حالات ہمیشہ یکساں نہیں رہتے۔ دنیا ایک معنیٰ میں بے قراری اور تغیر کا دوسرا نام ہے۔ ایسا بھی ہوتا ہے کہ محلوں میں پیدا ہونے والے سڑکوں پر مرتے ہیںاور صحراؤں میں پیدا ہونے والے محلوں میں زندگی گزارتے ہیں۔ یہ ہمیشہ ہی ہوتا ہے۔ حالات کی مسلسل تبدیلی کا یہ عمل روز مرہ کی زندگی میں بھی جاری رہتا ہے مگر قومی و اجتماعی سطح پر یہ عمل ادوار کی شکل میں رونما ہوتا ہے۔ تغیر تبدل کے اس مسلسل عمل میں فیصلہ کن چیز تو خدا کی مشیت ہے ۔ لیکن اسباب و عوامل کے درجے […]
ایک اپیل ملت کے قائدین اور ماہرین قانون سے
27/11/14کے انڈین ایکسپریس میں پہلے صفحہ کی تشویشناک خبر میں بتایا گیا ہے کہ دہلی کے معیاری فلم ہال DVRمیں فلم کے شو سے پہلے 90سکنڈ کی دستاویزی فلم ’’آتنک واد‘‘ دکھائی جا رہی ہے۔ جسے ممبئی کے دستاویزی فلمساز برج بھوشن سنگھ نے بنایا ہے۔ فلم میں دکھایا گیا ہے کہ سفید کرتا پائجامہ اور ترنگا ٹوپی پہنے ایک نوجوان کو دوسرے سفید ٹوپی والے نوجوان بم کا پیکٹ دیتا ہوا 3لاکھ روپیہ دیتا ہوا کہتا ہے کہ ’’قسمت کی چابی ہے‘‘ لے لو اور بم رکھ دو۔ ترنگا ٹوپی پہننے والا مسلم نوجوان منع کر دیتا ہے […]
انصاف
۳۰؍ستمبر ۲۰۱۰ء ! الہ آباد ہائی کورٹ کی لکھنؤ بینچ بابری مسجد ملکیت مقدمے کا عجیب وغریب فیصلہ سنا چکی تھی۔ ثبوت پر اعتقاد کو فوقیت دیتے ہوئے جج صاحبان نے ایک ایسا فیصلہ سنادیا تھا جس سے ایک فریق اور اس کے ہمنوائوں کے جذبات بری طرح مجروح ہوئے تھے ۔ٹی وی چینلوں پر فیصلے کو لے کر تنقیدی نشریات جاری تھیں۔ شہر کے گنجان آبادی میں واقع ایک گھر میں کئی دوست چائے کی چسکیوں کے درمیان ٹی وی پر نظریں گڑائے تھے۔ ’’حدہوگئی یہ تو‘‘۔ احسان نے مایوسی کے عالم میں کہا۔ ’’یہ بھی بھلا کوئی فیصلہ […]
روپئے اور شوچالیہ۳۲
ساحر لدھیانوی نے تقریباً نصف صدی پہلے کہا تھا ۔۔۔اک شہنشاہ نے دولت کا سہارا لے کر ۔ہم غریبوں کی محبت کااڑایا ہے مذاق کہا جا تا ہے کہ ان کا خاندانی پس منظر جاگیردارانہ تھا اور وہ اپنے ماحول کے باغی تھے۔آج ساحر لدھیانوی زندہ ہوتے تو دیکھتے کہ غربت کا مذاق اڑانے کے لئے نہ شہنشاہیت کی ضرورت ہے اور نہ دولت کی ۔جمہوریت میں بھی غربت کا مذاق اڑایا جا سکتا ہے اور وہ بھی شہنشاہیت سے سنگین تر۔بادشاہ کی طرح کا کوئی فرد واحد ایسا ڈکٹیٹرنہیں جس نے بزور بازو حکومت حاصل کی ہو بلکہ آج […]
مدارس میں بھی بی جے پی چلائے گی رکنیت سازی مہم
لکھنؤ (نامہ نگار) فرقہ پرست شبیہ کے الزامات سے باہر نکلنے کی کوششوں میں مصروف بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اپنی رکنیت سازی مہم کے تحت اب مدارس سے بھی اپنے نئے ممبران بنائے گی۔ اتر پردیش میں پارٹی کی ڈیجیٹل رکنیت سازی مہم ۱۱ نومبر سے شروع ہو رہی ہے۔ اس کا آغاز یہاں مرکزی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ کریں گے۔ پارٹی کے ریاستی جنرل سکریٹری اور رکنیت سازی مہم کے انچارج سوتنتر دیو سنگھ نے آج یہاں بتایا کہ پارٹی مسلمانوں کو بھی اپنے ساتھ جوڑنے کی کوششوں میں مصروف ہے اور اس کی ذمہ داری پارٹی […]
تو اس لئے دیا گیا نوبل انعام
’’سوات بدھ حکمرانوں کی مملکت تھا۔ محمود غزنوی اپنے ساتھ اسلام لایا اور حکمراں بن بیٹھا۔ ہمیں بدھا کے مجسموں پر فخر تھا جسے طالبان نے توڑ دیا۔ جنرل ضیا ء الحق ایک ڈراؤنا شخص تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہمارے ملک میں ہاکی ایک نمایاں کھیل رہا ہے مگر ضیا ء الحق نے خواتین کھلاڑیوں کو نیکر کے بجائے ڈھیلی شلوار پہنا دیں۔ ہماری درسی کتابوں میں ہندوؤں پر لعن طعن کی گئی۔ سلمان رشدی کی کتاب کے خلاف ISIکے مُلّانے احتجاج شروع کیا لیکن میرے والد اُس کے حق اظہار آزادی کو تسلیم کرتے تھے۔ ہمارے شہر میں لوگوں کو لالٹین جتنی […]
اسکولی سطح پر مخلوط تعلیم تباہی کا پیش خیمہ
تعلیم کا واضح مطلب ہے چہار طرفی نشو نما ۔ شخصیت سازی، قوم و ملت کے لئے بہترین نو جوان، بہترین انجینئر ڈاکٹر اور وکیل کے علاوہ قانونی، اخلاقی، تہذیبی، سماجی و معاشرتی اعتبار سے بہترین پڑوسی ،بہترین ماں، بہن، بیٹی اور بیوی، بہترین باپ، بیٹا، بھائی اور شوہر، اور ان سب کے ساتھ ایک بہترین انسان کی تعمیر جس کے ساتھ رہ کر کسی کو کسی بھی طرح کا کوئی خطرہ لاحق نہ ہو بلکہ وہ خود کو مامون و محفوظ سمجھے، سبھی ایک دوسرے کے معاون و مددگار بن سکیں اور ایک بہترین معاشرہ کی تعمیر ممکن ہو […]
تاخلافت کی بنا دنیا میں ہو پھر استوار – 4
اس میں کوئی شک نہیں کہ بحالاتِ موجودہ خلافت کا قیام سخت مشکل اور صبر آزما کام ہے۔ جس کے لئے محکم یقین اور پیہم جدو جہد کے ساتھ ساتھ باریک بینی اور دور اندیشی بھی درکار ہے۔ گذشتہ تین شماروں میں ہم اس جانب توجہ دلا چکے ہیں، اور اس راہ کی چند مشکلات کی نشان دہی بھی کر چکے ہیں۔ اسی کے ساتھ خلافت کے قیام کی ضرورت اور اہمیت سے مطلع کرتے ہوئے یہ بتانے کی کوشش بھی کی گئی ہے کہ خلافت کا قیام مسلمانوں کی صرف سیاسی ضرورت ہی نہیں بلکہ منصبی ذمہ داری بھی […]
بنی اسرائیل او ر امت مسلمہ قرآن و حدیث کی روشنی میں
وَاِنِّیْ جَاعِلُکَ لِلنَّاسِ اِمَامًاکے خدائی اعلان کے ذریعہ حضرت ابراہیم ؑ کو امامت و پیشوائی کا جو منصب اللہ تعالیٰ نے عطا فرمایا تھاوہ انہیں وراثتاًنہیں ملا تھا بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کا عطیہ خاص تھا۔اس انعام سے قبل اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کو مختلف امتحانوں میں ڈال کر اطاعت و وفاداری کی اچھی طرح جانچ کی ،جب وہ اس جانچ میں کھرے اترے تب ان کو یہ منصب ِپر وقار عطا ہوا۔یہ منصب تمام تر صفات پر مبنی ہے ،اس کا کوئی تعلق بھی نسب اور خاندان سے نہیں۔اسی لیے جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے یہ […]
وہ چور تھے لشکر کے رکن نہیں تھے
چند دنوں قبل پولیس نے دعویٰ کیا تھا کہ انہوں نے لشکر طیبہ کا خاموش سیل پکڑا ہے جو بڑے حملہ کی تیاری کر رہا تھا۔ اس کے پاس سے 3اے۔کے۔ 47 پستول اور وائرلیس سیٹ برآمد ہوئے ہیں۔ یہ پچھلے کئی سالوں میں کوئی بڑا ہتھیار کا ذخیرہ تھا جو پکڑا گیا ہے۔ دو تین روز بعد معلوم ہوا کہ یہ لشکر کے ارکان نہیں چور تھے۔ اور یہ اسلحہ انہوں نے سری نگر کورٹ کے مال خانہ سے سیلاب کے دوران چرایا تھا۔ (انڈین ایکسپریس،نئی دہلی،6/11/14)