اہل ایمان کے مابین اختلافات
مشیت ایزدی کے تحت عقلیں متفاوت اور قوت ادراک مختلف ہے، جس کی وجہ سے مختلف رائیں اور اجتہادات رونما ہوتے ہیں۔قرآن کریم نے اس کی طرف اشارہ کیاکہ لوگوں کے درمیان اختلافات اللہ تعالی کی ایک کائناتی سنت ہے۔اللہ تعالی فرماتاہے: وَ لَوْ شَآءَ رَبُّكَ لَجَعَلَ النَّاسَ اُمَّةً وَّاحِدَةً وَّ لَا يَزَالُوْنَ مُخْتَلِفِيْنَۙ اِلَّا مَنْ رَّحِمَ رَبُّكَ وَ لِذٰلِكَ خَلَقَهُمْ۔ وَ تَمَّتْ كَلِمَةُ رَبِّكَ لَاَمْلَـَٔنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَ النَّاسِ اَجْمَعِيْنَ ترجمہ:بے شک تیرا رب اگر چاہتا تو تمام انسانوں کو ایک گروہ بنا سکتا تھا، مگر اب تو وہ مختلف طریقوں ہی پر چلتے رہیں گے،اور بے راہ […]