فرقہ پرستی نے ملک کو جس تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے قبل اس کے کہ میں اس پر، اس کے اسباب اور سد باب پر اپنے خیالات کااظہار کروں ،میں آپ کی خدمت میں کلام مجید میں موجود اللہ تعالی کے چند فرمودات پیش کرنا چاہتا ہوں، جن میں اللہ تعالی نے ہمیشہ آپس میں میل وملاپ، محبت اور خلوص کا حکم دیا ہے اور مذہب میں نفاق پیدا کرنے سے سخت منع کیا ہے۔ (۱)’’اور سب مل کر اللہ کی ہدایت اور دین کے رشتہ کو مضبوط پکڑے رہنا اور متفرق نہ ہونا اور خدا کی اس […]
تصور امت ایمان اور کفر کی کشمکش کا ایک پہلو
(ایمان اور کفر کا معرکہ جہاں انسانوں کو مومن و کافر میں تقسیم کرتا ہے وہیں اس کا اثر علاقوں اور خطوں پر بھی مرتب ہوتا ہے۔ چنانچہ جہاں ایمان کی حکومت ہو وہ علاقے دارالاسلام کہلاتے ہیں اور جہاں کفر حاکم و قانون بنے دارالکفر کی حیثیت پاتے ہیں۔ بدقسمتی سے مسلمان توحید کے اس عظیم پہلو سے ہی ناواقف ہیں اور نتیجۃً وہ دارالکفر کو اپنا گھر سمجھ کر مطمئن بیٹھے ہیں۔ جس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ دوستی دشمنی اللہ کی بجائے وطنوں اور ملکوں کی خاطر ہونے لگی اور اسلامی وحدت پارہ پارہ ہوگئی۔ یہ […]
موجودہ مسلم ریاستیں اور خلافت اسلامیہ
(اس مضمون میں ہم خلافت اور موجودہ مسلم ریاستوں کے بنیادی فرق پر روشنی ڈالیں گے، جس سے یہ واضح ہو جائے گا کہ اکثر و بیشتر مسلم ریاستیں خیر القرون کی خلافت تو کجا خلافتِ عثمانیہ اور دورِ مغلیہ کے ہم پلہ بھی نہیں۔) دراصل ریاستوں کی یہ غیر اسلامی تشکیل ہی امت کے اتحاد میں سب سے بڑا روڑا ہے۔ ادارہ اول:قومی بمقابلہ اسلامی ریاست خلافت اور موجودہ ریاستوں کا پہلا فرق یہ ہے کہ ہم نے قومی ریاستیں قائم کر لی ہیں،جبکہ پہلے کبھی ایسا ہوا نہ تھا۔قوم کا مطلب ہے:ایک مخصوص جغرافیائی حدود کی بنا پر […]
اہل ایمان کے مابین اختلافات
مشیت ایزدی کے تحت عقلیں متفاوت اور قوت ادراک مختلف ہے، جس کی وجہ سے مختلف رائیں اور اجتہادات رونما ہوتے ہیں۔قرآن کریم نے اس کی طرف اشارہ کیاکہ لوگوں کے درمیان اختلافات اللہ تعالی کی ایک کائناتی سنت ہے۔اللہ تعالی فرماتاہے: وَ لَوْ شَآءَ رَبُّكَ لَجَعَلَ النَّاسَ اُمَّةً وَّاحِدَةً وَّ لَا يَزَالُوْنَ مُخْتَلِفِيْنَۙ اِلَّا مَنْ رَّحِمَ رَبُّكَ وَ لِذٰلِكَ خَلَقَهُمْ۔ وَ تَمَّتْ كَلِمَةُ رَبِّكَ لَاَمْلَـَٔنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَ النَّاسِ اَجْمَعِيْنَ ترجمہ:بے شک تیرا رب اگر چاہتا تو تمام انسانوں کو ایک گروہ بنا سکتا تھا، مگر اب تو وہ مختلف طریقوں ہی پر چلتے رہیں گے،اور بے راہ […]
عدم اختلاف کا دور سعید
(عہد نبوت) دور نبوی میں فقہی مباحث کا فقدان: معلوم ہونا چاہیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں فقہ ایک فن کی طرح مدون نہیں تھی اور نہ اس وقت ا حکام کے باب میں بحث کا یہ طریقہ تھا جو اب ہمارے فقہا میں رائج ہے کہ وہ اپنی انتہائی دماغی قابلیتیں صرف کرکے دلائل کے ساتھ ایک ایک چیز کے علیحدہ علیحدہ امکان اور شرائط اور آداب بیان کرتے ہیں، مسائل کی فرضی صورتیں سامنے رکھ کر ان پر بحث کرتے ہیں اور جن کا حصر بیان کیا جا سکتا ہو ان کا حصر […]
اِنَّ ھٰذِہٖ اُمَّتُکُمْ اُمَّۃً وَّاحِدَۃ۔ (القرآن)
امت مسلمہ کے قیام کی دعاحضرت ابراہیم خلیل اللہ اور حضرت اسمٰعیل ذبیح اللہ نے اس وقت کی تھی جب وہ خانہ کعبہ کی تعمیر کر رہے تھے ۔ ’’رَبَّنَا وَاجْعَلنَا مُسْلِمَیْنِ لَک وَ مِنْ ذُرِّیَتِنَا اُمَّۃً مُسلِمَۃً لَّک‘‘ اے ہمارے پروردگار ہم دونوں باپ بیٹوں کو اپنا سچا فرمانبردار بنا اور ہماری اولاد میں سے ایک ایسی امت پیدا فرما جوتیری فرمانبردار ہو اور تیرے دین کی علمبردارہو۔ امت کا لفظ عربی زبان کے لفظ ’’ ام‘‘ سے نکلا ہے ، ’’ ام‘‘ کے لفظی معنیٰ عربی زبان میں ماں کے بھی ہیں ، اور کسی چیز کی اصل […]
اتحادِ ملّت کی پانچ بنیادیں
جس انتشار اور صورتِ حال سے ہم دوچار ہیں] اس کا اگر تجزیہ کیا جائے تو صاف معلوم ہوجاتا ہے کہ اس کی اصل وجہ اتفاق کی بنیادیں تلاش کرنے میں ہماری ناکامی ہے۔ ہمیں اپنی مرضی سے اپنی زندگی کی تعمیر کرنے کا اختیار حاصل ہوئے [برسوں] گزر چکے ہیں، مگر جہاں ہم پہلے روز کھڑے تھے وہیں آج بھی کھڑے ہیں۔ وہ چیز کیا ہے؟ اس کے سوا اور کچھ نہیں کہ ہمارے ہاں [زمانۂ دراز] سے اختلافات کی فصلِ بہار آئی ہوئی ہے۔ فکرونظر کے اختلافات، اغراض اور خواہشات کے اختلافات، گروہوں اور ٹولیوں کے اختلافات [مسلکوں […]
اختلاف امت اور ملی اتحاد کی سبیل
ملت اسلامیہ کی موجودہ صورت حال قرآن وسنت میں اتحاد و اتفاق کی زبردست تلقین اور اخوت اسلامی اور بھائی چارہ کی عملی مثالوں کے باوجود آج پورا عالم اور ہندوستانی مسلمان اپنے فرض سے غافل دشمنوں کے نرغے میں، مسلک و برادری اور فرقوں میں کٹے پھٹے، باہم سرپیکار ہیں۔ ہندوستانی مسلمانوں کے درمیان تین بڑے دائروں میں اختلاف و انتشار پایا جاتا ہے: ۱۔مسلکی اختلافات ۲۔برادری کے اختلافات ۳۔جماعتی اختلافات مسلکی اختلافات مسلکی لحاظ سے بھارت کی پوری آبادی شیعہ اور سنی دوخانوں میں بٹی ہوئی ہے اور پھر یہ دونوں خانے بھی مختلف ذیلی خانوں میں منقسم […]
‘26/11 was planned to kill Karkare’
Former IG S M Mushrif, in his book Who Killed Karkare?, blames the ‘Brahminists’ for the Nov 26 attack on Mumbai. We bring you excerpts from it and an exclusive interview. Muslim terrorism in India is a figment of imagination, a facade created by the Intelligence Bureau to cover up the real terrorism in the country perpetrated by Brahminists to establish Brahminist hegemony,” says former Inspector General of Police, Maharashtra, S M Mushrif, who has also authored the book, Who killed Karkare?. And by Brahminists, he means, “Brahmins are not Brahminists. That is why I even appeal to Brahmins to […]
سدومیت کو قانونی درجہ دینا گویا زمین کی گردش کو اُلٹ دینا ہے
دفعہ 377کو نظر انداز کرتے ہوئے دہلی ہائی کورٹ نے غیر ملکی آقاؤں کی ایماء پر جو گھناؤنا فیصلہ دیا تھا، اسے سپریم کورٹ نے ردکر دیا۔ ہر طرف سے سپریم کورٹ پر تعریف کے ڈونگرے برسنے لگے،حالانکہ اس سے قبل ہائي کورٹ کی مذمت کرنے کی کوئی ہمت نہ کرسکا۔ نیز سپریم کورٹ کایہ فیصلہ بدرجہ مجبوری ہی تھا، اوراس نے واضح بھی کردیا کہ سدومیت کو قانونی بنانے کے لیے قانون بنایا جائے،جس سے واضح ہےکہ دستوری بندشوں کی وجہ سے ہی سپریم کورٹ نے یہ فیصلہ دیا، ورنہ جنسی آوارگی، بغیر شادی کے ساتھ رہنا وغیرہ وغیرہ […]