دشمنان دین و ملت کے بڑھتے ہوئے عزائم

دہلی کے رام لیلا میدان میں دہشت گردانہ ذہنیت کے ہندوؤں نے اپنے اعلان کے مطابق 9 دسمبر کو ایک اور “دھرم سنسد” منعقد کی اور لاقانونیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ملک کو اور خاص طور سے مسلمانوں کو دہشت زدہ کرنے والے نعرے لگائے۔ اس میں شک نہیں کہ عام انتخابات سے پہلے ان دہشت گرد ہندوؤں کی یہ سرگرمیاں اس سیاسی پارٹی کے حق میں سیاسی فضا بنانے کے لئے ہیں جو ہندو دہشت گردی کی سیاسی سرپرستی کرتی ہے۔ لیکن اس دہشت گردی کو صرف اسی حد تک ایک وقتی نمائشی سرگرمیوں تک محدود کرکے دیکھنا مسلمانوں کے اہل حل وعقد کی انتہائی سنگین غلطی ہے۔ مسلمانوں کے اہل حل وعقد اندر اندر کیا محسوس کررہے ہیں یہ تو کچھ نہیں کہا جاسکتا، لیکن انکے ظاہری بیانات اور عام مسلمانوں کو آنے والے حالات کا سامنا کرنے کے لئے کوئی آگاہی اور رہنمائی دینے میں مکمل خاموشی بلکہ سراسیمگی کو دیکھ کر ایسا لگتا ہے حسی یا بے حوصلگی یا بے خبری یا بے شعوری کی گہری دھند اکثر لوگوں کے دل و دماغ پر چھائی ہوئی ہے اور مسلمانوں کے اہل حل وعقد سکڑ سمٹ کر ایک طرف بیٹھ گئے ہیں اور اپنی ذمہ داریوں کا بوجھ بھی انھوں نے اللہ کے حوالے کر دیا ہے۔
سیاست اور سیاسی دشمنی یا دوستی کے سلسلے میں قرآن وسنت سے براہ راست رہنمائی نہ لینا مسلمانوں کا ایک قدیم رویہ ہے اور اسی وجہ سے آنکھوں پر پردے پڑے محسوس ہوتے ہیں۔ ہندو مسلم تعلقات کے حوالے سے بھی یہی غلطی مسلمانوں کے اہل حل وعقد کرتے آرہے ہیں۔ ہندو دھرم اور ہندو سنسکرتی کی برتری کے لئے روز بہ روز بڑھتی ہوئی جنونی تحریک کے تناظر میں مسلمانوں کے اہل حل وعقد کو اپنے اندر اس فکر کو تازہ کرنے کی ضرورت ہے کہ دین توحید کے علم برداروں کا شرک کے علم برداروں سے تصادم ناگزیر ہے۔ تصادم کا یہ سلسلہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت توحید سے شروع ہو گیا تھا اور قرآن نے اس پر اپنی مہر لگا دی ہے۔ قرآن میں اللہ تعالیٰ نے صاف فرمایا ہے کہ “تم اہل ایمان کی دشمنی میں سب سے زیادہ سخت یہود اور مشرکین کو پاوگے”۔
حضرت نوح علیہ السلام سے لے کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک انبیاء کرام نے جس عقیدے،، جس تہذیب، اور جس رویہ زندگی کو مسترد کیا اور اللہ کی وحدانیت پر ایمان لانے کی دعوت دی اسی کا سلسلہ تو ہے ہندوستان کی یہ مشرکانہ تہذیب۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم، آپؐ کی دعوت اور آپؐ کے پیش کردہ عقیدےپر مبنی جماعت کی جن لوگوں نے عرب میں مخالفت کی اور دشمنی میں سب کچھ کر گزرنے کی کوشش کی، ان کی ہی وراثت کا یہ سلسلہ ہے جو ہندوستان کی قدیم مشرکانہ تہذیب اور عقائد کے علم بردار سنبھالے ہوئے ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کی ایک مشیت معلوم ہوتی ہے کہ بحر عرب کے ایک طرف جزیرۃ العرب سے تو شرک کا صفایا اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ مبارک میں ہی کردیا لیکن بحر عرب کے دوسری طرف یعنی بر صغیر ہند میں توحید کا چراغ روشن کردینے کے باوجود اہل شرک اور ان کے مشرکانہ تہذیب و عقائد کو جاری رہنے اور پھلنے پھولنے کے لئے باقی رکھ چھوڑا۔ چنانچہ رسول اللہ کی بعض احادیث سے بھی یہ اشارہ ملتا ہے اور آثار وقرائن بھی یہ بتاتے ہیں کہ سرزمین مکہ اور عرب میں ہوچکی توحید و شرک کی کشمکش کا آخری مرحلہ پوری شدت کے ساتھ سرزمین ہند میں ہوگا۔ لہذا دہشت گردی پر آمادہ ہندوؤں کے عزائم اور نعروں کو سمجھنے میں غلطی نہیں کرنی چاہیے۔ یہ کوئی وقتی جارحیت اور جذباتی ہیجان نہیں ہے۔ اس کے پیچھے ایک طویل تاریخی سلسلہ ہے، فلسفہ ہے، حکمت عملی ہے اور صدیوں سے سینہ بہ سینہ چلے آرہے عزائم ہیں۔
سوال یہ ہے کہ ہندوستان کے سیکولر جمہوری نظام میں رہتے ہوئے اس دہشت گرد گروہ کی دشمنی کا مقابلہ کیسے کیا جائے؟ اس سوال پر مسلمانان ہند کے اہل حل و عقد نے ابھی تک باقاعدہ غور وفکر شاید نہیں کیا ہے، اسی لیے کوئی حکمت عملی اور لائحہ عمل اہل حل وعقد کے طریقہ کار میں اور سرگرمیوں میں نظر نہیں آتا سوائے اس کے کہ تصادم سے بچنے کی ایک اجتماعی سوچ بنی ہوئی ہے اور ملک کے دستوری نظام کی پناہ میں رہ کر جیتے رہنے اور ترقی کی جستجو میں لگے رہنے کی ایک ریت بنی ہوئی ہے۔ مگر یہ بھی کوئی سوچی سمجھی حکمت عملی اور قرآن وسنت کی روشنی میں باقاعدہ اختیار کردہ لائحہ عمل نہیں ہے، زیادہ سے زیادہ ماضی کے کچھ بزرگوں کے ذاتی نظریات یا طرز عمل کی پیروی اس میں دیکھی جاسکتی ہے۔ لہذا ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلمانوں کے اہل حل وعقد چاہے وہ کسی بھی گروہ اور فرقہ کی نمائندگی کرتے ہوں ہندوستان کی سر زمین پر دین محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ازلی دشمنوں کا مقابلہ کرنے کے بارے میں باقاعدہ غوروفکر کا سلسلہ شروع کریں اور حریف کی ہر چال اور سرگرمی کا توڑ کرنے کے لئے قرآن وسنت سے رہنمائی لینے کا عمل اپنائیں۔
ہندوستان کا دستوری نظام حکومت جو جمہوریت اور مذہبی غیر جانب داری پر مبنی ہے، بلا شبہ مسلمانان ہند کے بھی مفاد میں ہے اور اس نظام میں رہتے ہوئے وہ نہ صرف مادی اور علمی و تمدنی ترقی کا موقع رکھتے ہیں بلکہ دین کی بیشتر تعلیمات پر عمل کرنے کی بھی آزادی رکھتے ہیں۔ اور مزید یہ کہ وہ اپنے معاشرے کو ایک اسلامی معاشرہ بنانے اور غیر مسلم برادران وطن کو دین اسلام کی طرف دعوت دینے اور پورے سماج کو اسلام کے نظام رحمت میں لانے کے لئے انبیائی طرز کی جدوجہد کرنے کی اصولی آزادی بھی رکھتے ہیں۔ لہذا اس نظام کو طاقت وتشدد یا سازش کے ذریعہ توڑنے کی کسی بھی کوشش کو ناکام بنانا بھی مسلمانوں کے لئے ضروری اور حکمت عملی کا حصہ ہونا چاہیے۔
لیکن ایک بڑا چیلنج اور پیچیدگی یہ ہے کہ دین توحید کے ازلی دشمن اس نظام پر اپنی گرفت رکھنے کی وجہ سے اس نظام کو ہی مسلمانوں کے خلاف استعمال کرتے آرہے ہیں اور اس قدر جری ہوتے جارہے ہیں کہ مسلمانوں کے لئے صرف نظام حکومت، نظام کے اصولوں اور نظام کی گنجائشوں پر تکیہ کئے رہنا خودکو ہلاکت میں ڈالنا ہے۔ اس لئے نظام حکومت سے اپنا مثبت تعلق قائم رکھتے ہوئے دین توحید کے دشمنوں سے مقابلہ کرنے کے لئے صف بستہ ہونا بھی مسلمانوں کے لئے انتہائی ضروری ہے۔
لہٰذا اپنے موقف کو قرآن وسنت کے مطابق استوار کرنے کے لئے سب سے پہلے تو مسلمانوں کے جملہ اہل حل و عقد کو یہ باور کرنا ہوگا کہ ملت اسلامیہ ہند صرف ایک ثقافتی و مذہبی گروہ نہیں ہے بلکہ دین اسلام کی طرف دعوت دینے والی امت رسول ہے۔ یہ فعال طریقے سے دعوت اور تبلیغ کا عمل انجام دے یا نہ دے خود اس کا تشخص اور وجود ہی مشرکانہ عقائد اور مشرکانہ تہذیب و تمدن کی مخالفت کا اعلان ہے، اور اسی لئے مشرکانہ تہذیب و تمدن کے علم بردار مسلمانوں کے وجود سے نفرت کرتے ہیں۔
اپنی اس اصولی حیثیت کو باور کرنے کے بعد اسی کے مطابق اپنے اخلاق و کردار اور رویہ کو درست کرنا مسلمانوں کی سب سے پہلی ضرورت ہے اور اس کی ذمہ داری مسلمانوں کے جملہ اہل حل وعقد پر ہے۔ اسی کے ساتھ ملک میں مسلمانوں سے دشمنی اور جنگ پر آمادہ گروہوں کے تعلق سے قرآن وسنت کی روشنی میں اپنی پالیسی بنانا اور مدافعت کے طریقے اختیار کرنا مسلمانوں کے لئے ضروری ہے، اور اس سلسلے میں عام مسلمانوں کی رہنمائی اور حوصلہ افزائی کرنا اہل حل وعقد کی ذمہ داری ہے۔ مدافعت اور مقابلہ کی کوئی پالیسی نہ بنانا اور سب کچھ وقت اور حالات کے حوالے کردینا یا آتی جاتی تبدیلیوں کے بھروسے جیتے رہنا دنیا کے اخلاق اور اصولوں کے اعتبار سے بھی غلط ہے اور قرآن وسنت کی تعلیمات کے تو بالکل ہی خلاف ہے۔ یہ عاجزی، بزدلی اور ذلت کی زندگی کو اپنے لئے قبول کر لینے جیسا ہے۔اور اس کا نتیجہ مکمل خود سپردگی اور قومی خود کشی ہے۔
مسلمانوں کو دشمن کے مقابلے پر ڈٹ کر کھڑا ہو نا ہوگا اور صرف پسپائی ہی نہیں بلکہ پیش قدمی کو بھی حکمت عملی سمجھنا ہوگا۔ رسول اللہ کا طریقہ جنگ اور حکمت عملی اس پر گواہ ہے کہ آپ نے دشمن کےسامنے کسی بھی حالت میں خود کو کمزور اور بزدل ظاہر نہیں کیا۔ بعثت کا وہ بالکل ابتدائی زمانہ جب آپ اپنے ہی لوگوں کے سامنے کار نبوت انجام دینے اٹھے تھے اور آپ نیز آپ کے اوپر ایمان لانے والے چند غلاموں کو مخالفین نے اذیتیں دیں وہ زمانہ بھی پیش رفت کرنے، اقدام کرنے اور اپنے عزائم کو ظاہر کرنے کا زمانہ تھا۔ بے حوصلگی یا دشمن کے مقابلے خود سپردگی کی کوئی کیفیت وہاں نہیں تھی۔ زمانہ مکہ میں ہی ایسی متعدد مثالیں ہیں جب آپ نے مخالفین کے سامنے ڈٹنے کا مظاہرہ کیااور انہیں ضرب پہنچنے کے کسی موقع پر ان سے کوئی معذرت ظاہر نہیں کی۔ آپ اور آپ کےساتھیوں کا رعب اس زمانے میں بھی دشمنوں پر طاری رہتا تھا۔
دین وملت کے دشمنوں پر مسلمانوں کا رعب طاری رہنا ایک ایسی بات ہے جو ہر حالت میں مطلوب ہے۔ اس پر قرآن میں بھی زور دیا گیا ہے اور رسول اللہ کا طریقہ کار اور ارشاد ات بھی اسی کی ترغیب دیتے ہیں۔ مگر آج ملت اسلامیہ کی بدقسمتی یہ ہے کہ اس نے اپنا رعب طاری رکھنے کی خواہش اور پالیسی ہی ترک کردی ہے اور عاجز رہنے کو پسند کر لیا ہے۔ یہ عام بے دین یا بے علم لوگوں کی بات نہیں ہے بلکہ ملت کی دینی قیادت کرنے والے علماء کے گروہ کا حال ہے۔خود کو انبیاء کی وراثت کے درجہ پر باور کرنے والے علماء کو جاگنے اور مستعد ہونے کی ضرورت ہے اور پوری ملت اسلامیہ کو دشمنان دین و ایمان کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بنا کر کھڑا کرنے کے لئے کمر بستہ ہو جانے کی ضرورت ہے۔

You may also like

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *