کیا مصالحتی کوشش کا کوئی نتیجہ نکلے گا؟
عدالتی فیصلے ثبوت و شواہد کی بنیاد پر فیصل کئے جاتے ہیں نہ کہ آستھا، یا اکثریت واقلیت کے جذبات کی بناء پر۔ اس لئے گزشتہ نومبر میں جب سپر یم کورٹ کی پانچ رکنی بنچ نے اعلان کیا کہ وہ زمینی ملکیت کے تنازع کے عقائد وجذبات سے بلند ہو کر ثبوت و شواہد کی روشنی میں فیصل کرے گا تو امید بندھی کہ اس کا فیصلہ ذیلی عدالتوں کے فیصلے سے مختلف ہوگا لیکن ۸؍مارچ کو جب اس تنازع کو سہ نفری ثالثی کمیٹی کے سپرد کیا گیا تو حیرت کے ساتھ اس کی مجبور یوں کا احساس بھی ہوا۔