روپئے اور شوچالیہ۳۲
ساحر لدھیانوی نے تقریباً نصف صدی پہلے کہا تھا ۔۔۔اک شہنشاہ نے دولت کا سہارا لے کر ۔ہم غریبوں کی محبت کااڑایا ہے مذاق کہا جا تا ہے کہ ان کا خاندانی پس منظر جاگیردارانہ تھا اور وہ اپنے ماحول کے باغی تھے۔آج ساحر لدھیانوی زندہ ہوتے تو دیکھتے کہ غربت کا مذاق اڑانے کے لئے نہ شہنشاہیت کی ضرورت ہے اور نہ دولت کی ۔جمہوریت میں بھی غربت کا مذاق اڑایا جا سکتا ہے اور وہ بھی شہنشاہیت سے سنگین تر۔بادشاہ کی طرح کا کوئی فرد واحد ایسا ڈکٹیٹرنہیں جس نے بزور بازو حکومت حاصل کی ہو بلکہ آج […]