طالبان مذاکرات اور برصغیر پر اس کے اثرات
کچھ باتیں ایسی ہیں جو بہر حال ہمارے ذہنوں میں صاف اور واضح طور پر، کم از کم اب کہ جب ہم اکیسویں صدی کے تیسرے دہے میں قدم رکھنے کے قریب ہیں، ہمہ دم روشن رہنی چاہئیں۔ایک تو یہ کہ جسے ’برصغیر ‘کہا جاتا ہے وہ فی الواقع’ برًِ عظیم‘ ہے۔ میانمار اور بنگلہ دیش سے بھارت پاکستان اور افغانستان و ایران تک سبھی علاقے جو چھے آزاد اور خود مختار ملکوں میں تقسیم ہیں وہ سب زمینی راستے سے جڑے ہوئے ہیں۔کوہِ اَراکان(برما) سے کوہ ِہند و کُش (افغانستان ) تک پورا سلسلہ پہاڑوں سے تو مربوط ہے ہی اب،پچھلے چالیس برسوں کے دوران چین کی مدد سے، بالائے کوہ، ہمالیائی سڑک راستے سے بھی جڑ چکا ہے۔ یعنی آپ اَراکان سے چلیں تو میدانی علاقوں میں اُترے بغیر آپ، ہمالیہ، کوہ قراقرم اور ہند وکش کی بلندیوں کو پار کرتے ہوئے’ کوہِ نہاوَند ‘ (ایران ) تک پہنچ سکتے ہیں