Uncategorized

یہ انسانیت کش جدید تعلیم و تہذیب

دہلی کے ایک ہی دن کے دو بڑے اخباروں میں انتہائی پڑھے لکھے لوگوں کے ذریعہ دل دہلانے والے جرائم کی خبر جدید تعلیم و تہذیب کے چہرہ بدنما حصہ کو اجاگر کر رہی ہے۔ پہلی خبر کے مطابق غازی آباد کے گوڑ گلوبل ولیج میں رہنے والے سافٹ ویئر انجینئر روہت شرما نے اپنی بیوی روچی شرما کو کرکٹ کے بلّہ سے مار مار کر ہلاک کردیا۔ جھگڑا صرف یہ تھا کہ روچی نوکری کرنا چاہتی تھی۔ اور روہت نوکری سے منع کرتا تھا۔ کل صبح مسئلہ پر بحث ہوئی تھی اپنے ہی 9سالہ بچے کے کرکٹ بلہ سے […]

Read More

سیمی SIMI مرحوم۔۔انصاف پسندوں کو آواز دے رہی ہے

مرحوم سیمی ۲۷ ستمبر ۱۹۷۷کو علی گڑھ میں پیدا ہوئی تھی۔ کہتے ہیں کہ جس وقت اس کا جنم ہوا علی گڑھ یونیورسٹی میں پڑھنے اور پڑٖھانے والے لا دینیت کی چھتر چھایا میں پرورش پا رہے تھے۔ وہاں سے پڑھ کر نکلنے والا ہر شخص اپنے آپ کو بڑے فخر سے کمیونسٹ بتاتا تھا۔مسلمانوں کی اولادیں پڑھ لکھ کر خدا سے اظہار برائت کرتی تھیں۔ان حالات پر روک لگانے کے لئے مسلمانوں کی اولادوں کو خدا آشنا بنانے کے لئے سیمی کو وجود میں لایا گیا تھا۔کہا یہ بھی جاتا ہے کہ یہ سب کچھ جماعت اسلامی کے زیر […]

Read More

پھول کا زخم

ہجرت کا تیسرا برس تھا۔ بدر کی لڑائی ہو چکی تھی۔ کافروں کے بڑے بڑے سردار لوگ مارے گئے تھے۔ بڑے بڑے بہادر لوگ قتل ہوگئے تھے ہر گھر میں رونا دھونا مچ رہا تھا۔ کیسے ارمان سے مکہ کے یہ بہادر ہتھیار سجا کر بدر کے میدان میں گئے تھے کہ اب تو اسلام کا چراغ بجھا کر ہی آئیں گے، یہ فتنہ ہمیشہ کے لیے ہٹا کر ہی آئیں گے جس نے سارے عرب کو پریشانی میںڈال رکھا ہے۔ عمیر ابن وہب کے دل میںبھی انتقام کی آگ بھڑک رہی تھی کیسے کیسے بہادر پہلوان، کیسے کیسے خوبصورت […]

Read More

مسلم پرسنل لا کیا ہے؟

اللہ تعالیٰ نے اپنی نازل کردہ آخری کتاب ہدایت قرآن کریم اور نبی آخر الزماں حضرت محمد رسول اللہﷺ کے ذریعہ انسانیت کی فلاحِ دنیوی اور سعادتِ اخروی کے لئے جو قانون عطا فرمایا ہے،اسے شریعت کہتے ہیں۔شریعت اسلامی کے وہ قوانین جو خاندان کی تشکیل اور خاندانی امور سے متعلق ہیں، جو انسانی معاشرہ سے تعلق رکھتے ہیں، جو سماجی تعلقات کے آداب و اصول بتاتے ہیں، جو خاندان سے وابستہ مختلف افراد کی ذمہ داریاں اور ان کے حقوق طے کرتے ہیں۔مثلاً نکاح طلاق، خلع، نان و نفقہ، مہر، میراث وغیرہ قوانین۔ قانون کے اسی حصہ کو اردو […]

Read More

نظریہ قوم پرستی ۔ ایک جائزہ

انسانی بھائی چارہ اور نیشنلزم نیشنلزم کے بارے میں بھی یاد رکھنا ضروری ہے کہ وہ کسی بھی عالمی نظریہ اور دعوت کا حریف ہے یہ اس لئے کہ قوم پرستی کی عمارت کسی خاص قوم (نسل یا علاقہ) کے لوگوں کے مفاد پر کھڑی ہوتی ہے۔ کسی بھی عالمی دعوت کے فروغ کو نیشنلزم اپنے وجود کے لئے خطرہ تصور کرتا ہے اگر قوم پرست کسی عالمی نظریہ و دعوت سے اتفاق کرتے بھی ہیں تو اسے اصل حالت پر قائم رکھنا نہیں چاہتے یہ ہی وجہ ہے کہ ہندوستان کے قوم پرستوں کو کعبہ کی جانب منھ کرکے […]

Read More

گھر واپسی ۔ حقیقت یا ڈرامہ

مسلمانوں کا عام عقیدہ یہ ہے کہ حضرت آدم ؑ پہلے انسان ہیں جنہیں زمین جانتی ہے۔ ان ہی سے حضرت حوّا کی تخلیق فرمائی گئی۔ یہ دونوں جنت میں زندگی گذار رہے تھے۔ ہمیشہ کی زندگی اور معاملات میں بالادستی کے فریب نے انہیں جنت سے نکال زمین کا واسی بنا دیا۔ آدم ؑ اور حوا سے بے شمار مردو عورت دنیا میں پھیلے۔ اس طرح دنیا میں انسانی سرگرمیوں کا آغاز ہوا۔ ان ہی انسانوں کو راہِ راست پر رکھنے اور ہدایت و نجات کی طرف توجہ دلانے کے لئے اللہ کے بے شمار چنندہ نبیوں نے کوششیں […]

Read More

بنی اسرائیل کا دور غلامی اسباب اور نتائج

واذقال موسی لقومہ۔۔وربک فقاتلا انا ھھنا قاعدون۰(المائدہ:۲۲/۲۳) ’اور جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا ……اے میری قوم!مقدس زمین میں داخل ہو جائو جو اللہ نے تمہارے نام لکھ دی ہے اور تم اپنی پشت کے بل منہ نہ موڑو،پھر تم خسارہ اٹھانے والے ہو جائوگے ۰انہوں نے جواب دیا: اے موسیٰ!بے شک اس سر زمین میں ایک زور آور قوم ہے۔ اور ہم ہر گز اس میں داخل نہیں ہوں گے یہاں تک کہ وہ لوگ اس میں سے نکل جائیں،پھر اگر وہ لوگ اس میں سے نکل گئے تو بے شک ہم داخل ہو جائیں گے۔وہ کہنے لگے: […]

Read More

عصر حاضر کا جہاد! دور نبویؐ کا جہادکیا ہے؟

روزنامہ منصف کے جمعہ ایڈیشن ’مینارہ نور‘ میں مولانا خالد سیف اللہ رحمانی کے مضمون کا عنوان ’عصر حاضر کا جہاد!‘ پڑھ کر حیرت کا جھٹکا لگا۔ فوری طور پر ذہن میں یہ سوال پیدا ہوا کہ اگر مولانا ’عصر حاضر کے جہاد‘پر روشنی ڈال رہے ہیں تو کیا ’دور نبویؐ ‘ کا جہاد کچھ اور تھا؟ کیا اسلامی اصطلاحات کی بدلتے ہوئے دور میں مزاجِ زمانہ کے اعتبار سے تعبیر پیش کی جانی چاہئے یا پھر دور نبویؐ کے پس منظر میں ان کی تشریح کی ضرورت ہے۔ مولانا نے مضمون کے آغاز میں یہ تو کہہ دیا کہ […]

Read More

ہندو راشٹر ۔ ناقابل تسلیم

تصریحات کے زیر عنوان ہم نے دسمبر ۲۰۱۴ کے شمارہ میں تحریر کیا تھا کہ پارلیمانی الیکشن کے بعد ملک کے سیاسی افق پر نمودار ہونے والا منظر یہ بتا رہا ہے کہ ہندوستان میں جمہوریت دستوری تحفظات،بنیادی حقوق اور سیاسی رجحانات میں نمایاں تبدیلیاں سامنے آسکتی ہیں۔ مراکز اقتدار پر ان لوگوں کا قبضہ ہوتا جا رہا ہے جو نہ تو متحدہ ہندوستانی قومیت پر یقین رکھتے ہیں اور نہ ہی اقلیتوں کو مساوی حقوق دینے پر راضی ہیں۔۔۔۔ تقسیم ملک کے بعد نئی سیاسی حد بندیوں اور دستوری دائرے میں تشکیل پانے والی متحدہ ہندوستانی قومیت کا رشتۂ […]

Read More

النَّبِیُّ أَوْلَی بِالْمُؤْمِنِیْنَ مِنْ أَنفُسِہِمْ

ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ’النَّبِیُّ أَوْلَی بِالْمُؤْمِنِیْنَ مِنْ أَنفُسِہِمْ۔۔۔۔۔‘ (سورہ احزاب۔ ۶) ’نبی مومنوں کے لئے ان کی جان سے زیادہ کے حق دار ہیں۔‘’ کہہ دو کہ اگر تمہارے باپ اور بیٹے اور بھائی اور عورتیں اور خاندان کے آدمی اور مال جو تم کماتے ہو اور تجارت جس کے بند ہونے سے ڈرتے ہو اور مکانات جن کو پسند کرتے ہو اللہ اور اُس کے رسول سے اور اللہ کی راہ میں جہاد کرنے سے زیادہ عزیز ہوں تو ٹھہرے رہو یہاں تک کہ اللہ اپنا حکم (یعنی عذاب) بھیجے اور اللہ نافرمان لوگوں کو ہدایت نہیں دیا […]

Read More