March 2019

خطیب اقصیٰ کی وفات اور وارسو کانفرنس

غزہ کے مہاجر کیمپ ہی کی یہ یادیں بھی دل میں تازہ ہیں کہ ہمارے اساتذہ ہمیں تقاریر کی تربیت بھی دیا کرتے۔ کبھی یہ ہوتا کہ کسی چھوٹی کشتی میں سوار ہوکر ہم کھلے سمندر میں چلے جاتے۔ ہمارے اساتذہ ہمیں فی البدیہ تقریر کرنے کے لیے کوئی موضوع دیتے اور کہتے کہ یہ سمندر کی موجیں، موجیں نہیں آپ کے سامعین ہیں۔ آپ نے ان سے خطاب کرنا ہے۔ ہم تقریر کرتے اور ہمارے اساتذہ ساتھ ساتھ اپنا تبصرہ نوٹ کرتے جاتے۔ اس وقت کبھی خیال بھی نہیں آیا تھا کہ سمندر کی لہروں سے کیے جانے والے یہ خطاب بالآخر قبلۂ اوّل کے منبر پہ خطبات جمعہ کی بنیاد بنیں گے۔

Read More

روزہ اور تعمیر سیرت

تقویٰ کا عام تصور یہی پایا جا تا ہے کہ وہ شخص متقی ہے وہ عبادات میں کثرت کرتا ہو اور معاشرتی تعلقات سے اپنے آپ کو کاٹ کر صرف اللہ کی یاد میں کسی مسجد کے گوشے میں بیٹھ گیا ہو یا نماز کے بعد دیر تک اذکار میں مصروف رہتا ہو۔ جبکہ احادیث سے یہ پیغام ملتا ہے کہ جس شخص نے روزہ رکھا اور فحش گوئی یا بری بات زبان سے کہنے سے نہ بچا، جس نے روزہ رکھا اور معاملات درست نہ کئے گویا کہ اس کا روزہ رکھنا یا نہ رکھنا برابر ہے۔

Read More

روزہ

روزے کی ایک دوسری خصوصیت بھی ہے، اور وہ یہ ہے کہ یہ ایک لمبی مدّت تک شریعت کے احکام کی لگاتاراطاعت کراتا ہے۔ نماز کی مدّت ایک وقت میں چند منٹ سے زیادہ نہیں ہوتی۔ زکوٰۃ ادا کرنے کا وقت سال بھر میں صرف ایک وقت آتا ہے۔ حج میں البتہ لمبی مدّت صرف ہوتی ہے مگر اس کا موقع عمر بھر میں ایک دفعہ آتا ہے اور وہ بھی سب کے لیے نہیں۔ ان سب کے برخلاف روزہ ہر سال پورے ایک مہینے تک شب وروز شریعت محمدیؐ کی اتباع کی مشق کراتا ہے۔ صبح سحری کے لیے اٹھو، ٹھیک فلاں وقت پر کھانا پینا سب بند کردو۔ دن بھر فلاں فلاں کام کر سکتے ہو اور فلاں فلاں کام نہیں کر سکتے۔ شام کو ٹھیک فلاں وقت پر افطار کرو۔ پھر کھانا کھا کر آرام کر لو، پھر تراویح کے لیے دوڑو۔ اس طرح ہر سال کامل مہینہ بھر صبح سے شام تک اور شام سے صبح تک مسلمان کو مسلسل فوجی سپاہیوں کی طرح پورے قائدے اور ضابطے میں باندھ کر رکھا جا تا ہے

Read More