جمہوریت کے چارستونوں مقننہ، انتظامیہ، عدلیہ اور میڈیا میں عدلیہ واحدادارہ ہے جس کے بارے میں آج بھی وثوق سے کہا جا سکتا ہے کہ بڑی حدتک عصبیت سے پاک اور غیر جانبدار ہے۔ یہ اور بات ہے کہ نچلی عدالتوں سے لیے کر سپریم کورٹ تک کے بعض فیصلے ایسے بھی رہے ہیں جن سے جانبداری جھلکتی ہے یا سماج کے اجتماعی ضمیر کی تسکین، دوسرے لفظوں میں اکثریتی طبقے کے مفاد کا جذبہ نہاں ہو تا ہے اس کی دووجہیں ہیں۔ مودی کے دور میں کوئی سرکار ی یاآئینی ادارہ سرکاری دبائو یا مداخلت سے محفوظ نہیں اور قلیل تعداد میں سہی عدلیہ میں سنگھی ذہنیت کے حاملین کے وجود سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ مسجد۔ مندرتنازع کوہی لیجئے جسے ہوا دینے میں سیاستدانوں اور مرکزی ریاستی حکومتوں سمیت عدلیہ کا بھی دخل رہا ہے جس کے حکم پر جنوری ۱۹۵۰ء میں مسجد پر تالا لگا یا گیا اور فروری ۱۹۸۶ء میں تالہ توڑ کر ہندوئوں کو پو جا کی کھلی اجازت دی گئی۔
۳۰؍ستمبر۲۰۱۰ء کو الہ آباد ہائی کورٹ کی سہ نفری لکھنؤ بنچ نے اپنی نوعیت کا عجیب وغریب فیصلہ سنایا۔ دوہندو اور ایک مسلم جج پر مشتمل بنچ نے متنازع اراضی کو رام جنم استھان تو بتا یا لیکن مسجد کے وجود کو بھی تسلیم کیا اور پھر ۲ء۷۷ ایکڑ زمین کو رام للاٹرسٹ، نرموہی اکھاڑہ اور سنّی وقف بورڈ کے درمیان برابر برابر تقسیم کر دیا جس سے نہ تو انصاف کے تقاضے پورے ہوئے نہ کسی کی تشفی ہوئی۔ نتیجتاً تمام فریقین نے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا۔
۲۱؍مارچ ۲۰۱۷ء کو بی جے پی لیڈر سبرامینم سوامی کی پٹیشن پر اس وقت کے چیف جسٹس کیہر سنگھ نے گفت و شنید کے ذریعے مسئلہ حل کرنے پر زوردیا اور خود بھی ثالث بننے کی پیشکش کی۔ لیکن بات آگے نہیں بڑھی۔ مصالحت کے ذریعے تصفیے کی کوشش کا یہ پہلا موقع نہیں تھا۔ اس سے پہلے ۱۹۸۹ء سے ۲۰۰۳ء تک کی تمام کوششیں فریقین کے سخت اور ہندوتوا وادیوں کے جار حانہ رویے کی وجہ سے بے نتیجہ رہیں۔ جولائی ۲۰۰۳ء میں کانچی کے شنکر اچاریہ نے مسلم پرسنل لاء بورڈ کو دھمکی آمیز خط لکھ کر مطالبہ کیا کہ ایودھیا، کاشی اور متھرا کی زمینیں ہندوئوں کی ہیں اس لئے قومی مفاد اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی خاطر مسلمانوں کو ان سے دستبردار ہونے کے لئے تیار رہنا چاہئے گویا قومی مفاد اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی ذمہ داری صرف مسلمانوں پر عائد ہوتی ہے۔ اکتوبر ۲۰۱۷ء میں آرٹ آف لیونگ فائونڈیشن کے بانی اور ہندوئوں کے روحانی گروسری سری روی شنکر نے تنازع کا مسجد مندر تنازع میں مصالحتی حل بہتر ہوتا اگر ثالثی کمیٹی سے کسی جامع معاہدہ کی اُمید ہوتی تاکہ اسطرح کے تنازعات پر ہمیشہ کیلئے روک لگتی مگر یہ اُمید بہت کم بلکہ معمولی بھی نہیں ہے کیونکہ سنگھ پر یوار اور بی جے پی لیڈر حکم عدولی اور وعدہ خلافی کے لئے مشہور ہیں۔
پرامن حل نکالنے کے بہانے کئی ہندو مسلم فریقین اور لیڈروں سے ملاقات کی۔ ان کا بنیادی مقصد مندر کے حق میں رائے ہموار کرنا تھا۔ جب نا کام رہے تو انہوں نے ایک پاسہ پھینکا کہ اگر مسلمان متنازع زمین کا ایک ایکڑ ہندوئوں کو تحفے میں دیں تو ہندو انہیں اُس کے بدلے قریب ہی ایک عالیشان مسجد تعمیر کے لئے ۵؍ایکڑ زمین دیں گے۔ جب اس کا بھی کوئی نتیجہ نہیں نکلا تو انہوں نے اپنی بھڑاس یوں نکالی کہ اگر رام مندر کا مسئلہ حل نہ ہوا تو ہندوستان کی حالت ملکِ شام جیسی ہوجائے گی۔
عدالتی فیصلے ثبوت و شواہد کی بنیاد پر فیصل کئے جاتے ہیں نہ کہ آستھا، یا اکثریت واقلیت کے جذبات کی بناء پر۔ اس لئے گزشتہ نومبر میں جب سپر یم کورٹ کی پانچ رکنی بنچ نے اعلان کیا کہ وہ زمینی ملکیت کے تنازع کے عقائد وجذبات سے بلند ہو کر ثبوت و شواہد کی روشنی میں فیصل کرے گا تو امید بندھی کہ اس کا فیصلہ ذیلی عدالتوں کے فیصلے سے مختلف ہوگا لیکن ۸؍مارچ کو جب اس تنازع کو سہ نفری ثالثی کمیٹی کے سپرد کیا گیا تو حیرت کے ساتھ اس کی مجبور یوں کا احساس بھی ہوا۔ مسجد۔ مندر تنازع عام جائداد کا مسئلہ نہیں جسے ریو نیور یکارڈ یا دستاو یزات کی بنیاد پر طے کیا جا سکے۔ اس کی تاریخی اہمیت ہے جس سے ملک کی دوبڑی قوموں کے مذہبی جذبات وابستہ ہیں اور جسے ہندوتوا وادیوں نے سیاسی رنگ دے کر کریلا اس پر نیم چڑھا بنادیا ہے۔ یہ مسئلہ عدالت کیلئے کڑی آزمائش ثابت ہوگا۔ ہم یہ بھی یا ددلا دیں کہ ماضی میں صدر جمہوریہ شنکر دیال شرمانے صدارتی ریفرنس اور نرسمہا رائو اور واجپئے حکومت نے پٹیشن کے ذریعے عدالت سے رائے طلب کی تھی کہ کیا مسجد سے پہلے اس جگہ کو ئی مندر تھا؟ اس وقت عدالت نے یہ کہہ کر انکار کر دیا تھا کہ معاملہ اس کے دائرۂ اختیار سے باہر ہے۔ اس بار اس کی گنجائش نہیں تھی کیونکہ معاملہ اراضی کی ملکیت سے متعلق ہے۔ بہر حال فیصلہ مسجد کے حق میں ہو یا مندر کے حق میں، خطرے سے خالی نہیں ہوگا۔ اگر مسجد کے حق میں ہوا تو ہندوتوا وادیوں کا رد عمل شدید ہوگا اور شرپسندوں کی وجہ سے ملک ایک بار پھر تشدد کی لپیٹ میں آجائیگا (خدا نخواستہ)۔ اگر فیصلہ مندر کے حق میں ہوا تو فرقہ پرستوں کے حوصلے بڑھیں گے اور ’’مندروں کو آزاد کرانے کی مہم‘‘ میں کئی مسجد یں آجائیں گی۔ کون نہیں جانتا کہ فرقہ پرست پہلے بھی کئی مساجد پر اپنا دعویٰ دائر کر چکے ہیں اور وقتاً فوقتاًمسلمانوں کو دھمکانے کے انداز میں مطالبۂ مزید کرتے رہتے ہیں۔ چونکہ سیاست کو تنازع چاہئے اور مندر مسجد سے ’’بہتر‘‘ تنازع سیاست کی نظر میں اور کیا ہو سکتا ہے اس لئے اس تنازع کو زندہ رکھنے کی بھر پور کوشش کی گئی اور اس سے سیاسی فائدہ اُٹھا یا جا تا رہا۔ یہ کیوں فراموش کیا جائے کہ وہ مندر تحریک ہی تھی جس نے بھگوا سیاست کو طاقت بخشی چنانچہ ایسی پارٹی جس کی لوک سبھا میں صرف ۲؍سیٹیں ہو ا کرتی تھیں، اس قابل ہو گئی کہ حکومت بنا سکے۔ اس سلسلے میں ۹۰ ء کی دہائی کی سیاست کو کبھی فراموش نہیں کیا جا سکے گا جس کا نقطۂ عروج بابری مسجد کی شہادت تھا۔
غالباً یہی سوچ کر کہ فیصلہ جو بھی ہو، کسی ایک فرقے کی ناخوشی کا سبب بنے گا اور اس کی وجہ سے خلفشار وانتشار پیدا ہوگا، عدالت نے فریقین کو مصالحت کا (ایک اور یعنی آخری) موقع دیا ہے۔ مگر اس بات کی کوئی گا رنٹی نہیں ہے کہ مصالحت ممکن ہو سکے گی کیونکہ، جیسا اوپر کہا گیا، اس سے قبل بھی مصالحت کی کوشش اور مذاکرات کی زحمت ہو چکی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ جو کوشش ہو رہی ہے وہ کسی نتیجے تک پہنچتی ہے اور اس پر عدالت کیا رُخ اختیار کرتی ہے۔۔
(بشکریہ: روزنامہ انقلاب)