سمجھوتہ ایکسپریس دھماکہ معاملہ
خصوصی عدالت نے کیوں کہا کہ ایجنسی نے بہترین شواہد کو عدالت کے سامنے آنے سے روکا؟
خصوصی عدالت نے کیوں کہا کہ ایجنسی نے بہترین شواہد کو عدالت کے سامنے آنے سے روکا؟
کچھ باتیں ایسی ہیں جو بہر حال ہمارے ذہنوں میں صاف اور واضح طور پر، کم از کم اب کہ جب ہم اکیسویں صدی کے تیسرے دہے میں قدم رکھنے کے قریب ہیں، ہمہ دم روشن رہنی چاہئیں۔ایک تو یہ کہ جسے ’برصغیر ‘کہا جاتا ہے وہ فی الواقع’ برًِ عظیم‘ ہے۔ میانمار اور بنگلہ دیش سے بھارت پاکستان اور افغانستان و ایران تک سبھی علاقے جو چھے آزاد اور خود مختار ملکوں میں تقسیم ہیں وہ سب زمینی راستے سے جڑے ہوئے ہیں۔کوہِ اَراکان(برما) سے کوہ ِہند و کُش (افغانستان ) تک پورا سلسلہ پہاڑوں سے تو مربوط ہے ہی اب،پچھلے چالیس برسوں کے دوران چین کی مدد سے، بالائے کوہ، ہمالیائی سڑک راستے سے بھی جڑ چکا ہے۔ یعنی آپ اَراکان سے چلیں تو میدانی علاقوں میں اُترے بغیر آپ، ہمالیہ، کوہ قراقرم اور ہند وکش کی بلندیوں کو پار کرتے ہوئے’ کوہِ نہاوَند ‘ (ایران ) تک پہنچ سکتے ہیں
عدالتی فیصلے ثبوت و شواہد کی بنیاد پر فیصل کئے جاتے ہیں نہ کہ آستھا، یا اکثریت واقلیت کے جذبات کی بناء پر۔ اس لئے گزشتہ نومبر میں جب سپر یم کورٹ کی پانچ رکنی بنچ نے اعلان کیا کہ وہ زمینی ملکیت کے تنازع کے عقائد وجذبات سے بلند ہو کر ثبوت و شواہد کی روشنی میں فیصل کرے گا تو امید بندھی کہ اس کا فیصلہ ذیلی عدالتوں کے فیصلے سے مختلف ہوگا لیکن ۸؍مارچ کو جب اس تنازع کو سہ نفری ثالثی کمیٹی کے سپرد کیا گیا تو حیرت کے ساتھ اس کی مجبور یوں کا احساس بھی ہوا۔
نیوزی لینڈکی حکومت نے جوا قدامات کیے ساری اسلامی دنیا اور انصاف کے علم بردارووں نے اس کی تعریف کی ہے۔ وزیر اعظم جیسنڈا نے جس طرح زخموں پر مرہم لگایا ہے اس سے درد کی شدت کم ہوئی ہے۔ انھوں نے دل جوئی کے سارے اقدامات کیے۔ جائے حادثہ کا دورہ کیا، متاثرین سے ملاقات کی، مسجد کی حفاظت کے انتظامات کیے، اسلحہ قانون میں تبدیلی کی، پارلیمنٹ میں قرآن کریم کی تلاوت کرائی، جمعہ کی اذان، خطبہ اور نماز سرکاری ریڈیو اور ٹی وی سے نشر کرائی، خود بھی نماز کے مقام پر شریک ہوئیں، اپنی گفتگو میں سلام کے ساتھ نبی اکرمؐ کی حدیث پاک کوڈ کی، اپنے شہریوں کو بھی ان تمام کا موں پر آمادہ کیا۔ شہریوں نے بھی مسلمانوں سے اظہار ہمدردی و اظہار یک جہتی کے دل نشیں مناظر پیش کیے، جو نعرے لگائے گئے وہ دلوں کو جیتنے کے لیے کار گر تھے۔
نیوزی لینڈ کی فرض شناس خاتون وزیر اعظم محترمہ جیسنڈاآڈرن نے واقعے کی اطلاع ملتے ہی پہلا کام یہ کیا کہ اسلامی لباس زیب تن کیا سر پر دوپٹہ بھی اوڑھااور موقعہء واردات پر پہونچ گئیں۔وہاں خواتین کو لپٹا لپٹا کر آنسو بھی بہائے اور انھیں دلاسہ بھی دیا۔یہاں انھوں نے جوکام کیا وہ عام بات تھی ۔خاص بات انھوں نے یہ کی کہ نیوزی لینڈ پارلیمنٹ کی سیشن کا آغاز تلاوت کلام پاک سے کروایا۔یہ وہ عمل ہے جس کے لئے انھیں دنیا کی کوئی طاقت مجبور نہ کر سکتی تھی۔
اس سارے قتل و غارت کا سب سے بڑا ذمہ دار کون ہے۔ یہ وہ ہے جو اس بے حس قاتل کی طرح اپنا چہرہ معصومانہ بنا لیتا ہے، ماتم شروع کردیتا ہے اور لوگوں کے ساتھ مقتول کے جنازے میں بھی شریک ہوتا ہے حالانکہ قتل بھی اسی نے کیا ہوتا ہے۔ گذشتہ بیس سالوں کے قتل و غارت کا کوئی ایک بڑا ذمہ دار اگر کسی کو قرار دینا ہو تو وہ صرف اور صرف میڈیا ہے۔ اس میں اخبارات و جرائد، رسائل وکتب نے بھی اپنا بھرپور حصہ ڈالا ہے۔ لاتعداد ٹیلی ویژن چینل آپ کو نفرت […]
گذشتہ ۲۵ برسوں سے جاری اس مقدمہ کی ہر تاریخ پرجو بالعموم پندرہ دن بعد پڑتی تھیں، تمام ملزمین اپنی ساری مصروفیات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے پابندی سے ناسک کورٹ میں اس خوف سے حاضررہا کرتے کہ کہیں غیر حاضر ی کی بنیاد پر ضمانت منسوخ کرکے گرفتار ی کے وارنٹ نہ جاری کردیے جائیں۔کیس کے سلسلے میں ابتداء میں ناسک کے مقامی وکلاء سیّد برادران نے کافی مدد کی ‘ پھر ۲۰۱۳ء سے جمعیت العلماء مہاراشٹرا گلزار اعظمی اور ان کی ٹیم نے بھر پور تعاون پیش کیا۔بالخصوص ایڈوکیٹ شریف شیخ ،ایڈوکیٹ انصار تنبولی اور ان کے معاون وکلاء نے شب و روز محنت کر کے مقدمہ میں فتح حاصل کی ۔
شاعر مشرق اقبال نے اپنے مصرعہ میں چین کے بعد عرب کا ذکر کیا ہے ،عرب دنیا میں اسلام اور مسلمانوں کا جو حال ہے وہ کسی سے پوشیدہ نہیں ، فلسطین اور مسجد اقصی یہودیوں کے قبضہ میں ہے ۱۹۴۸ میں اور پھر ۱۹۶۷ کی جنگ میں فلسطینیوں کواپنے گھربار سے محروم ہونا پڑا ان کی اولاد آج تک پناہ گزین ہے ان کو اپنے گھروں کو واپسی کی اجازت نہیں اب تک کئی ہزار فلسطینی ہلاک کئے جاچکے ہیں کئی ہزار جیلوں میں ہیں اور کئی ہزار زخمی ہیں امریکہ کی پوری سیاست قوم یہود کی مٹھی میں ہے ،
تاریخ کی گواہی جرمنی و اٹلی ، جاپان ، عراق ، لیبیا، پاکستان وغیرہ کے انجام سے ثابت کرتی ہے کہ صرف منفی ، انتشاری اور نفرت پر مبنی بنیادوں پر وقتی ابھار کے علاوہ مستقل تباہی ہی مقدر ہوتی ہے۔ ہٹلر اور مسولنی اور جاپان کے حکمرانوں ، صداموں اور قدافیوں نے وقتی ابھار کے علاوہ ملک اور دنیا کو کیا دیا؟ اور خود بھی برے انجام سے دوچار ہوئے۔
انڈیا گیٹ کے پاس حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے اراکین پارلیمنٹ کی معیت میں ایک جم غفیر پر جنگی جنون سوار تھا۔ وہ اپنی شعلہ بار تقریروں میں لاہور اور مظفر آباد پر بھارتی پرچم لہرانے کے لیے بے تاب ہو رہے تھے اور کشمیری مسلمانوں کو سبق سکھانے کا مطالبہ کررہے تھے۔چوںکہ ایسے وقت میں بھارتی مسلمانوں کے رہنمائوں کو بھی حب الوطنی کا مظاہرہ کرنا ہوتا ہے، ان کی نمایندگی کرتے ہوئے ایک باریش مولوی صاحب پاکستانی سفیر کو ملک بدر کرنے اور پاکستان کے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع کرنے کا مشورہ دے رہے تھے۔