کروڑ کی قوم اتنی کمزور کیوں ہے ؟اس کے لئے برسوں سے سیمینار اور کانفرنسیں کروائے جارہے ہیں۔مگر حضورﷺ کی اس حدیث کی طرف کوئی توجہ نہیں دینا چاہتاجسمیں کہا گیا ہے ’’ہر امت کا ایک فتنہ ہے اور میری امت کا فتنہ مال ہے‘‘آج ملت اسلامیہ دنیا کی تمام ملتوں سے زیادہ اس فتنے میں مبتلا ہے۔سیاسی لیڈروں کو چھوڑئے ہمارے ’’علماء کرام ‘‘کوڑیوں کے مول بک رہے ہیںاور یہ اس کے باوجود ہے کہ ملت کے پاس مال کی کمی نہیں ۔لاکھوں مدارس اپنے بل بوتے پر چلانے والی ملت فقیر نہیں ہوسکتی۔مال بہت ہے مگر ترجیحات غلط ہیں ۔اللہ نے یہودیوں کے چہرے بگاڑ دئیے تھے ۔ان کے دماغ بگڑ گئے ہیں ۔چند دنوں پہلے کی خبر تھی کہ عظیم ہاشم پریم جی نے اپنی آدھی دولت خیرات کردی ہے ۔میڈلے فارماسیوٹیکل والے وقتاً فوقتاًکروڑوں روپیہ اپنی این جی او کو دیتے رہتے ہیں۔ایک آدھ ماہ پیشتر یہ خبر بہت اچھلی تھی کہ عالم عرب کے سب سے زیادہ مالدار شخص ولید بن طلال نے اپنی ساری دولت خیرات کردی ہے ۔مگر یہ خبر کبھی نہیں آتی کے یہ ساری دولت جاتی کہاں ہے ؟ قوم کے کتنے اور کیا کام آتی ہے ؟مسلمانوں کے نزدیک سب سے بڑا ثواب کا کام مدرسہ یا مسجد بنانا اور حج و عمرہ کرنا ہے ۔معلوم نہیں مسلمانوں کی یہ ترجیحات کب بدلیں گی؟جو مال خیرات کیا گیا ہے اس سے انتہائی موثر پرنٹ اور الکٹرانک میڈیا کھڑا کیا جاسکتا ہے۔اگر یہ ہو گیا تو کسی کی مجال نہیں کہ آپ کے ایک معمولی فرد کو بھی غلط طریقے سے ایک دن کے لئے بھی جیل بھیج سکے۔اس مال سے عالم اسلام میں کئی بہترین یونیورسٹیوں کا قیام ممکن ہے۔دوسروں کو کیا ایران کو دیکھئے ۱۹۸۸ میں جنگ سے باہر آنے کے بعد علمی اعتبار سے اس نے کیا ترقی کی ہے؟امریکہ کو جھکنا پڑا ہے تو کیوں؟درست ترجیحات کے طفیل آج ایران عالم عرب کے سینے پر مونگ دل رہا ہے۔نئی خبر کے مطابق اس نے تہران کی واحد سنی مسجد کا نام و نشان مٹا دیا ہے۔طاقت نے امریکہ کی طرح اسے بھی متکبر بنا دیا ہے۔

                 برسوں پہلے جب مسلمان لیڈر نے لوک سبھا کا الکشن لڑا تھا تو اپنی دولت ۱۲۶ کروڑ بتائی تھی۔ہم نے انھیں خط لکھ کر گذارش کی تھی کہ اس دولت سے قومی سطح کا ایک ہندی یا انگریزی کا اخبار جاری کردیجئے۔یہ قوم کے کام بھی آئے گا اور آپ کے بھی کیونکہ اب آپ سیاسی لیڈر بن چکے ہیں۔مگر اے بسا آرزوکہ خاک شدہ۔ بس تو پھر جو ہو رہا ہے اس پر رونا کیسا؟

جو اصل غم ہے وہی غم کوئی نہیں کرتا؍؍ہماری عقل کا ماتم کوئی نہیں کرتا

ہم عرصۂ محشر میں ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟

         اس وقت پوری مسلم دنیا مشکلات و مسائل میں گھری ہوئی ہے۔ جہاں بظاہر مسلمانوں کا اقتدار ہے اور وہ ایک آزاد اور خود مختار حیثیت رکھتے ہیں وہاں بھی افسوس ناک حالات سے دوچار ہیں۔ یا تو وہ خود ہی باہم دست و گریباں ہیں یا مغربی استعمار کے چنگل میں پھنسے ہوئے ہیں۔ جو ان کے اسباب و وسائل اور وقار و مفاد پر پنجے جمائے ہوئے ہے، مسلمانوں کا عروج اور ان کی عظمت رفتہ ایک قصۂ پارینہ نظر آتی ہے جس کے حصول کی تمنا محض ایک تمنا بن کر رہ گئی ہے۔ چند ممالک ایسے ہیں جہاں اسلام کے احیا ء کے آثار نمایاں تھے لیکن اُن کے بے ضمیر حکمرانوں کی چپقلش نے اُس کو بھی ناممکن یا کم سے کم محال بناکر رکھ دیا ہے۔ یہ سب کچھ اس کے باوجود ہے کہ اسلام آج بھی بالقوۃ ایک عالمی نظام کی قیادت کی پوری صلاحیت رکھتا ہے ۔اس حقیقت کا اعتراف اس کے دوستوں کو ہی نہیں اس کے دشمنوں کو بھی ہے ۔یہی وجہ ہے کہ اس کے بحیثیت ایک نظامِ زندگی قائم ہونے کی مخالفت میں ایڑی سے چوٹی تک زور لگا رہے ہیں اور اُس کی ایک مسخ شدہ تصویر کو عام کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ اگر یہ نہ ہوتا تو اسلام کے خلاف اس تشہیری جنگ (Propeganda War)کی ضرورت ہی کیا تھی جس کے نتیجہ میں اسلام دشمنی ایک قدر مشترک بنا کر رکھ دی گئی ہے۔ لیکن سطورِ ذیل میں ہم اپنی معروضات کو ہندوستان (بھارت) ،پاکستان اور بنگلہ دیش کے تناظر تک محدود رکھ رہے ہیں۔

          آج کے ہندوستان میں جسے بھارت کہا جاتا ہے ،مسلم آبادی ایک قابل ذکر تناسب میں موجود ہے۔ اگر مسلمانوں کی آبادی کو دیگر اقلیتوں (عیسائیوں، سکھوں، بودھوں اور پارسیوں) کے ساتھ شامل کرکے دیکھا جائے تو یہ یہاں کی کل آبادی کے پچیس فیصد تک پہنچتا ہے۔ ہندوستان کے پسماندہ طبقات (SC, ST, BC)کو علیحدہ علیحدہ رکھا جائے اور جمہوری ملک کے انتخابی عمل میں دیانت داری سے اس کی اہمیت تسلیم کی جائے تو ان کی سیاسی قدر و قیمت کو اچھی طرح محسوس کیا جا سکتا ہے۔ بنگلہ دیش، بھارت اور پاکستان تینوں پڑوسی ملکوں کی مسلم آبادی دنیا کی ساری مسلم آبادی کا ایک تہائی حصہ بنتی ہے۔ اس طرح بھی یہاں کے مسلمانوں کو کسی طرح نظر انداز نہیں کیا جا سکتااور دستوری طور پر دوسری اقلیتوں کی طرح مسلمانوں کے سیاسی وزن کا انکار بھی ممکن نہیں ہے۔ مسلم دنیا سے بھارت کے خوشگوار اور دوستانہ تعلقات ،سیاسی استحکام اور اقتصادی ارتقاء کے لئے بھی مسلمان بالخصوص پڑوسی ملکوں (بنگلہ دیش، پاکستان ، افغانستان اور ایران)سے بھارت کے بہتر تعلقات ضروری ہیں۔

۔        غیر منقسم ہندوستان میں مسلمانوں کی سیاسی بالادستی ایک ہزار سال کے عرصہ پر محیط رہی ہے ۔ اس پورے دور میں عوام کے فرقہ وارانہ تعلقات کی خوشگواری کی مثال دی جا سکتی ہے ۔جو تقسیم ملک کے پہلے اور بعد کے حالات سے کہیں زیادہ بہتر تھے ۔فرقہ وارانہ کشیدگی اور تصادم برٹش عہد کی دین ہے جس میں اضافہ خود کو دیش بھگت اور قوم پرست کہلانے والے کر رہے ہیں۔ آج بھی اگر بڑے بڑے شہروں کاجائزہ لیا جائے تو ان بستیوں اور محلوں کی نشاندہی کی جاسکتی ہے جہاں صدیوں مسلمان اور غیر مسلم اچھے پڑوسی،ہمدرد اور ایک دوسرے کے دوست بن کر رہتے رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ فرقہ وارانہ تصادم کو ایک سیاسی ضرورت کا درجہ دینے والی تنظیموں نے منظم جدوجہد کے ذریعہ فرقہ وارانہ تعصب اور منافرت کی فصل بوئی اور سو سال کی مشقت کے بعد آج اسے کاٹا جا رہا ہے۔ انگریزوں نے تاریخ کے نام پر ایسے واقعات کو تلاش کیا اور تراش خراش کے ساتھ ان کو پیش کیا جو ان کی سیاسی ضرورت میں کام آنے والے تھے۔ تقسیم ملک کے بعد ہندو قوم پرستی کے علمبرداروں نے اس برطانوی میراث کو نہ صرف محفوظ رکھا بلکہ اس میں من چاہے اضافے بھی کئے اور اقتدار کے زیر سایہ تاریخ گڑھنے کے ادارے قائم کئے گئے۔ اور ایسے لوگوں کو مؤرخ اور محقق کے طور پر پیش کیا گیا جو اس علم سے کوئی مناسبت نہیں رکھتے بلکہ اس کے ماتھے کا کلنک ہیں۔ انہوں نے جھوٹ بولا اور جھوٹ میں اضافہ کیا۔ میڈیا کے ایک حصہ نے ہندو فرقہ پرست تنظیموں کے اس جھوٹ کو فروغ دینے میں پورا زور لگا دیا۔ ایسے اسکولی نصاب تیار کئے گئے جن میں بحیثیت قوم مسلمانوں اور ان کے حکمرانوں کی کردار کشی کی گئی۔ انہیں ایک حملہ آور قوم کی حیثیت سے پیش کیا گیا اور بے بنیاد الزام تراشیوں کے ذریعہ یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی کہ بھارت میں پائی جانے والی ہر برائی ،ہر خرابی اور ہر زیادتی کی وجہ صرف اور صرف مسلمان ہیں۔ حالانکہ صرف چند حکمراں ایسے ہیں جنہیں حملہ آور کہا جا سکتا ہے۔ اس کے مقابلہ میں ان آریہ حملہ آوروں کی تعداد کہیں زیادہ ہے جوہندوستان کے قدیم باشندوں کو اپنے ظلم و ستم کا نشانہ بناتے رہے۔ یہاں تک کہ انہوں نے ہندوستان کے ایک بڑے حصہ پر اپنا قبضہ جما لیا اور انہیں جنوبی یا مشرقی ساحلوں ،صحراؤں اور پہاڑوں میں پناہ لینے پر مجبور کر دیا۔ آج بھی ان کی پہچان غیر آریہ ،قدیم ہندوستانی باشندوں کی حیثیت سے باقی ہے۔ انہیں حقارت کے طور پر شودر اور ملیچھ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ اور جنہیں آریوں کی مذہبی کتابوں میں دسیوں ، داس (غلام) کہا گیا ہے۔

         یہ ہندوستان ہے جس کو متحد کرنے ،متحد رکھنے ،اس کو ترقی دینے ، اس کی حفاظت کرنے اور آزادی دلانے میں مسلمانوں کا حصہ کسی بھی دوسرے فرقہ یا قوم سے زیادہ ہے۔ مگر آج ایک سیکولر اور جمہوری ہندوستان میں وہ کہاں کھڑے ہیں اور کہاں لاکر کھڑے کر دئیے گئے ہیں؟ یہ جاننے اور بتانے کے لئے ہمیں اپنے طور پر کام کرنا چاہئے تھا مگر افسوس کہ ہم فی الجملہ اس ذمہ داری کو پورا کرنے سے قاصر رہے۔ حقیقت یہ ہے کہ بقول مولانا حسرت موہانی مرحوم ـ   ؎

ع۔        غیر کی جدو جہدپر تکیہ نہ کر کہ ہے گناہ        کوشش ذات خاص پر ناز کر اعتماد کر

        بر سبیل تنزل اپنی کہانی آپ نہ کہہ کر دوسروں کی زبانی سننا چاہیں تو سچر کمیٹی ، لبراہن کمیشن اور جسٹس راما کرشنا رپورٹ جیسی دستاویزات ایک حد تک کافی ہیں۔ جن سے پتہ چلتا ہے کہ ہم پسماندگی اور امتیاز ی سلوک برداشت کرنے والوں کی کس قطار میں لاکر کھڑے کر دئیے گئے ہیں اور کس درجہ محرومی میں مبتلا ہیں؟ یہ کس جرم کی سزا دی گئی ہے ؟ ایسے اہم سوالوں پر آکر بھی ہماری داستانِ مظلومیت پوری نہیں ہو جاتی ۔ بجا طور پر ہمیں یہ بھی تشویش ہے کہ بظاہر جو کچھ ہمارے پاس محفوظ ہے وہ بھی درحقیقت محفوظ نہیں ہے۔ کسی بات اور کسی مطالبہ کو ناقابل قبول ٹھہرانے کے لئے اتنی بات کافی ہے کہ وہ بات ہم کہہ رہے ہیں اور وہ مطالبہ ہم کر رہے ہیں۔ سب سے پہلے سیکولر سیاست دانوں کی موقع پرستی آڑے آتی ہے۔ جہاں سیاسی مفاد کی ترازو میں ہر چیز کو تولا جاتا ہے۔ اس کے بعد تعصب و نفرت پر قائم ہونے والی ہندو قوم پرست تنظیمیں اور وہ بازاری میڈیا ہے جو اپنے منصب کا خیال کئے بغیر جس کا کھاتا ہے اس کا گاتا ہے۔ گزشتہ دنوں پارلیمانی انتخاب میں جو تماشہ ہوا وہ سب نے دیکھا ہے۔ حتی کے بر سراقتدار میں آنے والے ایک سیاسی لیڈر اور سابق فوجی رہنما بھی یہ کہنے سے بعض نہ رہ سکا کہ ہمارا میڈیا تو طوائف (Prostitute)ہے۔ یعنی جو دیتا ہے اسی کے لئے ناچتا ہے۔ ان حالات کو مزید خراب کرنے اور ان سے ناجائز فائدہ اٹھانے والی وہ سیاسی اور سماجی تنظیمیں ہیں جن کا وجود ہی مسلم دشمنی اور فرقہ وارانہ تعصب پر قائم ہے۔ جو بار بار کے تجربہ سے ثابت کر چکے ہیں کہ اگر اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کو اپنا نشانہ نہ بنائیں ،انہیں ڈرائیں دھمکائیں نہیں ،ان کے جان و مال کے دشمن نہ ہوں تو پھر اور کیا کریں؟ یعنی کیا اس کام کو چھوڑ دیں جس کے لئے وجود میں آئے ہیں؟ اور پھر کیا اس طرح وہ اپنے وجود کو آپ ہی ختم کر دیں؟ مسلم دشمنی کے اس کاروبار کو فروغ دینے میں انتظامیہ کا وہ بڑا حصہ بھی مجرمانہ کردار کا حامل ہے جو فرقہ پرستانہ ذہنیت رکھتا ہے۔ اعلیٰ درجہ کی انتظامی صلاحیتوں کا دعویدار یہ طبقہ اپنی ساری منصبی دیانت کو فراموش کر دیتا ہے۔ کیونکہ ان کی ذہن سازی انہیں عناصر نے کی ہے جن کے یہاں انصاف، قانون اور اس کے تقاضوں کی تعریفات حسب منشاء بدلتی رہتی ہیں۔ جب آگ بجھانے والے ہی پانی کی جگہ تیل ڈالنے والے ہوں تو وہی نتائج برآمد ہوں گے جن کا سامنا ہندوستانی مسلمانوں کو کرنا پڑتا ہے۔ بابری مسجد کی شہادت کے المیہ نے ان عناصر کی پوری طرح نشاندہی کر دی ہے ۔ پھر بھی کوئی نہ سمجھے تو اس کی بصارت کے ساتھ بصیرت کا بھی شکوہ لازم آتا ہے۔

         عام طور پر یہ تأثر بھی دیا جاتا ہے کہ جو ظلم و زیادتی ،بے انصافی اور جانب داری مسلمانوں کے ساتھ برتی جارہی ہے وہ بعض لوگوں کا انفرادی اور اتفاقی رویہ ہے جس کے لئے حکومت یا کسی فرقہ کو مورید الزام یا جوابدہ نہیں سمجھا جا سکتا۔ سطحی طور پر دیکھا جائے تو اس بات میں وزن محسوس ہوتا ہے کہ کسی بھی فرقہ کے ہر فرد کو اس ظلم و زیادتی کا ذمہ دار قرار نہیں دیا جا سکتا اور نہ دیا جانا چاہئے، لیکن یہ خیال اس وقت کیوں بدل جاتا ہے جب دوسروں کے ظلم و ستم کی داستانیں بیان کی جاتی ہیں۔ اور جب مسلمانوں پر دہشت گردی کا الزام لگاکر انہیں بدنام کیا جاتا ہے۔ کبھی بھی کسی قوم یا فرقہ کے سب لوگ کسی اجتماعی ظلم میں نہ تو شریک ہوتے ہیں اور نہ اسے پسند کرتے ہیں مگر جب ایک بڑی تعداد منظم ہو کر اپنے تائید و تعاون کے ساتھ کسی ظلم و زیادتی میں شریک ہوتی ہے اور اس کا دفاع کرتی ہے اور اسکی ہمدردیاں ان کے ساتھ ہوتی ہے تو ایسے روییّ کو کسی کا انفرادی فعل سمجھنا نا سمجھی ہی نہیں اس ظلم میں درجہ بدرجہ شریک ہونا بھی ہے۔ یہ اجتماعی بے ایمانی صدیوں تک یہاں کے پسماندہ طبقات کے ساتھ بھی ہوتی رہی ہے۔ جب انسان ہونے کے باوجود ان کے ساتھ جانوروں سے بدتر سلوک رواں رکھا جاتا رہا اور اس کی تلقین مذہبی عقیدے کے طور پر بھی کی جاتی رہی ہے۔ انہیں تعلیم سے محروم رکھا گیا ،ان کی بستیاں الگ رکھی گئیں، ان کی صورت دیکھنا منحوس قرار دیا گیا ۔ آخر اس ظلم کو کس دلیل سے انفرادی و اتفاقی رویہ قرار دیا جا سکتا ہے۔ ایسا ہی معاملہ آج ہندوستانی مسلمانوں کے ساتھ کیا جارہا ہے۔ ۔۔۔۔۔ (جاری)

ٓماضی کے دریچوں سے: فلسطین

ہمارا دشمن نیست و نابود ہوجائے گا آنے والی تین دہائیوں کے دوران ، انشاء اللہ

                لندن کے مجلہ ’’الوسط‘‘ نے ۱۸؍جنوری ۹۸ئ؁ کے شمارہ میں شیخ احمد یاسین کا ایک تفصیلی انٹرویو نشر کیا تھا جس کے بعض حصے درج ذیل ہیں۔

س۔           اہداف کے حصول اور منزل تک پہنچنے میں ابھی کتنی دیر لگے گی؟

ج۔            میں اس سلسلے میں پہلے ہی کہہ چکا ہوں اور ایک مدت متعین کردی ہے ان شاء اللہ آنے والی تین دہائیوں میں ہمارا دشمن ختم ہو جائے گا۔ یہ آخری حد ہے۔

س۔           آخر وہ کون سی بنیادیں ہیں جن کی بنا پر آپ یہ یقین رکھتے ہیں؟

ج۔            یقین کی یہ روشنی مجھے قرآنی آیتوں سے حاصل ہوئی کیونکہ اللہ تعالیٰ نے لوگوں اور امتوں کے لئے میزان اور وقت مقرر کر رکھا ہے۔

                خود اسرائیلی اور فلسطینی جنگ سے بھی یہی محسوس کرتا ہوں کہ جب بنی اسرائیل سے اللہ تعالیٰ نے داخل ہوجاؤ کہاتو انہوں نے انکار کیا اور پیغمبر موسیٰؑ سے یہ کہا ’’فاذھب انت وربک فقاتلا انا ھاھنا قاعدون، قال ربی انی لا املک الا نفسی واخی فافرق بیننا وبین القوم الفاسقین، قال فانہا محرمۃ علیہم اربعین سنۃ یتیہون فی الاض۔‘‘

                اسی وقت چالیس سال کی مدت طے کر دی تھی گویا اس امت کی ایک نئی نسل کو لانے کا فیصلہ کیا تھا یعنی بزدل غیر جنگجو نسل چلی جائے صحرانوردی کرے اور ایک تازہ دم نئی مضبوط و مستعد نسل آئے اور اندر پہنچ کر جنگ کرے۔

                گویا سماج کے اندر نفسیاتی اور اجتماعی تبدیلی میں ۴۰ سال لگتے ہیں، ۱۹۴۸ میں فلسطینی گوہار گئے شکست کھا گئے اور انکی بیشتر آبادی ان کے ہاتھ سے نکل گئی اور انہیں دربدر ہونا پڑا اور ۱۹۸۸ئ؁ میں چالیس سال بعد انتفاضہ میں ایک نیا معرکہ شرو ع ہوا جس نے پچھلی نسبت بدل ڈالی اور جو کچھ توازن اور صورت حال ہے آپ کے سامنے ہے، فلسطینی عوام آئندہ چالیس سال میں آزادی سے ہم کنار ہو جائیں گے۔ مطلب یہ ہے کہ آنے والے چالیس سال جس میں تقریباً ۱۰ سال گزر چکے ہیں اور صرف ۳۰ سال باقی رہ گئے ہیں اور میرے اندازہ کے مطابق ۲۷ ہی سال بچے ہیں جبکہ اسرائیل کا خاتمہ ہوگا اگر چہ ہمارے کچھ دوستوں کا کہنا ہے کہ یہ مدت بس ۱۸۔۲۴ سال ہی رہ گئی ہے اور وہ ریاضی انداز میں بات رکھتے ہیں مجھے فن ریاضی سے واسطہ نہیں میں تو روحانی انداز میں مستقبل محسوس کر رہا ہوں اور آیات قرآنی سے یہ سمجھ رہا ہوں۔

                یہ ہے وہ بنیادی تصور جس کی بنا پر میں کہتا ہوں کہ تین دہائیوں میں اسرائیل کا وجود نہیں ہوگا ۔ اسلامی تاریخ میں بھی اس کی مثالیں ملتی ہیں۔ چنانچہ ہمارے ایک قدیم عالم نے جن کا نام ذہن میں نہیں نور الدین محمود زنگی کے عہد میں اس طرح کی دعوت دی تھی اور ایک متعین وقت کا اعلان کیا تھا کہ فلاں تاریخ میں قدس آزاد ہو جائے گا اسی بنیاد پر نور الدین زنگی حد درجہ شائق تھے کہ وہی فتح کا سہرا حاصل کریں اور اسکی انہوں نے پوری کوشش بھی کی اسی کے پیش نظر انہوں نے مسجد اقصی کے لئے منبر تیار کیا لیکن اللہ کو منظور نہیں تھا چنانچہ ان کی وفات ہو گئی اور اس خواب کی تکمیل ان کے بعد صلاح الدین ؒ کے ہاتھوں ہوئی اور اسی متعین تاریخ میں قدس آزادی سے ہمکنار ہوا۔

س۔           بعض لوگوں کا خیال ہے کہ دوسری معاصر تنظیموں کے مقابلہ میں کافی تاخیر سے آپ لوگ ایک عسکری فکر و عمل رکھنے والی تحریک کی حیثیت سے ظاہر ہوئے۔ آخر اس سیاسی طریقہ کار اختیار کرنے سے قبل ایک لمبی مدت کیوں صرف کی؟

ج۔            یہ بات بالکل غلط اور بے بنیاد ہے، پہلی بات یہ ہے کہ ہم مسلم امت کے افراد ہیں اور ایک عالمی تحریک ’’الاخوان المسلمون‘‘ کے جز ہیں اور ماضی میں ان کے ہتھیار اور آلاتِ حرب فلسطین میں موجود رہے ہیں۔ جب وہ یافامیں عزالدین القسام کی معیت میں اخوان کے شانہ بہ شانہ جنگ میں شریک تھے۔ اخوان کے بہت سے افراد اس معرکہ قتال میں شریک رہے جو ۱۹۴۸ئ؁ میں غزہ ، مغربی ساحل کے علاقہ میں، بیت لحم اور قدس میں ہوا اور اخوان کبھی بھی فلسطین کے میدانِ جنگ اور اس کے معرکوں سے الگ نہیں رہے۔ چنانچہ ۱۹۷۷ئ؁ میں اخوان فلسطین کے اندر بم دھماکوں میں شریک رہے اور ان کے متحرک اور فعال لوگوں کو سزائیں دی گئیں، قید کیا گیا، عبد اللہ نمر درویش اور برادر عبد المالک دہامشتہ ا نہیں لوگوں میں سے تھے جنہیں عسکری سرگرمیوں کی پاداش میں سات سال تک قیدی بنایا گیا۔

                البتہ پورے منطقہ میں ہم نے عسکری جدوجہد اس لئے تاخیر سے شروع کی کہ جن حالات میں ہم گھرے ہوئے تھے وہ اسکی اجازت نہیں دیتے تھے۔ چنانچہ غزہ کے علاقہ میں ہمیں اسکی بھی اجازت نہیں تھی کہ ہم کوئی اسلامی کتاب رکھیں۔ میں ۱۹۸۵ئ؁ میں جیل گیا تو جیل کے منتظمین یہ باتیں کہتے اور ثابت کرتے تھے کہ ’’ہم نے تمہارے پاس ساحل سمندر پر فلاں دِن شیخ غزالی کی کتاب ’’خلق المسلم‘‘ دیکھی ہے؟ اس طرح کے الزامات سے اندازہ ہو سکتا ہے کہ جبر و قہر اور دباؤ کیسا اور کس حد تک تھا۔ کتاب ’’خلق المسلم‘‘ رکھنے کا مطلب اخوانی ہونا تھا۔ یہ تھے وہ سنگین اور سخت ترین حالات جن میں حکومتیں اور انتظامیہ ہمیں جلاوطن کرتی تھیں، صرف اس بنا پر کہ ہم اخوان ہیں، ایسے میں ہم کیسے پھیلتے اور قوت حاصل کرتے۔

س۔           کچھ لوگ کہتے ہیں کہ تحریک کے اندر دو انداز پائے جاتے ہیں پہلے کی قیادت آپ فرمارہے ہیں اور دوسرے کی قیادت باہر سے کچھ سرگرم لوگ کر رہے ہیں، کیا یہ صحیح ہے؟

ج۔            ہم اسلامی افراد کے ذہنوں میں قیادت کا مسئلہ سب سے آخری مسئلہ ہے اور میں یہ کہنا چاہوں گا کہ ہر انداز کے اپنے حالات ہوتے ہیں اور ہر حصہ اپنے حالات کے مطابق ہی انجام پاتا ہے جہاں تک اہم فیصلوں کا تعلق ہے تو ان پر اتفاق پایا جاتا ہے اور اندر باہر ہر جگہ اس بابت پوری پوری Understandingہوتی ہے۔

س۔           کیا یہ کہا جا سکتا ہے کہ فی الواقع تحریک تو ایک ہی ہے البتہ سرپرستیاں اور قیادتیں الگ الگ ہیں؟

ج۔            سرپرستیاں اور قیادتیں؟ سرپرستی تو بس اللہ کی، اسکے رسول کی اور اہل ایمان کی ہے اس کے علاوہ کچھ نہیں۔

س۔           سرپرستیاں اور قیادتیں اس معنی میں کہ مختلف جگہوں پر لوگ اپنے یہاں کے مخصوص حالات کی رعایت کرتے ہیں؟

ج۔            یہ تو ایک فطری امر ہے کہ ہر شخص اس ماحول اور معاشرہ کی پوری رعایت کرتا ہے جس میں وہ موجود ہوتا ہے اسی ناطے کبھی کبھی انداز اور اسلوب میں فرق ہوتا ہے ۔ مثال کے طور پر اردن میں اگر کوئی اپنے بیان میں ملکی سیاست پر تنقید کرتا ہے تو ایک مطلق بیان ہوتا ہے، اور جب داخلی انتظامیہ پر تنقید کرتا ہے تو لہجہ سخت ہو جاتا ہے کیوں کہ کسی مقابلہ کا ہوتا تو اس کی یہ تنقید ایذائ، جرم اور خیانت کے مترادف قرار پاتی۔ یہ ایسا دروازہ ہے جس میں ہم داخل نہیں ہونا چاہتے کہ آپسی خانہ جنگی شروع ہو جائے۔ میں جب شام میں تھا تو ایک شخص نے مجھ سے کہا کہ آپ متضاد باتیں کہتے ہیں ایک طرف تو آپ کہتے ہیں کہ آپ اوسلو معاہدہ کے خلاف ہیں اور دوسری طرف فلسطینی انتظامیہ کو اپنا بھائی بتاتے ہیں اور ابو عمار کو بھائی کہہ کر یاد کرتے ہیں تو آخریہ کیسا تضاد ہے حالاں کہ یہ لوگ خیانت کرہے ہیں اور آپ کے لئے ضروری ہے کہ انہیں بدعہد کہیں، میں نے ان سے عرض کیا کہ آپ آگ اگل رہے ہیں کیوں کہ آپ باہر ہیں، اور میں اگر اس طرح کی بات غزہ کے اندر کہہ دوں تو اگلے روز ہی خانہ جنگی پھوٹ پڑے کیوں کہ وہاں وہ لوگ بھی ہیں جو ابوعمارہ اور الفتح کی حمایت کرتے ہیں اور ایسے بھی ہیں جو حماس کے مؤید ہیں اور میں بالکل تیار نہیں کہ اس طرح کے فضول کاموں میں لگوں، میں تو صرف یہ کہتا ہوں کہ ان لوگوں نے اجتہاد کیا اور غلطی کی اور ان کی یہ اجتہادی غلطی مجھ پر عائد نہیں ہوتی۔

(ماخوذ رسالۃ الاخوان ،۵شوال ۱۵۱۹ھجری)

موت کے لئے تیار ہو جائیے! زندگی ملے گی

                بعض کمزور لوگ خیال کرتے ہیں کہ عزت کے لئے بھاری اور ناقابل برداشت تاوان ادا کرنا پڑتا ہے۔ اسی لئے وہ ان بھاری اخراجات سے راہِ فرار اختیار کرتے ہوئے ذلت و رسوائی کو گوارا کر لیتے ہیں۔ بہت معمولی اور گھٹیا زندگی گزارتے ہیں، ہمیشہ ڈرے ڈرے اور سہمے سہمے رہتے ہیں، اپنی پرچھائیوں سے خوف کھاتے ہیں۔ اپنی آواز بازگشت سے لرز اٹھتے ہیں اور ہر آواز کو وہ اپنے خلاف گردانتے ہیں۔ تم انہیں زندگی کا سب سے زیادہ حریص پاؤگے۔

                یہ ذلیل لوگ عزت کے اخراجات سے زیادہ بڑا تاوان ادا کرتے ہیں اور اس راہ میں اپنے نفوس، اپنی روایات و اقدار ،اپنی شہرت ، اپنا اطمینان و سکون سب کچھ داؤ پر لگا دیتے ہیں۔ یہی نہیں بلکہ اکثر اپنی جان اور مال بھی قربان کر دیتے ہیں حالانکہ انہیں اس کا احساس بھی نہیں ہوتا۔

                ان لوگوں کا خیال ہے کہ اپنی عزت و شرافت کا سودا کرکے اور ذلت کا تاوان ادا کرکے انہیں اصحاب جاہ و اقتدار کا تقرب حاصل ہو جاتا ہے۔ حالانکہ کتنے ہی تجربات شاہد ہیں کہ ان ذلیلوں کو ان کے آقا جن کی وہ اللہ کو چھوڑ کر پرستش کیا کرتے تھے، دودھ سے مکھی کی طرح نکال پھینکتے ہیں۔ کتنے ہی لوگ ایسے ہیں جنہوں نے اپنی مردانگی بیچ دی، آقاؤں کے قدموں میں جھکے، ان کے سامنے زمین پر اپنی ناک رگڑی، پیروں پڑے اور انسانی زندگی کی ضروریات، انسانیت کی مقدس چیزیں اور اللہ اور انسانوں کی وہ امانتیں جو ان کے سپرد تھیں، سب قربان کردیں مگر آخر میں پھر بھی بے حیثیت اور راندۂ درگاہ ہی رہے۔ یہاں تک کہ ان آقاؤں کے نزدیک بھی جنہوں نے ان ذلیل کتوں کی طرح خدمت لی تھی، جن کے پیچھے پیچھے وہ دوڑتے اور دم ہلاتے تھے اور جن کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے زمین میں ناک رگڑتے تھے۔

                کتنے ہی لوگ ایسے ہیں جو کبھی عزت و شرافت کے مالک، امانت الٰہی کے محافظ اور حق و انسانیت کی عظمت کے نگہبان تھے۔ اس وقت لوگوں پر ان کا خوف طاری تھا۔ کوئی ان کا کچھ بگاڑ نہ پاتا تھا۔ یہاں تک کہ وہ لوگ بھی جو نہیں چاہتے تھے کہ وہ امانت کی حفاظت اور حق کی نگہبانی کریں اور عزت کی زندگی گزار سکیں۔ لیکن جب انہوں نے خیانت کی، عزت کے اخراجات ادا کرنے سے کمزودی دکھائی اور حق کی عظمت کو باقی نہ رکھ سکے تو لوگوں کے دلوں سے ان کا خوف جاتا رہا، ان کی حمیت زائل ہو گئی اور ان کی نظروں میں ذلیل ہو کر رہ گئے۔ پہلے جو لوگ انہیں خریدنا چاہتے تھے، ان کے نزدیک بھی اب ان کی قیمت کم ہوگئی۔ اتنی کم کہ انہوں نے اب انہیں خریدنے سے انکار کر دیا۔ پھر انہیں مردار کی طرح پھینک دیا گیا اور قدموں سے روندا گیا۔ ان لوگوں کے قدموں سے جو کبھی ان سے بڑے بڑے وعدے کیا کرتے تھے اور انہیں لالچ دیا کرتے تھے۔

                ایسے لوگ بڑی تعداد میں ہیں جو بلندیوں سے پستیوں میں گر جاتے ہیں۔ کوئی ان سے رحم کرتا ہے نہ ان سے ہمدردی کرتا ہے۔ ان کے مرنے کے بعد کوئی ان کے جنازے میں شریک نہیں ہوتا۔ یہاں تک کہ ان کے وہ آقا بھی جن کے لئے عزت کی بلندی سے ذلت کی پستی میں اور حق کی چوٹی سے گمراہی کی کھائی میں جا گرے تھے۔

                اس قسم کے بہت سے تجربات اور عبرت کا بہت سامان موجود ہے اور ایسی مثالیں ہم آئے دِن دیکھتے رہتے ہیں۔ بعض لوگ ذلت کا پورا پورا تاوان ادا کرتے ہیں۔ وہ اللہ سے بھی خیانت کرتے ہیںا ور انسانوں سے بھی۔ امانت اور عزت و شرافت کو قربان کر دیتے ہیں، آقاؤں کے پیچھے دم ہلاتے ہیں، مفادات کے اسیر ہوتے ہیں اور جھوٹے وعدوں اور سراب کے پیچھے دوڑتے ہیں۔ لیکن آخر کار انتہائی ذلت اور رسوائی کے ساتھ پستی میں جاگرتے ہیں۔ لوگ بھی انہیں دیکھ کر ہنستے ہیں اور ان کے آقا بھی انہیں حقارت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔

                میں نے اپنی مختصر عمر میں دسیوں ایسے بڑے لوگوں کو دیکھا ہے۔۔۔ اور برابر دیکھ رہا ہوں ۔۔۔۔۔ جو خدائے واحد وقہار کو چھوڑ کر دوسروں کے آگے اپنا سر جھکاتے ہیں۔ ان کی بارگاہوں میں بڑے خشوع اور خضوع کے ساتھ حاضری دیتے ہیں۔ ذلت کا تاوان اپنی پیٹھ پر لادے رہتے ہیں جس سے ان کی کمر دوہری ہو جاتی ہے، ان کے سر جھک جاتے ہیں اور ان کی گردنیں ٹیڑھی ہو جاتی ہیں۔ پھر اپنا بوجھ اتار دینے اور اپنا سرمایہ حوالہ کر دینے کے بعد انہیں کتوں کی طرح دھتکار دیا جاتا ہے۔ وہ نہ دنیا کے رہتے ہیں نہ آخرت کے۔ انہیں غلاموں کے قافلے میں ہانک دیا جاتا ہے۔ کسی کو بھی حتیٰ کہ جلاد کو بھی ان پر رحم نہیں آتا۔

                یہ آزاد رہ سکتے ہیں مگر غلامی اختیار کر لیتے ہیں۔ طاقتور رہ سکتے ہیں مگر رسوائی کو ترجیح دیتے ہیں۔ صاحب جلال رہ سکتے ہیں مگر بزدلی اور ذلت کو پسند کر لیتے ہیں۔ میں نے دیکھا کہ یہ لوگ عزت سے اس لئے بھاگتے ہیں کہ انہیں ایک درہم نہ خرچ کرنا پڑے۔ مگر ذلت کے لئے انہیں ایک دینار بلکہ ڈھیر سا مال خرچ کرنا پڑتا ہے۔ میں نے دیکھا کہ یہ لوگ ہر گناہِ کبیرہ کرتے ہیں تاکہ اصحاب جاہ و اقتدار کو خوش رکھ سکیں اور ان کے سایۂ عاطفت میں آسکیں۔ حالانکہ وہ اپنی یہ حیثیت منواسکتے تھے کہ اصحاب جاہ و اقتدار ان کی ہیبت سے سہمے رہیں۔

                یہی نہیں، بلکہ میں نے ایسی قوموں کو بھی دیکھا ہے جو ایک مرتبہ آزادی کے اخراجات ادا کرنے سے کتراتی ہیں۔ نتیجتاً انہیں کئی بار غلامی کا تاوان ادا کرنا پڑتا ہے۔ اتنا تاوان جس کا آزادی کے اخراجات سے کوئی مقابلہ ہی نہیں۔ آزادی کے اخراجات اس کے دسواں حصہ بھی نہیں ہوتے۔ حضرت موسیٰ  ؑنے جب یہود کو ارض مقدس پر حملہ کرکے قابض ہو جانے کا حکم دیا تو انہوں نے جواب دیا۔

یَا مُوْسٰی اِنَّا لَنْ نَدْخُلَھَا اَبَدًا مَّا دَامُوْ فِیْھَا فَاذْہَبْ اَنْتَ وَرَبُّکَ فَقَاتِلَا اِنَّا ہٰہُنَا قَاعِدُوْنَ (مائدہ ۲۴)

’’اے موسیٰ! ہم تو وہاں کبھی نہ جائیں گے جب تک وہ وہاں موجود ہیں۔ پس تم اور تمہارا رب دونوں جاؤ اور لڑو۔ ہم یہاں بیٹھے ہیں۔‘‘

                چنانچہ عزت کے اخراجات ادا کرنے سے اعراض کی بھاری قیمت انہیں چالیس سال صحرانوردی کی صورت میں ادا کرنی پڑی۔ وہ بیابان میں ادھر اُدھر بھٹکتے رہے، پردیسی زندگی گزارتے رہے اور مختلف خطرات و اندیشوں میں گرفتار رہے۔ اگر وہ عزت اور فتح مندی کی قیمت ادا کرنے پر تیار ہو جاتے تو انہیں اس کا دسواں حصہ بھی خرچ نہ کرنا پڑتا۔

                تاوان ادا کرنا ہر ایک پر لازم ہے، خواہ وہ افراد ہوں یا جماعتیں یا قومیں۔ اب انہیں اختیار ہے کہ یہ تاوان عزت، عظمت اور آزادی کے لئے ادا کرتی ہیں یا ذلت، رسوائی اور غلامی کے لئے۔ تجربات اس حقیقت پر شاہد ہیں، اس سے مفر نہیں۔ پس جو لوگ آزادی کے اخراجات ادا کرنے سے ڈرتے ہیں، عزت و شرافت کے انجام سے خوف کھاتے ہیں، آقاؤں کے قدموں میں اپنی ناک رگڑتے ہیں، اپنی امانتوں، عزتوں اور انسانیت سے غداری کرتے ہیں اور ان عظیم قربانیوں کو کھوٹا کرتے ہیں جو ان کی قوم اور انسانیت نے آزادی کے لئے دی ہیں۔ ان تمام لوگوں سے میں یہ کہتا ہوں کہ تاریخ کے صفحات پر نظر ڈالیں۔ ماضی قریب کو دیکھیں اور ان بار بار پیش آنے والی مثالوں پر غور کریں۔ جن سے ثابت ہوتا ہے کہ ذلت کا تاوان عزت کے تاوان سے بڑھ کرہے اور آزادی کے اخراجات غلامی کے اخراجات سے کہیں بڑھ کر کم ہیں۔ جو موت کے لئے تیار رہتے ہیں، انہیں کو زندگی ملتی ہے۔ جو لوگ فقر و فاقہ سے نہیں گھبراتے، انہیں کو حسب ضرورت رزق ملتا ہے اور جو لوگ جاہ و اقتدار سے نہیں ڈرتے ان سے جاہ اقتدار خود خوف کھاتا ہے۔

                ایسے ذلیل لوگوں کی بکثرت اور قریب کی مثالیں ہیں جنہوں نے اپنے ضمیر کا سودا کر لیا ، امانتوں میں خیانت کی، حق کو رسوا کیا اور گندگی میں لت پت ہوئے۔ مگر ان کا جو انجام ہوا اس پر کسی کو افسوس نہیں ہوا۔ ان پر اللہ کی پھٹکار ہوئی اور انسانوں نے بھی لعنت بھیجی۔ اس طرح ایسے لوگوں کی بھی مثالیں ہیں۔۔۔۔۔ اگر چہ کم ہیں۔۔۔۔۔ جنہوں نے رسوائی اختیار کرنے، خیانت کرنے اور اپنی مردانگی کا سودا کرنے سے انکار کر دیا۔ یہ لوگ جب تک زندہ رہے عزت کے ساتھ زندہ رہے اور جب مرے تو عزت کے ساتھ مرے۔

                من المؤمنین رجال صدقوا ما عاھدوا اللہ علیہ فمنہم من قضی نحبہ ومنہم من ینتظر وما بدلو تبدیلا (احزاب ۲۳)

                ’’ایمان لانے والوں میں ایسے لوگ موجود ہیں جنہوں نے اللہ سے کئے ہوئے عہد کو سچا کر دکھایا۔ ان میں سے کوئی اپنی نذر پوری کرچکا اور کوئی وقت آنے کا منتظر ہے انہوں نے اپنے رویہ میں تبدیلی نہیں کی۔‘‘

جمہوریت اورو طنیت … علامہ اقبالؔ کی نظر میں

جمہوریت کی تائید میں بعض مذہبی افکار کے حامل گروہوں نے ’’جدا ہو دیں سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی‘‘ کا کچھ ایسا مطلب بیان کیا ہے کہ علامہ اقبالؔ کی روح کانپ جاتی ہوگی اور چنگیز خاں عالم برزخ میں بھی کف افسوس ملتا ہوگا کہ اس نے کیوں اپنے سر ظلم و ستم کا تاج باندھا جب کہ وہ یہی کام جمہوریت کے نام پر کرسکتا تھا ۔ دراصل مذکورہ بالا مصرعہ کا مطلب کچھ اس طرح سمجھا اور سمجھایا گیا اور سمجھایا جاتا رہا ہے کہ سیاست کوئی شجر ممنوعہ نہیں کہ اہل دین اس سے دور رہیں بلکہ اگر اہل دین ‘ سیاست سے دور رہیں تو پھر چنگیزیت باقی رہ جاتی ہے۔ یہاں یہ پہلو نظر انداز کردیا جاتا ہے کہ سیاست سے کون سی سیاست مراد ہے۔ آیا وہ جمہوریت جس کی پناہ میں قومیں اپنی بقا ڈھونڈتی ہیں یا پھر وہ حکمرانی جسے اہل دین کا فرض منصبی قرار دیا گیا لیکن اہل دین نے غلامی کے طوق کو بشکل جمہوریت قبول کرتے ہوئے حکمرانی و خلافت کے تصور و تصویر کو دھندلادیا ہے۔ پچھلے برسوں ملک کی سب سے بڑی دینی جماعت ’جماعت اسلامی‘ نے جب راہ جمہوریت پر گامزن ہونے کا فیصلہ کیا تو اس کے لئے جو ’’زاد راہ‘‘ تیار کیا گیا اس میں علامہ اقبالؔ کا یہ مصرعہ نمایاں طور پر نظر آتا ہے ۔ ایک جماعت پر ہی کیا موقوف ہے ‘ دنیا کی بیشتر دینی جماعتوں نے جمہوریت کو بحالت مجبوری قبول کرنے کے بعد بقدر ضرورت اپنانے کا فیصلہ کیا اور اب بالیقین ایسا لازمی طرز حکمرانی تسلیم کرلیا ہے کہ انہیں جمہوریت میں ہی اسلامی خوبیاں نظر آتی ہیں بلکہ اسلام کا طرز حکمرانی جمہوریت کا آئینہ دار دکھائی دیتاہے۔

 جہاں تک فکر اقبال کا معاملہ ہے انھوں نے جمہوریت کو بھی چنگیزیت کا حصہ مانا ہے۔ وہ کہتے ہیں ع

جلال بادشاہی ہو کہ جمہوری تماشا ہو

جدا ہو دیں سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی

یعنی معاملہ سیاست میں دیندار لوگوں کے داخل ہونے کا نہیں بلکہ اس سیاست کا علم بردار ہونے کا ہے جس کا نام ’’الدین‘‘ ہے اور جس کے دامن میں تمام انسانیت کو انصاف مل سکتا ہے ورنہ جمہوریت تو بذات خود چنگیزیت سے بھی خطرناک ہوتی ہے ۔ علامہ اقبال ؔنے ابلیس کی مجلس شوریٰ والی نظم میں ابلیس کے دو مشیروں کی گفتگو کا ماحصل پیش کرتے ہوئے جمہوریت پر اس طرح روشنی ڈالی  ع

تو نے کیا دیکھا نہیں مغرب کا جمہوری نظام

چہرہ روشن اندروں ہے چنگیز سے تاریک تر

پروفیسر یوسف سلیم چشتی اس کی وضاحت میں لکھتے ہیں:

’’اس شعر سے واضح ہوتا ہے کہ جمہوری حکومتوں میں بھی عوام الناس پر وہی ظلم ہوتا ہے جو شخصی حکومتوں میں ہوتے ہیں فرق اتنا ہے کہ شخصی حکومت میں ’’بادشاہ‘‘ ظلم کرتا ہے اور جمہوری حکومت میں یہ کام ’’مجلس ملت‘‘ سرانجام دیتی ہے۔

جمہوریت کا چہرہ تو ضرور روشن ہوتا ہے یعنی یہ طرز حکومت بظاہر بہت دلکش ہے کہ بادشاہ نہیں ہوتا بلکہ عوام خود اپنے اوپر حکمران ہوتے ہیں لیکن اس کا باطنی پہلو یعنی دل چنگیز سے بھی زیادہ سیاہ اور ناپاک ہوتا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ جمہوریت میں بھی شخصی حکومت کی طرح مذہب کو سیاست سے کوئی علاقہ نہیں ہوتا ۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ جمہوریت اور ملوکیت اپنے اعمال اور نتائج کے لحاظ سے یکساں ہوجاتی ہیں۔‘‘   (شرح ارمغان حجاز ۔جدید ایڈیشن 2014۔ ص 30)

جمہوریت یعنی عوام کی حکومت کی حقیقت کو اقبالؔ نے ایک مقام پر یوں بیان کیا ہے :

جمہوریت اک طرز حکومت ہے کہ جس میں

بندوں کو گنا کرتے ہیں تولا نہیں کرتے

یعنی جمہوریت میں دانا و نادان‘ عاقل و غافل‘ دین دار و بے دین سب یکساں وزن رکھتے ہیں ۔ حکمرانی اہل دانش کی نہیں بلکہ اہل مفادات کی ہوتی ہے ۔ طرز حکمرانی میں خدا پرستی کا نہیں بلکہ خود پرستی کا دخل ہوتا ہے۔

ایک مسلمان کو یہ بات ذہن میں واضح رکھنا چاہئے کہ وہ جس نظام توحید کا علمبردار ہے وہ ایک ہی ہے اور باقی سارے نظام ہائے حکمرانی باطل اور ابلیسی ہیں چنانچہ علامہ اقبالؔ نے ابلیس کی زبانی کہلوایا کہ اسے نہ جمہوریت سے خطرہ ہے نہ وہ اشتراکیت سے خوفزدہ ہے ان نظام ہائے طرز حکمرانی سے ابلیسیت ممتاز ہے لیکن

ہے اگر مجھ کو خطر کوئی تو اس امت سے ہے

جس کی خاکستر میں ہے اب تک شرار آرزو

یہ ’شرار آرزو ‘ ایک بندہ مومن کے دل میں موجود وہ چنگاری ہے جو ابلیس کے تمام ہائے نظام کو خاک میں ملادینے کی طاقت رکھتی ہے  ع

اس سے بڑھ کر اور کیا فکر و عمل کا انقلاب

پادشاہوں کی نہیں اللہ کی ہے یہ زمین

اصل مسئلہ زمین پر اللہ کی حکمرانی قائم کرنے کا ہے ۔ جہاں دنیا پر یہ نکتہ عیاں نہیں ہے وہیں خود بندہ مومن کا حال بھی امید افزا نہیں ہے ع

چشم عالم سے رہے پوشیدہ یہ آئین تو خوب

یہ غنیمت ہے کہ خود مومن ہے محروم یقین

بندہ مومن میں یقین کی کمی کی ایک اہم ترین وجہ یہ ہے کہ وہ ان حالات کو انگیز کرنے کو تیار نہیں جو انبیاء کے ساتھ بھی پیش آئے اور سلف صالحین نے بھی دہکتی ہوئی آتش نمرود کو کبھی آتش جہنم نہیں سمجھا کہ اس سے بچیں بلکہ بے خطر اس میں کود پڑے۔ دور حاضر کا بندہ مومن چاہتا ہے کہ ساحل پر رہتے ہوئے دریا میں غوطہ زنی کے فائدے حاصل کرے جو سعی لاحاصل ہی کہلائے گی  ع

محروم رہا دولت دریا سے وہ غواص

کرتا نہیں جو صحبت ساحل سے کنارا

اسلامی نظام کے غالب ہونے کے یقین میں کمی کی دوسری بڑی وجہ وہ فکری ارتداد ہے جس کی لپیٹ میں امت کا ایک بڑا حصہ آگیا ہے اور جس پر ابتدائی سطور میں روشنی ڈالی گئی۔ دور حاضر میں دانش مندی یہی سمجھی گئی ہے کہ اسلام کی حفاظت کو اللہ کے حوالہ کرکے مسلمانوں کی حفاظت کا ٹھیکہ لے لیا جائے حالانکہ اصل محافظ تو وہی حی و قیوم ہے جس کو فنا نہیں جو مشرق و مغرب کا مالک ہے۔ وہ حفاظت نہ کرے تو بڑے سے بڑا دانشور دانائی کی معراج پر پہنچ کر بھی کسی تدبیر سے امت تو درکنار خود اپنی رکھوالی سے قاصر ہے ۔ اور اگر وہ محافظ بن جائے تو آندھی و طوفان میں بھی فانوس جلتی رہے گی۔ اسلام کے بدلے مسلمان کی حفاظت کی سوچ کا نتیجہ یہ نکلا کہ ہماری یہ فکر بن گئی کہ دین محصور و مغلوب رہے کوئی بات نہیں لیکن مسلمان کو آزاد ہونا چاہئے ۔ علامہ اقبالؔ کہتے ہیں

دین ہاتھ سے دے کر اگر آزاد ہو ملت

ہے ایسی تجارت میں مسلمان کا خسارا

ملت کے دانشوران اس وقت جو آزادی چاہتے ہیں وہ نماز ‘روزہ‘ قرآن خوانی‘ مساجد سے اذان اور مسلمانوں کے عقد و نکاح کے مخصوص احکام پر عمل آوری کی اجازت ہے جسے ’مسلم پرسنل لا‘ کا نام دے دیا گیا ہے ۔ وہ چاہتے ہیں کہ کوئی بھی حکومت ہو ملک میں جمہوریت باقی رہے اور مسلمانوں کو اپنے اس خود ساختہ ’’پرسنل لا‘‘ پر چلنے کی اجازت حاصل رہے ۔ خود ساختہ اس لئے کہ مسلمانوں کا کوئی شخصی قانون نہیں بلکہ وہ خدائی قانون کا پابند ہے ۔ درحقیقت یہ آزادی نہیں بلکہ غلامی کو تسلیم کرلینے کی محض تاویل ہے جس پر علامہ اقبال نے یوں چوٹ کی ہے  ع

ملا کو ہے ہند میں سجدے کی اجازت

نادان یہ سمجھتا ہے کہ اسلام ہے آزاد

حیرت و تعجب تو اس بات پر ہوتا ہے کہ اقبالؔ کے شیدائی بھی اس غلامی سے قوم کو خبردار کرنے سے گریزاں ہیں جس کے بارے میں انھوں نے یہاں تک کہا تھا کہ موت کے بعد کی جو زندگی ہے وہ غلامی کی زندگی پر مطمئن رہنے والوں کے لئے نہیں ہے ۔ وہ کہتے ہیں  ع

مرکے جی اٹھنا فقط آزاد مردوں کا ہے کام

گرچہ ہر ذی روح کی منزل ہے آغوشِ لحد

ماہرین و شیدائیان اقبالؔ نے اس عظیم تصور کو چھوڑ کر کلام اقبال میں تصوف کے عناصر ڈھونڈنے کی سعی شروع کردی حالانکہ محکومی و غلامی اقبال ؔکی نظر میں ایسی ذلت ہے کہ قبربھی ایسے مردے سے پناہ مانگتی ہے اور کہتی ہے

الحذر محکوم کی میت سے سو بار الحذر

اے سرافیل! اے خدائے کائنات! اے جان پاک

یعنی غلامی و محکومی پر مطمئن بندہ کی آمد پر قبر کہتی ہے کہ خدایا کسی طرح یہ برزخ کا دور ختم ہو ‘ اسرافیل صور میں پھونک ماریں اور قیامت برپا ہوجائے تاکہ محکوم کی میت سے مجھے چھٹکارا مل جائے۔

دور حاضر میں امت مسلمہ کو غلامی کی زنجیروں میں جکڑنے والی دو خطرناک چیزیں ہیں ۔جمہوریت اور وطنیت۔ دیگر نظریات کے مقابل ان میں بقائے آدمیت ‘ امن ‘ چین اور سکون جیسی پرکشش معنویت دکھائی دیتی ہے حالانکہ دونوں ہی طرز کا اسلام سے کوئی علاقہ نہیں ہے ۔ جمہوریت میں اگر عوام پر عوام کی حکومت ہے تو اسلام اس کی نفی کرتا ہے اور اللہ کی زمین پر اللہ کی حکمرانی کا تصور پیش کرتا ہے ۔ وطنیت بذات خود کوئی نظریہ نہیں بلکہ چین و سکون کی حدود کا وہ حصار ہے جس میں ایک علاقہ کا حکمران طبقہ دوسرے علاقہ کے حکمرانوں کی مداخلت گوارا نہیں کرتا ۔ نتیجہ میں کسی علاقہ کا حکمران طبقہ اپنی محکوم اقلیت پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑدے تب بھی اس اقلیت سے تعلق رکھنے والا دیگر علاقہ کا حکمران طبقہ کوئی بے چینی محسوس نہیں کرتا کہ مبادا اپنی قوم پر ظلم کے خلاف آواز بلند کرنے کی پاداش میں کہیں اقوام عالم اس کی سرحدوں میں گھس کر چین و سکون برباد نہ کردیں۔ اس کی مثالیں شام میں بشار الاسد کی چنگیزیت اور روہنگیا کے مسلمانوں کی دردناک و دل شکن داستانیں ہیں جن پر عربوں کا خون نہیں گرمایا اور نہ ہی قوم مسلم کے خون کی ارزانی نے انہیں بے چین کیا بلکہ سرحدوں کے ٹوٹنے کے خوف نے عرب اتحاد کو ’شیرِ بہادر‘ بنادیا ہے۔ علامہ اقبالؔ کی آرزو تھی کہ امت مسلمہ وطنیت کے کوزے سے نکلے اور جمہوریت کی پناہ ڈھونڈنے کے بجائے غیرت و حمیت اسلامی کا لبادہ اوڑھ لے ۔ سرحد‘ ملک‘ وطن‘ مال و دولت غرض تمام مادی اشیا ایک بندہ مومن کے نزدیک لات و منات کی حیثیت رکھتے ہیں  ع

مقام بندۂ مومن کا ہے ورائے سپہر

زمین سے تابہ ثریا تمام لات و منات

رسول مقبولؐ نے یہ جذبہ صحابہ کرامؓ میں کوٹ کوٹ کر بھردیا تھا جو آپؐ کی وفات کے بعد بھی صحابہؓ میں بدرجہ اتم موجود تھا وہ دنیا پر آخرت کو ترجیح دیتے اور زندگی کی آرزو میں موت سے گھبراتے نہیں تھے ۔ ان کی یہی بے مثال صفت کے آگے قیصر و کسریٰ سرنگوں ہوئے تھے اور آج زندگی کی تمنا اور موت کے خوف نے امت مسلمہ کو غیروں کا اسیر بنادیا ہے ۔ اس کیفیت کو تبدیل کرنے کے لئے جذبہ جہاد کی ضرورت ہے۔ علامہ اقبالؔ کی شاعری میں جابجا یہ پیام نمایاں طور پر دکھائی دیتا ہے کہ قوم کی حیات درحقیقت آزادی ہے اور اس کا راز جذبۂ جہاد میں پنہاں ہے۔ اکبر الٰہ آبادی نے اپنے مخصوص انداز میں یہ راز یوں افشاکیا  ع

جو دیکھی ہسٹری اس بات پر کامل یقیں آیا

جسے مرنا نہیں آیا اسے جینا نہیں آیا

جارح تہذیبی یلغاراور اُمّتِ مسلمہ

                ابنِ خلدون سے لے کر آج کے معروف تاریخ داں ٹائن بی تک سب کا یہ ماننا ہے کہ تہذیبیں سوچ ‘فکر‘ نظریہ یا عقیدہ کی بنیاد پر قائم ہوتی ہیں۔ تعلیم‘ معاشی سرگرمیوں و سیاسی عمل کے سایے تلے پنپتی و سنورنتی ہیں، جب فکر و نظر‘ عقیدہ و ایمان کمزور پڑجاتا ہے تو تہذیبیں بھی کمزور پڑتی ہیں اس طرح تاریخ کا ایک ورق بن کر رہ جاتی ہیں۔دنیا میں نظری بنیادوں پر صرف تین کلچر (Culture)دکھائی دیتے ہیں۔

                (۱)  مغربی تہذیب  (۲)  مشرکانہ تہذیب                (۳)  اسلامی تہذیب

                ہر تہذیب جو اپنی جلو میں خدا ‘ کائنات‘ انسان‘ کے بارے میں مخصوص خیال و ذہنیت رکھتی ہے۔ مغربی تہذیب خدا کے وجود کی انکاری یا کم از کم بے اختیار خدا کی پجاری ہے۔ کائنات کو حادثہ مانتی ہے تو انسان کو کبھی بندر کی ترقی یافتہ نسل‘ کبھی سماجی حیوان خیال کرتی ہے تو کبھی معاشی سرگرمیوں میں لت پت وجود ‘ تو کبھی جنسی حیوان گردانتی ہے۔

                اسی طرح مشرکانہ تہذیب میں خدا ہو یا نہ ہو‘ اگر ہو تو کتنے ہو اس کی تعداد متعین نہیں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ بلکہ زمانے کے گزرتے خداؤں میں اضافہ ہوتاجاتا ہے ضرورت پوری کرنے والی ‘ نفع و نقصان پہنچانے والی ہر شئے خدا ہے۔ کائنات کے بارے میں اس کی سوچ یہ ہے کہ وہ اُسے مائتھ (Myth)مانتی ہے۔ جس کا کوئی اصلی وجود نہیں ہے بلکہ سب نظر کا دھوکہ سمجھی جانے والی اشیاء ہیں۔ انسان کبھی خدا کا درجہ لے لیتاہے تو کبھی جانوروں سے بدتر اس کی حیثیت مانی جاتی ہے۔ کبھی وہ برھمان کا پالنہار وِدھاتا بن جاتاہے۔تو کبھی اتی شودر کے پیکر میں ڈھل جاتاہے۔

                اسلامی تہذیب میں خدائے واحد کا تصّور ایک زندہ تصّور ہے۔ جس نے کائنات کو بامقصد بنایا کُن کے ذریعے فیکون میںتبدیل کیا۔ ہر آن اس پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ انسان کی اس نے تخلیق کی‘ اُسے دنیا میں بااختیار بنایا۔ وہ اُسے موت دے گا۔ موت کے بعد زندگی کا لیکھا جوکھا سب دکھایا جائے گا۔ نیکوں کے لئے جنّت اور گناہ گاروں کے لئے جہنّم بنارکھی ہے۔ آخرت کا ایک زندہ تصوّر جو حقیقت سے بھرپور ہے‘ سامنے آتاہے۔

                مغربی تہذیب اپنے سائنسی بالادستی کے نتیجے میں سیاسی طورپر غالب تہذیب ہے جس نے انسانی نظریات ‘ سرمایہ دارانہ‘ اشتراکیاتی‘ جمہوری و لادینی نظام ہائے حکومت کو جنم دیا۔ جس میں انفرادیت کا قتل ہوجاتا ہے اور اجتماعیت آمر بن کر انسانی زندگیوں سے کھلواڑ کرتی رہتی ہے۔ اس وقت مغربی تہذیب کا راست مقابلہ اسلامی تہذیب سے ہے۔ اسلامی تہذیب کے پاس صرف دعویٰ ہی نہیں مضبوط دلائل بھی موجود ہیں۔ دنیا میں اس کی نوخیز نسل سب سے زیادہ ہے۔ جو کسی بھی تہذیب کے لئے طویل عمر مہیّا کر سکتی ہے۔

                مشرکانہ تہذیب نظریات سے زیادہ ظاہری اختیاریت پر زور دیتی ہے۔ ظاہر سے اندرون میں تبدیلی کی خواہشمند ہوتی ہے۔ اس لئے وہ اپنے مخالفین کو اپنے آپ سے مربوط کر لیتی ہے اور اسے بھی اپنے کلچر کا حصّہ بنا ڈالتی ہے۔ ماضی میں بدھشٹ مؤومنٹ ہو یا جینیوں کی اہنسا پرمودھرم تحریک ۔ سکھوں کے معاملات ہوں یا ماضی بعید میں یادوؤں کا گھر سنسار۔ سب سناتن دھرم (برہمنیت)کا حصّہ بن کر رہ گئے ہیں۔ بعض لوگوں کو ہوش آیا تو وقت بیت چکا تھا۔ مول نیواسی ، او ۔بی۔ سی۔ او ربھٹکی جاتی جماتی و ادی باسی‘ اب اپنے آپ کو غیر ہندو کہلوانا پسند کر رہے ہیں۔ جب کہ ان کی عمومی شناخت ہندو کی حیثیت سے ہی مانی و جانی جاتی ہے۔ مسلمان اپنے عقیدہ اور اپنی سوچ و تہذیب کی وجہ سے آج تک بچا ہواہے۔ ایک اور بڑی وجہ ان کا 800 سالہ سیاسی اقتدار بھی ہے جو زوال کے باوجود اپنی ایک شناخت کا مظہر رہا ہے۔

                مئی 2014ئ؁ جب سے نئی حکومت آئی ہے جو کیشو بلی رام ہیڈ گوار‘ گولوالکر اور ساورکر کے ہندوتو والے نظریات رکھتی ہے۔ عام اقلیتوں کے ساتھ مسلمانوں کو بھی جارح تہذیبی یلغار کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ موجودہ حکومت کے آنے سے ہندوتو وادیوں میں بے جا اعتماد و جرأت پیدا ہوئی ہے۔ آر۔ایس۔ ایس۔ کے اشاروں پر تھرکنے والی موجودہ مودی سرکار میں جتنے مذہبی افراد یا سادھو و سادھوی ہیں ۔ وہی ایسی زبان استعمال کررہے ہیں کہ قرآن کی سچائی کھل کر منظر عام پر آجاتی ہے۔

قَدْ بَدَتِ الْبَغْضَاء  مِنْ أَفْوَاہِہِمْ وَمَا تُخْفِیْ صُدُورُہُمْ أَکْبَرُ ـ (آل عمران ـ 118)

(ان کے دل کا بغض ان کے منھ سے نکلا پڑتا ہے اور جو کچھ وہ اپنے سینوں میں چھپائے ہوئے ہیں وہ اس سے شدید تر ہے۔)

                کبھی یہ 2021ئ؁ تک مسلم وعیسائی مکت بھارت بنانا چاہتے ہیں‘ کبھی ہندوستانیوں کو “ہندو” کہنے پر اصرار ہوتا ہے تو کبھی مدرسوں میں مداخلت کی بات ہوتی ہے تو کہیں مساجد پر دن دھاڑے حملے (بلپھ گڑھ، پونہ) ہوتے ہیں۔ کہیں ان کی آبادی سے خوف دلایا جاتا ہے تو کبھی انہیں پاکستان چلے جانے کی صلاح دی جاتی ہے۔ کبھی ان کا حق رائے دہی سلب کرانا مقصود ہے تو کہیں لو جہاد کے فتنے اٹھائے جاتے ہیں۔ گائے بیل کے ذبیحہ پر پابندی لگائی گئی ہے، تو کبھی سوریہ نمسکار۔ یوگا لازمی قرار دیا جاتاہے تو کہیں وندے ماترم کہنا و سرسوتی وندنا کرنا ضروری قرار دیا ہے۔ گیتا پاٹھ کا مسئلہ ہے تو تعلیم کا بھگوا کرن ‘ کبھی گھر واپسی کے ڈرامے گھڑے جاتے ہیں تو کبھی حج سے روکنے کی بات کی جاتی ہے۔ یہ سب تمہیں سوچنے پر مجبور کر دیتاہے۔ یوگا۔ سوریہ نمسکار‘ وندے ماترم‘ سرسوتی وندنا۔ انہیں کبھی سمجھا کر‘ کبھی دبا کر‘ کبھی زور لگاکر کروانے کی کوشش اہلِ اقتدار کا خاص و صف ہے جو اختیار کیا جارہاہے۔

یوگا____ سوریہ نمسکار____

                یوگا دراصل لفظ یوگ سے بناہے جس کے معنیٰ اکٹھا ہونے یا ملنے کے ہیں آتما‘ پرماتما اور شریر کے مربوط ہونے کا نام ہے۔ یوگا کی شروعات کرشن نے کی تھی جسے پہلا یوگی کہا جاتاہے۔ یہ تقریباً 26000سال قبل اس کی شروعات ہوئی تھی۔ جِسے”ست یوگ” کہا جاتاہے بعدمیں پتانجلی نے اُسے codified کیا ہے۔ اُسے آسنوں میں تقسیم کیا ہے۔ اس کے 12 ؍آسن بتلائے جاتے ہیں۔ جس میں شروعات سوریہ نمسکار سے ہوتی ہے۔

                سوریہ نمسکار ہی سب سے اہم آسن ہے جس کا وقت طلوعِ آفتاب‘ غروبِ آفتاب یا پھر نصف النہار کے وقت۔ ان تین اوقات کے علاوہ سوریہ نمسکار ممکن نہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان تین اوقات کے وقت ہی یوگا کیا جاسکتاہے۔

سورج کی پوجا____

                ویدک دور میں سورج کی پوجا کی جاتی تھی یہاں تک کہ رام چندر کے بارے میں آتا ہے کہ انہیں سورج سوریہ ونش کا بادشاہ مانا جاتاتھا۔ اسی لئے سوریہ ونشی باضابطہ ایک نسل ہے جو چلی آرہی ہے جن کا تعلق برہمنوں سے ہے۔تاریخ میں قومِ سبا کے تعلق سے معلوم ہوتاہے کہ وہ بھی سورج کی پرستش کرتی تھی۔ سورج کے وارثوں میں فرعون کا نام بھی ماضی کی تاریخ میں ملتاہے۔ جس کی پرستش کی جاتی تھی۔فرعون ‘ ملکۂ سبا ‘ رام چندر گویہ سورج کی نسل سے مانے جاتے تھے عوام ان کی پرستش کرتی تھی۔

                ریگ وید میںسورج کی تعریف کرکے‘ اُس کی پرستش کا بیان ہے۔ ” یہ چمکدار خدا‘ اے سورج‘ آسمانوں کے پرے بڑی جگہ توہے۔ کرنوں سے دنوں کو ملاتاہے اور گذرتی قوموں کا رکھوالا ہے۔ تو تمام کمزوریوں کو دور کرنے والا ہے اور بیماریوں سے شفاء دینے والا ہے۔ ہم تجھ میں دھیان گیان کرتے ہیں تاکہ ہماری عقلمندی بڑھے۔”

                پراچین کال میںکئی سورج کے مندر بھارت میں پائے جاتے ہیں۔ اُڑیسہ ‘ گجرات‘ کشمیر ‘ آندھراپردیش میں بالخصوص 8سے 13 صدی عیسوی کے درمیان بنائے گئے تھے۔شری راجیو جین نے “سمپرن یوگ ودھیا” میںیہ بات لکھی ہے ہندو مذہب میں سورج کو خدا مان کر پوجا جاتاہے۔ کیونکہ سورن انسانوں کو فائدہ پہنچاتا ہے اور وہ توانائی سے بھرپور ہے۔ ” اوم ساوتر نما” اس کے معنی اے دنیا کے بنانے والے میں تجھے نمن کرتاہوں، سورج کو دنیا کا بنانے والا تسلیم کیا جاتاہے۔

                سورج کے سامنے نمن کے طریقے کو یوگا کہا جاتاہے ۔ جس سے بقول راجیو جین احساسات‘ روح‘ خیالات پر کنٹرول حاصل ہوتا ہے اور انسان کو مکتی ملتی ہے۔ بھگوت گیتا کے چھٹے باب میں یوگا کا خاص کر ذکر ہے۔ گیتا دراصل کرشن کے بیانات کا مجموعہ ہے۔ ارجن کو کرشن یوگا کی فلاسفی سمجھاتاہے۔ اُسے اختیار کرنے کی ترغیب دیتاہے۔ موہن داس کرم چند گاندھی بھی یوگا کے حامی رہے۔وہ دانش مندی ‘روح کی بالیدگی اور جسم کی مکتی کے قائل ہیں۔ ان تمام حوالوں سے معلوم ہوتا ہے کہ یوگا ایک طریقۂ عبادت ہے نہ کہ کوئی ورزش و کسرت کا عمل ۔ مسلمانوں کو قرآن حکم دیتاہے کہ :

’’وَ مِنْ آیٰتِہِ الَّیْلْ والنَّھَارُ وَالشَّمْسُ وَالْقَمَرُـ لَاتَسْجْدُوْالِلشَّمْسِ وَلَالِلْقَمَرِ وَاسْجدُوْالِلّٰہِ اَلّذِی خَلَقَھُنَّ اِنْ کُنْتُمْ اِیّاہ‘ تَعْبُدُوْن ـ (حٰم سجدہ: 37)

(اللہ کی نشانیوں میںسے ہیں یہ رات اوردن اور سورج اور چاند۔سورج اورچاند کو سجدہ نہ کرو بلکہ اس خدا کو سجدہ کرو جس نے انہیں پیدا کیا اگر فی الواقع تم اسی کی عبادت کرنے والے ہو۔)

                مخلوق کے سامنے جھکنے کے بجائے ان کے خالق کے سامنے جھکنے کا حکم دیا جارہاہے۔ طلوع و غروبِ آفتاب اور نصف النہار کے وقت سجدہ کی اجازت مسلمانوں کو نہیں ہے یعنی وہ اپنی نماز و سجدہ بھی ان اوقات میں نہیں کرسکتے تو سورج کونمن کیسے کرسکتے ہیں۔ مسلمان اِسے شرک مانتاہے۔ عمرو بن عبسہؓ کی روایت امام مسلمؒ لائے ہیں جس میں طلوع‘ غروب اور نصف النہار کے اوقات میں نماز پڑھنے سے محمد رسول ﷺ نے انہیں روکا۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ سوریہ نمسکار چھوڑ کر یوگا کیا جائے صحت کے لئے اچھا ہوتاہے۔ سوریہ نمسکار چھوڑ کر یوگا کیا جائے تو یہ ایک قوم کے طریقۂ عبادت کی نقّالی ہوگی اور تشبّہ  بقوم میں شمار کی جائیگی۔ محمدرسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ ’’جس نے کسی قوم کے ساتھ مشابہت اختیار کی وہ ان ہی میں سے ہے‘‘۔

                صحت کے لئے 4% والی الکحل بیئر فائدہ مند ہے کیا ہم اُسے استعمال کرسکتے ہیں ؟ صحت کے ساتھ اسلام اخلاق کے اچھے ہونے پر بھی زور دیتاہے۔ صرف اچھی صحت کامیابی کی ضمانت نہیں ہے۔ مسلمانوں نے اپنے دور میں نماز و روزہ جو اچھی صحت کے لئے آسان نسخے ہیں کبھی اپنی غیر مسلم عوام کے لئے لازمی قرار نہیں دیا۔ موجودہ حکومت نے 21؍ جون جوہیڈیگوار سے متعلق خاص د ن ہے اُسے دنیا پر تھوپنے کی کوشش کی ہے۔ اسکولوں‘ اسپتالوں‘ جیلوں سرکاری دفاتر میں یوگا کروایا گیا اسکول میں نہ جانے کتنے مسلم‘ عیسائی ‘پارسی‘دلت‘ سکھ بچّوں نے اُسے کیاہوگا۔ دوسروں کو چھوڑدیجئے کیا مسلم بچّے جنہیں ابھی خدا کا شعور نہیں ہے غیر خدا کی پرستش کرنے لگ جائیں گے۔ اور بڑے ہو کر شعوری راہ اختیار کرینگے۔ اگر یہ یوں ہی چلتا رہاتو آئندہ 100؍ سال کے فاصلے پر ہم اورہماری نسلیں کہاں ہوں گی پتہ نہیں۔ حضرت یعقوب ؑ جب موت سے قریب تھے تواپنے کنبے کے لوگوں کو جمع کیا ‘کہا۔

                اِذْ حَضَرَ یَعْقُوْبَ المْوتُ ـ اِذْ قَالَ لِبَنِْیہِ مَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ بَعْدِیْ ـقَالُوْانَعْبُدُ اِلٰھَکَ وَاِلٰہَ آبَآیِکَ اِبْرٰھِمَ وَاِسْمٰعِیْلَ وَاِسْحٰقَ اِلٰہاً وَّاحِداً وَنَحنُ لَہُ مُسْلِموْنْ ـ (البقرۃ: 133)

                (جب یعقوب ؑ دنیا سے جارہے تھے انہوں نے مرتے وقت اپنے بیٹوں سے پوچھا : بچّو میرے بعد تم کس کی بندگی کروگے۔ ان سب نے جواب دیا۔ ہم اسی ایک خدا کی بندگی کریں گے جیسے آپ نے اور آپ کے بزرگوں ابراہیمؑ ‘ اسماعیلؑ اور اسحاقؑ نے خدا مانا تھا اور ہم اسی کے مسلم ہیں‘‘۔)

                یہاں ایک باپ کو مستقبل میں اپنے بچّوں کی فکر کیاہے؟ کھانے‘ کمانے‘ تعلیم‘ منصب‘گھر ‘ کاروبار کی نہیں۔ صرف اور صرف یہ کہ میری اولاد اس مشن پر زندہ رہے جس پر میں چل رہا ہوں۔ جب بچّوں نے کہا ہم اسی خدا کو مانے گے جس کی پرستش آپ اور آپ کے آباء و اجداد کرتے رہے‘ اس وقت انہیں سکون سے موت آئی۔ ہم اپنے بچّوں کے بارے میں کتنے فکر مند ہیں؟ حضرت لقمانؑ اپنے بیٹے کونصیحت کرتے ہوئے کہتے ہیں۔

وَاِذْقَالَ لُقْمٰنْ لِابْنِہِ وَھْوَ یَعِظُہ یٰبُنَیَّ لَا تُشْرِک باللّٰہِ ـ اِنَّ الشِّرکَ لَظُلْمُ عَظِیمُ ـ (سورۃ لقمان : 13)

(یادکرو جب لقمان اپنے بیٹے کو نصیحت کررہاتھا تو اس نے کہا ‘ بیٹا خدا کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرنا ‘ حق یہ ہے کہ شرک بہت بڑا ظلم ہے۔)

یہاں بھی حضرت لقمان اپنے بیٹے کو شرک سے روک رہے ہیں۔ حضرت یعقوبؑ اپنے بچّوں کو توحید کی تعلیم یاد دلارہے ہیں اور یہاں شرک سے روکا جارہاہے۔ اپنی نسلوں کو مسلمان رکھنے کے لئے یہ دو قرآنی واقعات میں باپوں کا عمل ہے۔ ہمیں کس کی فکر کرنی چاہئے اس پر اُمّت کو غور و فکر کرکے اقدامی فیصلوں پر آنا ہی ہو گا۔

ایمان کی سلامتی____

                عالمی منظر نامہ ہمیں بتلا رہا ہے کہ مسلمانوں کی جان و مال‘ عزّت و آبرو ‘قتل و غارت گری کی نذر ہورہی ہیںاور ملکی منظر نامہ ہمیں اپنے ایمان کے دفاع پر مجبور کررہاہے۔ عام انسان اپنی جان بچانے کے لئے ایمان داؤ پر لگاتے ہیں لیکن مسلمانوں کا تاریخی کردار رہا ہے وہ اپنے ایمان کے لئے جان قربان کرتے ہیں۔ اصحابِ کہف اور اصحابِ اخدود کے واقعات ہمیں بتلاتے ہیں ایمان کے تحفّظ کے لئے کیا کیا جاسکتاہے۔ ’’ہم اُن کا اصل قصّہ تمہیں سناتے ہیں۔ وہ چند نوجوان تھے جو اپنے ربّ پر ایمان لے آئے تھے اور ہم نے اُن کو ہدایت میں ترقی بخشی تھی۔ ہم نے ان کے دل اس وقت مضبوط کردئے جب وہ اُٹھے اور انہوں نے یہ اعلان کر دیاکہ’’ہمارا ربّ تو بس وہی ہے‘ جو آسمانوں اور زمین کا ربّ ہے ہم اُسے چھوڑ کر کسی دوسرے معبود کو نہ پکاریں گے اگر ہم ایسا کریں تو بالکل بے جابات کریںگے‘‘(پھر انہوںنے آپس میں ایک دوسرے سے کہا) ، یہ ہماری قوم تو ربِّ کائنات کو چھوڑ کر دوسرے خدا بنا بیٹھی ہے۔ یہ لوگ اُن کے معبود ہونے پر کوئی واضح دلیل کیوںنہیں لاتے؟ آخر اُس شخص سے بڑھ کر بڑا ظالم اور کون ہو سکتاہے جو اللہ پر جھوٹ باندھے؟ اب جب کہ تم ان سے اوران کے معبودانِ غیراللہ سے بے تعلق ہوچکے ہو تو چلو اب فلاں غار میں چل کر پناہ لو۔ تمہارا ربّ تم پر اپنی رحمت کا دامن وسیع کرے گا اور تمہارے کام کے لئے سامان مہیّا کردیگا‘‘۔ (سورۃ الکہف: 13-16)

                اصحابِ کہف نے ایمان کی سلامتی کے لئے غاروں میں چلے جانا پسند کیا وہ اس وقت کی سب سے بہتر پالیسی و حکمت عملی تھی لیکن آج ایمان کی سلامتی کے لئے میدانوں میں آنا ضروری ہے یہ آج کی حکمت عملی ہوگی۔ کھڑے ہونا‘ ہمّت و حوصلوں سے مقابلہ کرنا ضروری ہے۔ ایک دوسرے واقعہ میں ایمان کے تحفّظ کے لئے جان کی بازی کو لگا دینا عین کامیابی ہے۔

                ’’مارے گئے گڑھے والے جس میں خوب بھڑکتے ہوئے ایندھن کی آگ تھی۔  جب کہ وہ اس گڑھے کے کنارے پر بیٹھے ہوئے تھے اور جو کچھ وہ ایمان لانے والوں کے ساتھ کر رہے تھے اُسے دیکھ رہے تھے اور ان اہلِ ایمان سے ان کی دشمنی اس کے سوا کسی وجہ سے نہ تھی کہ وہ اس خدا پر ایمان لے آئے تھے جو زبردست اور اپنی ذات آپ محمود ہے‘ جو آسمانوں اور زمین کی سلطنت کا مالک ہے اور وہ خدا سب کچھ دیکھ رہا ہے۔‘‘ (سورۃ البروج:4 – 9)

                مفسرین نے یہاں ایک عورت کاذکر بھی کیا ہے جس کے ہاتھوں میں دودھ پیتا بچّہ تھا۔ بچّے کی وجہ سے وہ کچھ ججھک محسوس کر رہی تھی۔ تاریخ انسانی میںیہ دوسرا بچّہ ہے حضرت عیسیٰ ؑ کے بعد جس نے بچپن میں کلام کیا ۔ کہا ماں کیا دیکھتی ہے۔ توحق پر اس میں کود جا۔ وہ عورت بچّے سمت اس آگ کے الاؤ میں کود گئی لیکن اپنے ایمان سے دستبرداری اُسے منظور نہ تھی۔ ایمان کے لئے جان کے سودے ایسی زندہ تاریخ ہے جس سے زندگی میں تازگی آتی ہے۔ سرسبز و شادابی کا عنوان بنتی ہے‘ کامیابی و کامرانی کی ضمانت بن جاتی ہے۔

وندے ماترم و سرسوتی وندنا____

بنکم چندر چٹرجی کے ناول آنند مٹھ میں مسلمانوں کے خلاف نفرت کو عام کرنے کے لئے سنسکرت و بنگالی میں نظم لکھی گئی ہے جسے وندے ماترم کہا جاتاہے۔جس میں زمین کی بھکتی و وندنا کی بات کہی گئی ہے۔ مسلمان خدا کے سوا کسی کی بھی وندنا نہیں کرسکتا ہے۔ خدا کے علاوہ کسی کے سامنے جھک نہیں سکتا اگرجھکتا ہے تو یہ شرک مانا جاتاہے۔ جسے قرآن کے تقریباًہر صفحے پر ممنوع قرار دیاگیاہے۔

قُلْ تَعَالَوْ ا اَتْلُ مَا حَرَّمَ رَبُّکُمْ عَلَیْکُمْ اَلَّا تُشْرِ کُوْ ا بِہِ شَیْئاً ـ (سورہ انعام : 151)

(اے نبیﷺ! ان سے کہو کہ آؤ میں تمہیں سناؤں تمہارے ربّ نے تم پر کیا حرام کیا ہے یہ کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو۔)

                ایسی نہ جانے کتنی آیات میں مسلمانوں کو شرک سے بچے رہنے کا حکم دیا گیاہے۔ تو مسلمان کیسے وندے ماترم اور سرسوتی وندنا کر سکتے ہیں۔ مولانا ابو الحسن علی ندویؒ نے یوپی حکومت کے وندے ماترم کو اسکولوں میں لازمی کئے جانے کے بعد یہ کہا تھا کہ ’’ہم مسلمان اپنے بچّوں کو اسکولوں سے نکال لیں گے لیکن شرکیہ کلمات نہیں کہینگے‘‘۔ اس پر یوپی حکومت نے اس وقت اپنے حکم نامے سے رجوع کرلیا تھا۔

                اس وقت راجستھان سرکار نے سرسوتی وندنا ‘ یوگا‘ سوریہ نمسکار‘ گیتا پاٹھ کو لازمی قرار دیاہے۔اس پر آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ نے بڑے سخت لہجہ میں اُسے اختیار نہ کرنے کا اعلان کیاہے۔ اس کے بعد حکومت نے اُسے ذرا ہلکا کیا ہے، اسی کے دوسرے دن مرکزی حکومت کی وزارتِ تعلیم نے 500؍ کروڑ روپئے کا بجٹ یوگا کے لئے طے کر دیا ہے۔ ڈگری  و  ڈپلومہ کورسس کو جاری کرنے، نیزیوگا ٹیچرس کی ایک فوج بنانے کا اعلان کیا ہے۔ یہ یوگا ٹیچر ہر اسکول و کالج میں متعین کئے جائیں گے اور بالخصوص مسلمانو ں کے ایمان کی آزمائش ہوتی رہے گی۔(جاری)

٭٭٭٭

(قسط سوم)

بلا تبصرہ

آر ایس ایس ودیا بھارتی کے ذریعہ مشنری کا مقابلہ کریگا

۲۶؍جولائی سے آر ایس ایس کے بھیّا جی جوشی کی صدارت میں ہونے والی ودّیا بھارتی کے عہدیداران کی میٹنگ میں طے کیا گیا کہ سنگھ شمالی مشرقی ریاستوں کے علاوہ جھارکھنڈ، اڑیسہ اور چھتیس گڑھ کے آدی باسی اکثریت کے علاقوں میں اپنی تعلیمی اداروں کی کثرت اور سرگرمیاں بڑھائیگا۔ اس وقت ملک میں آر ایس ایس کی مکھوٹہ تنظیم ودّیا بھارتی سے 30000اسکولی اور 13000تعلیمی ادارہ جڑے ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ میٹنگ میں تاریخ کو دوبارہ لکھنے پر غور کرنے کے بعد فیصلہ کیا گیا کہ خصوصاً مغل دور کی تاریخ دوبارہ لکھی جائے گی۔ اجلاس میں دلیل دی گئی کہ مہارانا پرتاپ ، شِواجی جیسے راجاؤں کے ساتھ ناانصافی ہوئی ہے۔ اسے دور کرنا ہوگا۔  (ہندی ہندوستان 27/7/15)

غریب لوگوں کو زیادہ ملتی ہے موت کی سزا بچ جاتے ہیں امیر

نیشنل لاء یونیورسٹی کے طلباء نے کمیشن کی مدد سے کی گئی تحقیق میں اعداد و شمار کی روشنی میں اس حقیقت کو اجاگر کیا ہے۔ اپنی نوعیت کی پہلی تحقیق میں 15سالوں میں موت کی سزا پانے والے 373قصور واروں کے ریکارڈ کی تحقیق سے پتہ چلا کہ ’’ان میں 3/4پسماندہ اور مذہبی اقلیتی طبقوں سے تھے۔ غریب ، زیر دست اور پسماندہ اور معاشی لحاظ سے کمزور طبقہ کے لوگوں کو ہماری عدالتوں سے سخت سزا ملتی ہے۔ کیونکہ اپنا کیس لڑنے کے لئے وہ قابل وکیل نہیں کر پاتے۔ دہشت گردی سے جڑے معاملات میں سزا پانے والوں میں 93.5%لوگ دلت اور مذہبی اقلیتوں سے ہیں۔ (صحافت 22/7/15،نئی دہلی)

 TOWARD UNFREEDOM

حجاب سے کون خوفزدہ ہے؟AIPMTکے امتحانات کے نگراں اس بات سے خوفزدہ ہیں کہ حجاب یا Nunsکے مخصوص لباس سے حفاظتی انتظامات متاثر ہو سکتے ہیں۔ اور اس تأثر کو سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے قانونی مہر لگا دی۔ عدالت نے فیصلہ میں کہا کہ اگر مذہب حجاب یا اسکارف کے لئے حکم دیتا بھی ہے تب بھی کچھ گھنٹوں کے لئے اس پر عمل نہ کرنے سے عقیدہ خطرہ میں نہیں پڑ جائیگا۔ تمام آداب کی رعایت کرتے ہوئے یہ کہنا ہوگا کہ محترم عدالت کا یہ کہنا غلط ہے۔ یہ بڑی تعداد میں طالبات کو نقصان پہونچاتا ہے۔ طالبات کو اپنی تعلیم جاری رکھنے کے لئے کچھ پابندیاں برداشت کرنی ہوتی ہیں۔ دوپٹہ یا حجاب ان میں سے ایک ہے۔ اس کے بغیر ان کے والدین یا سماج انہیں تعلیم سے روک سکتا ہے۔ عدالت اس فیصلہ کے ذریعہ طالبات کو محروم کر سکتی ہے۔ یہ بھی ایک تعجب خیز امر ہے کہ کیا یہ فیصلہ سکھ لڑکوں کی پگڑی پر بھی لاگو ہوگا؟ یا یہ کہ صرف مسلمان اور عیسائی لڑکیوں کو اس طرح کی policingکا نشانہ بنایا جائیگا۔ عدالت کا حکم شخص کے اپنے عقیدہ کے اظہار اور اس پر عمل کے حق کے جڑ پر وار کرتا ہے۔ جبکہ اپیل گذار اس بات پر راضی تھے کہ خاتون نگراں ان کے لباس کی تلاشی لے سکتی ہے۔ اس کے باوجود سپریم کورٹ نے یہ فیصلہ دیکر شہریوں کے بنیادی حقوق پر قدغن لگانے کی کوشش کی ہے۔ (انڈین ایکسپریس 29/7/15)

بینائی سے محروم مسلم اسسٹنٹ پروفیسر کو کرایہ پر مکان نہیں

مریم شمس الدین نے جو دہلی یونیورسٹی کے کسی کالج میں اسسٹنٹ پروفیسر ہیں ،نے ایک ویڈیو میں وزیر اعلیٰ کیجریوال سے درخواست کی ہے کہ وہ ان کے ذریعہ اس مسئلہ کا حل چاہتی ہیں کہ راجدھانی میں کسی کو بھی میری طرح مذہب کی بنیاد پر مکان دینے سے انکار کر دیا جائے۔ انہوں نے بتایا کہ گرمیوں کی چھٹیوں کے بعد وہ اپنی والدہ کے ساتھ جب مکان میں شفٹ ہونے لگیں تو مکان مالک نے انہیں مکان دینے سے انکار کر دیا۔ اگر مجھے ایک اسسٹنٹ پروفیسر ہوکر یہ سب برداشت کرنا پڑتا ہے تو طالبات کو کیا کچھ برداشت کرنا ہوتا ہوگا۔ (انڈین ایکسپریس 25/7/15)

آر ایس ایس کے سربراہ کو ‘Z’پلس حفاظت

آر ایس ایس کے سربراہ کو نئی حکومت نے ‘Z’پلس سیکورٹی مہیا کرائی ہے۔ یہ ذمہ داری CISFکو دی گئی ہے۔ یہ دستہ ہر وقت بھگوت کے ساتھ رہے گا۔ اس انتظام کے تحت قریب 60کمانڈو24گھنٹے حفاظت مہیّا کرائیں گے۔ (ہندی ہندوستان 8/6/15)