دین میں غلو

قلْ یٰٓاَھْلَ الکِتَابِ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔سَوَآ السَّبِیلِ (سورۃ المائدہ ۷۷)
(کہواے اہل کتاب! اپنے دین میں ناحق غلو نہ کرواور ان لوگوں کے تخیلات کی پیروی نہ کروجو تم سے پہلے خود گمراہ ہوئے اوربہتوں کو گمراہ کیااور سَوَآئِ السَّبِیلِ سے بھٹک گئے)
یٰٓاَھْلَ الکِتٰبِ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔وَکَفٰی بِاللہِ وَکِیلاً (سورہ النساء ۱۷۱)
(اے اہل کتاب! اپنے دین میں غلو نہ کرواور اللہ پر حق کے سوا کوئی اور بات نہ ڈالو، مسیح عیسٰی ابن مریم ؑ تو بس اللہ کے ایک رسول اور اس کا ایک کلمہ ہیں جس کو اس نے مریم کی طرف القا فرمایااور اس کی جانب سے ایک روح ہیں۔پس اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لاؤاورتثلیث کا دعوٰی نہ کرو۔بازآجاؤ یہی تمہارے حق میں بہتر ہے۔معبود تو بس تنہا اللہ ہی ہے۔وہ اس سے پاک ہے کہ اس کے اولاد ہو۔اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں اور جو کچھ زمین میں ہے اور اللہ کارساز بس ہے)
اہل کتاب کی ایک بڑی گمراہی دین میں غلو ہے۔یعنی حقیقت و اعتدال سے متجاوزہوکر بہت دور چلے جانا۔اگر کسی کی محبت و تعظیم پر آئے تواتنی تعظیم کی کہ اسے خدا کے درجہ تک پہنچادیا۔مخالفت پر آئے تو اتنی مخالفت کی کہ اس کی صداقت ہی سے انکار کردیا۔اگرزہد وعبادت کی راہ اختیار کی تواتنی دور تک چلے گئے کہ رہبانیت تک پہنچ گئے۔اگر دنیا کے پیچھے پڑگئے تواتنے چھوٹ گئے کہ نیک و بد کی تمیز ہی اٹھادی۔یہود و نصارٰی اسی گمراہی کا شکارہوئے۔یہاں خطاب عیسائیوں سے ہے کہ انہوں نے حضرت عیسٰی ؑ کی محبت و تعظیم میں اس قدر غلو کیا کہ انہیں خداکابیٹا بنادیا اور ایک خدا کی جگہ تین خداؤں کا اعتقاد پیداکرلیایعنی باپ، بیٹا اور روح القدس۔ (ترجمان القرآن جلد دوم ، امام الہند مولاناابوالکلام آزادؒ ، ص ۵۷۶۔۵۷۸)
مگر صد افسوس اس بات کا ہے کہ یہودونصارٰی تو بہت دور کی بات ہے ہمارے اپنے مسلمان دین میں اتنا غلوپیداکرلئے ہیں کہ بس۔اللہ ہی ان پر رحم کرے۔ نہ صرف وہ غلو کرنے میں مشغول ہیں بلکہ اپنی آل اولاد اور دوست احباب کو بھی غلو کرنے پر اکسا رہے ہیں۔ہمیں ان بھائیوں کی گمراہی سے خارج ہونے میں مدد کرنی چاہئے۔
نبی ؐ نے حج کے دوران عبداللہ بن عباس ؓ کوحکم دیا کہ کنکری چنو۔جب آپ کنکری لائے تو نبی ؐ نے کنکریوں کو ہوا میں اچھالا اور فرمایا کہ ان کے برابر کنکریاں چن کر شیطان کو مارو۔اور اس میں زیادتی نہ کرو۔مگر آج کل اکثر دیکھا جاتاہے کہ جوش و جذبہ سے ہاتھ میں جو چیز مل جاتی ہے مثلاًچپل، جوتے، پتھر، اینٹ کے ٹکڑے، لاٹھی وغیرہ پھینک کر شیطان کو مارتے ہیں اور اس بات کا خیال نہیں کرتے کہ اگروہ چیز سامنے کے کسی آدمی کو لگ جائے تو اسے زخمی کردے گی اورارکان کی تکمیل پر کامیابی کی بجائے کسی کے زخمی ہونے پر گنہگاربن جائیں۔
حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ نبی ؐ کی بیویوں کے پاس تین آدمی آئے اور نبی ؐ کی عبادت کے متعلق پوچھا۔ان کو خبر دی گئی۔انہوں نے اس کو کم جانا اورکہنے لگے: ہماری نبی ؐ کے ساتھ کیا نسبت ہے؟ اللہ تعالی نے آپ ؐ کے پہلے اور پچھلے گنا ہ بخش دئے ہیں۔ایک آدمی کہنے لگا کہ میں ساری رات نماز پڑھاکروں گا۔دوسرے نے کہا میں ہمیشہ دن کو روزہ رکھوں گااور افطارنہ کروں گا۔اورتیسرے آدمی نے کہا کہ میں عورتوں سے الگ رہوں گا اور شادی نہ کروں گا۔نبی ؐ ان کے پاس آئے اور فرمایا: تم نے ایسی ایسی باتیں کہی ہیں۔خبردار! اللہ کی قسم میں تمہاری بنسبت اللہ سے بہت ڈرتاہوں اور تقوٰی کرتاہوں۔ لیکن میں روزہ بھی رکھتاہوں اور افطار بھی کرتاہوں۔نماز بھی پڑھتاہوں اور سوتابھی ہوں۔اورعورتوں سے نکاح بھی کیا ہے۔ جس نے میرے طریقے سے اعراض کیا وہ مجھ سے نہیں ہے۔(متفق علیہ)
حج کے دنوں میں حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے ایک عورت کودیکھا کہ وہ خاموش حج کررہی ہے یعنی کسی سے بولتی نہیں۔وجہ پوچھی تو معلوم ہوااس نے خاموش حج کا ارادہ کیا ہے۔اس عورت کو فوراً منع کیا گیااور فرمایا گیا کہ ایساجائز نہیں۔رسول ؐ اللہ نے ایسا نہیں فرمایا۔یہ جاہلیت کا کام ہے۔(بخاری، باب الجاہلیہ)
حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی خلافت میں ایک دن عید کی نماز سے قبل ایک آدمی نفل پڑھنے لگاتو آپ ؓ نے اس کو نفل پڑھنے سے روک دیا۔اس آدمی نے کہا کہ نماز میں دیر تھی لہٰذامیں نفل پڑھنے لگاتھا اور اللہ مجھے نماز پڑھنے پر سزا نہ دے گا۔حضرت علی ؓنے فرمایاکہ میں بالیقین جانتاہوں کہ اللہ تعالی تمہیں نمازپڑھنے پر سزانہیں دے گامگررسول ؐاللہ کی مخالفت کی وجہ سے ضرور سزادے گا۔(الجنّہ ص ۱۶۵، نظم البیان ص ۷۳)
ایک شخص نے حضرت ابن عمر ؓ کے پہلو میں چھینک ماری اور کہا: اَلْحَمْدللہِ وَالسَّلَام عَلٰی رَسولؐ اللہ ۔ آپؓ نے فرمایا کہ میں تو اس کا قائل ہوں کہ اَلْحَمْدللہِ کہیں۔مگر ہمیں جناب رسول ؐاللہ نے یہ تعلیم نہیں دی کہ اَلْحَمْدللہِ وَالسَّلَام عَلٰی رَسول اللہ کہیں۔(ترمذی ج ۲ ص ۹۸، مشکٰوۃ ج ۲ ص ۴۰۶) یعنی اس نے جو مزید کلمات کہے وہ غلو میں شامل ہیں۔
حضرت مجاہد ؒ (المتوفی ۱۰۲ھ) فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت عبداللہ بن عمرؓ کے ساتھ ایک مسجد میں نمازپڑھنے کی غرض سے داخل ہوا۔ اذان ہوچکی تھی۔ مؤذن نے الصلوٰۃ، الصلوٰۃ کی ندا لگائی تو حضرت عبداللہ بن عمر ؓ نے کہا کہ تو پاگل ہے۔تیری اذان میں جو دعوت تھی کیا لوگوں کو بلانے کے لئے کافی نہ تھی؟ حضرت ابن عمر ؓ نے مجاہد ؒسے فرمایا: مجھے یہاں سے لے چل کیونکہ یہ بدعت ہے۔(ابوداؤد ج۱ ص ۷۹)۔صد افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑرہاہے کہ آج کل انڈیا اورپاکستان کی مسجدوں میں اس کا رواج عام پایا جاتاہے۔ اور جس مسجد میںاس رواج کو نہیں قائم کیا اس مسجد کو وہابی کی مسجد کہا جاتاہے۔
حضر ت عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں کہ رسولؐ اللہ نے فرمایا: مَنْ اَحْدَثَ فِی اَمْرِنَاھٰذَامَالَیْسَ مِنْہ فَھوَرَدٌّ (جس نے دین میں کوئی ایسا کام کیاجس کی بنیاد شریعت میں نہیں ہے تووہ کام مردود ہے)(بخاری و مسلم)
حضرت امام مالک ؒ فرماتے ہیں کہ جو رسم و رواج صحابہ کرام ؓ کے عہد میںدین میں داخل نہ تھاوہ آج بھی دین نہیںبن سکتا۔وہ دین اس لئے نہیں بن سکتا کہ وہ اگر کوئی نیکی یا کار ثواب ہوتا توصحابہ کرام ؓ اس پر عمل کرتے ۔جو نیکی صحابہ ؓ سے منقول نہیں ہے وہ دراصل نیکی نہیں بلکہ بدعت ہے۔
ارشاد رسول اکرم ؐ ہے: اِیَّاکم وَالغلوِّ فِی الدِّینِ فَاِنَّمَاھَلَکَ مَنْ کَانَ قَبْلَکم بِالغلوِّ فِی الدِّینِ (دین کے معاملے میںغلو سے مت کام لوکیونکہ تم سے پہلے لوگوں کو دین میں غلواورمبالغہ آمیزی نے ہلاک کردیا)(احمد، نسائی)
سب سے پہلے بدعت حضرت نوح ؑ کے زمانے میں ہوئی۔ شیطان نے لوگوں کو بہکا یا کہ جب کسی عالم کا انتقال ہوجاتاہے تو تم کیسے انہیں بھول جاتے ہو۔ان کو یاد کرنے کے لئے کیوں کچھ نہیں کرتے؟ پھر اس نے ان کی تصویریں بناکر گھر میں لگانے کو کہا۔اس پرلوگوں نے عمل کرنا شروع کیا۔جب تصویریں وقت کے ساتھ مٹنے لگیں تو شیطان نے لوگوں کو بہکایا کہ ان کی تصویروں کے بدلے ان کے مجسمے بنالیں۔اس طرح بتوں کی پوجا کی ابتداء ہوئی۔
ابوسعید خدری ؓ فرماتے ہیں کہ ایک غزوہ کے بعد نبی اکرم ؐ مال غنیمت تقسیم کررہے تھے اتنے میں ایک آدمی آیاجس کا نام ذوالخویطر تھا۔ اس کے گال ابھرے ہوئے تھے، پیشانی چھوٹی تھی، وہ بہت ہی عجیب قسم کا تھا۔اس نے کہا: اے محمدؐ! انصاف سے بانٹو۔نبی ؐ نے فرمایا: تم نامراد ہو۔جو آسمان کی خبروں پر امانت دار ہو تو مال غنیمت پر کیسے انصاف نہیں کرے گا؟ ایک صحابی نے کہا: آپ ؐ حکم دیں تو میں اسے قتل کردوں۔آپ ؐ نے فرمایا نہیں اسے چھوڑدو۔اس کی نسل سے ایک ایسی قوم نکلے گی کہ قرآن بہت شیریں انداز میں پڑھیں گے مگر قرآن ان کے حلق سے نہیں اترے گا۔پڑھیں گے مگر عمل نہیں کریں گے۔قرآن پر ان کا تدبر نہیں ہوگا۔یہ مسلمانوں کوقتل کریں گے اورکافروں کو چھوڑدیں گے۔ ایسی نسل سے خوارج پیدا ہوں گے۔
علماء سے شریعت کو نہیں سمجھیں گے بلکہ ان سے نفرت کریں گے۔سمجھیں گے کہ یہ دین کو اچھی طرح سمجھتے ہیں۔ انکو علماء کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔علماء میں بھی فرق اور تمیز کریں گے کہ فلاں عالم صحیح ہے اور فلاں غلط۔جو شخص بھی اللہ اور رسول کی سچی باتیں کرے گا اس کا احترام نہیں کریں گے۔یہ بھی دین میں ایک غلو ہے۔
حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا کہ جو بھی کہے کہ اللہ کے نبی ؐ غیب کاعلم جانتے ہیں وہ اللہ پر ظلم کرتا ہے۔نبی ؐ نے یہ بھی فرمایا کہ میری قبر کو کوئی سجدہ گاہ نہ بناؤ۔دین پر اتنا عمل کرو جتنا میں نے کہا۔دین میں زیادتی نہ کرو۔مرید اپنے اولیاء پر عقیدہ رکھتے ہیں کہ مرنے کے بعد بھی اولیاء ان کے اعمال کو خوب جانتے ہیں جو کہ سچ نہیں ہے۔ان کی قبروں پرچادریں چڑھاتے ہیں، سجدے کرتے ہیں اورمنتیں اورمرادیںمانگتے ہیں جو شرک میں شامل ہے۔اس بدعت و شرک کو روکنے کے لئے سعودی حکومت نبی ؐ کے روضہ مبارک کے قریب جاکر جالی کو ہاتھ لگانے سے منع کرتی ہے اور زائرین کو روضہ اقدس کے قریب بھی جانے سے روکتی ہے۔
غلودو جگہ پائے جاتے ہیں۔ایک عقیدے میں اور دوسرا اعمال میں۔نبی اکرم ؐ نے فرمایا: میں اللہ کا بندہ ہوں اور رسول ہوں۔جو کہتے ہیں کہ ہم جو چاہے نبی ؐ سے لے سکتے ہیںیا اولیاء اللہ سے لے سکتے ہیں وہ دین میں غلو کرتے ہیں۔اسی غلو کی وجہ سے قومیں برباد ہوئی ہیں۔
عبداللہ بن مسعود ؓ کی حدیث میں ہے کہ دین میں غلو کرنے والے تباہ ہوتے ہیں۔صحیح رہنمائی نہ ہونے کی وجہ سے غلو میں مبتلا ہیں۔کتنے لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ کوئی عالم نہیں ہے یا یہ کہ صرف ایک یا دو کو عالم مانتے ہیں اور بقیہ کو بے وقوف۔ حضرت معقل بن یسار ؓسے مروی حدیث میں ہے کہ رسول ؐاللہ نے فرمایا: میری امت کے دوگروہ ایسے ہیں جن کو میری شفاعت نصیب نہیں ہوگی۔ایک ظالم اور غاصب بادشاہ اوردوسرادین میں غلو کرنے والے لوگ۔
غلو کے کئی اسباب ہیں۔سب سے بڑا سبب یہ ہے کہ دین میں ناواقفیت۔جب تک انسان کو دین کا علم نہیں ہوتا وہ نہیں جان سکتا کہ دین میں فرض کیاہے ، سنت کیا ہے، واجب کیا ہے اور مستحب کیا ہے؟ ہمارا رب کون ہے اور ہمارے آخری پیغمبر کون ہیں؟ وغیرہ ۔ کچھ لوگ ادب کے لئے ٹوپی پہنے بغیر مسجد میں داخل نہیں ہوتے ۔ اگر کوئی ٹوپی پہنے بغیر مسجد میں آگیا تو ہنگامہ برپا کردیں گے کہ اس نے بے ادبی کی ہے۔
اسلام میں کوئی جبرنہیں ہے مگر ہر فعل میں اعتدال کی ضرورت ہوتی ہے۔اس لئے امت محمدیہ کو امت وسط بھی کہتے ہیں۔اللہ کے نبی ؐ ہر معاملہ میں اعتدال پسند تھے۔ جب تک آپ ؐ مکہ میں تھے عقیدے پر کام کرتے رہے۔اگر عقیدہ صحیح نہیں تو عمل پر عمل بھی کیا جائے تو اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔عقیدہ اور عمل کے لئے جہاد بہت لازمی ہے۔ اور جہاد بالنفس سب سے اعلی اور بہترین جہاد ہے۔ کچھ لوگ عبادت میں اتنا مشغول ہوجاتے ہیں کہ ان کو ان کے اپنے گھر کی بھی خبر نہیں ہوتی۔نبی ؐ اس کو پسند نہیں فرماتے تھے۔آپ ؐ فرماتے تھے کہ عبادت اتنی کرو جتنی میں کرتاہوں۔اپنے گھر والوں کی بھی خبر رکھا کرو۔اپنے ہاتھ سے بیوی کو ایک نوالہ کھلانا بھی ایک عبادت ہے۔
کسی کی حد سے زیادہ تعریف نہ کریں کہ وہ غلو میں شامل ہوجائے۔ایک مرتبہ نبی ؐ گھر تشریف لائے تو ایک خاتون بیٹھی ہوئی تھیں۔آپؐ نے پوچھا یہ کون ہے؟ ام المؤمنین حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا کہ یہ خاتون بہت عبادت گزار ہیں۔ ان کی عبادت کے چرچے ہرجگہ پھیلے ہوئے ہیں۔وغیرہ وغیرہ۔آپ ؐ نے روک دیا اور فرمایا کہ اتنی تعریف نہ کرو کہ کہیں یہ غلونہ بن جائے۔
بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ اللہ تعالی کبھی بیزار نہیں ہوتا۔اس وقت تک بیزارنہیں ہوتا جب تک کہ تم بیزارنہ ہو۔مداومت اختیار کرو۔اللہ کے پاس سب سے زیادہ پسندیدہ عمل وہ ہے جس میں مداومت ہو۔ غلو اسے بھی کہتے ہیں جب کہ کسی جمعہ میں یا عید میں خطبہ یا نماز طویل کردیتے ہیں جس سے ضعیف لوگوں اور بچوں والی خواتین کوتکلیف ہوتی ہے۔ایک مرتبہ حضرت معاذ بن جبل ؓنماز پڑھارہے تھے اور ایک کسان آپ کے مقتدی میں تھے۔حضرت معاذ ؓنے پہلی رکعت میں سورہ البقرۃ پڑھایا اور پھر اگلی سورت پڑھنے لگے۔یہ کسان صحابی تھک گئے اور انہوں نے نماز توڑکرخود سے نماز پڑھی اور سوگئے۔نبی ؐ کو معلوم ہواتو آپ ؐ نے سبب پوچھا۔انہوں نے عرض کیا: یا رسولؐ اللہ! میں محنت کرکے آتاہوں اور تھک جاتاہوں۔ اتنی لمبی نماز مجھ سے نہیں پڑھی جاتی۔ ہم کمزورہیں اور اتنی لمبی نماز نہیں پڑھ پاتے۔آپؐ نے حضرت معاذ ؓسے فرمایا کہ کیاتم فتنہ پیداکرنا چاہتے ہو؟ لمبا خطبہ دینا اور لمبی نماز پڑھاناسنت نہیں بلکہ غلو ہے۔ہاں! یہ اس وقت جائزہے جب آدمی اکیلے میں نماز پڑھ رہاہو۔
میدان عرفات میں حاجی ظہر اور عصر کی نمازیں ایک ہی وقت میں اکٹھی ادا اس لئے کرتاہے کہ نبی ؐ نے ایسا کرنے کا حکم دیا ہے۔اور جب غروب آفتاب کے بعد عرفات سے نکلتاہے تومغرب کی نماز وقت پر ادا نہیں کرتا بلکہ مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کی نمازیں ایک ہی وقت میں اکٹھی پڑھتاہے۔ یہ اس لئے کہ یہ بھی نبی ؐ کا حکم ہے۔مزدلفہ میں حاجی ساری رات سوکر گزارتاہے اور تہجد نہیں پڑھتا۔صرف اس لئے کہ نبی ؐ نے تہجد نہیں اداکی۔آپ ؐ کی اتباع ہر حال میں لازم ہے۔مسلمان کا ہر وہ کام جو رسول ؐ کی اتباع میں کرے وہی قابل قبول ہے۔اور جو اتباع کے ضمن میں نہیں آتاوہ غلو ہے۔
دین ایک قیمتی اثاثہ ہے۔اس اثاثہ کی حفاظت کرنا ہر مسلمان کا فرض ہے۔دین میں بگاڑ کا ایک بہت بڑا سبب دین میں اپنی مرضی سے کمی بیشی ہے۔جسے غلو کہتے ہیں۔غلو عبادات میں ہو یا شخصیات میں، بگاڑ سے خالی نہیں۔اسی لئے ہماری شریعت تمام شعبوں میں غلو کو ناپسندکرتی ہے۔نبی ؐنے خودساختہ نیکیوں کا ناپسند کرتے ہوئے صحابہ کو روک دیا۔اسی طرح کسی بزرگ یا مجتہدیا صحابی کو امام معصوم بنادینا، اللہ کے رسول ؐ کو اللہ کاشریک یا الٰہ بنادینا، کسی حضرت صاحب یاپیر صاحب کی محبت میں اتنا غلو کردینا کہ نیکی کے کام ان کی اجازت کے بغیر نہ ہو یہ بھی غلو ہے۔غلو کے معنی حد سے بڑھ جانے کے ہیں۔شریعت میں ایک کام مستحب درجہ کا ہے اگر اس کو فرض یا واجب کا درجہ دیدیاجائے تو تہ بھی غلو ہے۔ایک حلال چیز کو دینداری کے نام پراپنے اوپر حرام کرلیا جائے وہ بھی غلو ہے۔اللہ تعالی امت مسلمہ کو دین کے بارے میں غلو کرنے سے بچائے۔ آمین۔
انسانی زندگی کے لحاظ سے غلو کی دو قسمیں ہیں: ایک تقوٰی اور دوسرا تدیّن (دینداری) میں غلو۔ بعض احادیث میں اس امر کی تشریح ہے کہ تقوٰی،دینداری اورروحانیت کی طلب میں غلو کیسے پیدا ہوتاہے اس کی چند مثالیں یہ ہیں:
شخصیات میں غلو: دینی شخصیات، خصوصاً وہ شخصیات جنہوں نے اپنے دور میں دین کی نمایاں خدمت کی ہوان کو حد سے بڑھادینا غلو فی الشخصیات (یعنی شخصیات میں غلو) کہلاتاہے جسے دوسرے لفظوں میں شخصیت پرستی کہتے ہیں۔جیسے حضرت نظام الدینؒ، حضرت عبدالقادر جیلانی ؒ، خواجہ معین الدین چشتی ؒ وغیرہم۔
غَلَّا یَغلّوا کے معنی بڑھنے ، زیادہ ہونے ، متجاوز ہونے کے ہیں۔جب یہ لفظ دین کے تعلق سے آئے تو اس کا مفہوم یہ ہوتاہے کہ دین میں جس چیز کا جو درجہ ، مرتبہ یا وزن و مقام ہے اس کو بڑھا کر کچھ سے کچھ کردیا جائے۔اس کا ایک مصدر غَلَاءٌ ہے جیسے غَلَاء السِّعَرْ جس کے معنی ہیں چیزوں میںگرانی پیداکرنا۔اب صورت حال یہ ہے کہ چیزوں کی قیمتیں بڑھ جاتی ہیں توہر شخص پریشان ہوجاتاہے لیکن اگر دین میں غلو ہوجائے توکسی کو پرواہ تک نہیں ہوتی۔
علامہ قرطبی ؒ فرماتے ہیں کہ دین میں غلو کے معنی افراط و تفریط کے ہیں جیسا کہ یہودیوں اور عیسائیوں نے حضرت عیسٰی ؑ کے بارے میں تفریط سے کام لیا۔یہودیوں نے حضرت عیسٰی ؑ کی شان اس قدر گھٹادی کہ انہیں وہ ایک شریف انسان بھی نہیں سمجھتے تھے۔اور عیسائیوں نے اس قدر شان بڑھادی کہ انہیں انسان کی بجائے خدامان لیا (تفسیر قرطبی ۶، ۷۷)
ایک عربی شاعر نے اہل بیت کی شان میں لکھا ہے: میرے پانچ (خدا) ہیں، (عیسائیوں کے تین ہی تو تھے)، سخت مشکل کے وقت میں، سخت وباکی حالت میں، ان کا نام لے کر مشکلات دور کرتاہوں۔یہ پانچ کون ہیں؟ محمد المصطفٰی ؐ، علی المرتضٰی ؓ، ان کے دو فرزندحسن ؓ اور حسین ؓ اور فاطمہ ؓ ۔ یہ وہی غلو ہے جس کو قرآن مجید نے روکا ہے۔
صحابہ اور اہل بیت رضوان اللہ علیہم اجمعین کے بعد ائمہ اربعہ، فقہاء اورمحدثین کا نمبر آتاہے۔ ان کے بارے میں بھی لوگ غلو کا شکار ہوجاتے ہیں۔بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ ہمارے فلاں بزرگ نے جو فرمایا ہے وہ اٹل ہے۔ اس میں کوئی ترمیم یا تغیر نہیں ہوسکتا۔یہ غلط رویہ ہے۔ امام بخاریؒ، امام شافعی ؒ، امام مالک ؒ اور امام احمد بن حنبل ؒ یہ سب واجب الاحترام ہیں۔ان کی شان میں گستاخی کرنا، ان کی طرف غلط باتیں منسوب کرنا،بہت بڑا گناہ ہے۔ان کا احترام کرنا بہت ضروری ہے۔
شیطان نے اپنے ماننے والوں کو حکم دیا کہ جانوروں کے کان نشانی اور علامت کے طورپر چیر پھاڑ دو اور ان کو بتوں کے نام وقف کردواور پھر ان جانوروں کے اس نے ان لوگوں سے بحیرہ، سائبہ، وصیلہ، حامہ جیسے نام رکھوائے اور ان کے ذہن میں یہ بات ڈال دی کہ اس طرح کرنے سے اللہ کا تقرب حاصل ہوتاہے۔اللہ تعالی نے سورہ المائدہ کی آیت ۱۰۳ میں اس کی تردید کردی ہے: مَاجَعَلَ اللہ مِنْ بَحِیرَۃٍ وَّلَا سَآئِبَۃٍ وَّلَاوَصِیلَۃٍ وَّلَاحَامٍ وَلٰکِنَّ الَّذِینَ کَفَروایَفْتَرونَ عَلَی اللہِ الْکَذِبَ، وَاَکْثَرھم لَایَعْقِلونَ (اللہ نے تو نہ بحیر مشروع کیا ، نہ سائبہ، نہ وصیلہ، نہ حام۔ جنہوں نے کفر کیاہے وہ اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں اور ان میں سے اکثر سمجھ سے عاری ہیں)۔ اللہ کو اپنی مخلوقات سے بڑا پیار ہے اور اسے اپنی تخلیق پر ناز ہے۔وہ ہرگز پسند نہیںکرتا کہ کوئی اس کی بنائی ہوئی صورت کو بدل دے۔اس کی بنائی ہوئی صورت میں تبدیلی کرنے کی وجہ سے چیز ویسے بھی بدصورت ہوجاتی ہے۔اس بات پر غور کرکے دیکھئے کہ اگرانسان کے کان کی جگہ ناک رکھ دی جائے یا ناک کی جگہ کان رکھ دی جائے تو کیسالگے گا۔اللہ کے نزدیک جس طرح یہ بات انتہائی ناپسند ہے کہ اس کی بنائی ہوئی مخلوق میں کوئی تبدیلی کی جائے بلکہ یہ قابل نفرت ہے۔اسی طرح اس سے زیادہ کہیں یہ ناقابل نفرت بات ہے کہ اس کے دین میں کسی قسم کا غلو کیا جائے۔
عقائد میں غلو: عقائد میں غلو سے مراد یہ ہے کہ قرآن و سنت میں جن عقائد کی ہمیں تعلیم دی گئی ہے ان کو چھوڑکر ہم خودساختہ عقائدکو اختیارکرلیں۔خودساختہ یا انسانوں کے بنائے ہوئے عقائد پر کتنا ہی خوشنمالیبل لگادیں دین و شریعت کے نقطہ نظر سے وہ عقائد بہر حال باطل ہی پائیں گے۔
بعض عظیم شخصیتوں کے بارے میں اس طرح غلو سے کام لیاجاتاہے کہ ان کوبھی ان تمام صفات سے موصوف قراردیدیاجو اللہ وحدہٗ کی ذات سے مخصوص ہیں۔ جیسے مشکل کشا اور حاجت روا صرف اور صرف اللہ ہی کی ذات کے لئے مختص ہے۔نفع و نقصان صرف اسی کے قبضہ میں ہے، دعائیں اور فریادیں صرف وہی سنتاہے، اولاد دینا یا نہ دینا اسی کی مرضی اور مشیت پر منحصرہے۔الغرض یہ تمام صفات جو اللہ کی ذات پاک سے مخصوص ہیں انہیں غیر اللہ میں تسلیم کیا جائے تو یہ غلو کی بدترین شکل ہے۔اسے شرک کے نام سے بھی موسوم کیاجاتاہے اورشرک کبھی معاف نہیں کیاجاتا۔مگرصد افسوس ہے کہ لوگ غلو کے کاموں میں پیش پیش ہیں۔
قرآن مجیدمیں غلو: قرآن مجید میں سختی کے ساتھ غلو سے منع کیاگیاہے۔مگر لوگ اس میں کئی طرح سے غلو پیداکرتے ہیں۔ ایک غلو تو یہ ہے کہ لوگ یہ شوشہ چھوڑتے ہیں کہ اس کا ترجمہ کرناگناہ ہے۔کہتے ہیں کہ ترجمہ کرنا اور اس کی تفسیر بیان کرنا صرف مولویوں کا کام ہے۔مگر اسلام میں مولوی کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔قرآن مجید ہر ایک شخص کو خواہ وہ مرد ہو یا عورت اسے قرآن پڑھنا چاہئیے، ہر ایک آیت کا معنی سمجھنا چاہئیے، اس پر عمل کرنا چاہئیے اور پھر دوسروں تک پہنچاناچاہئیے۔
دوسرا غلو یہ ہے کہ اپنی مرضی و مشیت کے مطابق قرآن مجید کی تفسیر کی جائے، پہلے سے تصورات و نظریات قائم کرلیں اورقرآنی آیات کو توڑ مروڑ کران کی تائید میں پیش کیا جائے۔قرآن مجید نے اس بیماری کا نام تحریف رکھاہے۔پہلے جو کتابیں نازل کی گئی تھیں ان کی قوموں کے علماء نے ان میں اپنے فائدے کے حساب سے تبدیلیاں کرکے لوگوں کو پیش کیا کرتے تھے جس کی وجہ سے وہ کتابیں بعد میں اپنی اصلی حالت میں نہیں رہ سکیں۔ اس لئے اللہ تعالی نے قرآن مجید کو خود محفوظ رکھنے کا وعدہ کیا ہے۔غلو سے کام لیتے ہوئے لوگوں نے یہاں تک کہہ دیا کہ : کلّ آیَۃٍ حَدِیثٍ یخَالِف مَاعَلَیْہِ اَصْحَابنَافَھوَ مؤوَّلٌ اَوْمَنْسوخٌ (ہر وہ آیت اور ہر وہ حدیث جوہمارے بزرگوں کے مذہب کے خلاف ہوگی ہم اس کی تاویل کریں گے یا اسے منسوخ قراردیں گے) (اصول الکرخی)۔یعنی اسے نہیں مانیں گے۔یہ ذہنیت غلو پر مبنی ہے۔
قرآن مجید کی بدترین غلو کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ اس کے صریح احکام کو ماننے کی بجائے اوررسول اکرم ؐ کی سنت مطہرہ پر چلنے کی بجائے ائمہ اورفقہائے کرام کے اقوال کو ترجیح دی جائے حالانکہ تمام ائمہ کرام اور فقہائے عظام نے قرآن و سنت کے دامن سے وابستگی کی بے حد تاکید فرمائی۔
اسی طرح اکثر لوگ قرآن مجید کو پڑھنے، سمجھنے اور عمل کرنے کی بجائے پانچ یا سات ریشمی غلافوں میں لپیٹ دیتے ہیں اورخوبصورت اور قیمتی صندوقچوں میں بند کرکے اتنا اونچارکھدیتے ہیں کہ اس تک کسی کا ہاتھ نہ پہنچنے پائے۔اور اس کو صرف اس وقت اٹھاتے ہیں جب گھر میں کوئی فاتحہ خوانی کرنی ہو، یا رمضان المبارک کے مہینے میں حصول ثواب کی خاطر یا کسی کی موت پر ایصال ثواب کے لئے اٹھایا جاتاہے اور تلاوت کرنے کی بجائے رف رف پڑھتے چلے جاتے ہیں۔یہ قرآن مجید کی سب سے بڑی بے ادبی اور غلو ہے۔
بہت سے قراء کا قرآن مجید کی قرأت وتلاوت کا اندازبھی غلو کے ضمن میں ہی آتاہے جو قرأت اور تجوید کے اصولوں سے تجاوز کرتے ہوئے بے حد تطویل، تکلف اور مبالغہ آرائی سے کام لیتے ہیں اور خوش الحانی کے مظاہرے میںقوائد و ضوابط کو بالائے طاق رکھ دیتے ہیں۔بعض امام نمازوں میں اتنی تیزی سے قرأت کرتے ہیں کہ مقتدی کو یہ سمجھنا مشکل ہوجاتاہے کہ امام صاحب کون سی سورۃ کی تلاوت کررہے ہیں۔بعض تو بہت تیزی سے تلاوت کرتے ہیں کہ ان کا تلفظ بہت ہی خراب ہوتاہے اور مقتدی سمجھ نہیں پاتا۔
بعض لوگ نمازوں میں اس قدر افراط سے کام لیتے ہیں کہ ان سے فرض عبادات ادا نہیں ہوپاتے ۔ مثلاً ایک شخص ساری رات تہجد گزاری اور شب داری میں اس طرح گزارے کہ وہ بہت تھک جاتاہے اورنیند کا غلبہ اتنا ہوتاہے کہ اس سے فجرکی نمازادا نہیں ہوپاتی۔ ایک مرتبہ نبی ؐ نے دیکھا کہ ایک رسی بندھی ہوئی ہے۔آپ ؐ نے پوچھا کہ یہ کیوں باندھی ہوئی ہے؟ جواب ملا کہ آپ ؐ کی بیوی زینب ؓ نے باندھ رکھی ہے۔وہ رات بھر عبادت کرتی رہتی ہیں اور جب تھک جاتی ہیں تواس رسی کو پکڑکرسستالیتی ہیں۔فرمایاکہ یہ غلو ہے۔جتنی ممکن ہو عبادت کرو اور جب تھک جائو تو سوجاؤ۔
ام المؤمنین حضرت عائشہ ؓ اورحضرت ابن عباس ؓ کی روایت ہے کہ رسولؐ اللہ اپنی امت کو یہود و نصارٰی کے ان جیسے افعال کے ارتکاب سے ڈرارہے تھے کیونکہ انبیاء اولیاء کی شان میں غلو ان کی عبادت کا سبب بن جاتاہے ۔اسی وجہ سے نبی اکرم ؐ کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا: میری شان میں اس طرح مبالغہ نہ کرنا جیسے عیسائیوں نے ابن مریم کی شان میںمبالغہ سے کام لیا تھا۔میں تو اللہ کا بندہ ہوں ۔لہٰذا مجھے عبداللہ کہو اور رسول ؐ اللہ کہو (صحیح بخاری ۳۴۴۵)
حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ رسول ؐ اللہ نے فرمایااور تین بار ارشاد فرمایا: ھَلَکَ المتَنَطِّعونَ (غلو کرنے والے ہلاک ہوگئے) (صحیح مسلم ۲۶۷۰)۔ متَنَطِّعون ان لوگوں کو کہتے ہیںجو حد اعتدال سے تجاوزکرتے ہوئے اپنے اقوال وافعال میںبے حد مبالغہ اور غلو سے کام لیں۔
دین میں غلوکرنے کے مندرجہ ذیل نقصانات ہیں:
۱۔ غلو انسان کو شرک میں مبتلا کرکے اللہ تعالی سے دور کردیتاہے اور جہنم میں پہنچادیتاہے۔
۲۔ غلو کے نتیجے میں انسان نہ صرف یہ کہ اپنے عمل کوہمیشہ جاری نہیں رکھ سکتابلکہ تنگ آکر بسااوقات ترک بھی کردیتاہے۔
۳۔ غلو اس بات کی علامت ہے کہ انسان کا ایمان اور اس کی عقل کمزورہے اور اس پر شیطان نے تسلط جمالیا ہے۔
۴۔ غلو انسان کی جہالت اورفہم دین میں قلت کی دلیل ہے۔
۵۔ غلو انسان کو شیطانی وسوسوں میں مبتلا کردیتاہے۔
۶۔ غلو کرنے والے کا دل تنگ ہوکر حزن و ملال میں مبتلا ہوجاتاہے۔
اللہ رب ذوالجلال سے عاجزانہ دعاہے کہ پوری امت مسلمہ کو غلو اور دیگر گناہوں سے محفوظ رکھے اور ہرمسلمان کو نیک ہدایت دے، اسے راہ راست پر لائے اور اللہ کے سامنے سجدہ ریز ہونے کی توفیق عطافرمائے اور نبی ؐ کی اتباع کرنے کی ہدایت عطافرمائے۔ آمین ثم آمین۔

You may also like

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *